Results 1 to 6 of 6

Thread: موسمِ گرما کی حدت سے بچاﺅ کیسے ممکن ہے

  1. #1
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default موسمِ گرما کی حدت سے بچاﺅ کیسے ممکن ہے


    موسمِ گرما کی حدت سے بچاﺅ کیسے ممکن ہے

    گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں سب سے زیادہ متاثر ہمارے چہرے کی جلد ہوتی ہے۔ براہِ راست سورج کی الٹراوائلٹ شعاعوں سے نہ صرف چہرے کا رنگ خراب ہوتا ہے، بلکہ زیادہ دیر تک دھوپ میں رہنے سے مختلف جِلدی امراض بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ دھوپ کے علاوہ گرمیوں کی دوپہر کی گرم ہوا جِسے ’لُو‘ بھی کہا جاتا ہے، ہمارے چہرے کی جِلد کو بُری طرح جُھلسا دیتی ہے۔ ہماری جلد کی تین تہیں ہوتی ہیں جب دھوپ کی شعاعیں انسانی جلد میں داخل ہوتی ہیں تو یہ جلد کی پہلی تہہ میں موجود آزاد مگر حفاظتی ریڈیکلز کے ساتھ مل کر کلوجن اور ایلسٹن میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو جلد کے لیے سانس لینے کے راستوں کو بند کر دیتے ہیں اور یوں ہمارے چہرے کی جلد جھریوں، داغ دھبوں، خشکی اور تِلوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ دھوپ کی وجہ سے ہمارے جسم کا پانی کم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح چہرے کی جلد کا پانی بھی تیز دھوپ میں اُڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے جِلد پانی کی کمی کا شکار ہو کر ڈھلک جاتی ہے اور اپنی عمر سے زیادہ نظر آنے لگتی ہے۔ اور یہ عمل جُھریوں کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
    پرانے وقتوں میں گرم ہوا اور دھوپ سے بچنے کے لیے لوگ ململ کے سفید کپڑے کو پانی میں بھگو کر اپنے سر اور چہرے کو ڈھانپ لیتے تھے تاکہ جِلد براہِ راست دھوپ کی شعاعوں سے کم متاثر ہو، اور ہلکے رنگوں، خصوصاً سفید رنگ کے لباس کو ترجیح دیتے۔ کیونکہ سفید رنگ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کو منعکس کر دیتا ہے جبکہ گہرا یا کالا رنگ ان شعاعوں کو جذب کرتا ہے اور گرمی کی حدّت کو بڑھاتا ہے۔ اسکے علاوہ لسی، ستو اور ایسے ہی ٹھنڈے مشروبات اور رس دار پھلوں کا استعمال کیا جاتا تھا تاکہ دھوپ کی تمازت کو ختم کرنے کے لیے اندرونی نظامِ تحفظ کو مضبوط رکھا جا سکے۔ زمانۂ جدید میں دھوپ کی شعاعوں کے اثرات سے بچنے کے لیے اینٹی آکسیڈینٹ کو اپنے کھانے اور متاثرہ جِلد پر لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ آکسیڈینٹ کے علاوہ وٹامن اے اور موئسچرائزر کو بھی جلد کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ موئسچرائزر میں پائے جانے والے عناصر ’ہیومنکٹنٹ اور لیپیڈز‘ ہماری جلد میں پانی کو روکنے اور کلوجن کو بنانے کے لیے اہم عنصر ہیں۔ بہترین موئسچرائزر میں کریم اور سیلی کانز دونوں موجود ہوتے ہیں۔ جو پانی کو جلد میں لاک کر دیتے ہیں۔ مارکیٹ میں مختلف برانڈ کے سن اسکرین لوشن، سن بلاکس میں ’Sun protection Factor‘ یعنی SPF کی مختلف رینجز کے ساتھ فروخت کیا جارہا ہے۔ یہ فارمولاز ٹھنڈے ملکوں کی گرمیوں میں وہاں کے باشندوں کے لیے بہترین ہوتی ہیں مگر گرم اور مرطوب علاقوں، جہاں سورج کی حدّت تیز ہوتی ہے، ان کے استعمال سے خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ پسینے سے جلد پر لگی کریم یا موئسچرائزر بہہ جاتا ہے۔ کچھ افراد پراڈکٹ کے خلاف اور کچھ پیسے کے ضیاع کے حوالے سے نالاں نظر آتے ہیں۔ کچھ افراد کی جلد ان پراڈکٹ کے استعمال کی وجہ سے ایکنی، خشکی اور چہرے کے رنگ خراب ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے ابھی تک ایشیائی ممالک کے کسی صنعت کار، سائنس دان، بیوٹیشن، ماہرِ جلد نے اس طرف توجہ نہیں دی اور کوئی قابلِ قدر پراڈکٹ ان خطوں کے عوام کے لیے سامنے نہیں آسکی۔
    گرمیوں میں چہرے کی جلد کی شادابی برقرار رکھنے کے لیے کچھ زیادہ مشقت نہیں کرنا پڑتی، کچھ عادات کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنا کر ہم اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ زمانۂ قدیم سے مشرق(برِصغیر) میں دھوپ کی تمازت، الٹراوائلٹ شعاعوں سے بچنے کے لیے گھریلو نسخوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ چند آزمودہ نسخے زیر نظرِ سطور دیے جا رہے ہیں۔ ان گھریلو نسخوں کے استعمال سے ہم اپنی چہرے کی جِلد اور جسم کے ایسے حصے جو سورج کی براہِ راست شعاعوں کا شکار ہو تے ہیں۔ انہیں دھوپ کے منفی اثرات سے بچا سکتے ہیں۔
    ہمیں روزانہ اوسطاً 10 سے 12 گلاس پانی پینے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ پانی پینے کی مقدار کے حوالے سے پوری دنیا میں عموماً ایک کلیہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں انسان کو اوسطاً اپنے وزن سے آدھے پاﺅنڈ کے نمبرکے برابر، اونس کی مقدار میں پانی پینا چاہیے۔
    جتنی بار ممکن ہوسکے چہرے کو ٹھنڈے پانی سے دھوئیں یا چھینٹے لگائیں۔ چھینٹے لگانے سے چہرے کے مساموں میں رُکے مردہ خلیے دُھل جاتے ہیں اور جلد کی دوسری تہہ سے تازہ خلیے چہرے کے اوپر کی سطح پر آ کر چہرے کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس عمل سے چہرے کا رنگ بھی متاثر ہونے سے بچ جاتا ہے۔
    دھوپ میں نکلنے سے قبل اور بوقتِ ضرورت عرقِ گلاب کو چہرے پر چھڑک لیں۔ یہ قدرتی آکسیڈینٹ کا کام کرتا ہے اور چہرے کا پانی ختم ہونے سے بچاتا ہے۔ خواتین بیگ میں اور مرد حضرات اپنے دفتر کی میز میں عرقِ گلاب شاور رکھ سکتے ہیں۔ یہ اب بہ آسانی مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ عرقِ گلاب کو قدرتی سن بلاک بھی کہا جاتا ہے۔
    گرمیوں میں کھیرے، تربوز، خربوزہ اور ایسے تمام پھل جو قدرتی پانی رکھتے ہیں ان کا استعمال بڑھا دیں۔ یہ بھی قدرتی آکسیڈینٹ کا کام کرتے ہیں، ان میں پائے جانے والے قدرتی عناصر چہرے کی جلد کو تر و تازہ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ پھلوں کے جوس پینے سے زیادہ، کھانے کا فائدہ زیادہ ہے۔ سبز پتوں کی کچی سبزیاں، سلاد کی آئیٹمز کو کھانے کے معمول میں شامل کریں۔
    کیِنو، سنگترہ، مالٹا، لیموں، چکوترہ، خربوزہ ان سب کے یا ان میں سے کسی ایک کے چھلکے خشک کر کے پیس لیں اور گرمیوں میں چہرہ دھونے کے لیے استعمال کریں۔ یہ چھلکے زیادہ سفوف کی حالت تک نہیں پِسے جا سکتے اس لیے یہ اسکرب کے طور پر جلد کی ایکسفولیشن کرنے میں بہترین مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ اسکن برن کی صورت میں چہرے کے مردہ خلیوں کو صاف کر کے چہرے کا رنگ بھی نکھار دیتے ہیں۔(آپ اسکن کے اعتبار سے ہلدی بھی اسکرب میں شامل کر کے اسے قدرتی اُبٹن کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔)
    اسکن برن (دھوپ کی تمازت سے جھلی چہرے کی جلد) کو ختم کرنے کے لیے اپنا معمو ل بنائیں کہ دھوپ میں سفر کرنے کے بعد گھر آ کر ٹھنڈے پانی سے منہ صاف کریں اور برف سے چہرے کا مساج کریں۔ اس کے لیے برف کی ٹکڑیاں یا اس کو باریک کوٹ کر ململ کے کپڑے میں باندھ کر چہرے پر ملیں۔ یہ عمل جتنی بار ممکن ہو دہرائیں۔ دھوپ کی تمازت سے خراب رنگ اپنی اصلی حالت میں واپس آجائے گا۔
    پپیتا بھی دھوپ سے جلی اسکن یا رنگت نکھارنے کے کام آتا ہے، اسکے بیج خشک کرکے کھانے، یا پھل کھانے سے رنگت صاف، تروتازہ اور جلد چمک دار ہوتی ہے۔
    ٹماٹر کے قتلے یا ٹماٹر کا جوس چہرے پر ملنے سے اسکن برن کے اثرات مکمل طور پر ختم ہو جاتے ہیں بلکہ باقاعدگی سے استعمال کرنے سے جلد کی رنگت بھی نکھرتی ہے۔ جس طرح سردیوں میں گاجر کا جوس ہماری جلد کی شادابی اور نکھار کے لیے اہم ہوتا ہے ایسے ہی گرمیوں میں ٹماٹر کا جوس فائدہ مند ہوتا ہے۔ ٹماٹر کا جوس بنانے کے لیے ٹماٹر، لیموں اور کرش برف کو بلینڈ کر لیں، اس میں حسبِ ذائقہ چینی، کالی مرچ اور نمک ڈالا جا سکتا ہے۔ (گردے کے مریض یا دیگر مریض اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر کے اسے استعمال کر سکتے ہیں۔)
    اپنی خوراک میں وٹامن اے بی سی ڈی اور ای کو ضرور شامل کریں تاکہ چہرے کی جلد کی حفاظت ممکن ہو سکے۔ خصوصی طور پر وٹامن اے ہماری جلد کو جھریوں اور بڑھاپے کے اثرات سے بچاتی ہے۔
    گرمیوں میں باقاعدگی سے سوئمنگ کو ترک کر دینا چاہیے۔ کیونکہ روز دھوپ کی تمازت کی وجہ سے جلد کی ڈی۔ ہائیڈریشن ہو رہی ہوتی ہے اور ایسے میں پانی کے تالاب میں زیادہ وقت گذارنے سے جلد بہت زیادہ خشکی کا شکار ہو سکتی ہے۔ لیکن کچھ لوگ گرمیوں میں سوئمنگ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، ان کوچاہیے کہ وہ سوئمنگ پول میں اترنے سے قبل موئسچرائزر (جس میں آکسیڈینٹس زیادہ ہو) کی موٹی تہہ سے اپنی جلد کو چھُپا لیں۔
    دھوپ میں نکلتے وقت چہرے کو ٹوپی، چھتری یا کپڑے سے ڈھانپ لیں۔ اس سے چہرہ براہِ راست سورج کی شعاعوں کا شکار نہیں ہوگا۔ کوشش کریں کہ گرمیوں میں، دھوپ سے بچنے کے لیے ہلکے رنگوں کے کپڑوں کا انتخاب کریں۔ ہو سکے تو اپنی جلد کے لحاظ سے موئسچرائزر یا سن بلاک کا استعمال کریں، یا قدرتی سن بلاک عرقِ گلاب کا استعمال اپنا معمول بنا لیں۔





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

  2. #2
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Jadoo Nagri
    Posts
    19,713
    Mentioned
    198 Post(s)
    Tagged
    8340 Thread(s)
    Thanked
    10
    Rep Power
    21474862

    Default Re: موسمِ گرما کی حدت سے بچاﺅ کیسے ممکن ہے

    hmmmmm nice sharing

  3. #3
    Join Date
    May 2010
    Location
    Karachi
    Age
    22
    Posts
    25,472
    Mentioned
    11 Post(s)
    Tagged
    6815 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474869

    Default Re: موسمِ گرما کی حدت سے بچاﺅ کیسے ممکن ہے

    nich tips.......
    tumblr na75iuW2tl1rkm3u0o1 500 - موسمِ گرما کی حدت سے بچاﺅ کیسے ممکن ہے

    Hum kya hain

    Hmari Muhabatayn kya hain
    kya chahtay hain
    kya patay hain..

    -Umera Ahmad (Peer-e-Kamil)


  4. #4
    Join Date
    Sep 2010
    Location
    Mystic falls
    Age
    29
    Posts
    52,044
    Mentioned
    326 Post(s)
    Tagged
    10829 Thread(s)
    Thanked
    5
    Rep Power
    21474896

    Default Re: موسمِ گرما کی حدت سے بچاﺅ کیسے ممکن ہے

    nice sharing

    eq2hdk - موسمِ گرما کی حدت سے بچاﺅ کیسے ممکن ہے

  5. #5
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi/Lahore Pakistan
    Posts
    12,439
    Mentioned
    34 Post(s)
    Tagged
    9180 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    249126

    Default Re: موسمِ گرما کی حدت سے بچاﺅ کیسے ممکن ہے

    Cool sharing sq

  6. #6
    Join Date
    Jun 2010
    Location
    Jatoi
    Posts
    59,925
    Mentioned
    201 Post(s)
    Tagged
    9827 Thread(s)
    Thanked
    6
    Rep Power
    21474903

    Default Re: موسمِ گرما کی حدت سے بچاﺅ کیسے ممکن ہے

    thanxx to all





    تیری انگلیاں میرے جسم میںیونہی لمس بن کے گڑی رہیں
    کف کوزه گر میری مان لےمجھے چاک سے نہ اتارنا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •