پہلے تو آپ کو حقیقت کا علم ہونا چاہیے کہ یہ جمہوریت جس پر ہمارے اہل سیاست پھولے نہیں سماتے‘ ان کی کسی حکمت عملی‘ ذہانت‘ سیاسی فراست‘ جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں بحال نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کی بحالی میں ان لوگوں کا کوئی دخل تھا‘ جو باربار اپنی قربانیوں اور مظاہروں کا حوالہ دے کر ہمیں جتاتے رہتے ہیں کہ آمریت کا بوریا بستر انہوں نے لپیٹاہے۔ درحقیقت یہ تبدیلی جیوسٹریٹجک صورتحال کے نتیجے میں برپا ہوئی۔ مشرف کی آمریت حسب روایت سابقہ آمریتوں کی طرح امریکی سرپرستی میں‘ امریکی مفادات پورے کرنے کی غرض سے مسلط کی گئی تھی۔ امریکہ کی ضرورت یہ تھی کہ اسے افغانستان کے حالات پر کنٹرول کرنے کے لئے پاکستان کا عملی تعاون درکار تھا۔ مگر اس دوران پرویزمشرف کے ماہرین نے اپنی طرف سے یہ ترکیب نکالی کہ جب تک امریکہ کو یہاں پھنسا کر رکھا جائے گا‘ ہمیں ڈالر اور اسلحہ ملتے رہیں گے اور اگر امریکہ یہاں کامیاب ہو گیا‘ تو ہمیں پھر چھوڑ جائے گااور ہم ایک بار پھر معاشی مشکلات میں پھنس جائیں گے۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ایک طرف امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردوں سے لڑتے رہو اور دوسری طرف دہشت گردوں کو اندر ہی اندر تقویت دے کر افغانستان کے حالات کو غیرمستحکم رکھوتاکہ امریکہ ہمارا محتاج رہے اور ہمارے حلوے مانڈے چلتے رہیں۔
میں نے اس زمانے میں لکھا تھا کہ شیر کو گدگدی کر کے تو بچ کر نکلا جا سکتا ہے لیکن اسے تکلیف دے کر بچ نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ ہماری ابتدائی چالاکیاں تو شیر کے لئے گدگدی کا درجہ رکھتی تھیں۔ مگر جب ہماری سرپرستی میں کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں نے امریکیوں اور اتحادیوں کی جانیں لینا شروع کیں‘ تو ان کاماتھا ٹھنکا اور انہوں نے طے کیا کہ اب پرویزمشرف اور اس کے ساتھیوں سے جان چھڑا کر کوئی جمہوری حکومت قائم کی جائے‘ جو ہمارے ساتھ دغا بازی نہ کر سکے۔ امریکہ جب اس طرح کے فیصلے کرتا ہے‘ تو پاکستان کے اندر اس کے پاس بہت سے ذرائع ہوتے ہیں جو تبدیلی کے راستے پیدا کرنے میں سرگرم ہو جاتے ہیں۔ پرویزمشرف کو نکالنے کا راستہ پیدا کرنے کے لئے ایک ایسی ترکیب نکالی گئی جو ماضی میں کبھی پاکستان میں تبدیلی حکومت کے لئے استعمال نہیں کی گئی تھی۔ سٹیل ملز کے مسئلے پر پرویزمشرف اور سپریم کورٹ کے درمیان اختلاف چل رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ اختلاف چیف جسٹس کی نظربندی تک جا پہنچا۔ نظربندی کے دوران ایئرمارشل اصغر خان ملاقات کے لئے چیف جسٹس کے گھر پہنچے۔ یہ ملاقات احتجاجی تحریک کا پیش خیمہ بن گئی۔ مجھے اور آپ کو یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ ایئرمارشل کس کی طرف سے ‘ کیا پیغام لے کر گئے تھے؟ ان کے پاس پچھلے 43سال سے ایک ہی سودا ہے جس پر Made in USAلکھا ہے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ایک تحریک شروع ہوئی جس میں حصہ لینے والوں کی مجموعی تعداد پورے پاکستان میں ایک لاکھ سے زیادہ نہیں لیکن نئے نئے الیکٹرانک میڈیا پر وہ اس طرح چھا گئی کہ جیسے پورا پاکستان سڑکوں پر امڈ آیا ہو۔ لاطینی امریکہ سے لے کر تیسری دنیا کے ملکوں تک جہاں بھی Made in USA تحریک نمودار ہوتی ہے تو اس کے طور طریقے ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔ اس تحریک کوعملی جامہ پہنانے کے لئے پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو یکجا کیا جا چکا تھا۔ لیکن جب پرویزمشرف کو الیکشن پر منوا لیا گیا‘ تو بینظیربھٹو واپس پاکستان آ گئیں۔ ان کی سیاسی فہم و فراست اور مقبولیت سے پاکستانی سیاست کے تمام سٹیک ہولڈرز خائف تھے اور ان سب کی سوچ یہی تھی کہ بینظیر کو راستے سے ہٹائے بغیر ان کے مقاصد پورے نہیں ہوں گے۔ امریکہ کو اندیشہ تھا کہ بینظیراپنے قومی مفادات کی خاطر امریکی مفادات سے ٹکرانے کا رحجان رکھتی ہیں اور وہ اقتدار میں آ کر کوئی بھی باغیانہ اقدام کر سکتی ہیں اور اگر عوامی تائید وحمایت کے ساتھ بینظیر ایک بار امریکہ کے سامنے کھڑی ہو گئیں‘ تو پھر انہیں جھکانا مشکل ہو گا۔ان کے سیاسی حریف بھی ان سے خائف تھے۔ اس طرح کے حالات میں کسی بڑے لیڈر کو راستے سے ہٹانے کے لئے مخالفین کا جو اتفاق رائے معرض وجود میں آتا ہے‘ اس کا نتیجہ وہی ہوا جو بینظیر کی شہادت کی صورت میں ہمارے سامنے آ گیا اور ہر بڑے لیڈر کی شہادت کی طرح ان کی شہادت بھی ایک پراسرار کہانی بن کر تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو گئی۔ جن طاقتوں نے بینظیر کو منظر سے ہٹایا‘ وہ کبھی کمزور نہیں پڑیں اور آج بھی طاقتور ہیں۔ شہید ملت لیاقت علی خان ہوں‘ ذوالفقار علی بھٹو شہید ہوں یا بینظیر شہید‘ ان تمام شہداپر کاری وار کرنے والی طاقتیں وہی ہیں۔
ایک بڑے سیاسی لیڈر کو منظر سے ہٹانے کے بعد دیگ یعنی پیپلزپارٹی کے ووٹ بنک کی لوٹ مار شروع ہونا تھی کہ درمیان میں آصف زرداری کود پڑے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کی امیدوں کے برعکس وہ پیپلزپارٹی کی ووٹ کی طاقت بچانے میں کامیاب رہے۔ اس طاقت کو توڑنے کے لئے بھی کئی سازشیں کی گئیں مگر وہ کامیاب نہ ہو سکیں اور پیپلزپارٹی ایک بار پھر ساری مخالف قوتوں کو ناکام بناتی ہوئی اقتدار پر فائز ہو گئی۔ مگر مخالفین اس خیال میں تھے کہ ناتجربہ کار آصف زرداری کو چند ہفتوں میں چت کر کے‘ وہ کھیل پر اپناکنٹرول قائم کر لیں گے۔ مگر آصف زرداری نے ہاکی کے ایک تیزطرار کھلاڑی کی طرح مخالفین کو جل دیتے دیتے چار سال گزار دیئے اور وہ ابھی تک پکڑائی نہیں دے رہے۔ اس دوران بڑے بڑے سنسنی خیز مرحلے آئے اور ہر موقع پر یہی لگا کہ گیند آصف زرداری کے کنٹرول سے نکلی کہ نکلی۔ مگر وہ ہر بار جل دے کر گول کی طرف بڑھتے رہے۔ ظاہر ہے ان کا گول حکومت کی پانچ سال کی آئینی مدت تھی۔ اب وہ گول کے قریب آ چکے ہیں۔ کسی کالم میں وہ دلچسپ کہانی بھی لکھوں گا‘ جو شروع اس پر ہوئی تھی کہ ناتجربہ کار آصف زرداری کو چند ہفتوں میں نکال باہر کیا جائے گا اور چار سال کے بعد پہنچ وہاں گئی ہے کہ جو لوگ آصف زرداری کو نکالنے پر مامور کئے گئے تھے‘ آج وہ خود اپنے بچاؤ میں لگے ہیں اور جو آصف زرداری کو نشانہ بنانے نکلے تھے‘ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ واردات کیا ہو گئی ہے؟ کہاں ان کا خیال تھا کہ وزیراعظم گیلانی کو ساتھ ملا کر وہ زرداری کا تختہ کریں گے اور کہاں یہ حال ہے کہ وہ خود وزیراعظم گیلانی پر چاروں طرف سے حملہ آور ہو رہے ہیں اور آصف زرداری انہیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آج کے حالات کو دیکھ کر مجھے وزیراعظم گیلانی کے رائیونڈ کے دورے یاد آ رہے ہیں اور ان دوروں کے بارے میں اڑنے والی افواہیں آج لطیفوں کی طرح لگتی ہیں۔ جن لوگوں نے عدلیہ سے یہ امید لگائی تھی کہ وہ سیاسی بساط پر قبضہ جمانے میں ان کی مددگار ہو گی‘ آج انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ عدالتی فیصلوں سے فائدہ کیسے اٹھائیں؟ وہ عدلیہ جس نے اپنی آئینی آزادی کا نیا دور بڑی دھوم دھام سے شروع کیا تھا‘ آج کہاں پر کھڑی ہے؟ گزشتہ روز تقریباً صبح ساڑھے 9بجے عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم گیلانی کو سزا سنائی۔ ملتان میں صوبائی اسمبلی کا ایک ضمنی الیکشن چل رہا تھا‘ جس میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی جیت یقینی تھی۔ وہ خود بھی مضبوط تھا اور صوبائی حکومت بھی اس کی مدد گار تھی۔ لیکن فیصلے کے فوراً ہی بعد ووٹروں کا رخ بدل گیا اور ایک بااثر اور الیکشن میں مسلسل کامیاب رہنے کی روایت رکھنے والے ایک خاندان کے رکن شکست کھا گئے اور پیپلزپارٹی کا ایک ادنیٰ کارکن دیکھتے ہی دیکھتے ووٹروں کی غیرمتوقع امداد سے جیت گیا۔ اس تبدیلی کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ وہی چیف جسٹس آف پاکستان جنہیں کچھ عرصہ پہلے بھرپور عوامی تائید حاصل تھی‘ آج انہی کی عدالت کی طرف سے مجرم ٹھہرائے گئے ایک شخص کو جو الیکشن ہار رہا تھا چند گھنٹوں کے اندر کامیاب کرا دیا۔قانون اور سیاست کی منطق اور کیمسٹری الگ ہوتی ہے۔عدلیہ دو اور دو کو پانچ نہیں کر سکتی اور سیاست شروع ہی دو اور دو پانچ سے ہوتی ہے۔ جو نادان لوگ اپنی سیاست کے لئے عدلیہ کی طرف سے مدد کے خواہش مند ہیں ‘ شاید انہیں پتہ ہی نہیں کہ عدلیہ سے ملنے والی ہر مدد کے بعد نتیجہ وہی نکلے گا‘ جو ملتان کے ضمنی الیکشن میں سامنے آیا۔مجھے افسوس ہے کہ اس تاریخی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیراعظم گیلانی ہیرو نہ بن سکے۔ اگر وہ فیصلہ سنتے ہی استعفے کا اعلان کردیتے اور ساتھ ہی نئے وزیراعظم سے مطالبہ کرتے کہ وہ ان کے خاندان پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کی فوری تحقیقات کرائیں‘ تو وہ ہیرو بن سکتے تھے اور آنے والے انتخابات میں وہ اپنی پارٹی کا اثاثہ ہوتے۔ وزیراعظم وہ اب بھی نہیں رہ سکیں گے۔ مگر اب وہ پارٹی کا اثاثہ نہیں ایک بوجھ ہوں گے‘ جو اسے اٹھانا پڑے گا۔