Results 1 to 4 of 4

Thread: Tamam Pakistaniyon Ke Liye Ek Mazaheya Tehreer

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    ♥ ♥ ChaAnd K paAr♥ ♥
    Posts
    41,780
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1314 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474887

    Default Tamam Pakistaniyon Ke Liye Ek Mazaheya Tehreer


    ظريف صاحب كو كسی سوچ ميں ڈوبا ہوا ديكھا تو علامہ صاحب نے پوچھا : "خلاف معمول آپ كس سوچ ميں ڈوبے ہوئے ہيں؟

    "علامہ صاحب، ایک نوجوان امريكا گيا اور اس نے ایک سفرنامہ لكھا۔ و ہ بتاتا ہے كہ آپ كسي بھي امريكي كو روک كر بات كريں تو وہ ہميشہ مسكرا كر جواب ديتا ہے۔ باتيں كرتے ہوئے امريكي جان بوجھ كركوئي نہ كوئي ايسي بات ضرور كرتا ہے جس پر وہ اور دوسرا شخص قہقہہ لگا سكے۔ اگر چلتے چلتے دو اجنبيوں كا سامنا ہو تو دونوں ایک دوسرے كو ديكھ كر مسكراتے ہيں۔ علامہ صاحب اس نوجوان نے بڑے دكھ كے ساتھ كہا كہ ہمارے ملک ميں لوگ مسكرا كر بات كيوں نہيں كرتے، مسكرانے كے ليے تو ترقي يافتہ ہونے كي ضرورت نہيں، اس كے ليے تو پيسوں كي ضرورت نہيں۔ علامہ صاحب ہم ہر وقت بے زار اور اكتائے ہوئے كيوں رہتے ہيں، جس كا منہ ديكھو، بارہ بجے ہوئے ہيں جس كو ملو، غصے ميں جس كو ديكھو، سٹريل۔"

    علامہ صاحب كے دوست پروفيسر انور كمال بولے: " آپ كي بات صحيح ہے! اصل ميں ہمارے ہاں لوگ سمجھتے ہيں كہ چہرے پر سنجيدگي طاری كرنے سے ان كے وقار ميں اضافہ ہوتا ہے وہ با رعب لگتے ہيں۔"

    اتنے ميں گھر كي بيل بجي۔ باہر گاما دودھ والا آيا۔ علامہ صاحب كا بيٹا برتن لے كر دودھ لينے باہر گيا۔ دودھ دينے كے ليے گامے نے اپني سائيكل ديوار كے سہارے پر كھڑي كي، برتن ميں دودھ ڈالنے كے بعد اپنے سر پر لپٹا ہوا كپڑا اتارا، اپنا منہ صاف كيا، كپڑے كو كندھے پر ڈالا اور علامہ صاحب سے كچھ فيض حاصل كرنے كے ليے بيٹھک ميں آ كر بيٹھ گيا۔ اس وقت ظريف صاحب بول رہے تھے :

    "علامہ صاحب ميرا تو جي چاہتا ہے كہ ميں امريكا چلا جائوں لگتا ہے وہ لوگ ميرے مزاج كے ہيں ان سڑيل پاكستانيوں كے ساتھ ميں نہيں رہ سكتا۔ "اس پر پروفيسر صاحب بولے:

    "آج كل وہاں جو حالات ہيں، پھر بھي وہاں جانا چاہتے ہيں؟"

    "ميں كون سا كل ہي جا رہا ہوں ويسے بھي وہاں كے حالات جلد ہي نارمل ہو جائيں گے وہ لوگ زيادہ عرصے تک پريشان نہيں رہا كرتے۔"

    گاما بولا: "ظريف صاحب، كيسی باتيں كر رہے ہيں آپ اپنا ملک جيسا بھي ہو، اپنا ہي ہوتا ہے ہاں وہاں كا رونق ميلہ ديكھنے ضرور جائيں پر ميلہ ديكھ كر آجائيں ميلے ميں رہا نہيں جاتا رہا اپنے ہي گھر ميں جاتا ہے۔"

    "واہ واہ كيا بات ہے! غلام اللہ صاحب نے تو بڑي گہری بات كر دی ظريف صاحب، مسكراتے ہوئے چہرے تو اصل ميں ہم لوگوں كے ہونے چاہييں ہمارے نبیؐ كا چہرہ بھي مسكراتا ہوا ہوتا تھا۔ ایک صحابي بتاتے ہيں كہ انھوں نے آپؐ سے زيادہ تبسم كرنے والا كوئي نہيں ديكھا۔ آپؐ نے مسكراہٹ كي ترغيب ديتے ہوئے يہ بھی فرمايا ہے كہ مسكراہٹ صدقہ ہے۔ پھر آپ اپني بيويوں سے اور احباب سے بڑا پاكيزہ ہنسي مذاق بھي كيا كرتے تھے۔"

    "اچھا جي واقعي ! " گامے نے علامہ صاحب كي بات سن كر خوش گوار حيرت سے پوچھا۔

    "ہاں ہاں ایک دفعہ آپ صلي اللہ عليہ وسلم اور حضرت علیؓ ایک جگہ بيٹھے كھجوريں كھا رہے تھے، آپؐ نے مزاحاً كھجوريں كھا كر گٹھلياں حضرت علیؓ كے سامنے ركھنی شروع كر ديں۔ تھوڑي دير كے بعد حضرت علیؓ كے سامنے گٹھليوں كا ڈھير بن گيا۔ آپؐ نے فرمايا : آپ نے بڑي كھجوريں كھائي ہيں۔" اس پر پروفيسر صاحب، ظريف صاحب اور گاما نم ناک آنكھوں سے مسكرانے لگے ۔

    "اور معلوم ہے اس پر حضرت علیؓ نے كيا كہا۔ انھوں نے كہا : ميں تو گٹھلياں چھوڑ رہا تھا، آپ گٹھليوں سميت كھاتے رہے ہيں۔"

    "واہ واہ يعني صحابہ حضورؐ سے ہنسي مذاق بھي كر ليا كرتے تھے؟" ظريف صاحب نے پوچھا۔

    "ہاں ہاں آپؐ اپنے احباب سے بہت محبت كرتے تھے اسی طرح مزيد سنيے۔ حضرت انسؓ كہتے ہيں كہ ایک شخص نے حضورؐ سے سواری طلب كي۔ آپؐ نے فرمايا: ميں آپ كي سواری كے ليے آپ كو اونٹني كا بچہ دوں گا۔ شخص بولا : ميں اونٹني كا بچہ لے كر كيا كروں گا۔ آپؐ نے فرمايا: اونٹ كو بھي تو اونٹني ہي جنتي ہے۔"

    اس پر سب مسكرانے لگے۔ علامہ صاحب مزيد بولے :

    "اس دور كے دو بڑے علما كي بات سنيں۔ تحريک ختم نبوت كے سلسلے ميں مولانا امين احسن اصلاحی اور مولانا مودودی جيل ميں تھے۔ مولانا مودودی كي بتيسي غالباً ٹوٹ گئی۔ امين احسن نہيں جانتے تھے كہ مولانا كے دانت مصنوعی ہيں۔ كسي نے بتايا تو دانتوں كي "تعزيت" كے ليے ان كے پاس گئے۔ اپنے اوپر افسردگي طاری كر كے تھوڑی دير كے ليے كوٹھڑی كے دروازے ميں كھڑے ہوئے، پھر كہا: مولانا، افسوس ہے، مجھے نہيں معلوم تھا كہ آپ كے كھانے كے دانت اور ہيں اور دكھانے كے اور۔"

    قہقہے

    مگر پروفيسر صاحب كچھ سوچ كر ناگوار موڈ ميں بولے : "اصل ميں ہم لوگوں كے مسائل بھی تو بہت ہيں ۔ مہنگائی، كرپشن، بے روزگاری، ہر وقت لٹنے كا خوف بڑے سنگين مسائل ہيں۔"

    علامہ صاحب بولے : "مسئلے تو كبھی ختم نہيں ہوں گے ۔ يہ زندگی آزمائش ہے۔ اس ليے تكليفيں اور مصيبتيں تو آئيں گي۔ يہ زندگی كا لازمی حصہ ہيں۔ ايسے مسائل كا بہادری كے ساتھ، مسكراتے ہوئے مقابلہ كرنا چاہيے ۔ اصل ميں شكوہ كرنا اور احتجاج كرنا ہم لوگوں كا مزاج بن گيا ہے۔ اگر ہم دوسرے پہلو سے سوچيں تو معلوم ہو گا كہ ہماری تكليفيں بہت كم ہيں اور خدا كي وہ نعمتيں بہت زيادہ ہيں جو ہميں حاصل ہيں۔ اگر لوگ نعمتوں كو ذہن ميں ركھيں تو وہ بھی مسكراتے ہوئے نظر آئيں۔"

    پروفيسر صاحب بات سمجھنے كے انداز ميں سر ہلاتے ہوئے خوش گوار موڈ ميں بولے : "صحيح كہا آپ نے ابھی ميں نے نعمتوں كے پہلو سے سوچا تو سچی بات ہے ان كا شمار نہيں كر پايا ۔ اور اس كا نتيجہ يہ نكلا كہ ميرا موڈ بہت اچھا ہو گيا ۔ اس وقت مجھے مشتاق احمد يوسفي كي باتيں ياد آرہی ہيں۔"

    "يہ كون ہے جي" گامے نے حيرت سے پوچھا۔

    "يہ اردو ادب كے بہت بڑے مزاح نگار ہيں۔ ان كي بات بڑی گہری ہوتی ہے۔ " علامہ صاحب نے جواب ديا ۔ گامے كا چہرہ بتا رہا تھا كہ جواب پوري طرح اس كي سمجھ ميں نہيں آيا۔ وہ ادب كو عزت و احترام والا ادب سمجھ رہا تھا۔ علامہ صاحب نے زيرِ لب مسكراتے ہوئے پروفيسر صاحب سے كہا : "جی كيا كہتے ہيں يوسفي صاحب"

    "يوسفي صاحب كہتے ہيں كہ مجھے اپنی جتني تعريف كرنی ہوتی ہے ميں خود ہي كر ليتا ہوں اور اسے ثواب كا كام سمجھتا ہوں كيونكہ اس سے دوسرے جھوٹ بولنے سے بچ جاتے ہيں۔"

    قہقہے

    ایک جگہ لكھتے ہيں : "جسے تم چكن سوپ سمجھتے ہو، وہ مرغی كا غسلِ ميت ہوتا ہے۔"

    قہقہے

    ایک جگہ كہتے ہيں : "پي ٹي وي نيوز ريڈر كے دوپٹے كي پوزيشن سے حكومتوں كي تبديلي كا سراغ لگايا جا سكتا ہے ۔"

    قہقہے

    "كمال صاحب آپ نے تو كمال كر ديا۔"

    علامہ صاحب بولے : "ظريف صاحب اب بتائيے اس ملک ميں رہ كر قوم كو مسكرانے پر آمادہ كيا جائے يا اسے بيزار حالت ميں چھوڑ كر امريكيوں كے پاس جا كر مسكرايا جائے؟"

    ظريف صاحب كچھ شرمندہ سے ہو گئے۔ گاما بولا : "بوليں ظريف صاحب بوليں۔"

    " آپ كي پہلي بات ہي صحيح ہے جي۔ " ظريف صاحب نے جواب ديا۔ اس وقت ان كي آنكھوں ميں كسي عزم كي چمک بھی تھی۔
    Last edited by Hidden words; 05-08-2012 at 09:59 PM.

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

    2m4ccw6 - Tamam Pakistaniyon Ke Liye Ek Mazaheya Tehreer

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

  2. #2
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default re: Tamam Pakistaniyon Ke Liye Ek Mazaheya Tehreer






    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  3. #3
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Jadoo Nagri
    Posts
    19,713
    Mentioned
    198 Post(s)
    Tagged
    8340 Thread(s)
    Thanked
    10
    Rep Power
    21474862

    Default re: Tamam Pakistaniyon Ke Liye Ek Mazaheya Tehreer

    wah wah

  4. #4
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi/Lahore Pakistan
    Posts
    12,439
    Mentioned
    34 Post(s)
    Tagged
    9180 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    249126

    Default re: Tamam Pakistaniyon Ke Liye Ek Mazaheya Tehreer

    inaaaaaaa wadaaaa........

    Mai te parh parh takh gya seeeeeeeeen

    Thanks gud share

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •