Page 1 of 3 123 LastLast
Results 1 to 10 of 24

Thread: Jab Zindagi Shuro Hogi

  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    cute Jab Zindagi Shuro Hogi

    کچھ وضاحتیں کچھ معذرتیں


    والٹئیر (1694-1778)کا شمار دورِروشن خیالی کے ان نمایاں ترین لوگوں میں ہوتا ہے جن کے افکار و خیالات پر مغربی تہذیب کی موجودہ عمارت نے اپنی بنیادیں رکھی تھیں ۔ والٹئیر کے زمانے میں پرتگال کے شہر لزبن میں ایک زلزلہ آیا جس کے ساتھ آنے والے سونامی طوفان اور پھر شہر میں پھیلنے والی آگ نے قیامت مچادی۔ لاکھوں کی آبادی کا شہر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اس سانحے نے یورپ بھر کو ہلا کر رکھ دیا۔ نہ صرف سیاسی، معاشی اور معاشرتی سطحوں پر بلکہ فلسفہ و افکار کی دنیا پر بھی اس تباہی کے زبردست اثرات ہوئے ۔ اس واقعے سے متأثر ہوکر والٹئیر نے پہلے ایک نظم Poem on the Lisbon Disaster اور پھر Candide کے نام سے ایک ناول لکھا۔ اس کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ بے رحم حوادث کی اس دنیا میں مسیحیت کے پیش کردہ کسی ایسے خدا کے تصور کی کوئی گنجائش نہیں جو اس بڑ ے پیمانے پر ہلاکتیں اور عذاب نازل کرتا ہے جس میں بے گناہ اور گناہگار سب یکساں طور پر مارے جاتے ہیں ۔

    ابتدا میں والٹئیر کا یہ کام پابندیوں شکار ہوا، مگر جلد ہی اس میں پیش کردہ افکار وقت کی زبان بن گئے اور ایک زمانہ آیا کہ مغربی معاشروں میں خدا کا نام لینا ایک احمقانہ بات بن گئی۔ بعد کے زمانوں میں خدا کا تصور تو کسی نہ کسی طور پر قبول کر لیا گیا لیکن آخرت کا وہ تصور جو خدا کے عدل کامل کا ثبوت اور دنیا میں پائی جانے والی ناہمواریوں کی حقیقی توجیہہ ہے ، کبھی عام نہ ہو سکا۔ والٹئیر ایک مسیحی پس منظر رکھتا تھا جہاں آخرت کے تصورات انتہائی مبہم اور غیر معقول ہیں ۔ اسی لیے وہ اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کا صحیح جواب نہ تلاش کرسکا اور انکار خدا و آخرت کی اس تحریک کا بانی بن گیا جو اب دھرتی کے خشک و تر پر حکمران ہے ۔

    خوش قسمتی سے مسلمانوں کے پاس قرآن مجید جیسی کتاب ہے جو یہ بتاتی ہے کہ دنیا کی کہانی کا دوسرا اور آخری باب آخرت ہے جس کے بغیر حیات و کائنات کے بارے میں کسی حقیقت کو درست طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ آج مسلم معاشروں میں یورپ کے دور روشن خیالی کی طرح مذہبی انتہا پسندی اور بے لگام روشن خیالی کے درمیان ایک تصادم برپا ہے ۔ اس تصادم میں قبل اس کے کہ ہماے ہاں کوئی والٹئیر اٹھے ، ناول ہی کی زبان میں انسانی کہانی کے دوسرے اور آخری باب کی کچھ تفصیل قارئین کے سامنے پیش ہے۔

    مجھے اس تفصیل کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اردو ادب کے قارئین عام طور پر جاسوسی، رومانوی، تاریخی اور معاشرتی حوالوں سے لکھے گئے ان ناولوں ہی سے واقف ہیں جو روایتی طور پر ہمارے ہاں لکھے اور پڑ ھے جاتے ہیں ۔ تاہم ناول نگاری کا دائرہ درحقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہوتا ہے ۔ ہر ایک ناول کا پلاٹ، اس کی اٹھان، اس کے کردار، واقعات اور مکالموں کا انحصار ناول نگاری کی اُس خاص صنف پہ ہوتا ہے جس پر وہ ناول مبنی ہوتا ہے ۔ پیش نظر ناول ’’جب زندگی شروع ہو گی‘ ‘ایسا ہی ایک غیر روایتی ناول ہے ۔ مگر غیر روایتی ہونے کے باوجود یہ ایک فکشن ہی ہے ۔ ہر ناول ایک فکشن ہوتا ہے جو تصورات کی دنیا میں امکانات کے گھروندے تعمیر کرتا ہے ۔ تاہم یہ گھروندے ممکنات کے کتنے ہی آسمان چھولیں ، ان کی بنیاد حقیقت کی زمین ہی پر رکھی جاتی ہے ۔ میرا یہ ناول اپنے مرکزی کردار اور اُس کے ساتھ پیش آنے والے متعین واقعات کے لحاظ سے ایک فکشن ہے ، مگر یہ فکشن امکانات کی جس دنیا سے آپ کو روشناس کرائے گا وہ اس کائنات کی سب سے بڑ ی حقیقت ہے ۔ بدقسمتی سے آج یہ حقیقت انسانی نگا ہوں سے پوشیدہ ہے ، مگر اب وہ وقت دور نہیں رہا جب امکانات کی یہ دنیا ایک برہنہ حقیقت بن کر ظاہر ہوجائے گی۔

    بات اگر صرف اتنی ہی ہوتی تب بھی اس ناول کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوتا، مگر مسئلہ یہ ہے کہ جلد یا بدیر اس ناول کا ہر قاری اور اس دنیا کا ہر باسی خود اس فکشن کا حصہ بننے والا ہے اور اس کے کسی نہ کسی کردار کو نبھانا اس کا مقدر ہے ۔ یہی وہ المیہ ہے جس نے مجھے قلم اٹھا کر اس میدان میں اترنے پر مجبور کیا ہے ۔

    میرا مقصود صرف یہ ہے کہ غیب میں پوشیدہ امکانات کی اس دنیا کو فکشن کے ذریعے سے ایک زندہ حقیقت بنا کر عام لوگوں کے سامنے پیش کر دیا جائے ۔ یہ ایک بہت مشکل اور نازک کام ہے ۔ اس لیے کہ آنے والی اس دنیا کی کوئی حقیقی تصویر ہمارے سامنے نہیں اور نہ اس مقصد کے لیے تخیل کے گھوڑ ے بے لگام دوڑ ائے جا سکتے ہیں ۔ مگر خوش قسمتی سے پیغمبر آخر الزماں علیہ الصلوۃ والتسلیم کی تعلیمات میں ہمیں آنے والی اس دنیا کی وہ تصویر مل جاتی ہے جس کی بنیاد پر میں نے اس دنیا کی ایک منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس عمل میں ناول نگاری کے تقاضوں کی بنا پر مکالمہ نویسی اور تصور آرائی دونوں ناگزیر تھے ۔ تاہم یہ نازک کام کرتے وقت ہر قدم پر پروردگار عالم کی صفات عالیہ سے متعلق قرآنی بیانات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میرے پیش نظر رہے ۔ پھر بھی یہ ایک نازک معاملہ ہے جس میں سہو کا امکان پایا جاتا ہے ۔ میں اپنے پروردگار سے اس کی شان کریمی کی بنا پر درگزر کی توقع رکھتا ہوں ۔

    یہاں قارئین کو میں اپنے اس احساس میں بھی شریک کرنا چاہتا ہوں کہ میں ابتدا میں اس ناول کو عام لوگوں کے لیے شائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں تو بس روز قیامت کے حوالے سے اپنے کچھ احساسات کو الفاظ کے قالب میں منتقل کرنے بیٹھا تھا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے اس ناول کے ابتدائی آٹھ ابواب چند ہی دنوں میں مکمل ہوگئے ۔ اس کے بعد انھیں پڑ ھنا شروع کیا تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ جو کچھ لکھا ہے اسے شائع نہیں ہونا چاہیے ۔ البتہ چند احباب کو یہ صفحات مطالعے کے لیے دیے ۔ ان کی رائے مجھ سے نہ صرف قطعاً برعکس تھی بلکہ پڑ ھنے والوں پر اس کے غیر معمولی اثرات ہوئے ۔ ان میں بیشتر کے لیے یہ ایک جھنجھوڑ کر رکھ دینے اور زندگی بدل دینے والا تجربہ تھا۔ ان کا بے حد اصرار تھا کہ اس ناول کو مکمل کر کے شائع کیا جائے ۔

    تاہم میں ذہناً اس کی تکمیل پر خود کو آمادہ نہیں کرپا رہا تھا۔ مگر جب احباب کا اصرار بے حد بڑ ھا تو میں نے باقی ناول مکمل کرنے سے قبل استخارہ کرنا شروع کیا۔ اس کے نتیجے میں ذہن ایک دفعہ پھر یکسو ہو گیا اور میں نے ناول مکمل کر لیا۔ احباب کے اصرار پر یہ ناول مکمل تو ہو گیا، مگر اس کی عام اشاعت کے لیے میں پھر بھی تیار نہ تھا۔ مگر ناول کی تکمیل کے چند دنوں بعد مجھے یہ معلوم ہوا کہ ایک مہلک مرض نے وجود ہستی کے دروازے پر موت کی دستک دے دی ہے ۔ اسی وقت یہ حتمی فیصلہ ہو گیا کہ یہ ناول انشاء اللہ اب ضرور شائع ہو گا۔

    لوگ مجھے عالم اور ادیب سمجھتے ہیں ، مگر درحقیقت میرے پاس کسی ادیب کا قلم ہے اور نہ کسی عالم کا دماغ۔ میرا کل سرمایہ بس ایک درد دل ہے ۔ یہ درد جب بہت بڑ ھا تو اس ناول کے قالب میں ڈھل گیا۔ اس نازک میدان میں اترنے کے لیے یہی میرا واحد عذر ہے ۔ یہ عذر بارگاہ الٰہی میں مقبول ہو سکتا ہے ، اگر میں کُل عالم کے نگہبان کو اس کی کھوئی ہوئی بھیڑ یں لوٹانے میں کامیاب ہوجاؤں ۔ آج کے دور میں لوگ غیب کی کسی پکار کو سننے کا وقت رکھتے ہیں نہ دلچسپی، مگر شاید یہ فکشن ہی انہیں اپنے رب کی بات سننے کے لیے آمادہ کر دے ۔ شاید اسی طرح خدا کو اس کا کوئی بندہ یا بندی مل جائے ۔ شاید جہنم کی طرف بڑ ھتے ہوئے کسی کے قدم واپس لوٹ آئیں ۔ شاید جنت کی دنیا میں ایک باسی اور بڑ ھ جائے ۔ ایسا ہوا تو یہ میری محنت کا حاصل ہو گا۔

    آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
    ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائگاں تو ہے

    ابویحییٰ
    Last edited by Hidden words; 05-08-2012 at 12:15 AM.

  2. #2
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default re: Jab Zindagi Shuro Hogi



    پہلا باب: روزِقیامت



    زمین کے سینے پر ایک سلوٹ بھی باقی نہیں رہی تھی۔ دریا اور پہاڑ ، کھائی اور ٹیلے ، سمندر اور جنگل، غرض دھرتی کا ہر نشیب مٹ چکا اور ہر فراز ختم ہو چکا تھا۔ دور تک بس ایک چٹیل میدان تھا اور اوپر آگ اگلتا آسمان۔ ۔ ۔ مگر آج اس آسمان کا رنگ نیلا نہ تھا، لال انگارہ تھا۔ یہ لالی سورج کی دہکتی آگ کے بجائے جہنم کے اُن بھڑ کتے شعلوں کا ایک اثر تھی جو کسی اژدہے کی مانند منہ کھولے وقفے وقفے سے آسمان کی طرف لپکتے اور سورج کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کرتے۔ جہنمی شعلوں کی لپک کا یہ خوفناک منظر اور بھڑ کتی آگ کے دہکنے کی آواز دلوں کو لرزا رہی تھی۔

    لرزتے ہوئے یہ دل مجرموں کے دل تھے ۔ یہ غافلوں ، متکبروں ، ظالموں ، قاتلوں اور سرکشوں کے دل تھے ۔ یہ زمین کے فرعونوں اور جباروں کے دل تھے ۔ یہ اپنے دور کے خداؤں اور زمانے کے ناخداؤں کے دل تھے ۔ یہ دل اُن لوگوں کے تھے جو گزری ہوئی دنیا میں ایسے جیے جیسے انہیں مرنا نہ تھا۔ مگر جب مرے تو ایسے ہوگئے کہ گویا کبھی دھرتی پر بسے ہی نہ تھے ۔ یہ خدا کی بادشاہی میں خدا کو نظرانداز کر کے جینے والوں کے دل تھے ۔ یہ مخلوقِ خدا پر اپنی خدائی قائم کرنے والوں کے دل تھے ۔ یہ انسانوں کے درد اور خدا کی یاد سے خالی دل تھے ۔

    سو آج وہ دن شروع ہو گیا جب ان غافل دلوں کو جہنم کے بھڑ کتے شعلوں اور ختم نہ ہونے والے عذابوں کی غذا بن جانا تھا۔ ۔ ۔ وہ عذاب جو اپنی بھوک مٹانے کے لیے پتھروں اور اِن پتھر دلوں کے منتظر تھے ۔ آج اِن عذابوں کا ’یوم العید‘ تھا کہ ان کی ازلی بھوک مٹنے والی تھی۔ ان عذابوں کے خوف سے خدا کے یہ مجرم کسی پناہ کی تلاش میں بھاگتے پھر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مگر اس میدانِ حشر میں کیسی پناہ اور کون سی عافیت۔ ہر جگہ آفت، مصیبت اور سختی تھی۔ ۔ ۔ اور ان پتھر دل مجرموں کی ختم نہ ہونے والی بدبختی تھی۔

    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    خبر نہیں اس حال میں کتنے برس۔ ۔ ۔ کتنی صدیاں گزرچکی ہیں ۔ یہ حشر کا میدان اور قیامت کا دن ہے ۔ نئی زندگی شروع ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ کبھی ختم نہ ہونے کے لیے ۔ میں بھی حشر کے اِس میدان میں گُم سم کھڑ ا خالی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہا ہوں ۔ میرے سامنے ان گنت لوگ بھاگتے ، دوڑ تے ، گرتے پڑ تے چلے جا رہے ہیں ۔ فضا میں شعلوں کے بھڑ کنے کی آواز کے ساتھ لوگوں کے چیخنے چلانے ، رونے پیٹنے اور آہ و زاری کی آوازیں گونج رہی ہیں ۔ لوگ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے ہیں ، گالیاں دے رہے ہیں ، لڑ جھگڑ رہے ہیں ، الزام تراشی کر رہے ہیں ، آپس میں گتھم گتھا ہیں ۔

    کوئی سر پکڑ ے بیٹھا ہے ۔ کوئی منہ پر خاک ڈال رہا ہے ۔ کوئی چہرہ چھپا رہا ہے ۔ کوئی شرمندگی اٹھا رہا ہے ۔ کوئی پتھروں سے سر ٹکرا رہا ہے ۔ کوئی سینہ کوبی کر رہا ہے ۔ کوئی خود کو کوس رہا ہے ۔ کوئی اپنے ماں باپ، بیوی بچوں ، دوستوں اور لیڈروں کو اپنی اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان پر برس رہا ہے ۔ ان سب کا مسئلہ ایک ہی ہے ۔ قیامت کا دن آ گیا ہے اور ان کے پاس اس دن کی کوئی تیاری نہیں ۔ اب یہ کسی دوسرے کو الزام دیں یا خود کو برا بھلا کہیں ، ماتم کریں یا صبر کا دامن تھامیں ، اب کچھ نہیں بدل سکتا۔ اب تو صرف انتظار ہے ۔ کائنات کے مالک کے ظہور کا، جس کے بعد حساب کتاب شروع ہو گا اور عدل کے ساتھ ہر شخص کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا۔

    یکایک ایک آدمی میرے بالکل قریب چلایا:

    ’’ہائے ۔ ۔ ۔ اِس سے توموت اچھی تھی۔ اِس سے تو قبر کا گڑ ھا اچھا تھا۔‘‘

    میں اردگرد کی دنیا سے بالکل کٹ چکا تھا کہ یہ چیخ نما آواز مجھے سوچ کی وادیوں سے حقیقت کے اس میدان میں لے آئی جہاں میں بہت دیر سے گم سم کھڑ ا تھا۔ لمحہ بھر میں میرے ذہن میں ابتدا سے انتہا تک سب کچھ تازہ ہو گیا۔ اپنی کہانی، دنیا کی کہانی، زندگی کی کہانی۔ ۔ ۔ سب فلم کی ریل کی طرح میرے دماغ میں گھومنے لگی۔

    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    اس بھیانک دن کے آغاز پر میں اپنے گھر میں تھا۔ یہ گھر ایک ظاہر بیں نظر کے لیے قبر کا تاریک گڑ ھا تھا، مگر دراصل یہ آخرت کی حقیقی دنیا کا پہلا دروازہ اور برزخ کی دنیا تھی۔ وہ دنیا جس میں میرے لیے ختم نہ ہونے والی راحت تھی۔ اُس روز مجھ سے میرا ہمدمِ دیرینہ اور میرا محبوب دوست صالح ملنے آیا ہوا تھا۔ صالح وہ فرشتہ تھا جو دنیا کی زندگی میں میرے دائیں ہاتھ پر رہا۔ اس کی قربت موت کے بعد کی زندگی میں میرے لیے ہمیشہ باعثِ طمانیت رہی تھی اور آج بھی ہمیشہ کی طرح ہماری پرلطف گفتگو جاری تھی۔ دوران گفتگو میں نے اس سے پوچھا:

    ’’یار یہ بتاؤ تمھاری ڈیوٹی میرے ساتھ کیوں لگائی گئی ہے ؟‘‘

    ’’بات یہ ہے عبد اللہ کہ میں اور میرا ساتھی دنیا میں تمھارے ساتھ ڈیوٹی کیا کرتے تھے ۔ وہ تمھاری برائیاں اور میں نیکیاں لکھتا تھا۔ تم مجھے دو منٹ فارغ نہیں رہنے دیتے تھے ۔ کبھی اللہ کا ذکر، کبھی اس کی یاد میں آنسو، کبھی انسانوں کے لیے دعا، کبھی نماز، کبھی اللہ کی راہ میں خرچ، کبھی خدمت خلق۔ ۔ ۔ کچھ اور نہیں تو تمھارے چہرے پر ہمہ وقت دوسروں کے لیے مسکراہٹ رہتی تھی۔ اس لیے میں ہر وقت کچھ نہ کچھ لکھتا ہی رہتا تھا۔ تم نے مجھے تھکا کر مار ہی ڈالا تھا، لیکن ہم فرشتے تم انسانوں کی طرح تو ہوتے نہیں کہ برائی کا بدلہ برائی سے دیں ۔ اس لیے تمھاری اس ’برائی‘ کے جواب میں بھی دیکھو میں تمھارے ساتھ ہوں اور تمھارا خیال رکھتا ہوں ۔‘‘، صالح نے انتہائی سنجیدگی سے میری بات کا جواب دیا۔

    جواب میں میں نے بھی اسی سنجیدگی سے پلٹ کر کہا:

    ’’تم سے زیادہ ’برائی ‘میں نے الٹے ہاتھ والے کے ساتھ کی تھی۔ وہ میرا گناہ لکھتا، مگر میں اس کے بعد فوراً توبہ کر لیتا۔ پھر وہ بے چارہ اپنے سارے لکھے لکھائے کو بیٹھ کر مٹاتا اور مجھے برا بھلا کہتا کہ تم نے مٹوانا ہی تھا تو لکھوایا کیوں تھا۔ آخرکار اس نے تنگ آ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس شخص سے میری جان چھڑ ائیں ۔ اس لیے موت کے بعد سے اب تم ہی میرے ساتھ رہتے ہو۔‘‘

    یہ سن کر صالح نے ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ پھر وہ بولا:

    ’’فکر نہ کرو حساب کتاب کے وقت وہ پھر آجائے گا۔ قانون کے تحت ہم دونوں مل کر ہی تمھیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کریں گے ۔‘‘

    یہ بات کہتے کہتے اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی کے آثار نمودار ہوگئے ۔ وہ بولتے بولتے چپ ہوا اور سر جھکا کر ایک گہری خاموشی میں ڈوب گیا۔ میں نے اس کا یہ انداز آج تک نہ دیکھا تھا۔ چند لمحوں بعد اس نے سر اٹھایا تو اس کے چہرے سے ہمیشہ رہنے والی شگفتگی اور مسکراہٹ رخصت ہو چکی تھی اور اس کی جگہ خوف و حزن کے سایوں نے لے لی تھی۔ مجھے دیکھ کر وہ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا:

    ’’عبد اللہ! اسرافیل کو حکم مل چکا ہے ۔ خدا کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آ گیا ہے ۔ اہلِ زمین کی مہلت ختم ہوگئی ہے ۔ تم کچھ عرصہ مزید برزخ کے اس پردے میں خدا کی رحمتوں کے سائے میں رہو گے ، مگر میں اب رخصت ہورہا ہوں ۔ اب میں تم سے اس وقت ملوں گا جب زندگی شروع ہو گی۔ تمہاری آنکھ کھلے گی تو قیامت کا دن شروع ہو چکا ہو گا۔ میں اس روز تم سے دوبارہ ملوں گا۔‘‘

    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    زندگی کے ہنگامے جاری تھے ۔ بازاروں میں وہی چہل پہل اور گہماگہمی تھی۔ نیویارک، لاس اینجلس، لندن، پیرس، شنگھائی، دہلی، ما سکو، کراچی، لا ہور ہر جگہ رونق میلے لگے ہوئے تھے ۔ رات کو دن کر دینے والی سیلابی روشنیوں میں 20,20 کرکٹ میچ اور فٹبال ورلڈ کپ کے مقابلے ، ان کو دیکھتے اور تالیاں بجاتے انسان۔ پب (pub) اور بار میں شراب پیتے اور کلبوں میں اسٹرپ ٹیز (striptease) دیکھتے بدمست لوگ۔ ہالی وڈ اور بالی وڈ کی ایکشن اور تھرل فلموں میں اداکاروں کے جلوے اور ان جلو وں کے شوقین تماش بین۔ فلموں ، ڈراموں ، اسٹیج، ٹی وی، بیلے ڈانس اور فیشن شوز میں تھرکتی، مٹکتی، اپنے جسم کی نمائش کرتی ماڈلز اور اداکارائیں اور اس نمائش سے اپنی تجوریاں بھرتے سرمایہ دار۔ نئے دور کے نئے فاتح عالم۔ ۔ ۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان اور ان کو اپنا علم و ہنر بیچ کر اپنے مستبقل کے خواب بُننے والے باصلاحیت نوجوان۔ میڈیا کی چمک دمک، صحافت کے مرچ مصالحے اور بازارِ سیاست کے ماند نہ پڑ نے والے مکر و فریب کے ہنگامے ۔ بازاروں میں گھومتے اور خریداری کرتے مرد و خواتین اور اُن کو بلاتی رِجھاتی دکانیں اور دکاندار۔ امرا کے عشرت کدوں میں گونجتے ساز و آواز، غربا کے جھونپڑ وں میں فقر و افلاس، شادیوں کی تقریبات میں خوشی کے نغمے ، جنازوں اور ہسپتالوں میں غم و الم کے سائے ۔ خدا کے نام پر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے اہل مذہب، غریبوں اور ان کے مسائل سے ہمیشہ کی طرح بے نیاز اہل ثروت۔ کرپشن کی ناپاک کمائی سے اپنی جیبیں بھرتے سرکاری ملازم اور ملاوٹ و ذخیرہ اندوزی سے اپنی تجوریاں بھرتے ہوئے حرام خور تاجر۔ عوام کا استحصال کرتے اہل اقتدار اور دنیا پر اپنا غلبہ قائم رکھنے کے منصوبے بناتی سپر پاورز، سب اپنے اپنے مشغلوں اور کاموں میں مگن تھے ۔

    اہلِ زمین جو ہمیشہ سے کرتے آئے تھے ، وہی کر رہے تھے ۔ ظلم و فساد کی داستانیں ، دھوکہ و فریب کی کہانیاں ، حرص و ہوس کی دوڑ ، غفلت اور سرکشی کے رویے ، خدا اور آخرت فراموشی، سیاسی ہنگامے ، معاشی جدوجہد، مذہبی جھگڑ ے ، طبقاتی کشمکش۔ ۔ ۔ ہر چیز ہمیشہ کی طرح جاری تھی۔ پیغمبر تو صدیوں پہلے آنے بند ہوگئے تھے ۔ ایگریکلچرل ایج، انڈسٹریل ایج سے بدلی اور انڈسٹریل ایج، انفارمیشن ایج سے ، مگر انسانی رویے نہیں بدلے ۔ ان کے غم بھی نہیں بدلے ۔ وہی کاروبار اور روزگار کی پریشانیاں ، وہی عشق و محبت کی ناکامیاں ، وہی موت اور بیماری کے مسائل۔ اس وقت بھی انسانوں کے ہاں ہر غم تھا، سوائے غم آخرت کے ۔ ہر خوف تھا، سوائے خوفِ خدا کے ۔ آسمان کی آنکھ یہ دیکھ رہی تھی کہ خدا کی زمین کو ظلم و فساد سے بھردینے والا انسان اب دھرتی کا ناقابلِ برداشت بوجھ بن گیا ہے ۔ سو انسان کو بار بار ہلایا گیا۔ نبی آخر الزماں کی پیش گوئیاں ٹھیک ہونے لگیں ۔ ننگے پاؤں بکریاں چرانے والے عربوں نے دنیا کی بلند ترین عمارتیں بنالیں ، مگر انسانیت ہوش میں نہیں آئی۔ نوح کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد یعنی یاجوج و ماجوج کی نسل دنیا کے پھاٹکوں کی مالک بن گئی۔ عظمت کی ہر بلندی سے یہی یاجوج و ماجوج ساکنانِ دنیا پر یلغار کرنے لگے ۔ برطانیہ، روس، امریکہ اور چین۔ ۔ ۔ ایک کے بعد ایک دنیا کے اقتدار کی مسند پر فائز ہوتے گئے ، آسمانی صحیفوں کی تمام پیش گوئیاں پوری ہوگئیں ، مگر انسانیت پھر بھی ہوش میں نہ آئی۔ سونامی آئے ، سیلاب آئے ، زلزلے آئے ، مگر انسانیت غفلت سے نہ نکلی۔ خدا نے انفارمیشن ایج پیدا کر دی۔ اس کے عجمی بندوں نے نبی عربی کے پیغام کو اٹھایا اور انسانیت پر حجت تمام کر دی، مگر انسانیت پھر بھی نہ سنبھلی۔ قیامت سے قبل قیامت کی منظر کشی آخری درجے میں کر کے انسانیت کو جھنجھوڑ دیا گیا، مگر لوگوں کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ سو جسے آخرکار آنا تھا، وہ آ گئی۔ اسرافیل نے خدا کا حکم سنا اور صور ہاتھ میں اٹھالیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے قیامت آ گئی۔

    سورج کی بساط لپیٹ دی گئی۔ تارے بے نور ہونے لگے ۔ ہمالیہ جیسے پہاڑ ہوا میں روئی کے مانند اُڑ نے لگے ۔ ۔ ۔ کہسار ریگزار بن گئے ۔ سمندروں نے پہاڑ جتنی اونچی لہریں اٹھانا شروع کر دیں ۔ ۔ ۔ میدان سمندر بن گئے ۔ زمین نے اپنے آتش فشاں باہر اگل دئے ۔ ۔ ۔ وادیوں میں آگ کے دریا بہنے لگے ۔ دھرتی نے اپنے سارے زلزلے باہر نکال پھینکے ۔ ۔ ۔ زمین الٹ پلٹ ہوگئی۔ شہر کھنڈروں میں بدلنے لگے ۔ عمارتیں خاک ہونے لگیں ۔ آبادیاں قبرستانوں کا منظر پیش کرنے لگیں ۔

    کمزور انسان کی بھلا حیثیت ہی کیا تھی۔ وہ جو کچھ دیر قبل نئے گھر کی تعمیر کے منصوبے بنا رہے تھے ، نئی دکان اور نئے کاروبار کی منصوبہ بندی کر رہے تھے ، شادی اور نکاح کی امیدیں باندھ رہے تھے ، نئی کار اور نئے کپڑ وں کی خریداری کر رہے تھے ، اولاد کے مستقبل کی پلاننگ میں مصروف تھے ۔ ۔ ۔ اپنے تمام ارادے اور سارے عزائم بھول گئے ۔ مائیں دودھ پیتے بچے چھوڑ کر بھاگیں ۔ حاملہ عورتوں کے حمل گرگئے ۔ طاقتور کمزوروں کو کچلتے اور نوجوان بوڑ ھوں کو چھوڑ تے بھاگنے لگے ۔ سونا چاندی سر راہ پڑ ے ہیں ، نوٹ ہوا میں اُڑ رہے ہیں ، قیمتی سامان بکھرا ہوا ہے ، مگر کوئی لینے والا، سمیٹنے والا نہیں ۔ گھر۔ ۔ ۔ کاروبار۔ ۔ ۔ رشتے دار۔ ۔ ۔ ناطہ و اسباب۔ ۔ ۔ سب غیر اہم ہو چکے ہیں ۔ ہر نفس صرف اپنی فکر میں ہے ۔ آج انسان سب کو بھول گیا ہے ، صرف ایک خدا کو پکار رہا ہے ، مگرکوئی جواب نہیں آتا۔ دہریے اور ملحد بھی نامِ خدا کی دہائی دے رہے ہیں ، مگر کوئی جائے عافیت نظر نہیں آتی۔ بربادی کے سائے پیچھا نہیں چھوڑ رہے ۔ موت ہر جگہ تعاقب کر رہی ہے ۔ مصیبت نے ہر طرف سے گھیر لیا ہے ۔ آخر کار زندگی موت سے شکست کھا گئی۔ زندگی ختم ہوگئی۔ ۔ ۔ مگر اس لیے کہ زندگی کو اب شروع ہونا تھا۔

    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

  3. #3
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default re: Jab Zindagi Shuro Hogi


    ہوا کی تیز سرسراہٹ کی آواز میرے کانوں میں آنے لگی۔ بارش کی کچھ بوندیں میرے چہرے پر گریں ۔ مجھے ہوش آنے لگا۔ میں بہت دیر تک اُٹھنے کی کوشش کرتا رہا، مگر میرے حواس مکمل طور پر بیدار نہ ہو سکے ۔ کافی دیر میں اسی حال میں رہا۔ اچانک میرے کانوں میں ایک مانوس آواز آئی:

    ’’عبد اللہ! اٹھو جلدی کرو۔‘‘، یہ میرے ہمدمِ دیرینہ، میرے یارِ غار صالح کی آواز تھی۔ اس کی آواز نے مجھ پر جادو کر دیا اور میں ایک دم سے اٹھ کھڑ ا ہوا۔

    ’’میں کہاں ہوں ؟‘‘، یہ میرا پہلا اور بے ساختہ سوال تھا۔

    ’’تم بھول گئے ، میں نے تم سے کیا کہا تھا۔ قیامت کا دن شروع ہو گیا ہے ۔ اسرافیل دوسرا صور پھونک رہے ہیں ۔ اس وقت اس کی صدا بہت ہلکی ہے ۔ ابھی اس کی آواز سے صرف وہ لوگ اٹھ رہے ہیں جو پچھلی زندگی میں خدا کے فرمانبرداروں میں سے تھے ۔‘‘، اس نے میرا کندھا تھپکتے ہوئے کہا۔

    ’’اور باقی لوگ؟‘‘، میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔

    ’’تھوڑ ی ہی دیر میں اسرافیل کی آواز بلند ہوتی چلی جائے گی اور اس میں سختی آجائے گی۔ پھر یہ آواز ایک دھماکے میں بدل جائے گی۔ اس وقت باقی سب لوگ بھی اُٹھ جائیں گے ، مگر وہ اُٹھنا بہت مصیبت اور تکلیف کا اُٹھنا ہو گا۔ ہمیں اس سے پہلے ہی یہاں سے چلے جانا ہے ۔‘‘، اس نے تیزی سے جواب دیا۔

    ’’مگر کہاں ؟‘‘، یہ سوال میری آنکھوں سے جھلکا ہی تھا کہ صالح نے اسے پڑ ھ لیا۔

    ’’تم خوش نصیب ہو عبداللہ! ہم عرش کی طرف جا رہے ہیں ۔‘‘، وہ تیزی سے قدم اٹھاتا ہوا بولا۔ مزید تفصیل بتاتے ہوئے اس نے کہا:

    ’’اس وقت صرف انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین ہی اپنی قبروں سے باہر نکلے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی کامیابی کا فیصلہ دنیا ہی میں ہو گیا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خد اکو بِن دیکھے مان لیا تھا، اُسے چھوئے بغیر پالیا تھا اور اُس کی صدا اُس وقت سن لی جب کان اُس کی آواز سننے سے قاصر تھے ۔ یہ لوگ اُس کے رسولوں پر ایمان لائے اور اُن کی نصرت اور اطاعت کا حق ادا کر دیا۔ اِن کی وفاداری اپنی مذہبی شخصیات، اپنے لیڈروں ، اپنے فرقے کے اکابرین اور اپنے باپ دادا کے عقائد اور تعصبات سے نہ تھی بلکہ صرف اور صرف خدا اور اُس کے رسولوں سے تھی۔ انہوں نے خداپرستی کے لیے ہر دکھ جھیلا، ہر طعنہ سنا اور ہر سختی برداشت کی۔ اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار کو اپنی زندگی بنایا۔ خدا سے محبت اور مخلوق پر شفقت کے ساتھ زندگی گزاری۔ عبداللہ! آج ان لوگوں کے بدلے کا وقت ہے ۔ اور یہ ہے ان کے بدلے کا آغاز۔‘‘

    صالح کی باتیں سنتے ہوئے میرے چہرے سے حیرت اور اس کے چہرے سے خوشی ٹپک رہی تھی۔

    ’’مگر میں تو جنت میں تھا اور۔ ۔ ۔ ‘‘، صالح نے ہنستے ہوئے میری بات کاٹ کر کہا:

    ’’شہزادے وہ برزخ کا زمانہ تھا۔ خواب کی زندگی تھی۔ اصل زندگی تو اب شروع ہوئی ہے ۔ جنت تو اب ملے گی۔ ویسے وہ بھی حقیقت ہی تھی۔ دیکھ لو تمھاری اور میری دوستی وہیں پر ہی ہوئی تھی۔‘‘

    میں اپنا سر جھٹک کر اسے دیکھنے لگا۔ کچھ کچھ میری سمجھ میں آ رہا تھا اور بہت کچھ سمجھنا ابھی باقی تھا۔ مگر اس لمحے میں نے اپنے آپ کو صالح کے حوالے کرنا زیادہ بہتر محسوس کیا۔

    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    صالح سے میری دوستی اُس وقت ہوئی تھی جب میں نے موت کے بعد یا زیادہ درست الفاظ میں فانی دنیا کے دھوکے سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ لوگ موت سے بہت ڈرتے ہیں ، مگر میرے لیے موت ایک انتہائی خوشگوار تجربہ تھی۔ ملک الموت عزرائیل کا نام دنیا میں دہشت کی ایک علامت ہے ، مگر میرے سامنے وہ ایک انتہائی خوبصورت شکل میں آئے تھے ۔ انہوں نے بہت محبت اور شفقت سے میری شخصیت یعنی میری روح کو میرے جسم سے جدا کیا۔ میرا جسمانی وجود سابقہ دنیا میں رہ گیا اور میری اصل شخصیت کو انھوں نے اِس نئی دنیا میں جس کا نام عالم برزخ تھا، منتقل کر دیا۔ برزخ کا مطلب پردہ ہوتا ہے ۔ ملک الموت کے ظاہر ہوتے ہی میرے اور پچھلی دنیا کے درمیان ایک پردہ حائل ہو گیا۔ جس کی بنا پر اُس دنیا سے میرا رابطہ ختم ہو گیا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میری جدائی کے غم میں میرے اہل خانہ پر کیا گزر رہی تھی، لیکن مجھے یقین تھا کہ میری تربیت کی بنا پر وہ خدا کی رضا پر صابر و شا کر ہوں گے ۔

    میں اپنی اصل شخصیت سمیت اب ایک نئی دنیا میں تھا۔ یہ برزخ کی دنیا تھی۔ اِس نئی دنیا میں ملک الموت عزرائیل نے مجھے جس شخص کے حوالے کیا، وہ یہی صالح تھا۔ اس کے ساتھ بہت سے خوش شکل، خوش لباس اور خوش گفتار فرشتے موجود تھے ۔ اِن سب کے ہاتھوں میں گلدستے ، زبان پر مبارکبادیاں اور سلامتی کی دعائیں تھیں ۔ مبارک سلامت کے اس ماحول میں وہ سب مل کر مجھے یقین دلا رہے تھے کہ آزمائش کے دن ختم اور جنت کی عظیم کامیابی کے دن شروع ہوگئے ۔ اس وقت صالح نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ برزخی زندگی کے آغاز پر میرے لیے پہلا انعام پروردگارِ ارض و سماوات کے حضور پیشی ہے ۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہ اعزاز ہر شخص کو نہیں ملتا۔ میرے لیے یہ خوشخبری جنت کی خوشخبری سے بھی زیادہ قیمتی تھی۔

    ان سب کی معیت میں میرا سفر شروع ہوا۔ یہ نئی دنیا تھی۔ جہاں فاصلے ، مقامات، زمان اور مکان کے معنی اس طرح بدل گئے تھے کہ وہ الفاظ کے کسی جامے میں بیان نہیں ہو سکتے ۔ میں مستی و سرشاری کے عالم میں یہ سفر طے کر رہا تھا کہ ایک جگہ ہم روک دیے گئے ۔ اعلان ہوا کہ زمین کے فرشتوں کی حد آ گئی ہے ۔ سب یہاں رک جائیں ۔ صرف صالح کو میرے ساتھ آگے بڑ ھنے کی اجازت ملی۔ عالمِ سماوات کا سفر شروع ہوا۔ جلد ہی ہم ایک اور جگہ پہنچ کر رک گئے ۔ یہاں جبریلِ امین خاص طور پر میرے استقبال کے لیے آئے تھے ۔ مجھے دیکھ کر وہ کہنے لگے:

    ’’عبد اللہ! تم مجھ سے پہلی دفعہ مل رہے ہو، مگر میں تم سے پہلے بھی کئی دفعہ مل چکا ہوں ۔‘‘

    پھر ہولے سے میرا کندھا تھپتھپاتے ہوئے بولے :

    ’’آقا کے حکم پر کئی دفعہ میں نے تمھاری مدد کی تھی۔ مگر ظاہر ہے تم اس وقت یہ نہیں جانتے تھے ۔‘‘

    آقا کے لفظ سے میرے چہرے پر ایک روشنی پھوٹی، جسے جبریل کے نورانی وجود نے الفاظ میں ڈھلنے سے قبل ہی پڑ ھ لیا اور کہا:

    ’’آؤ چلو! میں تمھیں تمھارے ان داتا سے ملاتا ہوں ۔ نبیوں کے علاوہ یہ اعزاز بہت کم انسانوں کو حاصل ہوتا ہے کہ وہ اس طرح بارگارہِاحدیت میں پیش کیے جائیں ۔ تم واقعی بہت خوش نصیب ہو۔‘‘

    ہم آگے بڑ ھے تو میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا جس کا پوچھ لینا ہی مناسب خیال کرتے ہوئے میں نے جبریل علیہ السلام سے عرض کیا:

    ’’کیا ہم سدرۃ المنتہیٰ کی طرف جا رہے ہیں ؟‘‘

    ’’نہیں ۔ ۔ ۔ ‘‘، جبریل امین نے جواب دیا۔ پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا:

    ’’تمھارے ذہن میں غالباً معراج والی بات ہے ۔ وہ انبیا کا راستہ ہے ۔ انبیا کی حضوری کے مقامات بہت اعلیٰ ہوتے ہیں۔ پھر انہیں مشاہدات بھی کرائے جاتے ہیں ۔ تمھارا راستہ بالکل الگ ہے ۔ تمھیں صرف بارگاہِ الوہیت میں سجدے کا اعزاز بخشنے کے لیے بلایا گیا ہے ۔ اور غالباً تمھاری وجہ سے صالح کو بھی یہاں تک آنے کی اجازت ملی ہے ۔‘‘

    اس لمحے میں نے صالح کو دیکھا جس کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ جبریل امین نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا:

    ’’خدا کی ہستی لامحدود ہے ۔ اس کے مقامات بھی لامحدود ہیں ۔ تمھاری دنیا میں ان مقامات کا کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ جو کچھ تم دنیا میں جانتے تھے وہ بہت محدود اور کم تھا۔ آج مرنے کے بعد تمھاری آنکھیں کھلی ہیں ۔ اب تم وہ دنیا دیکھنا شروع ہوگئے ہو جس کے کمالات کی کوئی حد نہیں ۔‘‘

    میں جو کچھ دیکھ رہا تھا وہ واقعی جبریل امین کی سچائی کا ثبوت تھا۔ میں نے دل میں سوچا کہ اللہ کا شکر ہے کہ میں کفر و نافرمانی کے حال میں نہیں مرا۔ وگرنہ آنکھیں تو اُس وقت بھی کھلتیں ، مگر جو کچھ دیکھنے کو ملتا وہ بہت زیادہ برا اور بھیانک ہوتا!

    جبریل امین کی معیت میں ہم مختلف مراحل طے کرتے ہوئے حاملین عرش کے قریب پہنچے ۔ یہاں نور، رنگ اور روشنی کا ایک ایسا حسین اور لطیف امتزاج چھایا ہوا تھا جو بیان کی گرفت سے باہر تھا۔ حاملین عرش کے سر جھکے ہوئے تھے ۔ چہرے پر خشیت کا اثر اور طمانیت کا نور پھیلا ہوا تھا۔ جبریل امین نے بتایا:

    ’’پروردگار کی بارگاہ کا ہر حکم انہی فرشتوں کی وساطت سے نیچے جاتا اور نیچے والوں کا ہر فعل انہی کے ذریعے سے عالم کے پروردگار کے حضور پیش کیا جاتا ہے ۔‘‘

    میں قربِ الٰہی کے اس مقام کو رشک بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ انہوں نے بھی نظر اٹھا کر مجھے دیکھا اور لمحہ بھر کے لیے ان کے چہروں پر مسکراہٹ آئی۔ میرا حوصلہ بڑ ھا۔ میں نے قدم عرش کی سمت بڑ ھائے ۔ میرے روئیں روئیں سے اُس ہستی کی حمد و ثنا بلند ہونے لگی جس سے ملنے کی خواہش میں ساری زندگی گزاردی تھی۔

    پھر چلتے چلتے مجھ پر نجانے کیوں لزرہ طاری ہونے لگا۔ خدا سے ملنے کی شدید ترین خواہش پر اس کی عظمت کا احساس غالب آ گیا۔ اس لمحے مجھ پر اتنا شدید رعب طاری ہوا کہ میں گھبرا کر واپس پیچھے ہٹنے لگا۔ گرچہ عرش ابھی بہت دور تھا، مگر صاحبِعرش کی عظمت کے احساس سے میری ہمت ٹوٹ گئی۔ مجھے لگا کہ اس لمحے میرا وجود کرچی کرچی ہوکر فضا میں بکھر جائے گا۔ شاید یہی ہوتا، مگر ایسے میں میرے کانوں میں جبریل امین کی آواز آئی:

    ’’یہیں سجدے میں گرجاؤ۔ اس مقام سے آگے صرف انبیاے کرام جاتے ہیں ۔‘‘

    میں اور صالح دونوں سجدے میں چلے گئے ۔ جسے بن دیکھے سجدہ کیا تھا، آج پہلی دفعہ اسے دیکھ کر سجدہ کیا تھا۔ دیکھا تو خیر کیا تھا۔ بس آثار دیکھ لیے تھے ۔

    یہ سجدہ کتنا طویل اور کتنا لذید تھا، مجھے نہیں یاد۔ جس نے سورج کو روشنی کی ردا اور چاند کو نور کی قبا پہنائی، پھولوں کو مہک اور تتلیوں کو رنگ کا لباس پہنایا، تاروں کو چمک کا لہجہ اور کلیوں کو چٹک کی آواز عطا کی، آسمان کو رفعت کا تاج اور سمندروں کو وسعت کا تخت بخشا، زمین کو زرخیزی کی نعمت اور دریاؤں کو بہاؤ کا حسن عطا کیا اور جس نے انسان کو بیان کا وصف اور نزولِ قرآن کا شرف بخشا، اس کے قدموں میں گزارا ہوا ایک ایک لمحہ ہفت اقلیم کی بادشاہی سے بڑ ھ کر تھا۔ مگر اس لمحے کو تمام ہونا ہی تھا۔ حاملین عرش کی دلکش صدا بلند ہوئی:

    ’’ھو اللہ لا الہ الا ھو۔‘‘

    یہ اعلان تھا کہ صاحب عرش کلام کر رہا ہے ۔ آواز آئی:

    ’’میں اللہ ہوں ۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘

    ہر سُر سے لذیذ تر اس صدا میں وہ سحر تھا کہ میرا وجود سراپا گوش ہو گیا۔ میرا پورا جسم اور اس کی ہر ہر قوت کانوں اور سماعت میں سمٹ آئی۔ میں مزید کچھ سننے کا منتظر تھا۔ مگر گفتگو میں ایک وقفہ آ گیا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ شاید اب مجھے کچھ کہنا چاہیے ۔ جو پہلی بات میری زبان پر آئی وہ یہ تھی:

    ’’مالک! زندگی میں یہی ایک حقیقت تو جانی ہے ۔‘‘

    میری یہ بات میرے اپنے کان بمشکل سن سکے تھے ۔ مگر حاضر و غائب کے جاننے والے اور دلوں کے بھید پالینے والے تک وہ پہنچ گئی تھی۔ جواب ملا:

    ’’مگر یہ بات جاننے والا ہر شخص یہاں تک نہیں آتا۔ ۔ ۔ جانتے ہو عبد اللہ! تم یہاں تک کیسے آ گئے ؟‘‘

    اس دفعہ میرے شہنشاہ کے لہجے کے جاہ و جلال میں اپنائیت کا رنگ جھلک رہا تھا۔

    ’’اس لیے کہ تمھاری زندگی کا مقصد لوگوں کو میرے بارے میں بتانا تھا۔ میری ملاقات سے خبردار کرنا تھا۔ تم نے میری یاد کو۔ ۔ ۔ میرے کام کو اپنی زندگی بنالیا۔ یہ اس کا بدلہ ہے ۔‘‘

    آسمان و زمین کے مالک کی گفتگو اور آواز سنتے رہنا میری زندگی کی شدید ترین خواہش بن چکی تھی، مگر ایک دفعہ پھر مالک الملک اپنی بات کہنے کے بعد ٹھہرگئے ۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرا رب مجھے بولنے کا موقع دے رہا ہے ۔ میں نے عرض کیا:

    ’’کیا میں آپ کے پاس یہاں رُک سکتا ہوں ؟‘‘

    ’’مجھ سے کوئی دور نہیں ہوتا۔ نہ میں کسی سے دور ہوتا ہوں ۔ میرا ہر وہ بندہ جو میری یاد میں جیتا ہے ، وہ میرے ہی پاس رہتا ہے ۔ ۔ ۔ اور کچھ۔ ۔ ۔ ‘‘

    آخری بات سے مجھے اندازہ ہوا کہ ملاقات کا وقت ختم ہورہا ہے ۔ میں نے عرض کیا:

    ’’میرے لیے کیا حکم ہے ؟‘‘

    ’’حکم کا وقت گزرگیا ہے ۔ اب تو تمھیں حکمران بنانے کا وقت آ رہا ہے ۔ فی الحال تم واپس جاؤ۔ زندگی ابھی شروع نہیں ہوئی۔‘‘

    میں نے چلتے چلتے عرض کی:

    ’’آپ قیامت کے دن مجھے بھولیں گے تو نہیں ۔ میں نے اس دن کی وحشت اور آپ کی ناراضی کا بہت ذکر سن رکھا ہے۔‘‘

    فضا میں ایک حسین تبسم بکھر گیا۔ کھنکتے ہوئے لہجے میں صدا آئی:

    ’’بھولنے کا عارضہ تم انسانوں کو ہوتا ہے ۔ بادشا ہوں کا بادشاہ۔ ۔ ۔ تمھارا مالک، تمھارا رب کچھ نہیں بھولتا۔ رہا میرا غصہ، تو وہ میری رحمت پر کبھی غالب نہیں آتا۔ تم نے تو زندگی بھر مجھے امید اور خوف کے ساتھ یاد رکھا ہے ۔ میں بھی تمھیں درگزر اور رحمت کے ساتھ یاد رکھوں گا۔ لیکن۔ ۔ ۔ ‘‘، ایک لمحے کے شاہانہ توقف کے بعد ارشاد ہوا:

    ’’تمھاری تسلی کے لیے میں صالح کو تمھارے ساتھ کر رہا ہوں ۔ یہ ہر ضرورت کے موقع پر تمھارا خیال رکھے گا۔‘‘

    یہ تھی میری اور صالح کی پہلی ملاقات کی روداد اور اس کے میرے ساتھ رہنے کی اصل وجہ۔ عالمِ برزخ میں میری زندگی جسم کے بغیر تھی۔ اس میں میرے احساسات، جذبات، تجربات اور مشاہدات کی کیفیت ویسی ہی تھی جیسی خواب میں ہوتی ہے ۔ یعنی غیر مادی مگر شعور سے بھرپور زندگی جس میں مجھے ان نعمتوں کا مکمل احساس رہتا جو جنت میں مجھے ملنے والی تھیں ۔ صالح میری خواہش پر وقفے وقفے سے مجھ سے ملنے آتا رہا۔ ہر دفعہ وہ مجھے نت نئی چیزوں کے بارے میں بتاتا رہتا اور میرے ہر سوال کا جواب دیتا۔ آہستہ آہستہ ہماری دوستی بڑ ھتی گئی۔ پھر آخری ملاقات میں اِس نے مجھے بتایا تھا کہ ’زندگی‘ شروع ہونے جا رہی ہے ۔ اور اب میں اس کے ساتھ میدانِ حشر کو تیزی کے ساتھ عبور کرتا ہوا عرش کی طرف بڑ ھ رہا تھا۔

    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    چلتے چلتے میں نے اردگرد دیکھا تو تاحد نظر ایک ہموار میدان نظر آیا۔ ماحول کچھ ایسا ہورہا تھا جیسا فجر کی نماز کے بعد اور سورج نکلنے سے قبل کا ہوتا ہے ۔ یعنی ہلکا ہلکا اجالا ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ اس وقت اس میدان میں کم ہی لوگ نظر آ رہے تھے ۔ مگر جو تھے ان سب کی منزل ایک ہی تھی۔ میرے دل میں سوال پیدا ہوا کہ ان میں سے کوئی نبی یا رسول بھی ہے ؟ میں نے صالح کو دیکھا۔ اسے معلوم تھا کہ میں کیا پوچھ رہا ہوں ۔ کہنے لگا:

    ’’وہ سب کے سب پہلے ہی اٹھ چکے ہیں ۔ ہم انہی کے پاس جا رہے ہیں ۔‘‘

    ’’کیا ان سے ملاقات کا موقع ملے گا؟‘‘، میں نے بچوں کی طرح اشتیاق سے پوچھا۔

    وہ چلتے چلتے رکا اور دھیرے سے بولا:

    ’’اب انہی کے ساتھ زندگی گزرے گی۔ عبداللہ! تم ابھی تک نہیں سمجھ پائے کہ کیا ہورہا ہے ۔ آزمائش ختم ہو چکی ہے۔ دھوکہ ختم ہو گیا ہے ۔ اب زندگی شروع ہورہی ہے جس میں اچھے لوگ اچھے لوگوں کے ساتھ رہیں گے اور برے لوگ ہمیشہ برے لوگوں کے ساتھ رہیں گے ۔‘‘

    اصل میں بات یہ تھی کہ میں ابھی تک شاک سے نہیں نکل سکا تھا۔ دراصل ابھی تک نئی دنیا کا سارا تعارف عالمِ برزخ میں ہوا تھا۔ وہ ایک نوعیت کی روحانی دنیا تھی۔ مگر یہاں حشر میں تو سب کچھ مادی دنیا جیسا تھا۔ میرے ہاتھ پاؤں ، احساسات، زمین آسمان ہر چیز وہی تھی، جس کا میں پچھلی دنیا میں عادی تھا۔ وہاں میرا گھر تھا، گھر والے تھے، میر ا محلہ، میرا علاقہ، میری قوم۔ ۔ ۔ یہ سب سوچتے سوچتے میرے ذہن میں ایک دھماکہ ہوا۔ میں نے رک کر صالح کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا:

    ’’میرے گھر والے کہاں ہیں ؟ میرے رشتہ دار، احباب سب کہاں ہیں ؟ ان کے ساتھ کیا ہو گا؟ وہ نظر کیوں نہیں آ رہے؟‘‘

    صالح نے مجھ سے نظریں چرا کر کہا:

    ’’جن سوالوں کا جواب مجھے نہیں معلوم وہ مجھ سے مت پوچھو۔ آج ہر شخص تنہا ہے ۔ کوئی کسی کے کام نہیں آ سکتا۔ اگر ان کے اعمال اچھے ہیں ، تو یقین رکھو وہ تم سے آملیں گے ۔ ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو۔۔۔‘‘

    صالح جملہ نامکمل چھوڑ کر خاموش ہو گیا۔ اس کی بات سن کر میرا چہرہ بھی بجھ گیا۔ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر میرا حوصلہ بڑ ھایا اور کہا:

    ’’اللہ پر بھروسہ رکھو۔ تم خدا کے لشکر میں لڑ نے والے ایک سپاہی تھے ۔ اس لیے پہلے اُٹھ گئے ہو۔ باقی لوگ ابھی اٹھ رہے ہیں ۔ انشاء اللہ وہ لوگ بھی خیر کے ساتھ تم سے مل جائیں گے ۔ ابھی تو تم آگے چلو۔‘‘

    اس کی تسلی سے مجھے کچھ حوصلہ ہوا اور میں سبک رفتاری سے اس کے ساتھ چلنے لگا۔

    جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

  4. #4
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default re: Jab Zindagi Shuro Hogi

    ab agy....



    دوسرا باب: عرش کے سائے میں


    ہم ہوا کے نرم و تیز جھونکوں کی مانند آگے بڑ ھ رہے تھے ۔ اس چلنے میں کوئی
    مشقت نہ تھی بلکہ لطف آ رہا تھا۔ نجانے ہم نے کتنا فاصلہ طے کیا تھا کہ صالح کہنے لگا:
    ’’عرشِ الٰہی کے سائے میں مامون علاقہ شروع ہونے والا ہے ۔ وہ دیکھو! آگے فرشتوں کا ایک ہجوم نظر آ رہا ہے ۔ ان کے پیچھے ایک بلند دروازہ ہے ۔ یہی اندر داخلے کا دروازہ ہے ۔‘‘
    میں نے صالح کے کہنے پر سامنے غور سے دیکھا تو واقعی فرشتے اور ان کے پیچھے ایک دروازہ نظر آیا۔ مگر یہ عجیب دروازہ تھا جو کسی دیوار کے بغیر قائم تھا۔ یا شاید دیوار غیر مرئی تھی کیونکہ دروازے کے ساتھ پیچھے کی سمت کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ گویا ایک نظر نہ آنے والا پردہ تھا جس نے دروازے کے پیچھے کے ہر منظر کو ڈھانپ رکھا تھا۔

    تاہم اس کی بات سنتے ہی میرے قدم تیز ہوگئے اور فاصلہ تیزی سے گھٹنے لگا۔ دروازہ ابھی دور ہی تھا، مگر فرشتے واضح طور پر نظر آنے لگے تھے ۔ یہ انتہائی سخت گیر اور بلند قامت فرشتے تھے جن کے ہاتھ میں آگ کے کوڑ ے دیکھ کر میں گھبرا گیا۔ میں نے صالح کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر اسے روکتے ہوئے کہا:
    ’’تم غالباً غلط سمت جا رہے ہو۔ یہ تو عذاب کے فرشتے لگتے ہیں ۔‘‘
    ’’چلتے رہو۔‘‘، اس نے رُکے بغیر جواب دیا۔

    ناچار مجھے بھی اس کے پیچھے جانا پڑ ا۔ تاہم میں نے اتنا اہتمام کر لیا کہ اس سے دو قدم پیچھے رہ کر چلنے لگا تاکہ اگر پلٹ کر بھاگنے کی نوبت آئے تو میں اِس سے آگے ہی ہوں ۔ صالح کو میرے احساسات کا اندازہ ہو چکا تھا۔ اس نے وضاحت کرنی ضروری سمجھی:
    ’’یہ بے شک عذاب ہی کے فرشتے ہیں ۔ ۔ ۔ ‘‘
    میں نے اس کی بات درمیان سے ا چک کر کہا
    :
    ’’اور یہاں اس لیے کھڑ ے ہیں کہ آگے جانے سے قبل میری ٹھکائی کر کے میرے گناہ جھاڑ یں ۔‘‘

    وہ میری بات سن کر بے اختیار ہنسنے لگا اور بولا:
    ’’یار دیکھو اگر ٹھکائی ہونی ہے تو تمھارا بھاگنا مفید ثابت نہیں ہو گا۔ کوئی شخص ان فرشتوں کی رفتار اور طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ویسے تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ یہاں تمھارے لیے نہیں کھڑ ے ہیں ۔ بلکہ یہ اس لیے کھڑ ے ہیں کہ خدا کا کوئی مجرم اگر اس سمت آنے کی کوشش کرے ، تو اُسے اتنا ماریں کہ وہ دوبارہ اس طرف آنے کی ہمت نہ کرے ۔‘‘

    ہمارے قریب پہنچنے سے قبل ہی انہوں نے دو حصوں میں بٹ کر ہمارے لیے ایک راستہ بنادیا۔ ازراہِ عنایت انہوں نے یہ اہتمام بھی کیا کہ کوڑ وں کو اپنے پیچھے کر لیا۔ میرا خیال تھا کہ یہ ہمیں دیکھ کر مسکرائیں گے اور اظہارِ مسرت کریں گے ، مگر کوشش کے باوجود میں ان کے چہروں پر کوئی مسکراہٹ تلاش نہ کرسکا۔ صالح کہنے لگا:
    ’’ان کی موجودگی کا ایک مقصد تمھیں اللہ کی اس نعمت کا احساس دلانا ہے کہ کس قسم کے فرشتوں سے تمھیں بچالیا گیا۔‘‘
    بے اختیار میری زبان سے کلمۂ شکر و حمد ادا ہو گیا۔

    ان کے بیچ سے گزر کر ہم دروازے کے قریب پہنچے تو وہ خود بخود کھل گیا۔ اس کے کھلتے ہی میری نظروں کے سامنے ایک پرفضا مقام آ گیا۔ یہاں سے وہ علاقہ شروع ہورہا تھا جہاں عرشِ الٰہی کی رحمتیں سایہ فگن تھیں ۔ روح تک اتر جانے والی ٹھنڈی ہوائیں اور مسحورکن خوشبو مجھے آنے لگی تھی۔ ہم دورازے سے اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ دروازے کے ساتھ ہی دور تک فرشتے قطار در قطارکھڑ ے تھے ۔ ان کے چہرے بے حد دلکش تھے اور اس سے کہیں زیادہ خوبصورت
    مسکراہٹ ان کے چہروں پر موجود تھی۔ یہ ہاتھ باندھے مؤدب انداز میں کھڑ ے تھے ۔ ہم جیسے ہی ان کے بیچ سے گزرے ، دعا و سلام اور خوش آمدید کے الفاظ سے ہمارا خیر مقدم شروع ہو گیا۔ ان کے رویے اور الفاظ کی تاثیر میری روح کی گہرائیو ں میں اتر رہی تھی اور ان کے وجود سے اٹھنے والی خوشبوئیں میرے احساسات کو سرشار کر رہی تھیں ۔

    یہاں داخل ہوتے ہی مجھے یہ محسوس ہوا کہ میرے اندر کوئی غیر معمولی تبدیلی آئی ہے ۔ لیکن اس وقت میری ساری توجہ فرشتوں اور یہاں کے دلکش ماحول کی طرف تھی اس لیے میں زیادہ توجہ نہیں دے سکا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے ۔ میں اس کیفیت کو بس یہاں کے ماحول کا ایک اثر سمجھا۔
    چلتے چلتے مجھے کچھ خیال آیا تو میں نے صالح کے کان میں سرگوشی کی:
    ’’یار یہ تو ٹھیک ہے کہ یہ لوگ مجھے کوئی نجات یافتہ شخص مان کر میرا استقبال کر رہے ہیں ، لیکن یہاں میری ذاتی واقفیت تو کوئی نہیں ہے ۔ کیا یہاں تمھارا کوئی واقف ہے ؟‘‘
    میری بات سن کر صالح ہنستے ہوئے بولا:
    ’’عبد اللہ! آج ہر شخص اپنی پیشانی سے پہچانا جائے گا کہ وہ کون ہے ۔ تمھیں علم نہیں مگر تمھارا پورا پورا تعارف تمھاری پیشانی پر درج ہے ۔ تم دیکھتے جاؤ آگے کیا ہوتا ہے ۔‘‘

    قطار کے اختتام پر کھڑ ا ایک وجیہ فرشتہ، جو اپنے انداز سے ان سب کا سردار معلوم ہوتا تھا، میرے پاس آیا اور میرا نام لے کر اس نے مجھے سلام کیا۔ میں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر وہ بہت نرمی اور محبت سے بولا:
    ’’کیا آپ آئینہ دیکھنا پسند کریں گے ؟‘‘

    میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اس نے یہ بات مذاق میں کہی تھی یا سنجیدگی سے ۔ کیوں کہ اس وقت آئینہ دیکھنے کی کوئی معقول وجہ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ تاہم اس نے میرے جواب کا انتظار نہیں کیا۔ ایک فرشتے کو اشارہ کیا اور اگلے ہی لمحے میرے سامنے ایک قدِ آدم آئینہ تھا۔ میں نے اس آئینے کو دیکھا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اس نے میرے ساتھ مذاق کیا تھا۔ کیونکہ یہ آئینہ نہیں بلکہ ایک انتہائی خوبصورت اور زندگی سے بھرپور پینٹنگ تھی
    جس میں ایک خوبصورت نوجوان بلکہ شہزادہ شاہانہ لباس زیب تن کیے کھڑ ا تھا۔ یہ تصویر کسی بھی اعتبار سے تصویر نہیں لگ رہی تھی بلکہ یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے آئینے کے سامنے کوئی انسان زندہ کھڑ ا ہوا ہے ۔
    میں نے اس فرشتے کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا:
    ’’آپ اچھا مذاق کرتے ہیں ، مگر پینٹنگ اس سے زیادہ اچھی کرتے ہیں ۔ مصور تو آپ ہی معلوم ہوتے ہیں ، لیکن اس میں ماڈل کون ہے ؟‘‘
    فرشتے نے انتہائی سنجیدگی سے میری بات کا جواب دیا:
    ’’پینٹر تو ’المصور‘ یعنی مالکِ ذوالجلال ہے ۔ البتہ ماڈل آپ ہیں ۔‘‘

    اس کے بعد اس نے صالح کو اشارہ کیا۔ وہ میرے قریب آیا اور میرا سر گھما کر دوبارہ پینٹنگ کی طرف کر دیا۔ اس دفعہ پینٹنگ میں اس نوجوان کے ساتھ صالح بھی نظر آ رہا تھا۔ میں حیرت سے کبھی صالح کو دیکھتا اور کبھی اس آئینے میں کھڑ ے دوسرے شخص کو جس کے بارے میں ان دونوں کی متفقہ رائے یہ تھی کہ یہ میں ہی تھا۔
    ’’مگر یہ میں تو نہیں !‘‘، میں نے بلند آواز سے کہا۔
    جواب میں صالح نے یہ مصرعہ پڑ ھ دیا:
    اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو
    ’’لیکن یہ کیسے ممکن ہے ؟ میں تو ایک بوڑ ھا شخص تھا اور جوانی میں بھی کم از کم ایسا نہیں تھا!‘‘
    اس دفعہ میری بات کا جواب فرشتے نے دیا:
    ’’
    آپ ناممکنات کی دنیا سے ممکنات کی دنیا میں آ گئے ہیں ۔ آپ انسانوں کی دنیا سے خدا کی دنیا میں آ گئے ہیں ۔ آج ہر شخص ویسا نہیں دکھائی دے گا جیسا وہ دنیا میں دوسرے انسانوں کو نظر آتا تھا۔ بلکہ آج ہر شخص ویسا نظر آئے گا جیسا وہ اپنے مالک کو نظر آتا تھا۔ اور مالک کی نظر میں انسانوں کی صورت گری ان کے گوشت پوست پر نہیں بلکہ ان کے ایمان و اخلاق اور اعمال کی بنیاد پر ہوتی تھی۔ آپ اسے دنیا میں جیسے لگتے تھے ، ویسا ہی آج اس نے آپ
    کو بنادیا ہے ۔ ویسے یہ عارضی انتظام ہے ۔ آپ کی فیصلہ کن شخصیت اس وقت سامنے آئے گی، جب جنت میں آپ کے درجات کا فیصلہ حتمی طور پر ہو گا۔ سرِ دست تو آپ آگے جائیں ۔ بہت سے دوسرے لوگ آپ کا نتظار کر رہے ہیں ۔‘‘
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    ہم آگے کی سمت بڑ ھ رہے تھے ۔ مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ اندر داخل ہوتے ہی مجھے جس تبدیلی کا احساس ہوا تھا وہ کیا تھی۔ میری چال میں بہت اعتماد تھا۔ شاید یہ آئینے کا اثر تھا کہ اب مجھے یقین آنے لگا تھا کہ ربِّ کعبہ نے مجھے سرفراز کر کے میرے بخت کو ہمیشہ کے لیے جگادیا ہے ۔ میری زندگی کے شب و روز اور اس میں پیش آنے والے مسائل اب میرے لیے خواب و خیال ہو چکے تھے ۔ پچھلی دنیا کی محرومیاں ، صبر اور محنتیں کبھی اس طرح بھی رنگ
    لائیں گی، مجھے اس کا قطعاً اندازہ نہیں تھا۔ قرآنِ کریم اور احادیث میں ا گلی دنیا کا بہت کچھ تعارف پڑ ھا تھا، مگر جو آنکھ دیکھتی، کان سنتے اور حواس محسوس کرسکتے ہیں وہ الفاظ سے شعور تک بہت کم منتقل ہوتا ہے ۔ آج جب یہ سب حقائق سامنے ہیں تو یقین نہیں آتا کہ میں ۔ ۔ ۔ مجھے یہ اندازہ تو زندگی ہی میں ہو چکا تھا کہ آخرت کی بازی میں جیت جاؤں گا۔ مگر اس جیت کا مطلب اتنا شاندار ہو گا، اس کا مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔

    ’’تمھیں ابھی پورا اندازہ نہیں ہوا ہے ۔‘‘، صالح پتہ نہیں کس طرح میرے خیالات پڑ ھ رہا تھا۔ اس کے جملے نے مجھے چونکادیا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی:
    ’’اصل زندگی تو ابھی شروع ہی نہیں ہوئی۔ ابھی تو تم حشر کے عارضی مرحلے میں ہو۔ اصل زندگی تو درحقیقت جنت میں شروع ہو گی۔ اُس وقت خدا کا بدلہ دیکھنا۔ اُس وقت خدا کو داد دینا۔ سرِ دست تو آگے دیکھو، ہم کہاں کھڑ ے ہیں ۔‘‘
    اس کی بات سے مجھے احساس ہوا کہ میں اپنے ماحول سے بالکل لاتعلق ہوکر چل رہا تھا۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا۔ ہم اس وقت ایک وسیع و عریض اور سرسبز و شاداب میدان میں تھے ۔ آسمان پر سورج چمک رہا تھا۔ اس میں روشنی تھی پر دھوپ نہ تھی۔ آسمان پر کہیں بادل نہ تھے ، مگر زمین پر ہر جگہ سایہ تھا۔ زمین سبز تھی۔ شاید اسی کے اثر سے آسمان نیلگوں کے بجائے سبزی مائل ہورہا تھا۔ میدان کے وسط میں ایک فلک بوس پہاڑ تھا۔ محاورۃً نہیں ، حقیقتاً
    فلک بوس۔ کیونکہ اس کی چوٹی جہاں سے ہم کھڑ ے دیکھ رہے تھے ، آسمان میں پیوست لگ رہی تھی۔ فضا میں ہر طرف بھینی بھینی خوشبو مہک رہی تھی۔ یہ خوشبو ہر اعتبار سے بالکل نئی مگر انتہائی مسحورکن تھی۔ ہماری سماعت ہمیں ان نغموں کا احساس دلا رہی تھی جو کانوں میں رس گھولنے والی موسیقی کے ساتھ چار سو بکھرے ہوئے تھے ۔ مجھے یہ لگ رہا تھا کہ یہ خوشبو اور یہ موسیقی میری ناک اور کان کے راستے سے نہیں بلکہ براہِ راست میرے اعصاب تک پہنچ رہی ہے ۔ اس کی تاثیر میں مہک و آہنگ اور سکون و سرور کے عناصر اس خوبصورت تناسب سے یکجا تھے کہ مجھے اپنا وجود تحلیل ہوتا محسوس
    ہورہا تھا۔
    میں ایک جگہ رک کر کھڑ ا ہو گیا اور آنکھیں بند کر کے اس ماحول میں گم ہو گیا۔ صالح نے میرا انہماک دیکھ کر کہا
    :
    ’’اس پہاڑ کا نام اعراف ہے ۔ آؤ اس کے گرد چکر لگاتے ہیں ۔ میں ساتھ ساتھ تمھیں یہاں کی ساری تفصیلات سے آگاہ کرتا رہوں گا۔‘‘
    میں جواب دیے بغیر سحر زدہ انداز میں صالح کے ساتھ ہولیا۔ ہم نے دائیں طرف سے اپنا سفر شرو ع کیا۔ ہم کچھ دور ہی چلے تھے کہ پہاڑ کے ایک حصے پر امت آدم لکھا ہوا نظر آیا۔ میں نے صالح سے پوچھا:
    ’’کیا یہاں آدم علیہ السلام ہیں ؟‘‘
    ’’
    نہیں ۔ سارے نبی پہاڑ کے اوپر بلند حصے پر موجود ہیں ۔ تم دیکھو گے کہ ہر تھوڑ ی دیر بعد اسی طرح کسی نہ کسی نبی اور اس کی امت کا نام لکھا ہوا نظر آئے گا۔ ہر امت کے نجات یافتہ لوگ۔ ۔ ۔ تمھاری طرح کے نجات یافتہ لوگ۔ ۔ ۔ یہاں آ کر جمع ہوں گے ۔‘‘، اس نے جواب دیا۔
    ’’کیا مجھے امت محمدیہ کے کیمپ میں جانا ہو گا؟‘‘، اس پر میں نے اشتیاق سے پوچھا۔
    صالح نے نفی میں سر ہلایا اور بولا:
    ’’
    ان مقامات پر نجات یافتہ لوگ کھڑ ے ہوں گے اور روز حشر کے اختتام پر یہیں سے جنت میں جائیں گے ۔ تمھیں پہاڑ کے اوپر جانا ہو گا۔ وہاں سارے نبی اور ان کی امتوں میں سے وہ لوگ جمع ہیں جنہوں نے نبیوں کے اتباع میں لوگوں پر حق کی شہادت دی۔ یہ لوگ یہیں سے انسانوں کے بارے میں خدا کا فیصلہ دیکھتے رہیں گے ۔اسی جگہ سے انہیں انسانوں پر گواہی دینے کے لیے بلایا جائے گا۔ ہر نامراد شخص جہنم میں اور ہر کامیاب شخص پہاڑ کے نیچے اپنے اپنے
    نبی کے کیمپ میں آتا جائے گا۔ پھر ہر امت گروہ در گروہ یہیں سے جنت میں جائے گی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے حشر میں ہونے والے ہر فیصلے کو براہِ راست دیکھا جا سکتا ہے ۔ جنت و جہنم بھی یہاں سے نظر آتی ہیں ۔‘‘

    ہم یہ گفتگو کر رہے تھے اور ایک ایک کر کے تمام نبیوں کی امت کے مقامات سے گزرتے جا رہے تھے ۔ اس وقت تک ہر جگہ بہت کم لوگ تھے ۔ میں نے صالح سے کہا:
    ’’شایدا بھی تمام لوگ نہیں آئے ۔‘‘
    اس نے کہا:
    ’’نہیں یہ بات نہیں ۔ دیگر نبیوں کی امت میں سے نجات یافتہ لوگ ہیں ہی بہت کم۔ زیادہ تر لوگ بنی اسرائیل میں سے ہیں اور سب سے زیادہ امتِ محمدیہ میں سے ہیں ۔ یہ دونوں کیمپ ابھی تک نہیں آئے ۔ لیکن سرِ دست وہاں بھی زیادہ لوگ نہیں ہیں ۔ لیکن تھوڑ ی دیر میں ہوجائیں گے ۔ آؤ اب اوپر چلتے ہیں ۔ اِس پہاڑ کا چکر تو بہت طویل ہوجائے گا۔‘‘
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    مجھے بلند مقامات پر چڑ ھنے کا ہمیشہ سے شوق رہا ہے ۔ لیکن شاید یہ میری زندگی کی سب سے عجیب بلندی تھی۔ یہ بظاہر بہت بلند اور آسمان تک اونچی تھی۔ مگر یہاں سے ہم زمین کو اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے چند منزل ہی اوپر کھڑے ہوں ۔ نیچے سے جو جگہ ایک چوٹی لگتی تھی وہ ایک ہموار سطح مرتفع تھی۔ تاہم اس ہموار زمین پر تھوڑ ے تھوڑ ے فاصلے پر بلند و بالا قلعہ نما تعمیرات بنی ہوئی تھیں ۔ تاہم ان کے اردگرد کوئی دیوار تھی اور نہ ان میں
    دروازے ہی موجود تھے ۔ اس لیے باہر سے بھی اندر کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔ یہاں ہر طرف شاہانہ انداز کے خدم و حشم تھے ۔ عالیشان تخت پر تاج پہنے ہوئے انتہائی باوقار ہستیاں بیٹھی ہوئی تھیں ۔ ان کے اردگرد اسی شان کے لوگ شاہانہ نشستوں پر براجمان تھے ۔ میں نے صالح سے ان بلند تعمیرات کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا
    :
    ’’یہ مختلف انبیا کی عارضی قیام گاہیں ہیں ۔ انھی کی بنا پر اس پہاڑ کو اعراف کہا جاتا ہے ۔ تم تو جانتے ہو کہ اعراف کا مطلب بلندیوں کا مجموعہ ہے ۔‘‘
    میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بولا:
    ’’تخت پر بیٹھے ہوئے حضرات انبیاے کرام ہیں ۔ اور ان کے اردگرد بیٹھے لوگ ان کی امت کے شہدا اور صدیقین ہیں ۔ صدیقین وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبیوں کی زندگی میں ان کا ساتھ دیا اور شہدا وہ لوگ ہیں جنہوں نے انبیا کے بعد ان کی دعوت کو آگے پہنچایا۔ یہ سب وہ لوگ تھے جو دنیا میں خدا کے لیے جیے اور اسی کے لیے مرے ۔ اسی کے صلے میں یہ لوگ آج اس عزت و سرفرازی سے ہمکنار ہوئے ہیں جس کا مشاہدہ تم
    اس وقت کر رہے ہو۔‘‘
    ’’کیا یہ ممکن ہے کہ انبیا علیھم السلام سے میری ملاقات ہو سکے ؟‘‘، میں نے پوچھا۔

    ’’سب سے ملاقات کا وقت تو نہیں لیکن کچھ سے ضرور مل سکتے ہیں ۔‘‘
    اس نے جواب دیا اور پھر ایک ایک کر کے خدا کے جلیل القدر پیغمبروں سے میری ملاقات کرانی شروع کی۔ وہ پیغمبر جو میرے لیے عظمتوں کا نشان تھے ، میں ان سے مل رہا تھا۔ آدم، نوح، ہود، صالح، اسحاق، یعقوب، یوسف، شعیب، موسیٰ، ہارون، یونس، داؤد، سلیمان، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور کئی پیغمبر وہ تھے جن کے نام سے میں آج پہلی دفعہ واقف ہوا تھا۔ سب
    نے گلے لگا کر اور میری پیشانی پر بوسہ دے کر میرا استقبال کیا۔ مجھے مبارکباد دی۔
    اس دوران میں صالح نے مجھ سے کہا:
    ’’
    انبیا تو بہت ہیں اور جنت کی بستی میں ان سے ملنے کا وقت بھی بہت ہو گا، لیکن اب آخر میں ابو الانبیا سے مل لو۔ اس کے بعد ہمیں پیغمبر عربی کے حضور پیش ہونا ہو گا۔ تمھیں وہاں پہنچنے میں تاخیر ہورہی ہے ۔‘‘
    ہم سیدنا ابراہیم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے چل پڑ ے ۔ میں نے دور سے انھیں دیکھا۔ ابھی تک جتنے لوگ میں نے دیکھے تھے وہ ان میں سب سے زیادہ بلند اور اعلیٰ مقام کے مالک نظر آئے ، مگر ان کے اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں کی تعداد انتہائی کم تھی۔ اس کا سبب مجھے صالح سے دریافت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ابو الانبیا کی نسل میں جتنے زیادہ اہل ایمان پیدا ہوئے ، آپ کے معاصرین میں آپ پر اتنے ہی کم لوگ ایمان لائے ۔
    میں دھیرے دھیرے چلتا ہوا سیدنا ابراہیم کے قریب پہنچا۔ مجھے دیکھ کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔ وہ میرا نام لے کر بولے :
    ’’عبد اللہ! تمھارا آنا مبارک ہو۔‘‘

    میں نے آگے بڑ ھ کر ان کے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔ انہوں نے جواب میں میری پیشانی کا بوسہ لیا اور آخرت کی اس عظیم کامیابی پر مجھے مبارکباد دی۔ کچھ گفتگو کے بعد ہم آگے روانہ ہوگئے ، مگر مجھے دوران گفتگو یہ احساس ہوا تھا کہ سیدنا ابراہیم ایک نوعیت کے تفکر میں مبتلا ہیں ۔ راستے میں صالح سے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو وہ بولا:
    ’’تمھیں نہیں معلوم اس وقت حشر کے میدان میں کیا قیامت برپا ہے ۔ اس وقت ہر نبی پریشان ہے کہ انسانیت کا کیا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ ان انبیا میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس کی امت عذاب الٰہی کا سامنا کرے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو معاف کر دیں ۔ مگر سرِ دست اس کا کوئی امکان نہیں ۔ ایسی کوئی دعا کی جا سکتی ہے اور نہ اس کی اجازت ہے ۔ لوگ سیکڑ
    وں برس سے خوار و خراب ہورہے ہیں اور سرِدست حساب کتاب شروع ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے ۔‘‘
    ’’سیکڑ وں برس؟ کیا مطلب! ہمیں تو اندر آئے ہوئے بمشکل ایک دو گھنٹے گزرے ہوں گے ۔‘‘، میں نے چونک کر تعجب سے کہا۔
    ’’یہ تم سمجھ رہے ہو۔ آج کا دن کامیاب لوگوں کے لیے گھنٹوں کا ہے اور باہر موجود لوگوں کے لیے انتہائی سختی و مصیبت کا ایک بے حد طویل دن ہے ۔ باہر صدیاں گزر گئی ہیں ۔ مگر تم ابھی یہ بات نہیں سمجھو گے ۔‘‘، اس نے وضاحت کرتے ہوئے جواب دیا۔
    میں اس کی بات کو ہضم نہیں کرسکا، مگر ظاہر ہے میں جس دنیا میں تھا وہاں سب کچھ ممکن تھا۔ اور نجانے اور کتنی تعجب انگیز باتیں میرے سامنے آنے والی تھیں ۔
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    صحابہ کرام اور مہاجرین و انصار حلقہ بنائے ادب و احترام سے بیٹھے تھے ۔ اُمتِ محمدیہ کے اولین و آخرین کی بھی ایک بڑ ی تعداد موجود تھی۔ شمعِ رسالت کے ان پروانوں کے بیچ رسالتمآب سر جھکائے تشریف فرما تھے ۔ بظاہر ہر چیز بالکل ٹھیک تھی، مگر میں محسوس کرسکتا تھا کہ یہاں بھی اسی نوعیت کا تفکر پھیلا ہوا تھا جسے میں سیدنا ابرہیم کے چہرے پر پیچھے دیکھ کر آیا تھا۔
    ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بارگاہ احدیت میں دعا کر رہے ہیں ۔ ہمیں بیٹھ کر انتظار کرنا چاہیے ۔‘‘، صالح پچھلی نشستوں کی طرف بڑ ھتے ہوئے بولا۔
    ہم پچھلی نشستوں پر براجمان ہوگئے ۔ یہاں سے یہ اندازہ کرنا مشکل تھا کہ آگے کیا ہورہا ہے ۔ میں نے صالح سے دریافت کیا:
    ’’یہ حساب کتاب کب شروع ہو گا؟‘‘
    ’’مجھے کیا معلوم۔ کسی کو بھی معلوم نہیں ۔‘‘، اس نے جواب دیا۔
    اس کی بات سن کر میں خاموش ہو گیا اور نشست کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا۔ نہ جانے کتنا وقت گزرا تھا کہ صالح کی آواز میرے کان میں آئی:
    ’’تمھیں رسول اللہ نے طلب کیا ہے ۔‘‘

    اس کی آواز اور چہرے پر قدرے حیرت کے آثار تھے ۔ میں مسکراتا ہوا اسے جواب دیے بغیر اٹھ گیا۔ لوگوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے ہم دونوں بارگاہِ رسالتمآب میں حاضر ہوئے ۔ سلام اور دست بوسی کے بعد حضور نے فرمایا:
    ’’مرحبا عبد اللہ! تم سے مل کر خوشی ہوئی۔ ۔ ۔ بیٹھ جاؤ۔‘‘
    میں وہیں حضور کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ آپ نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور فرمایا:
    ’’جس وقت پروردگار عالم کے حضور میری یہ دعا قبول ہوئی کہ حساب کتاب شروع ہوجائے ، تم نے بھی ایک دعا کی تھی۔ میری دعا قبول ہوئی اور قبولیت کی اس گھڑ ی میں تمھاری دعا بھی سن لی گئی ہے ۔ تم دوبارہ حشر کے میدان میں جانا چاہتے ہو؟ جاؤ، تمھیں اجازت مل گئی ہے ۔ حساب کتاب کچھ دیر بعد شروع ہو گا۔ تم اس وقت تک لوگوں کے احوال دیکھ سکتے ہو۔‘‘
    سرکار دو عالم ایک وقفے کے بعد دوبارہ گویا ہوئے :
    ’’
    لیکن دیکھو باہر بہت سخت ماحول ہے ۔ صالح گرچہ تمھارے ساتھ ہو گا، مگر پھر بھی تم یہ پیتے جاؤ۔ یہ مشروب تمھیں باہر کے آلام سے محفوظ کر دے گا۔‘‘
    یہ کہہ کر حضور نے پاس رکھا سنہرے رنگ کا جگمگاتا ہوا ایک گلاس میری سمت بڑ ھادیا۔ میں نے دونوں ہاتھ آگے بڑ ھا کر یہ گلاس حضور کے ہاتھوں سے لیا اور اپنے ہونٹوں سے لگالیا۔

    گلاس ہونٹوں سے لگاتے ہی ایک عجیب واقعہ ہوا۔ میں گرچہ بالکل پیاسا نہیں تھا اور نہ کسی تکلیف اور بے چینی ہی میں تھا، مگر جو تسکین مجھے ملی وہ شاید صدیوں کے کسی پیاسے کو بھی پانی کا پہلا گھونٹ پینے پر نہیں ملتی ہو گی۔ اس مشروب کا ایک گھونٹ حلق سے اتارتے ہی لذت، سیرابی، آسودگی، مٹھاس اور ٹھنڈک کے الفاظ اپنے ایسے مفاہیم کے ساتھ مجھ پر واضح ہوئے جس کا تجربہ مجھے تو کیا، کسی دوسرے انسان کو بھی کبھی نہیں ہوا ہو گا۔ اس
    مشروب کا ایک ایک قطرہ میری زبان سے حلق، حلق سے سینے اور سینے سے معدہ تک اترتا رہا اور میری رگ رگ کو سیرابی اور سرشاری کی کیفیت سے دوچار کرتا گیا۔ میرا دل تو چاہا کہ ایک ہی گھونٹ میں پورا گلاس پی جاؤں ، مگر جس ہستی کے سامنے بیٹھا تھا، اس کا ادب اس بات میں مانع ہوا۔ میں نے آہستگی سے سوال کیا:
    ’’یا رسول اللہ یہ کیا ہے ؟‘‘
    آپ مسکراتے ہوئے گویا ہوئے :
    ’’یہ نئی زندگی اور نئی دنیا کا پہلا تعارف ہے ۔ یہ جام کوثر ہے ۔ اسے پینے کے بعد حشر میں گرمی اور پیاس تمھیں نہیں ستائے گی۔‘‘

    یہ الفاظ سنتے ہی مجھے سمجھ میں آ گیا کہ مجھ پر اس مشروب کا یہ غیر معمولی اثر کیوں ہوا تھا؟ یہ جنت کی نہر کوثر کا پانی تھا اور بلاشبہ ان تمام خصائص کا حامل تھا جن کا ذکر میں ہمیشہ سنتا رہا تھا۔ اس لمحے مجھے یہ بھی اندازہ ہوا کہ جنت کی نعمتیں کیا ہوں گی۔ پچھلی دنیا میں کھانے پینے کی لذت دو چیزوں میں پوشیدہ تھی۔ ایک یہ کہ انسان کو شدید بھوک اور پیاس لگی ہو اور دوسرے اسے کھانے پینے کے لیے بہت لذیذ شے مل جائے ۔ مگر جنت کی
    ہر شے اپنی ذات میں انتہائی لذید ہونے کے ساتھ انسان کو بغیر بھوک اور پیاس کے وہ لذت اور تسکین بھی فراہم کرے گی، جو صرف ایک انتہائی بھوکے اور پیاسے شخص ہی کو مل سکتی ہے ۔ اب مجھے معلوم ہو گیا کہ جنت میں نہ بھوک ہو گی اور نہ پیاس، مگر اس کے باوجود انسان جتنا چاہے گا شوق سے کھائے گا اور اس کی کوئی سیری ایسی نہیں ہو گی جو اسے گرانی اور بھاری پن میں مبتلا کر دے۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    جا ری ہے
    __________________


  5. #5
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default re: Jab Zindagi Shuro Hogi

    تیسرا باب: میدان حشر


    ہم دونوں ایک دفعہ پھر تیزی سے چل رہے تھے ۔ عرش کی حدود سے نکلتے ہی ایک انتہائی

    گرم اور حبس زدہ ماحول سے واسطہ پڑا۔ لگتا تھا کہ سورج نو کروڑ میل سے سوا میل کے

    فاصلے پر آ کر دہکنے لگاہے ۔ ہوا بالکل بند تھی۔ لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ پانی کا

    نام و نشان نہ تھا۔ مجھ پر جام کوثر کا اثر تھا وگرنہ اس ماحول میں تو ایک لمحہ گزارنا ناممکن

    تھا۔ مگر میں دیکھ رہا تھا کہ ان گنت لوگ اسی ماحول میں بدحال گھوم رہے تھے ۔ چہروں پر

    وحشت، آنکھوں میں خوف، بال خاک آلود، جسم پسینے سے شرابور، وجود مٹی سے اٹا

    ہوا، پاؤں میں چھالے اور ان چھالوں سے رستا ہوا خون اور پانی۔ یاس و ہراس کا یہ منظر میں

    نے زندگی میں پہلی دفعہ دیکھا تھا۔ ہر طرف افراتفری چھائی ہوئی تھی۔ ہر کسی کو اپنی پڑ

    ی ہوئی تھی۔ میری نظریں کسی ایسے شخص کو تلاش کر رہی تھیں جسے میں جانتا ہوں

    ۔ پہلی شخصیت جو مجھے نظر آئی وہ میرے اپنے استاد فرحان احمد کی تھی۔ انہوں نے دور

    سے مجھے دیکھا اور تیزی کے ساتھ میری نگا ہوں سے اوجھل ہونے کی کوشش کرنے لگے

    ۔ میں نے صالح سے کہا:

    ’’انھیں روکو! یہ میرے استاد ہیں ۔ میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں ۔‘‘

    مگر اس نے مجھے ان کی طرف بڑ ھنے سے روک دیا اورتاسف آمیز لہجے میں بولا:

    ’’دیکھو عبد اللہ! اپنے استاد کی رسوائی میں اور اضافہ مت کرو۔ اس وقت یہاں کوئی شخص

    اگر خوار و خراب ہورہا ہے تو سمجھ لو اس کے ساتھ عدل ہو چکا ہے ۔ وہ خدائی کسوٹی پر

    کھوٹا سکہ نکلا، اسی لیے اس حال میں ہے ۔‘‘

    میں تڑ پ کر بولا:

    ’’مگر ہم نے تو خداپرستی اور آخرت کی سوچ اور اخلاق کی ساری باتیں انہی سے سیکھی

    تھیں ۔‘‘

    ’’سیکھی ہوں گی‘‘، صالح نے بے پروائی سے جواب دیا۔

    ’’مگر ان کا علم ان کی شخصیت نہیں بن سکا۔ دیکھو! خدا کے حضور کسی شخص کا فیصلہ

    اس کے علم کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ اس کے عمل، سیرت اور شخصیت کی بنیادی حیثیت

    ہوتی ہے ۔ علم صرف اس لیے ہوتا ہے کہ شخصیت درست بنیادوں پر تعمیر ہو سکے ۔ جب

    تعمیر ہی غلط ہو تو یہ علم نہیں سانپ ہے :

    علم را برتن زنی مارے بود

    علم را بر من زنی یارے بود



    (علم ظاہر تک رہے تو سانپ ہے اور اندر اترجائے تو دوست بن جاتا ہے )

    یہی تمھارے استاد کے ساتھ ہوا ہے ۔ وہ ایک اچھے مصنف تھے ۔ باتیں بھی اچھی کرتے تھے

    ۔ مگر ان کی سیرت و کردار ان کی باتوں کے مطابق نہ تھی۔ درحقیقت تمھارے استاد سانپ

    پال رہے تھے ۔ آج علم کے ان سانپوں نے انہیں ڈس لیا ہے ۔ آج یہاں جب تم لوگوں کو دیکھو

    گے تو انہیں ان کے ظاہر اور ان کی باتوں کے مطابق نہیں پاؤ گے ، بلکہ ان کی شخصیت

    ٹھیک ویسے ہی نظر آئے گی جیسا کہ وہ اندر سے تھے ۔ یاد رکھو! خدا لوگوں کو ان کے ظاہر

    اور ان کی باتوں پر نہیں پرکھتا۔ وہ عمل اور شخصیت کو دیکھتا ہے ۔ خاص کر اہل علم کا

    احتساب آج کے دن بہت سخت ہو گا۔ جو باتیں دوسرے لوگوں کے لیے عذر بن جائیں گی،

    عالم کے لیے نہیں بن سکیں گی۔‘‘

    ’’مگر انہوں نے بڑ ی قربانیاں دی تھیں ۔‘‘، میں نے ہار نہ مانتے ہوئے کہا۔

    ’’ہاں مگر ان کا بدلہ انہیں دنیا ہی میں مل گیا۔‘‘، صالح نے جواب دیا۔

    ’’علم کی غلطیاں معاف ہو سکتی ہیں ، مگر شخصیت اور عمل کی کمزوری آج کے دن اسی

    حال میں پہنچائے گی جس میں تمھارے استاد مبتلا ہوئے ہیں ۔ خیر ابھی تو یہ دن شروع ہوا

    ہے ، دیکھو آخر تک کیا ہوتا ہے ۔‘‘

    میں صدمے کی حالت میں دیر تک گم سم کھڑ ا رہا۔ میں ایک یتیم شخص تھا جس کا کوئی

    رشتہ ناطہ نہ تھا۔ میرے لیے جو کچھ تھے وہ میرے استاد تھے ۔ انہوں نے میری سرپرستی

    کی، مجھے علم سکھایا، میری شادی کروائی، اور زندگی میں ایک مقصد دیا۔ جو شخص

    میرے لیے باپ سے زیادہ مقدم تھا، اسے اس حال میں دیکھ کر مجھے ایک شاک (Shock)

    لگا تھا۔ میں اس کیفیت میں اپنے ماحول سے قطعاً لا تعلق ہو گیا۔

    میرے سامنے ان گنت لوگ بھاگتے ، دوڑ تے ، گرتے پڑ تے چلے جا رہے تھے ۔ فضا میں

    شعلوں کے دہکنے کی آواز کے ساتھ لوگوں کے چیخنے چلانے ، رونے پیٹنے اور آہ و زاری

    کرنے کی آوازیں گونج رہی تھیں ۔ لوگ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے تھے ، گالیاں دے رہے

    تھے ، لڑ جھگڑ رہے تھے ، الزام تراشی کر رہے تھے ، آپس میں گتھم گتھا تھے ۔



    کوئی سر پکڑ کے بیٹھا تھا۔ کوئی منہ پر خاک ڈال رہا تھا۔ کوئی چہرہ چھپا رہا تھا۔ کوئی

    شرمندگی اٹھا رہا تھا۔ کوئی پتھروں سے سر ٹکرا رہا تھا۔ کوئی سینہ کوبی کر رہا تھا۔ کوئی

    خود کو کوس رہا تھا۔ کوئی اپنے ماں باپ، بیوی بچوں ، دوستوں اور لیڈروں کو اپنی اس تباہی

    کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان پر برس رہا تھا۔ ان سب کا مسئلہ ایک ہی تھا۔ قیامت کا دن آ گیا اور ان

    کے پاس اس دن کی کوئی تیاری نہیں تھی۔ اب یہ کسی دوسرے کو الزام دیں یا خود کو برا

    بھلا کہیں ، ماتم کریں یا صبر کا دامن تھامیں ، اب کچھ نہیں بدل سکتا۔ اب تو صرف انتظار تھا۔

    کائنات کے مالک کے ظہور کا۔ جس کے بعد حساب کتاب شروع ہونا تھا اور پورے عدل کے

    ساتھ ہر شخص کی قسمت کا فیصلہ کر دیا جانا تھا۔

    مگر میں اس سب سے بے خبر نجانے کتنی دیر تک اسی طرح گم سم کھڑ ا رہا۔ یکایک

    میرے بالکل قریب ایک آدمی چلایا:

    ’’ہائے ۔ ۔ ۔ اس سے تو موت اچھی تھی۔ اس سے تو قبر کا گڑ ھا اچھا تھا۔‘‘

    یہ چیخ نما آواز مجھے واپس اپنے ماحول میں لے آئی۔ لمحہ بھر میں میرے ذہن میں ابتد ا

    سے انتہا تک سب کچھ تازہ ہو گیا۔

    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


  6. #6
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default re: Jab Zindagi Shuro Hogi

    میں نے گردن گھما کر صالح کی طرف دیکھا۔ اس کا چہر ہ ہر قسم کے تأثر سے عاری تھا اور

    وہ مستقل مجھے دیکھے جا رہا تھا۔ میری توجہ اپنی طرف مبذول پا کر وہ بولا:

    ’’عبد اللہ! تم میدان حشر کے احوال جاننے کے شوق میں اپنی جگہ چھوڑ کر یہاں آئے ہو تو

    ایسے بہت سے مناظر ابھی تمھیں اور دیکھنے ہوں گے ۔ میں تمھیں مزید صدمات سے

    بچانے کے لیے ابھی سے یہ بات بتا رہا ہوں کہ تمھاری بیوی، تین بیٹیوں اور دو بیٹوں میں

    سے تمھاری ایک بیٹی لیلیٰ اور ایک بیٹا جمشید اسی میدان میں خوار و پریشان موجود ہیں

    ۔‘‘

    صالح کی یہ بات سن کر میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ مجھے چکر سا آیا اور میں سر

    پکڑ کر بیٹھ گیا۔ صالح میرے ساتھ ہی زمین پر خاموش بیٹھ گیا۔

    میری آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے ۔ مگر یہاں کسی کو کسی کی کوئی پروا

    نہیں تھی۔ کوئی کیوں بیٹھا ہے ؟ کیوں کھڑ ا ہے ؟ کیوں لیٹا ہے ؟ کوئی کیوں رو رہا ہے ؟

    کیوں چیخ رہا ہے ؟ کیوں ماتم کر رہا ہے ؟ یہ کسی کا مسئلہ نہیں تھا۔ آج سب کو اپنی ہی

    پڑ ی تھی۔ ایسے میں کوئی رک کر مجھ سے میرا غم کیوں پوچھتا؟ لوگ ہمارے پاس سے

    بھی بے نیازی سے گزرتے چلے جا رہے تھے ۔ کچھ دیر بعد میں نے صالح سے پوچھا:

    ’’اب کیا ہو گا؟‘‘

    ’’ظاہر ہے حساب کتاب ہو گا۔ پھر اس کے بعد ہی کوئی حتمی بات سامنے آئے گی۔‘‘

    اس کا جواب دوٹوک تھا۔ پھر وہ اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بولا:

    ’’جن لوگوں نے آج کے دن کی حاضری کو اپنا مسئلہ بنالیا تھا اور وہ اسی کے لیے جیے ،

    چاہے وہ ایمان و اخلاق کے تقاضے پورے کرنے والے صالحین ہوں یا خدا کے دین کی نصرت کو

    اپنا مسئلہ بنانے والے اہل ایمان، سب کے سب اس طرح اٹھائے گئے ہیں کہ ان کی نجات کا

    فیصلہ ہو چکا ہے ۔ ان لوگوں نے زندگی میں صرف نیکیاں کمائی تھیں ۔ خالق و مخلوق کے

    حقوق پورے کیے تھے ۔ چنانچہ ان کی موت ہی ان کا پروانہ نجات بن کر سامنے آئی تھی اور

    حشر کے دن انہیں شروع ہی سے عافیت نصیب ہوگئی۔‘‘

    ’’مگر گناہ تو سب کرتے ہیں ۔ تو کیا ان لوگوں نے گناہ نہیں کیے تھے ؟‘‘، میں نے پوچھا۔

    ’’ہاں گناہ انہوں نے بھی کیے تھے ، مگر ان کے چھوٹے موٹے گناہ ان کی نیکیوں نے ختم کر

    دیے اور اگر کبھی کسی بڑ ے گناہ سے دامن آلودہ ہوا تو انھوں نے فوراً توبہ کے آنسوؤں سے

    ان داغوں کو دھودیا تھا۔ ایسے تمام صاف ستھرے پاکیزہ لوگ اس وقت عرش کے سائے کے

    نیچے موجود ہیں ۔ ان لوگوں کا رسمی حساب کتاب ہو گا جس کے بعد ان کی کامیابی کا

    اعلان کر دیا جائے گا۔



    اس کے برعکس جن لوگوں کے نامہ اعمال میں کوئی ایسا بڑ ا جرم ہوا جو ایمان ہی کو غیر

    مؤثر کر دے جیسے کفر، شرک، منافقت، قتل، زنا، زنابالجبر ، ارتداد، یتیموں کا مال کھانا، اللہ

    کی حدود کو پامال کرنا اور اسی نوعیت کے دیگر جرائم وغیرہ، تو میزان عدل میں ایسے

    لوگوں کے گنا ہوں کا پلڑ ا بھاری ہو گا اور انہیں جہنم کی سزا سنادی جائے گی۔‘‘، صالح نے

    قانون کی تفصیلی وضاحت کی۔

    ’’لیکن انسان تو ان دو انتہاؤں کے درمیان بھی ہوتے ہیں ۔ ان کا کیا ہو گا؟‘‘، میں نے سوال

    کیاتو صالح نے جواب دیا

    :

    ’’ہاں ان دو انتہاؤں کے درمیان وہ لوگ ہیں جن کے پاس ایمان اور کچھ نہ کچھ عمل صالح کا

    سرمایہ بھی ہے ، مگر وہ دنیا میں گناہ بھی کرتے رہے اور توبہ بھی نہیں کی۔ ایسے لوگوں

    کو اپنے گنا ہوں کی پاداش میں حشر کے دن کی سختی جھیلنی ہو گی، اس کے بعد نجات

    کا کوئی امکان پیدا ہو گا۔ آج جو لوگ میدان حشر میں پھنسے ہوئے ہیں وہ یا تو مجرمین ہیں

    جنہیں آخر کار جہنم میں پھینکا جائے گا یا پھر وہ اہل ایمان ہیں جن کا دامن گنا ہوں سے

    داغدار ہے ۔ سو جس کے گناہ جتنے زیادہ اور جتنے بڑ ے ہوں گے آج کے دن اسے اتنا ہی

    خوار و خراب ہونا ہو گا۔ کم گناہ والوں کو حساب کتاب کے آغاز پر ہی نجات مل جائے گی۔ مگر

    جیسا کہ میں نے بتایا کہ دنیا کی زندگی کے سیکڑ وں برس تو گزرچکے ہیں ۔ ان لوگوں کو

    ابتدا میں نجات بھی ملی تو یہ حشر کی سختی دنیا کی پچاس سالہ زندگی کے گنا ہوں کا

    نشہ ہرن کرنے کے لیے بہت ہے ۔ جبکہ جن کے گناہ زیادہ ہیں ان کو تو نجانے ابھی کتنے ہزار

    یا لاکھ سال تک اس سخت ترین ماحول کی شدت، سختی اور ہول جھیلنا ہو گا۔



    صالح کی بات سن کر میں نے دل میں سوچا کہ دنیا میں گناہ کتنے معمولی لگا کرتے تھے ،

    مگر آج یہ کس طرح مصیبت میں ڈھل گئے ہیں ۔ کاش لوگ اپنے گنا ہوں کو چھوٹا نہ

    سمجھتے اور مستقل توبہ کو اپنا معمول بنالیتے ۔ وہ غیبت، چغل خوری، اسراف، نمود و

    نمائش، الزام و بہتان وغیرہ کو معمولی چیز نہ سمجھتے ۔ اللہ اور بندوں کے حقوق کی

    پامالی کو چھوٹا نہ خیال کرتے ، اللہ کی نافرمانی سے بچتے اور رسولِ کریم کی پیروی کرتے

    تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑ تا جہاں ایک گناہ کی تھوڑ ی سی لذت سیکڑ وں برس کی خواری

    میں بدل چکی ہے ۔‘‘

    پھر میں نے اس سے دریافت کیا:

    ’’کیا اس وقت کسی کو یہ معلوم ہے کہ اس کی نجات ہو گی یا نہیں اور ہو گی تو کس طرح

    ہو گی؟‘‘

    صالح نے جواب دیا

  7. #7
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi/Lahore Pakistan
    Posts
    12,439
    Mentioned
    34 Post(s)
    Tagged
    9180 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    249126

    Default re: Jab Zindagi Shuro Hogi

    i like medane hashar wala......

    Thanks

  8. #8
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default re: Jab Zindagi Shuro Hogi

    ’’یہی اصل مصیبت ہے ۔ یہاں کسی کو یہ نہیں معلوم کہ اس کا مستقبل کیا ہے ۔ نجات کی

    کوئی امید ہے یا نہیں ؟ یہ کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے ۔ اسی لیے رسول اللہ اور

    دیگر انبیا مسلسل یہ دعا کر رہے تھے کہ حساب کتاب شروع ہوجائے ۔ اس کے نتیجے میں

    اہل ایمان کو یہ فائدہ ہو گا کہ وہ مجرمین سے الگ ہوکر حساب کتاب کے بعد نجات پاجائیں

    گے ۔ تم جانتے ہو آج کے دن انفرادی طور پر نہ کسی کے لیے زبان سے کوئی حرف نکالا جا

    سکتا ہے اور نہ اس کی کوئی گنجائش ہے ۔ اور خوشی کی بات یہ ہے کہ رسول اللہ کی یہ

    دعا قبول ہو چکی ہے ۔ یہ بات رسول اللہ نے تمھیں خود بتائی تھی۔‘‘

    ’’مگر ابھی تک حساب کتاب تو شروع ہوتا نظر نہیں آتا۔‘‘، میں نے حیرت سے پوچھا تو صالح

    بولا:

    ’’دعا قبول ہوئی ہے ، مگر اس پر عملدرآمد اللہ تعالیٰ اپنی حکمت و مصلحت کے تحت ہی

    کریں گے ۔ ہو سکتا ہے کہ ابھی تک پوری دنیا سے لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد یہاں

    پہنچے ہی نہ ہوں ۔‘‘

    ’’کیا مطلب لوگ اتنے برسوں میں بھی یہاں تک نہیں آئے ؟‘‘

    ’’تمھارا کیا خیال ہے کہ آج لوگ ہوائی جہاز، ریلوں ، بسوں ، اور موٹروں میں بیٹھ کر یہاں تک

    آئیں گے ؟ آج سب پیدل دوڑ تے آ رہے ہیں ۔ اسرافیل کے صور نے لوگوں کو اسی سمت آنے

    کے لیے مجبور کر دیا تھا۔ آج سمندر پاٹ دیے گئے ہیں اور پہاڑ ڈھادیے گئے ہیں ۔ اس لیے

    لوگ سیدھا یہاں آ رہے ہیں ، مگر ظاہر ہے پیدل آتے ہوئے وقت تو لگے گا۔ البتہ صالحین کے

    ساتھ فرشتے تھے جو انہیں فوراً یہاں لے آئے ۔ بہرحال جب تک حساب کتاب شروع نہیں ہوتا،

    ہم یہاں موجود لوگوں کے احوال دیکھ لیتے ہیں ۔ ویسے شاید تم اسی مقصد کے لیے یہاں

    آئے تھے ۔

    ‘‘

    صالح نے یہ الفاظ کہے اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر میرا ہاتھ تھامے آگے بڑ ھنے لگا۔

    اس وقت شدید گرمی سے چہرے تپ رہے تھے ۔ ہر طرف دھول و غبار اڑ رہا تھا۔ لوگ گروہوں

    کی شکل میں اور تنہا اِدھر سے اُدھر پریشان گھوم رہے تھے ۔ میری نظریں اپنے کسی

    شناسا کو تلاش کر رہی تھیں ، مگر ابھی تک کوئی شناسا صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔

    اچانک ایک طرف سے ایک لڑ کی نمودار ہوئی اور قبل اس کے کہ میں اس کی شکل دیکھ پاتا

    وہ میرے قدموں پر گرکر بے بسی سے رونے لگی۔ میں نے قدرے پریشانی سے صالح کی

    سمت دیکھا۔

    اس نے سپاٹ لہجے میں لڑ کی سے کہا:

    ’’کھڑ ی ہوجاؤ!‘‘

  9. #9
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default re: Jab Zindagi Shuro Hogi



    اس کے لہجے میں نجانے کیا تھا کہ میری ریڑ ھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہونے لگی۔ لڑ کی

    بھی سہم کر کھڑ ی ہوگئی۔ میں نے اس کا چہرہ دیکھا۔ یہ چہرہ خوف، اندیشے اور غم کے

    سایوں سے سیاہ پڑ چکا تھا۔ چہرے اور بالوں پر مٹی پڑ ی ہوئی تھی۔ پیاس کے مارے ہونٹوں

    پر پپڑ یاں جمی ہوئی تھیں اور وحشت زدہ آنکھوں میں خوف و دہشت کا رنگ چھایا ہوا تھا۔



    کرب کی ایک لہر میرے وجود کے اندر اترگئی۔ میں نے اس چہرے کو جب پہلی دفعہ دیکھا تھا

    تو بے ساختہ چشم بد دور کہا تھا۔ میدہ شہاب گورا رنگ۔ کھڑ ا کھڑ ا ناک نقشہ۔ کتابی چہرہ۔

    گلابی ہونٹ، نیلی آنکھیں اور گہرے سیاہ بال۔ خدا نے اس چہرے کو قدرتی حسن سے اس

    طرح نوازا تھا کہ زیب و زینت کی اسے حاجت نہ تھی۔ مگر آج یہ چہرہ بالکل بدل چکا تھا۔

    ماضی کا جمال روزِ حشر کے حزن و ملال کی تہہ میں کہیں دفن ہو چکا تھا۔ سراپا حسرت،

    سراپا وحشت، سراپا اذیت اور مجسم ندامت یہ وجود کسی اور کا نہیں میرے چہیتے بیٹے

    جمشید کی بیوی اور اپنی بڑ ی بہو ھما کا تھا جو حسرت و یاس کی ایک زندہ تصویر بن کر

    میرے سامنے کھڑ ی تھی۔



    ’’ابو جی مجھے بچالیجے ! میں بہت تکلیف میں ہوں ۔ یہاں کا ماحول مجھے مار ڈالے گا۔ میں

    نے ساری زندگی کوئی تکلیف نہیں دیکھی، مگر لگتا ہے کہ اب میری زندگی میں کوئی

    آسانی نہیں آئے گی۔ اللہ کے واسطے مجھ پر رحم کیجیے ۔ آپ اللہ کے بہت محبوب بندے

    ہیں ۔ مجھے بچالیجیے ۔ ۔ ۔ ‘‘

    یہ کہتے ہوئے ھما ہچکیاں لے کر رونے لگی۔

    ’’جمشید کہاں ہے ؟‘‘، میں نے ڈوبے ہوئے لہجے میں دریافت کیا۔

    ’’وہ یہیں تھے ۔ وہ بھی آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں ۔ مگر یہ اتنی بڑ ی جگہ ہے اور اتنے سارے لوگ

    ہیں کہ کسی کو ڈھونڈنا ناممکن ہے ۔ ان کا حال بھی بہت برا ہے ۔



    وہ مجھ سے بہت ناراض تھے ۔ انہوں نے ملتے ہی مجھے تھپڑ مار کر کہا تھا کہ تمھاری وجہ

    سے میں برباد ہو گیا۔ ابو میں بہت بری ہوں ۔ میں خود بھی تباہ ہوگئی اور اپنے خاندان کو

    بھی برباد کر دیا۔ پلیز مجھے معاف کر دیں اور مجھے بچالیں ۔ اللہ کا عذاب بہت خوفناک ہے ۔

    میں اسے برداشت نہیں کرسکتی۔‘‘

    ھما فریاد کر رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑ یاں بہہ رہی تھیں ۔ میرے دل

    میں پدری محبت کا جذبہ جوش مارنے لگا۔ وہ بہرحال میری بہو تھی۔ مگر اس سے پہلے کہ

    میں کچھ کہتا، صالح اسی سپاٹ لہجے میں بولا:

    ’’یہ بات تمھیں دنیا میں سوچنی چاہیے تھی ھما بی بی۔ آج تمھاری عقل ٹھکانے آ گئی ہے

    ۔ مگر یاد ہے دنیا میں تم کیا تھیں ؟ تمھیں شاید یاد نہ آئے ۔ ۔ ۔ میں یاد دلاتا ہوں ۔‘‘

    یہ کہتے ہوئے صالح نے اشارہ کیا اور یکلخت ایک منظر سامنے نظر آنے لگا۔ یہ جمشید اور

    ھما کا کمرہ تھا۔ مجھے لگا کہ میرے اردگرد کا ماحول غائب ہو چکا ہے اور میں اسی کمرے

    میں ان دونوں کے ہمراہ موجود ہوں اور براہ راست سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہوں ۔

    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    ’’جمشید اب میں اس ملک میں نہیں رہ سکتی۔ اب ہمیں کسی ویسٹرن کنٹری میں شفٹ

    ہوجانا چاہیے ۔‘‘

    ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی ہوئی ھما نے اپنے کٹے ہوئے بالوں کو برش کرتے ہوئے

    کہا۔ جمشید بیڈ پر لیٹا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

    ’’تم نے سنا جمشید میں نے کیا کہا؟‘‘

    ’’یس میں نے سن لیا۔ لیکن میرا پورا خاندان یہاں ہے ۔ میں انھیں چھوڑ کر کیسے جاؤں ؟‘‘

    ’’بالکل ویسے ہی جیسے تم ان کا گھر چھوڑ کر میرے ساتھ الگ ہو چکے ہو۔‘‘

    ’’یہاں کی بات اور ہے ۔ میں ہفتے میں ایک دفعہ جا کر ان سے مل تو لیتا ہوں ۔ دوسرا یہ کہ

    فارن ٹرپ تو ہم ہر سال کر ہی لیتے ہیں ۔ پھر ہمیں باہر شفٹ ہونے کی کیا ضرورت۔‘‘

    ’’نہیں اب بچے بڑ ے ہورہے ہیں ۔ میں چاہتی ہوں کہ ان کی پرورش باہر ہی ہو۔‘‘

    ’’لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے بچے میرے ماں باپ کی صحبت کا فائدہ اٹھائیں ۔ میں تو

    اپنے ماں باپ کی نیکی کا کوئی حصہ نہیں پا سکا، لیکن کم از کم میری اولاد تو نیک ہو۔‘‘

    ’’انہی کی صحبت سے تو میں اپنی اولاد کو بچانا چاہتی ہوں ۔ میرے ایک بچے کو بھی اپنی

    ددھیال کی ہوا لگ گئی تو اس کی زندگی خراب ہوجائے گی۔‘‘

    اس کے ساتھ ہی فون کی گھنٹی بجی۔ جمشید نے فون اٹھایا۔ دوسری طرف سے کچھ کہا

    گیا۔ جمشید نے اچھا کہہ کر ریسیور نیچے رکھ دیا اور ھما کو مخاطب کر کے کہا:

    ’’تمھارے پاپا ہمیں نیچے بلا رہے ہیں ۔‘‘، پھر ھما کی بات کا جواب دیتے ہوئے بولا:

    ’’تم آخر میرے ماں باپ کے بارے میں اتنی نیگیٹو کیوں ہو؟ انہوں نے میری خوشی کی خاطر

    تمھیں بہو کے طور پر قبول کیا۔ حالانکہ تمھارے انداز و اطوار انھیں بالکل پسند نہ تھے ۔ تم

    مجھے لے کر الگ ہوگئیں تب بھی انہوں نے برا نہیں مانا۔ ۔ ۔ ‘‘

    ’’بس بس رہنے دو۔‘‘، ھما تنک کر بولی۔

    ’’انھیں میرے انداز و اطوار ناپسند تھے ۔ مگر تم میرے عشق میں دیوانے ہورہے تھے ۔ اس

    لیے انھوں نے مجبوراً تمھیں مجھ سے شادی کی اجازت دی۔ تم ان سے الگ ہوکر یہاں زیادہ

    اچھی زندگی گزار رہے ہو۔ پاپا کے بزنس میں شریک ہو۔ کروڑ وں میں کھیلتے ہو۔ جمشید مجھ

    سے شادی کر کے تم سراسر فائدے میں رہے ہو۔ تم نے کوئی نقصان نہیں اٹھایا۔‘‘

    ’’پتہ نہیں کیوں تمھاری باتیں سن کر کبھی کبھی ابو کی یاد آ جاتی ہے کہ نفع نقصان کا

    فیصلہ آخرت کے دن ہو گا۔‘‘

    ’’یار یہ فضول مذہبی باتیں ختم کرو۔ مجھے ان سے چڑ آتی ہے ۔ کوئی قیامت وغیرہ نہیں

  10. #10
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default re: Jab Zindagi Shuro Hogi


    آنی۔ لاکھوں برس سے دنیا کا سسٹم ایسے ہی چل رہا ہے ۔

    If you are smart, powerful and wealthy you are the winner. All the others are loosers

    and idiots. And you know this judgment day is nothing but a rabbish.


    ’’ویسے فار یور کائنڈ انفارمیشن، میرے پاپا نے اپنے پیر صاحب سے یہ گارنٹی لے رکھی ہے

    کہ قیامت میں وہ انہیں بخشوادیں گے ۔ ان کو بہت پیسہ دیتے ہیں میرے پاپا۔‘‘

    ’’ہاں ہم جس طرح ناجائز منافع خوری، قانون کی خلاف ورزی اور دیگرحرام ذرائع سے پیسہ

    کماتے ہیں ، اس کو کہیں تو پاک کرنا ہو گا۔ مجھے سب معلوم ہے ۔ تمھارے پاپا اور چودھری

    مختار صاحب کئی بزنس میں پارٹنر ہیں اور دو نمبر کے ہتھکنڈوں سے پیسہ کماتے ہیں ۔‘‘

    ’’اچھا۔ ۔ ۔ اتنا ہی حلال حرام کا خیال ہے تو چھوڑ دو پاپا کا بزنس۔‘‘

    ’’بزنس تو چھوڑ دوں ، مگر تمھیں کیسے چھوڑ وں ۔ مجھے معلوم ہے کہ اس کے بعد جاب

    کرنے سے نہ تمھارے خرچے پورے ہوں گے اور نہ میں تمھارا لیونگ اسٹینڈرڈ مینٹین

    کرسکوں گا۔ تمھارے عشق نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑ ا۔ وگرنہ میں جس خاندان سے ہوں

    وہاں حلال اور حرام ہی سب کچھ ہے ۔

    ‘‘

    ’’اسی لیے اتنی مڈل کلاس زندگی گزار رہے ہیں وہ لوگ۔ اچھا ہوا تم میرے ساتھ آ گئے وگرنہ

    اپنے بھائیوں کی طرح موٹر سائیکل پر گھومتے یا 800 سی سی گاڑ ی چلاتے اور کسی

    فلیٹ میں سڑ ی ہوئی زندگی گزار کر مرجاتے ۔‘‘

    ’’زندگی اچھی گزاریں یا بری، مرنا تو ہمیں ہے ۔ پتہ نہیں آخرت میں ہمارے ساتھ کیا ہو گا؟‘‘

    ’’بے فکر رہو کچھ نہیں ہو گا۔ وہاں بھی ہم ٹھاٹ سے رہیں گے ۔ میرے پاپا کے پیر صاحب کے

    سامنے تو تمھارے اللہ میاں بھی کچھ نہیں بول سکتے ۔‘‘

    ’’کلمۂ کفر تو مت بکو۔ اور اللہ میرا کہاں رہا ہے ۔ جب میں اللہ کا نہیں رہا تو وہ میرا کیسے رہے

    گا۔‘‘

    یہ جملہ کہتے ہوئے جمشید کا لہجہ بھرا گیا اور اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔ مگر ھما

    اس کے بہتے ہوئے آنسوؤں کو نہیں دیکھ سکی۔ اس کا سارا دھیان آئینے کی طرف تھا۔ اب

    وہ اپنے میک اپ سے فارغ ہو چکی تھی، اس لیے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے سے اٹھتے

    ہوئے بولی:

    ’’اچھا چھوڑ و یہ فضول باتیں ! نیچے چلو، پاپا انتظار کرہے ہوں گے ۔‘‘

    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    صالح نے دوبارہ اشارہ کیا اور منظر ختم ہو گیا۔ لیکن ساتھ ہی ھما کی ہر امید کو بھی ختم

    کرگیا۔ صالح نے اسی سفاک اور قاتل لہجے میں سختی کے ساتھ کہا:



    ۔۔’’تم نے دیکھا! تمھاری زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ ریکارڈ کر لیا گیا ہے ۔ تو جاؤ ھما بی

    بی اپنے پیر صاحب کو ڈھونڈو جو تمھیں بخشوا سکتے ہیں اور جن کے سامنے اللہ تعالیٰ

    بھی۔ ۔ ۔

    ‘‘

    صالح نے جملہ تو ادھورا چھوڑ دیا، مگر ھما کے الفاظ دہراتے وقت اس کے لہجے میں جو

    غضب آ گیا تھا، اس سے میں خود دہل کر رہ گیا۔ ھما بھی بری طرح خوف زدہ ہوگئی۔ اس

    سے پہلے کہ صالح کچھ اور کہتا وہ روتی چیختی ہوئی وہاں سے بھاگ گئی۔

    اس منظر میں جمشید کو دیکھ کر میری حالت پھر ڈانوا ڈول ہو چکی تھی۔ ظاہر ہے کہ ھما

    کی طرح وہ بھی اس سختیوں بھرے میدان میں پریشان حال پھر رہا ہو گا۔ میں سوچ رہا تھا

    کہ جمشید اسی حال میں میرے سامنے آ گیا تو میں کیا کروں گا۔ میں اسی سوچ میں

    غلطاں تھا کہ صالح نے میری کمر تھپتھپا کر کہا:

    ’’آؤ چلتے ہیں ۔‘‘

    نجانے اس تھپکی میں کیا بات تھی کہ میں نے محسوس کیا کہ میرے اوپر طاری ہونے والی

    پریشانی کی کیفیت بہت ہلکی ہوگئی ہے ۔ میں قدرے بشاشت سے اس کے ساتھ چلنے

    لگا۔ اردگرد پھر وہی پریشان اور وحشت زدہ لوگوں کی ہلچل تھی۔ ہم کچھ ہی دور آگے چلے

    تھے کہ سامنے سے چودھری مختار صاحب آتے نظر آئے ۔ انہوں نے شاید مجھے دیکھ لیا تھا

    اور میری ہی طرف آ رہے تھے ۔ چودھری صاحب میرے بیٹے جمشید کے سسر کے بزنس

    پارٹنر تھے ۔ اس حیثیت میں میری ان سے رسمی واقفیت تھی۔ میرے قریب آتے ہی انہوں

    نے مجھ سے گلے ملنے کی کوشش کی جسے صالح نے ہاتھ آگے بڑ ھا کر یہ کہتے ہوئے

    ناکام بنادیا کہ:

    ’’دور رہ کر بات کرو۔‘‘

    اس کا لب و لہجہ اتنا درشت تھا کہ مجھے بھی اس سے اجنبیت محسوس ہونے لگی۔ اپنی

    اس رسوائی کے باوجود چودھری صاحب کے جوش میں کمی نہ آئی۔ وہ کہنے لگے :

    ’’مجھے یقین تھا عبد اللہ صاحب! آپ مجھے ڈھونڈتے ہوئے ضرور آئیں گے ۔ آپ کو یاد ہے

    عبداللہ صاحب! میں نے ایک مسجد تعمیر کرائی تھی جس میں آپ بھی نماز پڑ ھا کرتے

    تھے ۔ اس کے علاوہ بھی میں غریبوں مسکینوں کی مدد کیا کرتا تھا۔‘‘

    ’’مجھے یاد ہے چودھری صاحب۔‘‘، میں نے دھیرے سے انہیں جواب دیا۔

    ’’بس تو اب آپ میری سفارش کر دیجیے ۔ میں بہت دیر سے پریشان گھوم رہا ہوں ۔ یہاں تو

    جس کو دیکھو اپنی ہی پڑ ی ہے۔ نہ کوئی کچھ بتاتا ہے نہ سیدھے منہ بات کرتا ہے ۔‘‘

    یہ آخری بات کہتے ہوئے انہوں نے بے اختیار صالح کی طرف دیکھا۔ میں نے بھی گردن گھما

    کر صالح کی طرف دیکھا۔ اس نے لمحے بھر کے لیے مجھے دیکھا اور پھر چودھری صاحب کے

    چہرے پر نظریں گاڑ تے ہوئے بولا

    :

Page 1 of 3 123 LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •