ہمارے ہاں جنازوں، قلوں اور چہلموں میں تعزیتی گفتگو کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کہ اگر مرحوم سن لے تو تعزیت کنندہ کو اپنے ہاتھوں سے مار ڈالے۔ ذیل میں ایک نمونہ:۔
”مرحوم میرے بچپن کے دوست تھے، دسویں تک تعلیم ہم نے ایک ہی اسکول میں حاصل کی!“
”پھر تو آپ ان کے بے حد قریب رہے ہوں گے؟“
”ہاں، اور میں اسے اپنی خوش بختی سمجھتا ہوں ہمارے ہمسائے میں ایک حکیم صاحب رہتے تھے جن کی مقوی ادویات کی بہت شہرت تھی۔ وہ میرے والد کے دوست تھے میں نے ایک دن دیکھا کہ میرے مرحوم دوست کے والد کے کان میں کچھ کھسر پھسر کر رہے تھے۔ خدا جانے اس کھسر پھسر کی نوعیت کیا تھی لیکن اس کے نتیجے میں میرے والد نے مجھے سختی سے مرحوم کے ساتھ ملنے جلنے سے منع کر دیا۔ ہم شام کو اکٹھے ٹیوشن پڑھنے جایا کرتے تھے۔ والد نے ٹیوشن سے بھی منع کر دیا۔ اس کے باوجود میں مرحوم سے چوری چھپے ملتا رہا۔ اتنے اچھے دوست سے قطع تعلق مجھے گوارا نہ تھا۔“
”کیا بات ہے، دوستی ہو تو ایسی ہو!“
”دراصل مرحوم بے پناہ خوبیوں کے مالک تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہیں کسٹم میں نوکری ملی چند ماہ بعد ہی کرپشن کے الزام میں گرفتار ہو گئے۔ میں نے ایک بڑی سفارش کروا کے ان کی جان چھڑا لی، کوئی اور ہوتا تو میرے اس حسن سلوک کو بھول جاتا لیکن وہ ہر ایک کے سامنے میرے اس احسان کا ذکر کرتے تھے اور یہ ان کی اعلیٰ ظرفی تھی ورنہ میں ان کے لئے کون سا کوئی پہاڑ توڑ کر لایا تھا۔
”آپ صحیح کہتے ہیں، میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے کہ اگر آپ کسی موقع پر ان کے کام آئیں تو وہ الٹا آپ کے خلاف ہو جاتے ہیں۔“
”نہیں جناب، مرحوم تو ایسے لوگوں سے بہت مختلف تھے۔ ان کی ایک اور بات جو بے حد اچھی تھی، وہ یہ کہ انہیں جب کبھی قرض لینے کی ضرورت پڑتی وہ مجھ سے لیتے اور میں چپکے سے مطلوبہ رقم ان کے ہاتھ پر رکھ دیتا، میں نے ان سے اچھا مقروض کوئی نہیں دیکھا، وہ وقت مقررہ پر میرا قرض واپس کر دیتے تھے حالانکہ لوگوں کی اکثریت قرض واپس مانگنے پر مرنے مارنے پر تیار ہو جاتی ہے۔ وفات سے ایک روز قبل مرحوم نے مجھ سے تین لاکھ روپے قرض لئے۔ اگلے روز وہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ میں مرحوم کی طبیعت سے واقف ہوں، ان کی روح پر قرض اتارنے کے لئے قبر میں بھی بے چین ہو گی، میں اپنے دوست کو اس عذاب میں نہیں دیکھنا چاہتا، آپ اپنے طور پر ان کے صاحبزادہ سے بات کریں تاکہ مرحوم کو لحد میں سکون آ جائے!“
”میں ضرور بات کروں گا لیکن یہ بتائیں مرحوم کو بار بار قرض لینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی تھی؟“
”اس کی وجہ بھی ان کی رحم دلی تھی۔ وہ مظلوم خواتین کی مدد کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ وہ عین شباب کے عالم میں بیوہ ہونے والی خواتین، یتیم، بچیوں، فقیرنیوں اور گھروں میں کام کرنے والی بے سہارا لڑکیوں کو ڈھونڈ کر تلاش کرتے تھے اور دامے، درمے ان کی مدد کرتے تھے؟“
”کیا وہ مظلوم مردوں کی مدد نہیں کرتے تھے؟“
”کیوں نہیں، مگر ان کا کہنا تھا کہ مرد کو بیس سال کی عمر کے بعد کسی سہارے کی ضرورت نہیں رہتی، اس کے بعد اسے دوسروں کا سہارا بننا چاہئے! چنانچہ جب یہ نوجوان اپنے پاؤں پہ کھڑے ہو جاتے تھے، مرحوم ان کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیتے تھے!“
”سبحان اللہ، کیا زریں اصول تھے مرحوم کے، مجھے اس عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ اور بھی بتائیں!“
”صاحب، میں ان کی خوبیاں گنوانے بیٹھوں تو کئی دن اور کئی مہینے بیت جائیں اور یہ تذکرہ ختم نہ ہو، مرحوم کی ایک اور خوبی جو مجھے بے حد پسند تھی وہ ان کی دوست نوازی تھی۔ وہ دوستوں پر اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ مرکز اور صوبوں میں مرحوم کے کئی دوست اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ وہ لاہور آتے تو مرحوم ان کی ہر طرح سے خدمت کرتے بلکہ اپنی ”جان“ بھی انہیں پیش کر دیتے تھے یہ دوستوں کے لئے ان کے اس خلوص اور قربانی ہی کا نتیجہ تھا کہ مرکز اور صوبوں میں ان کا کوئی کام رکتا نہیں تھا۔“
”واقعی کمال کے شخص تھے۔“
”ارے صاحب! یہ تو کچھ بھی نہیں، مرحوم اپنے تعلقات صرف اپنے لئے استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ اجنبیوں تک کے کام کروانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے ایک دفعہ ایک بالکل اجنبی شخص میرے سامنے ان کے پاس آیا اور ایک خاصا مشکل کام لے کر آیا۔ مگر مرحوم نے اپنا پورا زور صرف کر کے اس کا یہ کام کروا دیا! اس نے جب کام کے لئے کہا تھا تو اس کا خیال تھا کہ شاید مرحوم اس کا معاوضہ بھی مانگیں گے مگر میرا یار تو کرپشن کے مقدمے سے رہائی کے بعد سے رشوت کے ایک پیسے کو بھی حرام سمجھتا تھا چنانچہ انہوں نے اس اجنبی سے صرف نچلے عملے میں تقسیم کرنے کے لئے دو لاکھ روپے لئے۔ آپ کو پتہ ہے اوپر سے سفارش ہو بھی جائے، فائل کا پہیہ تو نیچے ہی سے چلنا ہوتا ہے نا!“
”مرحوم سے میری شناسائی کچھ زیادہ نہ تھی، مگر آپ کی باتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کیا چیز تھے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی مغفرت فرمائیں!“
”آمین! بس ذرا مرحوم کے صاحبزادے کو اپنے طور پر مرحوم کے قرضے کے بارے میں بتا دیجئے گا تاکہ ان کی روح کو لحد میں چین آ جائے۔ اس نیکی کا بدلہ اللہ تعالیٰ آپ کو دیں گے کہ آپ نے ایک عظیم شخص کو قبر کے عذاب سے نجات دلا دی، میرا کیا ہے۔ میں تو پیسے کو ہاتھ کی میل سمجھتا ہوں میں نے یہ میل آگے کسی اور کے سپرد کر دینی ہے مگر میرا دوست تو پُر سکون ہو جائے گا!“
اور اب آخر میں ظفر اقبال کی ایک تازہ غزل:۔
یہ نہ پوچھو کدھر سے آئے ہیں
آ گئے ہیں، جدھر سے آئے ہیں
ابھی جانا ہے اور بھی آگے
تازہ دم ہیں، سفر سے آئے ہیں
کبھی تفصیل سے بھی آئیں گے
آج تو مختصر سے آئے ہیں
اہل ساحل خوش آمدید کہیں
یہ سفینے بھنور سے آئے ہیں
جس نے گم کر دیا ہمیں آخر
ہم اسی رہگزر سے آئے ہیں
کچھ تو سمجھا ہوں، کچھ نہیں سمجھا
سب اشارے ادھر سے آئے ہیں
اچھے لگتے ہیں اس لئے بھی ظفر#
عیب سارے ہنر سے آئے ہیں