Results 1 to 6 of 6

Thread: تہذیب اور ہم ۔۔۔

  1. #1
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default تہذیب اور ہم ۔۔۔

    1334182665211 - تہذیب اور ہم  ۔۔۔

    آسمان پر دھند سی چھائی ہوئی ہیں ۔ ہوا بھی بہت تیز ہیں پھول پودیں زمیں اور درخت
    سب ہوا سے باتیں کر رہیں ہے ۔ جیسے کوئی طوفان آنے والا ہے ۔
    جیسے جیسے ہوایئں تیز ہورہی ہیں ویسے ہی لوگ ٹی وی بند کررہیں تھیں ۔ تو کوئی وی سی ڈی کہ سونگ تو کوئی ڈسکو کلب سے بھاگنے کی سوچ رہا ہیں اس طوفانی ہوا کو دیکھ کر کوئی کہہ رہا ہیں ۔ یا عاصفہ آندھی یا طوفان ضرور آیئں گا ۔ اب بارش بھی تیز آنے لگی سب کہ دل ڈر اور خوف سے اللہ کی طرف رجوع ہو رہیں ہیں ۔ کچھ دیر پہلے ناچ گا رہے تھیں۔ موج مستی میں مست تھیں ۔ اب وہ اللہ اللہ کرنے لگیں ۔ دورد شریف پڑھنے لگیں اللہ سے رحم کی عاجزی کرنیں لگیں ۔ میں نے انکے چہریں دیکھ کر ایک آہ بھری اورعلامہ اقبال کا یہ شعر پڑھ کر گہری سوچ میں
    کھو گئی ۔ کہ واقعی انسان بھی کتنا مطلب پرست ہیں ۔ مسجدوں سے آذانیں آنا شروع ہوگئی تو کہیں لوگ قرآن پاک لیکر پڑھنے بیٹھ گئے تو کوئی اپنے گنہاؤں کی معافی مانگ رہا ہیں ۔ تو کوئی اپنا سامان سمیٹ رہا ہیں۔ تہذیب اور تمدّن کا یہ بھی ایک رنگ ہیں ۔ کہ اب جیسے جیسے ہوا کم ہوئی بارش دھیمی اور پیڑ پودیں ہلنا ڈُلنا بند ہویئں سب نے ایک حامی بھری اور اللہ کا شکر ادا کرکیں سب نےواپس اپنی دل جوئی کا رخ لیں لیا۔ جیسے تہذیب شیسے کی مانند بکھر گئی ہوں ۔ اور اسے سمیٹنے اب کسی کہ پاس وقت نہیں رہا۔اس خجل کا شرمندی سے معاونہ کرتیں ہویئں میری آنکھ میں آنسو آگئے کہ اللہ تیری ذات عظیم ہیں تیرے بندوں نے تجھے دل سے آواز دی تو ان کی دعا فورأ استجاب کرلی ۔ لیکن تیرے گنہگار بندے پھر سے راستہ بھٹک گئے ہیں۔ اپنی تہذیب بھول کر دنیاوی رونقوں میں کھو گیئں ہے اے اللہ تعالی انھیں معاف کردیں۔

    1334181271844 - تہذیب اور ہم  ۔۔۔

    تہذیب سے مخاطب جناب اقبال نے جو اپنے دور میں عرض کیا تھا ۔ آج کا دور اس سے کافی مختلف ادوار سے گزر رہا ہیں ۔ اس وقت تو تہذیب سے اجاگر مسلم قوم کافی تھی اور ملک کی بجائے تمام مسلم ممالک تک اس کا پیغام پہنچانے کی کوشیس جاری تھی۔ بشکل عام لوگ کافی بدل گئے ہیں۔ آج کہ اس نئے دور میں ملک و وطن کی بات تو دور ہیں ایک انسان ہی دوسرے انسان کی تہذیب کو ریزہ ریزہ کر رہا ہیں۔ اپنے ہی اپنوں کہ دشمن بن گئے ہیں ۔ مسجدوں میں آذان دینے والوں سے لیکر حاجی مولوی جیسے پاک دامن پرہیزگار لوگوں کہ منہ سے فواحش الفاظ جو روزہ رکھ کرباوضو ہوکر بھی بولتا ہیں ۔ دین کی پیروی کرنے والوں مولا اور حاجیوں نے بھی آج کہ دور میں تہذیب کو روندا ہیں۔

    عجب دور ہیں آج کا اقبال
    تہذیب سے ہر انساں خالی نکلا


    میں تہذیب کی کہاں تلاش کرو۔؟ ساری قوم فرقوں میں بدل گئی ہیں۔ کہیں دین کہ نام پر انسان تہذیب سے کھیل رہا ہیں ۔ تو کہیں مذہب ِاسلام کہ نام پر دن بدن طرح طرح کہ گروپ بنائے جا رہے ہیں اللہ جب واحد ہیں تو اس کہ نام کہ اتنے فرقہ کیوں؟۔ دین کہ نام پر مسجدوں سے چندا جمع کرنا۔
    اللہ کہ نام سے بھیک مانگ کر اپنے ارام و ارائش اور شوق پورا کرنے والوں نے روزی رزق کمانے کا زریعہ بنا لیا ۔ بہت شرمناک بات ہیں انسان کا عقیدہ کمزور پڑھ گیا ہیں۔ نئی ایجاد چیزوں نے نئے دور میں پرانی تہذیب کا فلسفہ ہی بدل کہ رکھ دیا ۔ تہذیب کی پیروی میں اس کہ معا نی عکس بنانے والے ہم ہی ہیں ۔ آج کے زمانہ میں اگرمرحوم اقبال زندہ ہوتے تو آج کی تہذیب پر کچھ اور ہی فرماتے ۔ معاشرے نے عالمی رخ لے لیا ہیں ۔ دوسروں کی تقلید میں خود مصروف ہوگئے ہیں۔ اورمغربی ممالک کے پارلیمنٹیرین مفکرین اور میڈیا شخصیات نے خوب فائدہ اٹھایا ہے اس بات کا ۔ ہم اپنی تہذیب کا محافظہ کرنے کی بجائے اسے منہ کہ بل لاکر شیشئہ تہذیب کواپنے ہی ہاتھوں کچل رہیں ہیں۔

    1334182665362 - تہذیب اور ہم  ۔۔۔

    ہم دوسروں سے ملکر خود پاکستان پر انگلی اٹھاتے ہیں کہ پاکستا ن نے ہمیں کیا دیا ہیں ۔۔۔؟ اپنی مشرقی تہذیب کہ حوالہ سے ہی کبھی سوچا کہ تم نے پاکستان کو کیا دیا ۔۔۔؟ پاکستان نے ہمیں ایک عظیم قائد اعظم دیا ہمیں پاکستانی ہونے کی پہچان دی اور یہ پہچان ہماری اصل دولت ہیں ۔ علامہ اقبال جیسے شاعر دیئں ۔ لیکن افسوس کہ آج ہم نے تہذیب کا تاریخی فلسفئہ ہی بدل کر رکھ دیا ۔ فساد قلب میں اور ذہن میں سوچ کا غبار جم گیا ہیں اس قدر کہ ہم اپنی غلطی مانتے ہی نہیں ۔ اگرمیں اس تحریر کہ حوالے سے اپنے علم کا ذخیرہ بھی لے آؤ تو آج کی تہذیب کی بنیاد قدیم تہذیب مسلمانوں تک نہیں پہنچا سکتی ۔علم کسی کی جاگیر نہیں ہوتا جو اسے حاصل کرتا ہے وہ اسی کا ہوتا ہیں۔ برحقیقت کل کی تہذیب نے آج کی تہذیب اور ثقافت کہ متضاد خیالات کو جنم دیا ہیں ۔ آج اگر علامہ اقبال یہ سب دیکھتے تو بہت پشیماں ہوتے اسی لئے اللہ تعالی نے ان پر رحم فرما کر اپنے پاس بلا لیا ہیں ۔ آج کہ اس نفسا نفسی بازار میں اپنے اخلاق بیچ دئے ہیں۔ آج مسکین لاچار اورغریبوں کو حقیر سمجھا جاتا ہیں۔ ۔ غریب ایک روٹی اور پیٹ بھرنے امیروں کہ آگے ہاتھ پھیلاتا ہیں تو وہ بھی انھیں نصیب نہیں ہوتی ۔ سنا تھا بھوک تہذیب بھولا دیتی ہیں ۔ لیکن امیروں نے غرور اور تکبّر اور لالچ کہ لئے اپنی تہذیب کو بھولا دیا۔ غربت میں بھوک سے بلک کر غریب دم بھی تووڑ دیں گر لیکن امیر اس کی جان بچانے اپنی شان سے ایک قدم نیچے نہیں جھک سکتا کسی غریب کی جان بچانے۔۔۔

    عجب رسم ہے چارا گروں کی محفل میں
    لگا کہ نمک زخم پر مساج کرتیں ہیں
    غریب شہری ترستا ہے ایک نوالے کو
    اور امیروں کہ کوتے بھی راج کرتے ہیں


    تو تہذیب کا یہ بھی ایک سچا رخ ہیں جو آج کل عام ہیں۔ واقعی دنیا میں بہت سے ایسے فساد ہیں جو تہذیب کا قتل کرتے آئے ہیں اور اسے کروانے والیں ہم انسان ہی ہیں ہمارا کلچر ہماری سوچ ہم نے خود بدلی ہیں ۔
    اس بدلتی تہذیب مصالحہ ذاتی کہ حامی میں نہیں ہوں ۔ آج نفس کو اس دارِ فانی کو پانے کی قطار میں خود کو ملوث انسان کر چکا ہیں ۔ تہذیب انسانی رعایت اور انسانیت کا تقاضہ کچھ نہیں رہا ۔ مسلمان نے شیطانوں سے ہاتھ ملا لیا ہیں اخلاق نے دم ٹور دیا لوگ نفس پرستی میں بھٹک گئے ہیں۔ کل کی تہذیب اپنے مضبوط اثرات رکھتی تھی بس مذہبی جنگ اسلام کہ لئے جاری تھی ۔ تاکہ امّہ اسلامی کی تعداد بڑیں لیکن آج کی تہذیب نے وطن نسل ، ذات مذہب اور انسانیت کو تقسیم کردیا ۔ ہر کوئی اپنی ثقافت کا دم بھرتا ہے ۔ سیاست کہ نام پر وطن کو بدنام کرنا اور مغربِ ھند اور امیرکہ کہ مفاد کو اپنا کہنا ۔ مذہبی تناؤ کہ زریعہ معاشرے کی رہنمائی برہموں اور فرنگیوں نے حاصل کرلی ۔ علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں ان سب باتوں کا خلاصہ بھی کیا خوب انداز میں دیا ہے۔

    1334181271171 - تہذیب اور ہم  ۔۔۔

    کہیں آریاءووں نے خود برہمن کا منصب سنبھال لیا ۔ تو کہیں مسجدوں کہ اور یتیموں کہ نام کا دیا چندا مولا اور حاجیوں نے ہی ہضم کرلیا ۔ مذہبی تصورات میں بھی تبدیلی لانے کہ لئے مڈیا نے یو ٹیوب کہ ذریعہ سیاہ سنی کہ نام پر جنگ چھیڑ دی۔ اپنے مذہب اور وطن سے جڑے رہنا کچھ لوگوں کو راس نہیں آیا ۔ تہذیب نے خود کو اونچی پرواز پر مائل کرنے کی بجائے اپنے اندر سمٹ جانے کی تلقین کی اور سماجی رسوم قیود کا پختہ نظام قائم کیا ۔ اور اس ملاوٹ نے ہی مسلمانوں کی تہذیب کا تختہ ہی پلٹ دیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقبال نے پر زور کوشیش کی اپنی شاعری سے تہذیب کو معراج تک لانے میں اور ان کی شاعری نے اعلی مثال اور انسان کی اعلی شخصیت کو شاعرانہ انداز میں تہذیب کی کافی مثالیں دی ۔


    اپنے وجدان اور جذبہء انسانی کی ارتقاء کی بات سے اپنے الفاظ میں تہذیب کی صداقت کا بیان کیا ہیں۔ اپنے اشعار میں انھوں نے عربی الفاظ کا معاونہ اردو سے ترجیح دیا اور اس میں تہذیب کی اہم بنیاد شاندار الفاظ میں بیان کرکے ثابت کردیا کہ مسلماں غیر ممالک سےمذہبی وجوہات سے انسانی اقدار اورتہذیب کو عمل میں خود لانا ہیں ۔ ہمیں لبالب شیشہ تہذیب کو حاضر کرکیں اسے اپنے انداذ میں پیمانہ تہذیب کا نمایا شیشہ تہذیب کہ ہاتھوں اس کا صیحیح تعرف اقبال سے ملا ۔ شاعرانہ فلسفہ نے تمام لکھا ری کو عجب کشمکش میں ڈال دیا کہ اس دو لائن میں تہذیب کا فلسفہ کیسے بیان کریں ۔ علامہ اقبال جی کی علمی ثقافت کہ آگے بھلا ہماری ثقافت کیا ۔ پھر بھی ادنی سی کوشیش کہ تحت امید ہے تہذیب کہ شیشوں کو بکھرنے نہیں دو ۔اور اسے کی چمک میں تہذیب اور اخلاق کا صیحیح مفہوم بتا سکوں ۔ امید ہے مذہبی فرقوں کا حصہ تم نہیں بنوگے ۔ مذہب اور تشدد کہ نام سے غیر متوقع اور غیر انسانی تبلیغ کو مخاطب نہیں کرونگے ۔ اس شر سے دور رہ کر اصل تہذیب کو اور انسانیت کو کبھی فراموش نہیں کرونگے ۔ خود کو تہذیب کے راستہ پر لانا ہو تو اچھے بول بولیں اور منفی بات کریں بغیر اس کے کہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں ۔ ایک معقول عمل اختیار کریں خدائی حقیقت کے ساتھ اپنے ایمان اور روح سے انصاف کرنا سکھیں ۔ ظلم اور جہالت کا خاتمہ کرو۔ اقوام پر مسلط اپنی نا قابل دھونس اورغرور و دھمکی سے پرہیز کریں۔ اور خدا کہ بندوں سے حسن اخلاق سے پیش آؤ تہیذیب کی رہنمائی خود تمارے ہاتھوں میں ہیں۔ اور اسے میں چمک لانا اب ہمیں ہی ہیں۔ صلح کی شروعات اور اعتذار اورعاجزی و انکساری کہ بول سے دلوں کو جیت لو اور تہذیب کا صیحیح مفہوم سمجھ کر علامہ اقبال جیسی عظیم شخصیت جیسے عظیم انسان بنو اپنے علم اور ثقافت سے اپنی مثال خود بنانی ہیں ۔ اپنی تہذیب کو قائم رکھنے کہ لئے بھائی چارہ اخلاق حسنہ ، عزت ِ نفس ، حقوق واقدار کی رعایت اور عدل و انصاف معاشرہ کی بنیاد ہے ۔۔ نرمی محبت ، رحمت انسانیت کا احترام اپسی معاونت کا نیک جذبہء خود میں گر آجائے تو ہر طرف آمن وسکون ہونگا ۔ انسانیت کی حفاظت کرکے اسلامی تہذیب کا آغاز کرنے کی ادنی سی کوشیش گر ہم کریں تو تہذیب ہماری روح میں نظر آئےگی اور اس سے ہمیں کوئی الگ نہیں کرسکتا ۔انسان کا نفس دوسروں پر حکم چلا کر اور مادی اشیا پر قبضہ جما کر خوش ہوتا نہیں ہے ۔اور سچی روحانی خوشی دوسروں کو کچھ دینے میں ہے۔ دنیا میں ترقی کا پہلا قدم تہذیب ہے اور دوسرا علم مستقبل قریب ہیں۔ فکر وسوچ کا عمل ہمارے اپنے ہاتھ میں لبالب شیشہ تہذیب ہیں اور محافظ ہم خود ہے اور اسے سمبھالنا بھی ہمیں خود ہیں اور امید ہرہی دنیا قائم ہے ۔

    1334181271993 - تہذیب اور ہم  ۔۔۔

    از ریشم

  2. #2
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi/Lahore Pakistan
    Posts
    12,439
    Mentioned
    34 Post(s)
    Tagged
    9180 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    249126

    Default Re: تہذیب اور ہم ۔۔۔

    niceeeee


    Thanks

  3. #3
    Join Date
    Jun 2011
    Location
    China
    Posts
    4,833
    Mentioned
    29 Post(s)
    Tagged
    9237 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474847

    Default Re: تہذیب اور ہم ۔۔۔

    bht umdah tehreer
    Zindagi tu apnay he qadmun pe chalti hay Faraz
    Auron k Sahary tu Janazy utha kartay hain

  4. #4
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Jadoo Nagri
    Posts
    19,713
    Mentioned
    198 Post(s)
    Tagged
    8340 Thread(s)
    Thanked
    10
    Rep Power
    21474862

    Default Re: تہذیب اور ہم ۔۔۔

    wah bohat umdaa
    keep writing

  5. #5
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default Re: تہذیب اور ہم ۔۔۔

    آپ سب کا بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔

  6. #6
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    ♥ ♥ ChaAnd K paAr♥ ♥
    Posts
    41,780
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1314 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474887

    Default Re: تہذیب اور ہم ۔۔۔

    writer sahiba !! daad wasool kijiye

    /up

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

    2m4ccw6 - تہذیب اور ہم  ۔۔۔

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •