ایک تاریخ کا فیصلہ ہے اور ایک حکمران طبقے کا ۔ تاریخ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہی معاشرے نشوونما پاتے ہیں جہاں عدل کی حکمرانی ہوتی ہے ، جہاں کمزور انصاف کی امید کر سکتا ہے اور طاقتور سزا کے خوف سے دوچار ہوتا ہے ۔ حکمران طبقے کا مستقل اور برقرار رہنے والا فیصلہ یہ ہے کہ قانون اس کے لیے نہیں ، نادار اور مفلس کے لیے بنایا گیا ہے ، وہ اپنی من مانی کے لیے آزاد ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ قوم کو طے کرنا ہے کہ کیا صدیوں سے چلی آتی یہی روش برقرار رہے گی اور معاشرہ اسی طرح دلدل میں رینگتا رہے گا یا وہ آگے بڑھے گا اور زنجیریں توڑ ڈالے گا، زمانوں سے جس میں وہ جکڑا ہے ۔
مسلمانوں کے بعد انگریز، ایک ہزار برس تک ہندوؤں نے غلامی کا بوجھ اٹھایا اور اذیت ناک تاریخی تجربات کے نتیجے میں قانونی مساوات کی اہمیت کا کسی نہ کسی حد تک ادراک کر لیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ بھارت میں ادارے وجود پاگئے اور وہ مارشل لا سے محفوظ رہا۔ اس کے برعکس ہر دس پندرہ برس کے بعد پاکستان میں امن و امان کی حالت بدترین ہو جاتی ہے تو فوج آدھمکتی ہے ۔ پارلیمان اورسیاسی جماعتوں کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے ۔ قوموں کی عادات صدیوں میں بنتی ہیں اور آسانی سے تبدیل نہیں ہوتیں ۔ ایک ہمہ گیر قومی جدوجہد ہی سے قانون کی بالادستی ممکن ہے ۔ مسلم برصغیر کا مزاج یہ ہے کہ اس کا ہر بارسوخ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے ۔
مشہور واقعہ ہے ۔ پولیس کے کارندوں نے لاہور میں چوہدری خاندان کے دروازے پر دستک دی تو جواب ملا: یہ کسی مالّو مصلی کا گھر نہیں ۔ مونس الٰہی کے خلاف مقدمہ قائم ہوا تو زرداری حکومت کی سرکاری مشینری حرکت میں آگئی، قاف لیگ کو جنہوں نے قاتل لیگ کہا تھا ۔ ایک کے بعد دوسرا افسر تبدیل ہوتا رہا۔ اخبار نویسوں نے ملزم کے حق میں مضامین لکھے اور ٹیلی ویژن سے حمایت میں مہم چلائی گئی ۔
اس لیے کہ چوہدری اور زرداری خاندان میں گٹھ جوڑ ہو چکا تھا۔ عائشہ احد دربدر بھٹکتی پھر رہی ہیں اور کوئی دروازہ ان پر نہیں کھلتا۔ بار بار پولیس آدھمکتی ہے ۔ اس کی ہر صبح خوف سے شروع ہوتی اور ہر شام خوف پر تمام ہوتی ہے ۔ ٹیلی ویژن کی سکرین پر ہم بلاول بھٹو زرداری کو چیختا ہوا سنتے ہیں کہ ان کی والدہ کی قبر پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ پھر کوئی کمزوراور مہین سی آواز میں اللہ کے آخری رسول کا فرمان یاد دلاتا ہے : وہ قومیں برباد ہوئیں ، جو اپنے کمزوروں کو سزادیتیں اور طاقتوروں کو معاف کر دیا کرتی تھیں ۔ ایک لمحے کو ہم ٹھٹھک کر رکتے ہیں اور پھر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ٹیلی ویژن پر دانشوروں کو فکر کے موتی لٹاتے ہوئے دیکھیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ بھٹو خاندان مظلوم ہے اور اس کے باب میں عدالتیں ہمیشہ زیادتی کرتی آئی ہیں ۔ یاد دلایا جاتا ہے کہ بھٹو نے اسلامی کانفرنس منعقد کی تھی ۔ وہ1973ء کے دستور اور ایٹمی پروگرا م کے خالق ہیں ۔ کسی حافظے پر فخرِ ایشیا کا عہدِ اقتدار روشن نہیں ہوتا۔ کسی کو یاد نہیں آتا کہ یہ بھٹو ہی تھے ، جن کے دور میں لیاقت باغ کے جلسہ عام پر گولیاں برسائی گئیں اور ایک درجن بے گناہ شہری قتل کر دئیے گئے۔ یہ وہی تھے ،1970کا الیکشن منعقد ہونے کے بعد جنہوں نے فوجی آمر کے ساتھ ساز باز کر کے اکثریتی پارٹی کو اقتدار منتقل کرنے سے انکار کر دیا تھا، حتیٰ کہ پاکستان ٹوٹ گیا ۔
اپنے ساتھیوں سے ناراض ہوئے تو ایک دور دراز مقام دلائی کیمپ میں انہیں قید کر دیا اور عدالت کو بتایا کہ سرکار ان لوگوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ۔ سیاسی مخالف ڈاکٹر نذیر احمد اورخواجہ رفیق ان کے دور میں قتل کر دئیے گئے ۔ ان کے حریف احمد رضا قصوری کے والد پر ایک شب کی تاریکی میں گولیوں کی بارش ہوئی اور آج تک کوئی بتا نہیں سکا کہ ان کا قاتل کون تھا ۔ 1977ء کے الیکشن کا مرحلہ آیا تو قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے انتخابی حریف کو اغوا کر لیا گیا اور نہ صرف وہ بلا مقابلہ منتخب ہوئے بلکہ ان کے چاروں وزراء اعلیٰ بھی ۔ الیکشن میں اس بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی کہ خود ان کے نامزد الیکشن کمشنر چیخ اٹھے : ہم نے دکان سجائی تھی ، اگر ڈاکو لوٹ کر لے گئے تو ہم کیا کریں ۔ اس کھلی دھاندلی پر احتجاجی تحریک اٹھی تو یہ کہا گیاکہ یہ استعمار کی پیداوار ہے ۔ مظاہروں میں شریک 329پاکستانی شہری ہلاک کر دئیے گئے اور ان کا خون رائیگاں رہا۔
پھر مارشل لا کی گود میں ذوالفقار علی بھٹو کا معتوب شریف خاندان پروان چڑھا، جس کے تقریبا تمام اثاثے 70کے عشرے میں بحقِ سرکار ضبط کر لیے گئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کی دولت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ دنیا بھر میں آج ان کا سرمایہ بکھرا پڑا ہے ۔ صرف لندن میں انہوں نے سیکڑوں ملین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور قانون ان کے خلاف بروئے کار نہیں آسکتا۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان، جنرل محمد ضیا ء الحق اور پرویز مشرف، چوہدری خاندان نے ایک کے بعد دوسرے مارشل لا کا ہاتھ بٹایا اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ ایک کے بعد دوسری حکومت کے سائے میں ان کا کاروبار فروغ پاتا رہااور کوئی نہیں جو ان کا ہاتھ پکڑ سکے۔ 1989ء میں گیلپ نے پاکستانی عوام سے سوال کیا کہ ان کے نزدیک بدعنوانی کا سب سے زیادہ مرتکب کون ہے ؟ بھٹو خاندان ؟ شریف یا چوہدری؟قوم کا جواب یہ تھاکہ سب کے سب ایک جیسے ہیں۔ یہ خاندان کبھی ایک د وسرے کے مقابل اترتے ہیں ،کبھی آپس میں ساز باز کر لیتے ہیں ۔ کبھی شریف اور بھٹو خاندان ایک دوسرے کو تباہ کر نے کے درپے لشکروں کی طرح رزم آرا ہوتے ہیں اور کبھی میثاقِ جمہوریت کے نام پر وہ ایک پیمان برپا کر تے ہیں ۔2008ء کی انتخابی مہم میں چوہدری پرویز الٰہی نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی کے اصل مخالف نواز شریف نہیں بلکہ وہ ہیں ۔ دوبرس بعد ان کے صاحبزادے ابتلا کا شکار ہوئے تو وہ حکومت کا حصہ بن گئے ۔ شریف خاندان بظاہر آج صدر زرداری کا سب سے بڑا مخالف ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ ان میں ایک خاموش مفاہمت بھی موجود ہے ۔ پیپلز پارٹی کے ایک وزیر کو کل ٹیلی ویژن پر یہ کہتے سنا گیا کہ انہیں مجبور نہ کیا جائے ورنہ شریف خاندان کے مالی جرائم کی بند فائلیں کھولی جائیں گی اور معاملات عدالت کے سپرد کر دئیے جائیں گے ۔ عوامی جلسوں میں شہباز شریف اعلان کرتے ہیں کہ صدر زرداری کو گلیوں میں گھسیٹا جائے گا مگر یہ طے ہے کہ تازہ الیکشن کا راستہ ہموار کرنے کے لیے نون لیگ کے ارکان کم از کم فی الحال اسمبلیوں سے مستعفی نہ ہوں گے ۔ خوئے بدرا بہانہ بسیار۔ایک تاریخ کا فیصلہ ہے اور ایک حکمران طبقے کا ۔
تاریخ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہی معاشرے نشوونما پاتے ہیں ، جہاں عدل کی حکمرانی ہوتی ہے ، جہاں کمزور انصاف کی امید کر سکتا ہے اور طاقتور سزا کے خوف سے دوچار ہوتا ہے ۔ حکمران طبقے کا مستقل اور برقرار رہنے والا فیصلہ یہ ہے کہ قانون اس کے لیے نہیں ، نادار اور مفلس کے لیے بنایا گیا ہے ۔ان پر قانون کا اطلاق کبھی ہوا ہے ، نہ ہوگا۔