میاں محمد نواز شریف اور کپتان عمران خان کی خوش فہمیوں کے جواب میں پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ”آئندہ باری بھی ہماری ہے“۔ پیپلز پارٹی کادعویٰ پورے ہونے میں مجھے توکوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ حالیہ ضمنی انتخابات اس کا ثبوت ہیں۔ آئندہ عام انتخابات میں بھی انقلاب اور سونامی کے تمام بلند بانگ دعوے دھرے رہ جائیں گے۔ کہاں کا انقلاب ، کہاں کی سونامی؟ کیا کوئی بے شعور، بے جہت اور بے ضمیر قوم انقلاب لاسکتی ہے؟ مہنگائی نے ملک کے باسیوں کی کمر توڑ دی ہے۔ ملک کے اعلیٰ ترین ایوان سے لیکر ایک عام مزدور اور ریڑھی فروش تک بد دیانتی اور کرپشن کا چلن عام ہے۔ ملک فروشوں کے سروں پر ہی اقتدار کی ہما آکر بیٹھتی ہے۔انصاف کا دور دور تک کہیں پتہ نہیں۔ طاقتور طبقات عدالتوں کے فیصلے ماننے کو تیا ر نہیں۔ انتظامی کارکردگی کا دور دور تک کہیں وجود نظر نہیں آتا۔ ملک کی اعلیٰ ترین قیادت ذاتی مفادات کے کھیل میں اتنی لگن سے مگن ہے کہ اسے کوئی جرم ، جرم ہی نہیں لگتا۔
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کی تاریخ میں کرپشن کی نئی تاریخ رقم کی ہو ، ملک بھر کے کالم نگاروں کے مطابق ہر بڑے کرپشن کے دوسرے سرے پر وزیر اعظم ہاوٴس یا ان کے خاندان کا کوئی فرد نظر آتا ہو، عدالت عظمیٰ نے انہیں توہینِ عدالت کا مجرم قرار دے دیا ہو ۔۔۔ تو کیا ہوا؟ یہ تو ان کے اثر و رسوخ میں اضافے کا ثبوت ہے۔یہ تو ان کی قیمت میں اضافے کا باعث ہے۔ یہ قیمت جو ملک کے باسیوں کو ہی نہیں، بیرونی طاقتوں کو بھی ادا کرنی پڑے گی۔ امریکہ کو نیٹو کی سپلائی بحال کرانے کیلئے زیادہ بھاری رشوت ادا کرنی ہوگی۔ پاکستان کی سلامتی خطرے میں ہے تو ہوتی رہے، ہماری جیبیں تو بھرتی رہیں۔ ہمارے دشمن ہمارے مزاج کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ اس قوم کو قوت کے بل بوتے پر باہر سے فتح کرنا مشکل ہے۔ ہاں اسے اندر سے دو لخت کیا جا سکتا ہے۔ بیرونی طاقتوں نے خزانوں کے منہ مفاد پرستوں کیلئے کھول دئیے ہیں۔ عراق پر حملے سے قبل عراقی جنرلوں کو کس طرح خریدا گیا؟ افغانستان پر حملے سے قبل قبائلی سرداروں کو کس طرح ڈالروں سے بھرے بریف کیس پہنچائے گئے؟ پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ پیدا رکھنے کیلئے سرمایہ، تربیت اور جدید ترین اسلحہ ہمارے کون کون سے ”دوست“ فراہم کر رہے ہیں؟ ان دوستوں کا مفاد اسی میں ہے کہ تیسری دنیا کے ملکوں پر وہی لوگ حکمراں رہیں جنہیں وہ بوقتِ ضرورت خرید سکیں۔
جمہوریت بہترین نظامِ حکومت ہو سکتا ہے اگر ملکمیں مضبوط جمہوری روایات قائم ہوں۔ قوم میں جمہوری مزاج پختہ ہو چکا ہو۔ نظامِ حکومت شفاف ہو۔ قومی خزانے کو امانت سمجھا جاتا ہو۔ ووٹ اسے دیا جاتا ہو جو اس امانت کا سب سے اہل ہو۔ تو جمہوریت سر آنکھوں پر۔یہ بہترین نظام ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر جمہوریت کا مقصد یہ ہو کہ ملک کے خزانے، قومی دولت کی لوٹ مارکیلئے قومی اسمبلی کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جائے جس کا رکن بننے کیلئے تیس چالیس ہزار جعلی ووٹ درج کراکے ، تین سے دس کروڑ روپے خرچ کئے جائیں اور منتخب ہوکر دس ارب روپے کمائے جائیں۔ ملک میں جمہوریت کے نام پر ذاتی مفادات کا یہ کھیل ملک کیلئے باعث رحمت ہے یا باعث زحمت اور لعنت ؟ برطانیہ میں تو کوئی لکھا ہوا دستور بھی نہیں مگر پختہ جمہوری روایات، قانون کی بالادستی، شفاف نظامِ حکومت اور انتظامیہ، چیک اور بیلنس ، جوابدہی اور عدلیہ کے موٴثر نظام ملک و قوم کی فلاح اور ترقی کا باعث ہے۔
پوری انتخابی تاریخ پر نظر ڈال لیجئے ۔ہمارے نظامِ انتخابات میں ملک کے بدترین لوگ اکثریت میں منتخب ہو کر اوپر آتے رہے ہیں اور آئندہ بھی آتے رہیں گے۔ جاگیردارانہ نظام کے پسِ منظر میں اس نظام کے تحت آئندہ سو انتخابات کے بعد بھی بھلائی کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ نہ بیوروکریٹ کا مزاج بدلے گا۔ نہ سرمایہ دار کی لوٹ کھسوٹ ختم ہوگی ، نہ منصف مزاج افراد حکمراں بن سکیں گے۔
کراچی میں حالیہ قیام کے دوران عجب تماشہ دیکھا کہ سندھ کے بڑے تین حکمراں اتحادیوں اور دیگرکے درمیان سرکاری اور نجی اراضی پر زبردستی قبضے، عام شہریوں ، دکانداروں، تاجروں اور صنعت کاروں سے بھتہ خوری کی جنگ جاری ہے۔ لاشوں کے انبار لگ رہے ہیں۔ حکمراں گروپوں میں سے کسی ایک کا کوئی کارکن مارا جاتا ہے تو دوسرے دن پورے شہر میں بزورِ قوت ہڑتال کرائی جاتی ہے۔ حکمراں جماعت کس کے خلاف ہڑتال کرائے؟ ہڑتال کا نام بدل کر ”یوم سوگ“ کر دیا گیا ہے۔ اس دن مخالف پارٹی کے کارکنوں کو تہہ تیغ کیا جاتا ہے۔ یوم سوگ میں اگر کوئی شریک نہ ہونا چاہے اوراپنی دکان کھول لے تو اسے خون میں نہلا دیا جاتا ہے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ نہ کوئی پکڑا جاتا ہے، نہ کسی کو سزا ہوتی ہے۔چند ہفتوں میں ایسے تین سوگ بھگتنے پڑے۔ یہ ہے ہماری جمہوریت جس کیلئے صبح و شام گلے گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے بلند کئے جارہے ہیں۔ حالانکہ جس کے پاس زیادہ قوت ہے، زیادہ سرمایہ ہے وہ ہر دھاندلی، ہر جائز و ناجائز ذریعہ استعمال ہو کر” منتخب “ہوتا رہے گا۔ اور پیپلز پارٹی سے زیادہ کس کا ”حق“بنتا ہے کہ وہ اپنی باری لگا سکے۔
ایک محقق نے مسلم رعایا اورحکمرانوں کیلئے قرآن سے 20اصول اخذ کئے ہیں: انصاف، مساوات، قانون، امن، سچائی، دیانتداری، علم، تحقیق، رحم دلی، دوسروں کے حقوق کا احترام، خواتین بچوں بزرگوں اور بیماروں کے ساتھ مہربانی، تجارت و صنعت، جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک، مضبوط دفاع، وعدے کی پابندی، سادگی، ویلفیئر، شائستگی، دوسروں کے عقائدکا احترام اور برداشت۔
اب ذرا آج کے مسلمان جمہوری حکمرانوں پر نظر ڈال کر بتائیے کہ ان میں سے کوئی کتنے یا کسی ایک دواصولوں پر بھی پورا اترتا ہے؟ اور پھر مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر  کے پہلے، انتہائی مختصر ، جامع اور قیامت تک کیلئے مسلم حکمرانوں کیلئے باعث تقلید اور باعث نجات خطبے کو بار بار پڑھ کر دیکھئے کہ ہمارے حکمراں کیسے ہونے چاہئیں:
”میں تم پر حاکم مقرر کیا گیا ہوں حالانکہ میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں۔
”اگر میں ٹھیک کام کروں تو میری مدد کرو۔ اگر غلط راستے کی طرف جاوٴں تو مجھے سیدھا کردو۔
”سچ امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔
”تمہارا کمزور شخص میرے نزدیک طاقتور ہے جب تک میں اس کا حق واپس نہ دلا دوں اور تمہارا طاقتور شخص میرے نزدیک کمزور ہے جب تک میں اس سے دوسروں کا حق واپس نہ لے لوں۔
”یاد رکھو جو قوم جہاد فی سبیل اللہ چھوڑ دیتی ہے، خدا اس کی مصیبت کو عام کر دیتا ہے۔
”میں خدا اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کروں تو میری اطاعت کرو۔ اور اگر میں خدا اور رسول ﷺ کی نافرمانی کروں تو میری اطاعت تم پر واجب نہیں۔“
اللہ ابوبکر  کو اجر عظیم عطا کرے ۔ انہوں نے ڈھائی برس کے مختصر دور خلافت میں اپنے چارٹر کے ہر نکتے کو پورا کیا بلکہ اس سے بڑھ کر بہت کچھ کیا۔
اس کے مقابلے آج کے سیاسی رہنماوٴں کو دیکھئے جو جھوٹے دعوے لہرا کر جھوٹے وعدے بیچ رہے ہیں۔ لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہوئے ان کے احساسات کی تجارت کر رہے ہیں کیونکہ قوم کی آنکھیں نہیں دل اندھے ہو گئے ہیں۔ ہر جائز و نا جائز طریقے سے مال و دولت کمانے کی محبت نے دلوں کو تاریک کر دیا ہے۔ ان کی آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں۔ کان ہیں مگر سنتے نہیں، زبان ہے مگر حق کی بات نہیں کرتے، دل ہیں مگر معرفت سے خالی اور فہم سے عاری۔دوسری طرف ہمارے حکمراں طبقات کا قبلہ حاجات اور کعبہ مناجات مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن امریکہ ہے۔ اب ان قائدین سے کوئی کیا بھلائی کی توقع کرے۔
مسلم ریاست کے سربراہ کو امیر المومنین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔مگر پاکستان کے سربراہ کو کس نام سے یاد کریں: امیر الکاذبین یا امیر المنافقین ؟سربراہ میں اپنی ملت کے مقابلے میں یہ خوبیاں زیادہ ہونی چاہئیں۔ ایسے سربراہ عذاب کے نزول کا باعث ہو سکتے ہیں اور قوم اپنی نالائقیوں اور حکمرانوں کی لاپروائیوں اور لوٹ مار کے نتیجے میں اللہ کے عذاب کا شکار ہے۔ سُکھ اور چین سے محروم ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اکثریت کو صداقت آشنا کیا جائے۔ اس میں حق گوئی اور بے باکی پیدا کی جائے۔ یہ مرحلہ طے ہوجائے تو جمہوریت سے بہتر کیا ہو سکتا ہے۔آخر میں اس کائنات کے سب سے سچے انسان کا فرمان: ہر امت کی ایک آزمائش ہے اور میری امت کی آزمائش مال میں سے ہے۔ (ترمذی)