شدید خواہش تو یہ ہے کہ اس ملک میں کبھی ”یوم حساب “ ہوتا دیکھیں لیکن فی الحال ہمارے مقدر میں ”یوم کتاب“سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا تو سرجھکائے اس یونیورسٹی میں حاضر ہوگئے جس نے ہماری تربیت میں اہم کردار ادا کیا، بہت سے خوبصورت دوست عطا کئے اور جس کے درودیوار کے ساتھ ان گنت یادیں وابستہ ہیں ۔
23مارچ ” انٹرنیشنل بک ڈے “کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے انڈر گریجویٹ رازی ہال میں اس کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ ہم اس کیمپس کے پہلے پہلے انڈرگریجویٹ تھے اور ان دنوں یہ ہال نہیں ہوتاتھا لیکن ”انڈرگریجویٹ “ کا لفظ ہی ناسٹیلجیا کی دبیز دھند میں دھکیل دینے کیلئے کافی تھا۔
وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران سے لیکر طارق مجید قریشی ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ تک …سابق طالب علم رہنما ادیب اور بے پناہ سفر نامہ نگار راجہ انور سے لیکر خاکسار حسن نثار تک ہم سب وی سی آفس سے رازی ہال کی طرف روانہ ہوئے ۔چند منٹ کے اس سفر میں میں 40سال پلس کے سفر میں رہا ۔ڈاکٹر مجاہد کامران، راجہ انور، طارق قریشی اور میں یونیورسٹی میں بھی یکجا تھے ، شعبے
علیحدہ لیکن بہت سے خواب ایک جیسے تھے ۔ چھ فٹ کا وجیہہ راجہ انور تو لیفٹ کے حوالہ سے ہمارا ”گورو“ تھا ۔ یہ وہ دن تھے جب ان دو نعروں کی گونج بہت عام تھی۔
”سرخ ہے سرخ ہے ایشیا سرخ ہے“
”سبز ہے سبز ہے ایشیا سبز ہے “
پھر آنے والے دنوں میں یہ راز کھلا کہ ایشیا اور بالخصوص پاکستان نہ سبز ہے نہ سرخ ہے بلکہ بالکل زرد ہے جیسے کسی یرقان کے مریض کی آنکھوں کا رنگ …کھلی ہوئی سرسوں سے بھی کہیں زیادہ زرد لیکن درد اس بات کا ہے کہ گزشتہ چالیس سال میں ان گنت فوجی اور سویلین چلے کاٹ کر بھی ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ ہم کون ہیں ؟کیا ہیں؟ کیوں ہیں ؟ منزل کیا اور کہاں ہے؟ سمت کیا ہونی چاہئے۔ ایک وزیر اعظم ”قاتل “دوسری ” فائن اور سیکیوریٹی رسک “ تیسرا ”ہائی جیکر “ اور چوتھا توہین عدالت کے کیس میں سزا یافتہ اور پوری قوم 65سال بعد بھی مکمل طور پر حواس باختہ ، حکومت تو حکومت نام نہاد اپوزیشن بھی نہلے پہ دہلے سے کم نہیں اور سوفیصد درست فرمایا میرے سزا یافتہ وزیر اعظم نے کہ ”ایک بھائی صدر اور دوسرا وزیر اعظم کو نہیں مانتا “ حالانکہ اب تو دونوں میاں دونوں کو ہی نہ ماننے پر متفق ہو چکے ورنہ پنجاب حکومت کا یہ ”عظیم فیصلہ “ سامنے نہ آتا کہ وہ آئندہ پنجاب میں گیلانی کو وزارت عظمیٰ کا پروٹوکول نہیں دے گی …کیا یہ ہیں وہ لوگ جو پاکستان کو کئی منزلہ دلدل سے نکالیں گے ؟ ادھر جو قومی اسمبلی میں بڑھکیں مار رہے تھے کہ وزیر اعظم کو ”گھسنے “ نہیں دیں گے ، وزیر اعظم کی ”تشریف آوری “ پر باجماعت یوں غائب ہو گئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ یا کسی گنجے کے سر سے وگ ، ادھر وزیر اعظم نے بھی ”اخلاقیات “ کا جھنڈا لہراتے ہوئے اعلان بلکہ چیلنج داغ دیا کہ ”سپیکر کے سوا کوئی نہیں ہٹا سکتا ۔ ن لیگ میں ہمت ہے تو تحریک عدم اعتماد لائے “ سچ یہ کہ دونوں ہی اس ملک کیلئے عذاب بن چکے ہیں اور ایک بار پھر کسی ”5جولائی “ یا ”بارہ اکتوبر “ کے منتظر ہیں ۔
لیجئے رازی ہال کے آتے ہی میں حال میں واپس لوٹ آیا ۔ صدر دروازے پر چیئرپرسن ڈیپارٹمنٹ آف لائبریری اینڈ انفارمیشن اپنے ساتھیوں سمیت موجود تھیں ہم سب کو سرخ گلاب کا ایک ایک پھول عطا ہوا اور ہر پھول کی خاصیت یہ تھی کہ رنگ پورا …خوشبو غائب
”خوشبو اڑی تو پھول فقط رنگ رہ گیا “
لیکن تھرو اوے (throw away) سوسائٹی میں رنگ بھی غنیمت ہے ۔ چیئرپرسن ڈاکٹر کنول امین کی نظامت میں تقریب کا آغاز ہوا ۔ ڈاکٹر مجاہد کامران، راجہ انور اور میں خود کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ راجہ انور تو پیدائشی اور عادی مجرم ہے کہ یونیورسٹی کے زمانے میں بھی اسکی کتابوں کا چرچا تھا ۔”چھوٹی جیل سے بڑی جیل تک “ اور ”جھوٹے روپ کے درشن “ پڑھے بغیر جوان ہونے پر پابندی تھی ۔ڈاکٹر مجاہد سائنس دان ہیں سو ان کی غیر سیاسی کتاب بھی عام تام کے بس کی بات نہیں کہ جنہیں ساگودانہ ہضم نہ ہوتا ہو انہیں چکن روسٹ کیا ہضم ہو گا ۔ رہ گیا میں تو میری مشقت بھی پڑھنا لکھنا اور محبت بھی یہی کچھ ، مختصراً یہ کہ جو خود مصنف ہوں ان کیلئے کتاب پر گفتگو کتنی آسان ہو گی لیکن راجہ انور اور ڈاکٹر مجاہد کامران کی گفتگو حیران کن اور سحرانگیز تھی ۔ یہ دکھ ہم سب میں اک اور قدر مشترک کے طور پر ابھرا کہ ہم … جن کے سفر کا آغاز ”اقراء “ سے ہوا، آج کتاب سے کٹ چکے اور اسی لئے ” وقت “ ہمیں ہر طرف سے کاٹ رہا ے ۔ ہم فوڈسٹریٹس کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، بک سٹریٹ نام کی کوئی شے نہیں اور ہوئی بھی تو فقط ایک ڈھونگ ہو گا کہ کتاب کا تو کلچر ہی الگ ہے ۔
اس تقریب کی خاص ترین بات چیف لائبریرین چودھری حنیف کا اچھوتا آئیڈیا تھا کہ طلباء میں سے ”ٹین ٹاپ ریڈرز “ کو انعامات دیئے گئے ۔ سارا ڈیٹا کمپیوٹر سے نکالا گیا جو طلباء و طالبات کیلئے بھی کسی سرپرائز سے کم نہ تھا ۔ کاش ہماری نوجوان نسل میں بک ریڈنگ کا کلچر اور وائرس عام ہو جائے …یہ خوبصورت تقریب تقسیم انعامات پر انجام کو پہنچی تو واپسی پر میں نے بچپن کے دوست طارق قریشی سے پوچھا …”میں نے ڈاکٹر کنول امین کو آج پہلی بار دیکھا ان کا چہرہ تو بالکل نہیں لیکن مسکراہٹ بہت شناساسی لگی، یہ کون ہیں ؟“
یہ مشہور گلوکار علی ظفر کی والدہ ہیں … وہی ”چھنوکی آنکھ میں اک نشہ ہے “ والا علی ظفر … تب اچانک یہ خیال آیا کہ جو لوگ کتابوں کی گود میں پرورش پاتے ہیں … کتابوں جیسے ہی خوبصورت کیوں ہو جاتے ہیں کہ کتاب ماں بھی اپنے قاری بچوں پر اپنا بہت کچھ چھوڑ جاتی ہے ۔