کارنویل کے ”لانگ پارلیمنٹ “ سے خطاب کے الفاظ وزیر ِ اعظم پاکستان کے لیے بھی موزوں ہیں۔ چند ایک تقاریر سننے کے بعد کارنویل اکتا گیا اور کہا․․․” تم لوگ اپنے کسی فائدے کے لیے کافی دیر سے یہاں براجمان تھے۔ اب یہاں سے چلے جائیں․․․خدا کے لیے چلے جائیں!“ یوسف رضا گیلانی صاحب کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مختلف آرأ دی جا سکتی ہیں، اور ایک ایسی قوم میں، جس قانونی ماہرین کی کمی نہیں، میں اس پر بہت دیر تک بحث جاری رہے گی ،مگر ایک حقیقت یہ ہے کہ فاضل جج صاحبان کا فیصلہ آگیا ہے اور اگر اس کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی جاتی․․․ ویسے اس کا فائدہ کیا ہو گا؟․․․ تو یہ فیصلہ اپنی جگہ برقرار ہے۔ اس کے نتائج اب حکومت کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی نظام پر بھی مرتب ہوں گے۔
ایوان ِ صدر اور پی پی پی کی اعلیٰ قیادت اب سرجوڑ کر بیٹھیں گے ۔ اس معاملے پر غور ہوتا رہے گا اور جیسا کہ اس حکومت کی شہرت ہے، کوئی نہیں جانتا کہ کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ تاہم اگر وزیر ِاعظم صاحب کو توہین ِ عدالت کیس میں سزا ہو گئی ہے، چاہے اس کا دورانیہ تیس سیکنڈ تک ہی کیوں نہ تھا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ”سزا یافتہ شخص “ قومی اسمبلی کا رکن اور وزیر ِ اعظم رہ سکتا ہے ؟ کسی اور جمہوری ملک میں شاید یہ بحث ہی نہ چھڑتی ا ور اب تک وزیر ِ اعظم نے استعفا دے بھی دیا ہوتا ۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں بھی اس خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑجائے اور شام تک (میں یہ کالم جمعرات کی صبح فیصلہ سننے کے بعد لکھ رہاہوں)گیلانی صاحب قومی اسمبلی سے ایک اچھے سیاست دان کی طرح خطاب فرمائیں اور رخصت ہوجائیں۔ لیکن صاحب یہ پاکستان ہے اور یہاں پی پی پی اور ہمارے سیاسی طبقے کا کلچر اس مہذب رویے سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ یہاں ہم اچھے فیصلے کرنے کے ” مجاز “ نہیں ہیں، چنانچہ اب مزید بہانے، مزید دھمکیاں اور مزید تناؤ کی کیفیت پیدا کی جائے گی ۔ قوم کو کرب کے ایک نئے سمند ر سے گزرنا پڑے گا۔
جب مئی 1940 کو جرمن فوجیں فرانسیسی دفاع کو گاجر مولی کی طرح کاٹتی ہوئی گزر رہی تھیں تو لیو آمری (Leo Amery) نے کارنویل کے یہی الفاظ برطانوی وزیر ِ اعظم چیمبرلین سے کہے۔ ہمارے ہاں وہ نازک صورت تو نہیں ہے کہ نازی فوجیں چڑھائی کرتی ہوئی آرہی ہوں مگر پھر ہمارے ہاں چرچل اور چیمبرلین جیسے سیاست دان بھی تو نہیں ہیں۔ تاہم یہ مطالبہ برمحل ہے کہ گیلانی صاحب کو اب جانا چاہیے۔ وہ کافی عرصہ ایوان کی قیادت کرچکے ہیں اور اس دوران اگر کوئی یادگار کام اُنھوں نے نہیں کیا تو کم از کم رخصت کا اعلان کرکے یہ قسم توڑدیں۔کہاجاتا ہے کہ زرداری صاحب حادثاتی طور صدر بن گئے ، اور اسی اچانک وارد ہونے والے ہما نے گیلانی صاحب کے سر پر بھی سایہ کر دیا۔ بہرحال”سانپ سیڑھی “ کے اس کھیل میں گیلانی صاحب بھی، جو صوبائی، بلکہ ضلعی سطح کے سیاست دان تھے، وزارت عظمیٰ تک جا پہنچے۔ اُس کے بعد اُن کے پاس موقع تھا کہ وہ اپنی پنہاں صلاحیتوں سے ہم سب کو حیران کر دیتے۔ وہ بے مثال کارکردگی دکھا کر اپنی جماعت کی جڑیں مضبوط کرسکتے تھے مگر اُنھوں نے ایک محدود کھیل کھیلنا پسند کیا۔ جب قسمت نے اُن کو کچھ کر دکھانے کا موقع دیا تو ”زلیخائی “ سے ”یوسفی “ تک کا سفر طے نہ کر سکے، بلکہ وہ اوراُن کے قریبی عزیز بدعنوانی کی بے شمار داستانوں کے کردار بن گئے۔ ان کی کرپشن کی گونج سات سمندر پار لندن کے کلبوں اور کچھ مشہور سٹوروں میں بھی سنائی دیتی ہے۔
یہ تیسری دنیا کے لیڈران کی دیدہ دلیری نہیں جو عقل کو حیران کر دیتی ہے بلکہ اُن کے تصورات کی نارسائی پر رونا آتا ہے۔ وہ ایسا کام چھپ کر سرانجام دیتے ہیں جس کی لوگوں کو اُن سے توقع ہوتی ہے۔اس حقیقت کا ادراک کرنے کے لیے شرلاک ہومز ہونے کی ضرورت نہیں کہ ھاروڈکلب میں جا نے والا وہاں جا کر کیا کرے گا۔ اس پر بلاضرورت ریاستی دوروں کی بات بھی سمجھ میں آتی ہے۔ گیلانی صاحب فخر سے کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے سب سے طویل عرصہ گزارنے والے وزیر ِ اعظم ہیں۔ یہ بات درست ہے اور یہ بھی غلط نہیں ہے کہ ان چار سالوں میں قسمت اُن پر اور اُن کے خاندان پر بہت مہربان رہی ہے۔ مٹی کو سونا بنانا تو ان کا ایک ادنیٰ سا کرشمہ ہے۔ جواریوں کاعالمگیر اصول ہے کہ جب خودکو محفوظ سمجھو تو میز سے اٹھ جاؤ، لیکن پاکستانی سیاست میں ان ” سنہری “اصولوں کا کیا کام! یہاں پورا صحرا بھی ہمارے پاس ہوتو بھی ہم ایک مٹھی بھر ریت چھوڑنے کے روادار نہیں ہیں۔
پی پی پی کی سیاست سازش کے خطرے سے لڑے بغیر مکمل نہیں ہوتی ہے․․․ عدلیہ ، اسٹبلشمنٹ اور تمام آسمانی ستارے اس کے در پے رہتے ہیں۔ اس سے ایک اچھا افسانہ تو وجود میں آجاتا ہے مگر اس میں سچائی کا عنصر ناپید رہتا ہے۔ گزشتہ چار برسوں میں پی پی پی کے قائدین کے سوا کسی نے بھی پی پی پی کے خلاف سازش نہیں کی ہے۔ یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی پی پی پی کا دشمن ہے تو یہ خود ہی ہے۔ یہ مانا کہ صورت ِ حال خراب تھی لیکن کیاکوئی اور جماعت جو اقتدار میں ہووہ عوام کے مسائل کو اس طرح نظرانداز کرکے اقربا پروری اور پیسہ کمانے کو اپنی پالیسی کا زریں اصول بنا سکتی تھی؟اس سے پہلے بھی ہم نے بہت سی ناقص حکومتیں دیکھی ہیں لیکن گزشتہ چار برسوں میں جو کچھ دیکھنے میں آیا ہے، اُس پر تو خصوصی انعام ملنا چاہیے۔ یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ آمروں کو تو کوئی پوچھتا بھی نہیں مگر منتخب شدہ حکومتوں کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ جمہوری حکومت کو آمریت سے بہت مختلف طرز ِ عمل کا مظاہرہ کرناہوتا ہے ورنہ ان میں فرق کیا رہ جائے گا ۔
موجودہ حکومت اس بات پر فخر کرتی ہے کہ اس نے اٹھارویں ترمیم منظور کرائی اور این ایف سی ایوارڈ پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا۔ کامیابی کے دعوے صرف کاغذی کارروائی کی حد تک ہیں ورنہ زمینی حقائق تو کسی بہتری کی طرف جاتے دکھائی نہیں دیتے۔ دل کو تسلی دیتے رہیں تو اور بات ہے مگرمہنگائی، بے روزگاری اور توانائی کی کمی جیسے مسائل پہلے سے بھی زیادہ گمبھیر ہوچکے ہیں۔ قوم کے رستے ہوئے زخموں پرنمک چھڑکنے کے لیے اعلیٰ سطح پر بدعنوانی کی کہانیاں گردش میں ہیں۔ اگر سب کے لیے حالات ایک سے ہوتے تو یہ مشکل وقت قابل ِ برداشت ہوتا مگر مسائل اور سہولیات کا عدم توازن جذبات کو بھڑکانے کا باعث بنتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میموگیٹ اسکینڈل زرداری صاحب کے خلاف ایک سازش ہو لیکن ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کا تعلق پی پی پی سے نہ تھا مگر اُنھوں نے میمو گیٹ کے خلاف آواز بلند کی۔ نیک خواہش رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے کہ ایک جمہوری حکومت کو ہر حال میں اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہیے اور یہ کہ جمہوری عمل کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا، لیکن کیا یہ استدلال بدانتظامی اور بدعنوانی کا جواز فراہم کرتا ہے ؟
بہرحال لکیر پیٹنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بدانتظامی کی علامت گیلانی صاحب تھے مگر اُن کی سیاست کاری کے بہت سے لوگ معترف ہوں گے۔ جس طرح وہ سنجیدہ ایوان کو کشت ِ زعفران بنادیا کرتے تھے، وہ بہت بڑی خوبی ہے، لیکن بطور ایک وزیر ِ اعظم، حکومتی نظم و نسق اُن کے بس کی بات نہ تھی۔ اس کے لیے جس سوجھ بوجھ اور بصیرت کی ضرورت تھی وہ اُس سے تہی داماں دکھائی دیے۔ اس حوالے سے زرداری صاحب کا طریق ِ کار بھی نرالا ہے۔ اُن کی سیاسی حکمت ِ عملی میں کارکردگی یا ملک کی بہتری نہیں بلکہ عوام کو خوش رکھنا ضروری ہے۔ ایسا اُنھوں نے جی بھر کر کیا ہے۔ چار سال تک ملک میں عہدے اور دفاتر اور وسائل کی تقسیم نے بہت سوں کے لیے خوشی کا ساماں پیدا کردیا ہے۔ چار سال تک ہی پہلی جنگ ِ عظیم جاری رہی تھی۔ یہ سیاست میں ایک طویل عرصہ ہوتا ہے، خاص طور پر ہمارے جیسے گرم ماحول میں۔ ان چار سالوں میں گیلانی صاحب کی خوش پوشاکی کا شاید ہی کوئی اور سربراہ حکومت حریف ثابت ہوا ہو۔تاہم اس سے آگے کچھ نہیں۔ قوم مزید توقع کرنا چھوڑ چکی ہے۔
اب وزیرِ اعظم صاحب سے گزارش ہے کہ ہم پر ایک اور مہربانی فرمائیں اور سیاسی شہادت کا لبادہ زیب ِ تن کرلیں کیونکہ اب یہ اُن پر بہت سجے گا۔ منظر عام پر رہنے کے بعد یہ ایک اچھی تبدیلی ہوتی ہے اور اس سے وہ کہانیاں، جو حاسدین نے اُنکے بارے میں پھیلائی ہوئی ہیں، دب جائیں گی۔ اس کے بعد مزید تزئین ِ نو ہو گی اور ایک مرتبہ پھر ”رقص میں سارا جنگل ہوگا“۔ لیکن لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کو گیلانی صاحب سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ وفاقی کابینہ ، جیسے کہ توقع تھی، نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیر ِ اعظم عہدہ نہیں چھوڑیں گے۔ وزیر ِ اعظم صاحب نے بذات ِ خود یہ اعلان فرمایا․․․” اگر مولوی تمیزالدین نے نظریہ ٴ ضرورت رد کر دیا ہوتا تو پاکستان کا مستقبل بہت مختلف ہوتا․․․“ کیا ہم نے درست سنا ہے ؟ مولوی تمیز الدین کے کیس کی موجودہ وزیر ِ اعظم کے کیس کے ساتھ کیا مماثلت ہے؟ بات یہ ہے کہ جمہوریت گاڑھے سوپ کی طرح کی ہوتی ہے۔ وہ بوریت اور افسردگی جو آمریت ایک عشرے میں پھیلاتی ہے، جمہوریت اس سے نصف عرصے میں لوگوں کو بیزار کر دیتی ہے۔ جس طرح فیصلے کے بعد اب حکومت آئین کی تشریح کررہی ہے لگتا ہے کہ ہمیں مزید ایک سال اور اس کو برداشت کرنا ہوگا۔
اب صورت ِ حال یہ ہے کہ صرف ایک گیلانی صاحب نہیں ہے جن کے جانے سے موسم رت بدل جائے گی۔ ہماری ایسی قسمت کہاں ؟ ہم نے ایوب خاں کی باقیات کو دیکھا ہے اور پھر مسٹر مونس الہی تو حال ہی کا ذکر ہیں۔ اب جناب گیلانی صاحب کے چشم وچراغ بھی لو دے رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ ہمارے مقدر میں اندھیرے نہیں ہیں۔