Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 15

Thread: کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    cute کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

    کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

    تحریر : شرر جی

    آج کافی دنوں کے بعد میں اتنی گہری نیند سویا تھا۔ کیونکہ پچھلے کچھ عرصہ سے میں بےخوابی کا شکار رہا تھا۔ رات رات بھر نیند نا آتی۔ اور کئی راتیں تو ایسی بھی تھیں کہ جو جاگ کر گزر گئیں تھیں۔ مگر آج جانے کیا تھا کہ میں رات ڈھائی بجے تک تو کروٹیں لیتا رہا مگر پھر جانے کب آنکھ لگ گئی پتا ہی نہیں چلا۔ اور ابھی صبح صادق کی پہلی اذان نہیں ہوئی تھی۔ کہ کوئی میرے کمرے کا دروازہ بری طرح سے پیٹ رہا تھا۔ دستک کی آواز اتنی تیز تھی کہ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ‘ کون ہے بھئی میں نے کچھ ناگواری سے دریافت کیا۔ اور جواباََ ایک مانوس سی آواز نے میرے کان کے پردوں کو چھوا -------------- ارے شرر دروازہ کھولو یار کیا بےہوشی میں دھت پڑے رہتے ہو۔ دروازہ کھولو جلدی سے -------------- ارے یار ہوا کیا ہے؟ تم ہمیشہ بے وقت ہی ٹپکتے ہو۔ سو جاؤ جا کر صبح بات ہوگی -------------- نہیں یار شرر ابھی بات ہوگی ۔ دروازہ کھولو ورنہ میں دروازہ توڑ کر اندر آجاؤں گا -------------- یار کیا کمینہ پن ہے۔ ابے کچھ شرم کرو رات کے اس پہر الو جاگتے ہیں سو جاؤ دیکھو ساری انسانیت ہی سوئی ہوئی ہے ۔ اوہ سوری ساری خلقت ہی سوئی ہوئی ہے-------------- ہاں تو انسان سوتے ہیں تو کیوں سویا ہوا ہے؟ ویسے تو روز رات رات بھر جاگتے ہو اور مجھے بھی سونے نہیں دیتے ہواور آج مجھے انسانیت کا درس دے رہے ہو۔ اٹھ جاؤ ورنہ میں دروازہ توڑ کر اندر آجاؤں گا -------------- اگر میں تھوڑی سی بھی اور دیر کرتا تو اس کمینے نے سچ مچ میں ہی میرا دروازہ توڑ کر اندر آجانا تھا۔ جی جناب یہ وہی ہیں آپ کے جانے پہچانے مسٹر "ف"۔ بتاؤ کیا کام ہے جناب کو رات کے اس پہر -------------- یار شرر تجھے نہیں پتا باہر کیا ہوا ہے؟ -------------- کیا ہوا ہے میں نے حیرانگی سے پوچھا؟ -------------- تجھے واقعی نہیں پتا؟ یا جان بوجھ کر معصوم بننے کی کوشش کر رہے ہو -------------- اوہ خدا کے بندے تو میرا توا لگانے آیا ہے رات کے اس پہر جا کہیں جا کر سو جا۔ یا پھر ایسا کر میرے ساتھ والے پلنگ پر ہی براجمان ہوجا۔ اور خدا کہ لئے مجھے بھی سونے دے۔ پہلے ہی ڈاکٹر صاحب ناراض ہیں مجھ سے کہتے ہیں کہ تو اپنا دھیان نہیں رکھتا۔ وقت پر سوتا نہیں ہے‘ وقت پرکھاتا نہیں ہے ‘ ہر کام بے وقت کرتا ہے۔ اور اگر آج ڈاکٹر صاحب کی درخواست پر عمل ہو ہی رہا ہے تو جناب کو کوئی تکلیف ہو رہی ہے -------------- یار شرر تجھے واقعی نہیں پتا۔ بڑا افسوس ہے تجھ پر یار۔ کل کو اپنے پروردگار کو کیا منہ دکھائے گا۔ کچھ شرم کر یار تیرے ہمسائے میں موت واقع ہو گئی ہے اور تجھے نیند کی سوجھ رہی ہے -------------- میں یہ سن کر شاکڈ ہو گیا۔ کتنی دیر تک میرے منہ سے کوئی الفاظ نا نکلے کہ میں آخر اسے کیا جوا دوں۔ میں اپنے ہی اندر شرم سے پانی پانی ہو کر رہ گیا تھا۔ کافی دیر گزر جانے کے بعد میرے منہ سے اناللہ وانا علیہ راجعون کے کلمات نکلے۔ کون فوت ہوا ہے -------------- یار اپنے باسط بھائی کا بیٹا عبدالقادر فوت ہوگیا ہے -------------- نہیں کر یار ۔۔۔۔ اسے کیا ہوا ہے؟ -------------- ہوئے کا تو مجھے بھی نہیں پتا میں بھی شور سن کر باہر نکلا تھا تو پتا چلا کہ باسط صاحب کا لڑکا انتقال فرما گیا ہے تو میں نے سوچا کہ تجھے بھی جگا دوں ویسے تو بڑا سوشل بنا پھرتا ہے۔ اور تیرے ساتھ والے گھر میں موت واقع ہو گئی ہے اور تجھے کچھ خبر ہی نہیں -------------- یار میں وہ ڈاکٹر صاحب کی ناراضگی سے بچنے کے لئے سلیپنگ پلز کا ایک چوتھائی حصہ لے کر سو گیا تھا۔ اس لئے مجھے شور سنائی نہیں دیا۔ چل اٹھ باہر چلتے ہیں۔ پتا کرتے ہیں کیا ہوا ہے عبدالقادر کو۔ ابھی شام کو ہی تو مجھ سے پڑھ کر گیا تھا اور ایسا کوئی بیمار بھی نہیں تھا۔ باسط صاحب میرے پڑوس میں رہتے ہیں اور ان کا ایک ہی بیٹا تھا عبدالقادر۔ چار بیٹیوں کے بعد اللہ نے باسط انکل کی سنی تھی۔ اور ماشاءاللہ بہت ہی پیارا بیٹا تھا عبدالقادر۔ مگر اس بیچارے کو ہوا کیا تھا۔ میری سمجھ سے باہر تھی یہ بات۔ میں اپنے بستر سے اٹھا اور "ف" کا بازو پکڑے اسے کمرے سے لے کر باہر آگیا۔ باہر گلی میں محلے کے باقی لوگ بھی جمع ہو رہے تھے۔ میں اور "ف" دونوں شبیر صاحب کے پاس جاکر کھڑے ہو گئے۔ یہ باسط صاحب کے چھوٹے بھائی ہیں۔ جب میں ان کے گلے لگا تو وہ بیچارے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ میرے بھائی کے گھر کو آگ لگ گئی۔ دیکھو کیا ہوگیا ہم تو لٹ گئے۔ میں نے ان کو حوصلہ دیا۔ اللہ کریم کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ جو اللہ کو منظور صبر سے کام لیں۔ انکل اللہ کو یہی منظور تھا۔ ہم لوگ ابھی گلی ہی میں کھڑے تھے کہ ایمبولینس میں لاش گھر آ گئی تھی۔ اور ایمبولینس کے پیچھے ایک پولیس وین بھی تھی۔ جسے دیکھ کر میرے دل میں کھٹکا ہوا مگر ہمارے "ف" صاحب تو سنتری بادشاہوں کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے اور خوش گپیوں میں مصروف ہوگئے۔ مجھے پریشانی سی لاحق ہو گئی تھی کی ماجرا کیا ہے۔ عبدالقادر کی ابھی عمر ہی کیا تھی صرف سترہ سال اور کچھ دنوں تک اس کے نویں جماعت کے پیپر بھی شروع ہونے والے تھے۔ اور کبھی کبھی وہ ریاضی کا کوئی سوال سمجھنے میرے پاس آجایا کرتا تھا۔ سچ میں مجھے ابھی تک صحیح طرح ہوش نہیں آرہی تھی۔ اب پتا نہیں کہ سلیپنگ پلز کی وجہ سے تھا یا اچانک عبدالقادر کی موت کی خبر نے مجھے چونکا دیا تھا۔ مجھے چکر سے آنا شروع ہو گئے اور میں سر پکڑ کر پاس ہی سیڑھی پر بیٹھ گیا۔ موت تو برحق ہے اور یہ آنی ہی آنی ہے۔ مگر اماں بھولی فرماتی ہیں کہ پتر موت وقت وقت دی چنگی لگ دی اے (موت وقت پر ہی آئے تو اچھی لگتی ہے( مجھے یہ سن کر بڑا عجیب لگتا کہ موت کا وقت تو طے ہے۔ پھر یہ کون سے وقت کی موت چنگی ہوتی ہے۔ ویسے یہ موت بھی نا ہمارے معاشرے میں بڑی ظالم اور بڑی بے رحم جانی جاتی ہے جب کہ موت کہتی ہے کہ وہ حکم ربی کی تابع ہے۔ تو پھر کیا اسے مظلوم سمجھنا چاہیئے۔ خیر یہ سب قصے سب باتیں اپنی اپنی جگہ درست ہی ہیں۔ کیوں کہ جس کا پیارا جاتا ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ موت ظالم ہے یا مظلوم۔ میری طبیعت جب کچھ ناساز ہونا شروع ہو گئی تو میں اٹھ کر گھر چلا آیا۔ نماز فجر ادا کی اور مرحوم عبدالقادر کی مغفرت کی دعا کی۔ ظہر کے بعد نماز جنازہ قریبی جنازگاہ میں ادا کیا گیا۔ اور پھر اس کی تدفین کردی گئی۔ کل تک جو ایک زندہ و جاوید لڑکا تھا آج من و مٹی تلے دفن تھا۔ مگر اس کی موت کی وجہ کیا تھی یہ ایک بڑی کربناک داستان ہے۔ جسے بیان کرنے کے لئے مجھے بہت حوصلہ اور بہت ساری ہمت اکٹھی کرنا پڑ رہی ہے۔ یہ الفاظ بظاہر تو بہت سادہ سے اور عام فہم الفاظ ہیں مگر ان کو کاغذ پر اتارنے کے لئے مجھے کس کس کیفیت سے گزرنا پڑا یہ میں ہی جانتا ہوں۔ یا میرا اللہ جانتا ہے۔ --------------

    عبدالقادر بظاہر ایک شریف النفس اور خوش مزاج لڑکا تھا عمر کوئی لگ بھگ سترہ یا ایک دو ماہ کم یا زیادہ تھی۔ نویں جماعت کا طالبعلم تھا۔ چند دن پہلے اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنی کسی عزیز کی شادی میں شرکت کے لئے سکھر گیا ہوا تھا۔ جہاں اس کی ملاقات ایک ادھیڑ عمر شائستہ سے ہوئی۔ شائستہ چار بچوں کی ماں تھی۔ جس کی سب سے بڑی بیٹی نو سال کی تھی۔ یہ عبدالقادر کے دور پرے کے رشتہ داروں میں سے تھی۔ بس وہ کہتے ہیں نا کہ ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ شائستہ کو عبدالقادر بہت پسند آیا تھا۔ یا یوں کہہ لیا جائے کہ دونوں ہی ایک دوسرے پر فدا ہو گئے تھے۔ یہ بات کوئی ذی شعور سنتا تو کیا کہتا۔ سب ہی شائستہ کو برا بھلا کہتے کہ بچے کو ورغلا رہی ہے۔ اب پتا نہیں یہ ورغلانا تھا یا حقیقت میں وہ عبدالقادر پر فدا ہو چکی تھی۔ عبدالقادر چونکہ ابھی کچی عمر کا تھا۔ جسے ابھی یہ شعور ہی نا تھا کہ محبت کیا ہوتی ہے اور حوس کیا۔ جسم کی بھوک کس کو کہتے ہیں۔ دونوں کے درمیان پیار کی پینگ پروان چڑھ گئی تھی۔ محبت کی بیل منڈیر لگ گئی تھی ۔ شادی سے فارغ ہوکر گھر والے سبھی واپس آگئے تھے مگر عبدالقادر ضد کرکے چند دنوں کے لئے مزید وہیں ٹھہر گیا تھا۔ اور پھر کیا تھا عبدالقادر تو بالکل آزاد تھا کیوں کہ اب گھر والے واپس فیصل آباد جاچکے تھے اور اسے اب کسی بھی چیز کا کوئی ڈر خوف نہیں تھا۔ شائستہ عبدالقادر کی پھوپھو کے گھر کے پاس ہی رہتی تھی اور اس کا خاوند دوبئی میں مقیم تھا۔ پھر تو دونوں ہی کو کسی کا کوئی ڈر نہیں تھا۔ عبدالقادر سارا سارا دن شائستہ کے گھر گزارتا تھا۔ اور پھوپھو کیا کسی کے بھی دماغ میں ایسی کوئی بات آ ہی نہیں سکتی تھی کہ دونوں کے درمیان محبت پروان چڑھ چکی ہے اور یہ تعلق اب صرف زبانی کلامی کا تعلق نہیں رہا تھا۔ اس محبت نے ناصرف عمر کے فرق کو پامال کیا تھا بلکہ اس نے تو جسموں کے تقدس پر بھی وہ کیچڑ اچھالا تھا کہ بیان کرنا مشکل ہے۔ کچھ دن تک یہ جسموں کا بندھن بندھا رہا پھر کیا ہوا عبدالقادر محبت کے وعدے اور حسین سپنوں کی یادیں دل میں لئے واپس فیصل آباد آگیا مگر دونوں کے درمیان رابطہ قائم تھا۔ ساری ساری رات موبائل پر باتیں ہوتیں۔ انگڑائیوں کا ذکر ہوتا۔ جسم کی بدلتی کروٹوں کے قصے بیان ہوتے۔ اور پھر آخر کو بات چل نکلی اور عبدالقادر کو گھر والوں نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ تھوڑا بہت سمجھانے پر کچھ دن تعلق کا طلاطم کچھ سنبھلا تھا مگر جسم کی حوس بہت بری ہوتی ہے اور نفس تو انسان کو پکڑتا ہی اسی آگ کو بھڑکا کر ہے۔ رابطے پھر بحال ہو چکے تھے ۔ اب دونوں میں یہ طے ہوا کہ عبدالقادر اپنے گھر والوں کو منائے گا اور شائستہ اپنے خاوند سے طلاق لے لے گی اور پھر دونوں شادی کرلیں گے۔ مگر عبدالقادر کے گھر والے اس رشتے کو کیسے قبول کرتے۔ اور کچھ نہیں تو اگر دونوں کی عمر ہی کا فرق نکالا جاتا تو عبدالقادر کی عمر سے زیادہ دونوں کی عمر کا فرق تھا۔ اور ماں اپنے اکلوتے لخت جگر کے فیصلے کو مانتی تو کیسے مانتی۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی۔ صرف سترہ سال۔ مگر کیا یہ واقعی میں عشق تھا یا حوس؟ جسم کی حوس؟ میری عقل فیصلے سے قاصر ہے۔ آپ کا میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ پھر بات بڑھتے بڑھتے یوں بڑھی کہ شائستہ نے کہا کہ تم اپنے ماں باپ کو مرنے کی دھمکی دو۔ انھیں ڈراؤ کہ تم خود کشی کرلو گے اور ہو سکے تو ان کو ڈرانے کے لئے ایک آدھ سلیپنگ پلز بھی لےلو۔ اور پھر یوں ہی ہوا عبدالقادر نے گھر والوں کو پریشرائز کرنا شروع کردیا۔ دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ کبھی کھانا پینا چھوڑ دیتا تو کبھی گولیاں کھانے کی دھمکیاں دیتا۔ ہر وقت ماں سے بدتمیزی ‘ ہر وقت بہنوں سے لڑائی۔ اور پھر ایک دن اس نے وہ کر دکھایا جس کی اس سے امید کی جارہی تھی۔ اس نے گھر والوں کو ڈرانے کے لئے سلیپنگ پلز کھا لیں مگر سلیپنگ پلز کی تعداد کچھ زیادہ ہو گئی جو بالآخر اس کی موت کی وجہ بنی۔ مگر اس صدمے نے بوڑھے باسط صاحب کی کمر توڑ دی تھی۔ ماں کی حالت قابل رحم تھی اور میں یہ سب دیکھنے کے باوجود صرف دو بول ہمدردی کے بول سکتا تھا۔ ان کو بس صبر کی تلقین کر سکتا تھا۔ مگر اگلے ہی دن خبر ملی کہ رات کو شائستہ نے بھی سلیپنگ پلز کھالیں ہیں اور اسے بھی بچایا نہیں جا سکا۔ اور مرحومہ چار چھوٹے چھوٹے بچوں کو روتا چھوڑ کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی ہیں۔ مگر اس سانحے سے چار بچے رل گئے دو ماں باپ اجڑ گئے اور کسی کے ہاتھ کچھ نا آیا۔ اور میں ایک بے حس انسان اب اسی سوچ میں گھم ہوں کہ شائد دونوں کے درمیان محبت کا رشتہء حقیقی بند گیا تھا۔ اور وہ دو جسم اور اک جان بن گئے تھے۔ جنھیں جدا کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔ پر میرا ضمیر گوارا کرنے کو تیار نہیں وہ مجھے ملامت کرتا ہے کہ نہیں یہ محبت نہیں حوس تھی کیوں کہ عشق وہ ہوتا ہے جس میں عاشق رسوا ہو جاتا ہے مگر عشق پر آنچ نہیں آنے دیتا ۔ یہ کیسا عشق تھا جسے اس کے عاشقوں ہی نے رسوا کردیا تھا۔ اس بات کی تہہ میں جانے میں مجھے کوئی خاص وقت نہیں لگا کیوں کہ میں جب پریشان عبدالقادر اور شائستہ کی موت کی وجہ تلاش کر رہا تھا تو میرے پاس بیٹھے مسٹر "ف" نے بڑی ہی آسانی سے مجھے وہ وجہ سمجھا دی۔جو شائد مدتوں سوچتے رہنے پر بھی مجھ عیاں نا ہوتی -------------- یار شرر اس سارے واقعےکے پیچھے جانتے ہو کہ کیا معاملہ ہے؟ -------------- نہیں یار میں وہی سوچ رہا ہوں -------------- مگر مجھے تو معلوم ہے -------------- کیا معلوم ہے مجھے بھی تو بتاؤ -------------- یار یہ جو ہم اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو موبائل تھما دیتے ہیں نا کہ لو بیٹا جیب میں رکھو تاکہ ہمیں پتا رہے کہ ہمارے بچے کہاں ہیں۔ یہی سب سے بڑی فساد کی وجہ ہے۔ یار شرر ایک وعدہ کر میرے ساتھ -------------- کیا وعدہ؟ -------------- یار تو عبدالقادر کی سٹوری ضرور لکھے گا۔ تاکہ ماں باپ کو پتا ہو کہ ہمیں اپنے بچے کو محبت کے ساتھ ساتھ قابو میں بھی رکھنا ہے۔ میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ ماں باپ مار مار کر بچے کا حلیہ بگاڑ دیں مگر ہمیں اپنے بچوں کو سچ کا درس دینا ہو گا اور یہ اسی وقت کامیاب ہوگا جب ہم خود سچ بولیں گے اور اپنے بچوں کے لئے ایسا فرینڈلی ماحول بنائیں گے کہ بڑی سے بڑی غلطی بھی وہ ہم سے شئیر کرنے میں ججھک محسوس نا کریں اور پھر ہم ان کی اس غلطی کا تدارک کریں اور انھیں احساس بھی دلائیں کہ آئندہ وہ ایسے اقدام سے گریز کریں بات صاف سی ہے شرر ہمیں اپنے بچوں کے ماں باپ سے اب دوست بننا ہوگا اگر اب ہم اپنی اولاد کی تربیت درست طریقے سے کرنا چاہتے ہیں۔ مسٹر "ف" کی باتیں سن کر میں حیرت سے انگشت بدنداں تھا۔ کہ ایک ان پڑھ جاہل جس نے کبھی سکول کی شکل نہیں دیکھی۔ وہ مجھے ایک سکالر سے بڑا سکالر لگ رہا تھا کہ کتنی بڑی بات وہ کتنی سادگی سے کر گیا تھا۔ سچ میں ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ اب ماں باپ والا رویہ ختم کر کے ایک اچھے دوست والا رویہ رکھنا پڑے گا۔ تب ہی ہم اس بھنور سے اپنی اولاد کو نکال سکیں گے۔

    کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟
    وبال جاں ہے بس اور کچھ نہیں



  2. #2
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Jadoo Nagri
    Posts
    19,713
    Mentioned
    198 Post(s)
    Tagged
    8340 Thread(s)
    Thanked
    10
    Rep Power
    21474862

    Default Re: کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

    Wah umdaa tehreer
    عشق وہ ہوتا ہے جس میں عاشق رسوا ہو جاتا ہے مگر عشق پر آنچ نہیں آنے دیتا ۔ یہ کیسا عشق تھا جسے اس کے عاشقوں ہی نے رسوا کردیا تھا۔
    aisa hi hota hai aur log apni ghalti bhi tasleem nahi kartay

  3. #3
    Join Date
    May 2010
    Location
    Karachi
    Age
    22
    Posts
    25,472
    Mentioned
    11 Post(s)
    Tagged
    6815 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474869

    Default Re: کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

    wah bhut khoob.
    tumblr na75iuW2tl1rkm3u0o1 500 - کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

    Hum kya hain

    Hmari Muhabatayn kya hain
    kya chahtay hain
    kya patay hain..

    -Umera Ahmad (Peer-e-Kamil)


  4. #4
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Kallar Syedan
    Age
    29
    Posts
    1,928
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    3
    Rep Power
    0

    Default Re: کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

    wah bhut khoob.

  5. #5
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default Re: کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

    zabardast

    eq2hdk - کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

  6. #6
    Hidden words's Avatar
    Hidden words is offline "-•(-• sтαү мιηε •-)•-"
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Kisi ki Ankhon Aur Dil Mein .......:P
    Posts
    56,915
    Mentioned
    322 Post(s)
    Tagged
    10949 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474899

    Default Re: کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

    umda tehrir
    suno hworiginal - کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟
    575280tvjrzkx7ho zps19409030 - کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟ღ∞ ι ωιll αlωαуѕ ¢нσσѕє уσυ ∞ღ 575280tvjrzkx7ho zps19409030 - کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

  7. #7
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Lost...
    Posts
    17,151
    Mentioned
    135 Post(s)
    Tagged
    11596 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    3865501

    Default Re: کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

    nice
    Teri ankhon uworiginal - کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

  8. #8
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi/Lahore Pakistan
    Posts
    12,439
    Mentioned
    34 Post(s)
    Tagged
    9180 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    249126

    Default Re: کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

    nice

  9. #9
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    ♥ ♥ ChaAnd K paAr♥ ♥
    Posts
    41,780
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1314 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474887

    Default Re: کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟



    aaj k ishq mein sirf ruswayi k elawa kch bacha e nai hai !!

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

    2m4ccw6 - کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

  10. #10
    Join Date
    Feb 2009
    Location
    City Of Light
    Posts
    26,767
    Mentioned
    144 Post(s)
    Tagged
    10310 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474871

    Default Re: کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

    vry nice



    3297731y763i7owcz zps9ed156a3 - کیسی محبت ؟ کیسا عشق ؟

    MAY OUR COUNTRY PROGRESS IN EVERYWHERE AND IN EVERYTHING SO THAT THE WHOLE WORLD SHOULD HAVE PROUD ON US
    PAKISTAN ZINDABAD











Page 1 of 2 12 LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •