میرے گزشتہ کالم کے حوالے سے بہت سے پاکستانیوں نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے جن میں عام لوگوں کے علاوہ سیاست دان اور سابق فوجی بھی شامل ہے۔ ان میں سے اکثریت کا کہنا ہے کہ آپ نے پنجاب کے جاگیر داروں اور وڈیروں کا ذکر کیا ہے جو انگریز سرکار کی خدمت میں پیش پیش رہے ہیں ان کے کرتوت بھی سامنے لائے جائیں۔ توجہ دلانے کا شکریہ میں انشاء اللہ اس حوالے سے ہونے والی تحقیقات سامنے لانے کی کوشش کروں گا۔ ابھی کچھ ذکر سرائیکی صوبے کا ۔ میرے ایک قاری بہت ناراض ہیں اور فون کر کے بدتہذیبی کا بھی مظاہرہ کیا کہ آپ نے اپنے کالم میں سرائیکی صوبے کی مخالفت کیوں کی ہے۔ میں اپنا نقطہ نظر 10جولائی2011 کے کالم میں بیان کر چکا ہوں کہ پاکستان کے علاقے جوصوبائی دارالحکومتوں سے کچھ فاصلے پر ہیں وہاں نہ تو اس طرح ترقیاتی کام ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں تعلیم اور صحت کی وہ سہولتیں حاصل ہیں جو بڑے شہروں میں رہنے والے لوگوں کو ہیں۔ انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کے وہ مواقع بھی میسر نہیں، جو ہونے چاہئیں ۔ اس لئے ان کے مسائل کا حل ان کی دہلیز پہ ملنا چاہئے اور یہ اسی صورت میں ہے کہ جب ملک کے اندر انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنائے جائیں۔ جہاں تک وزیراعظم گیلانی اور صدر زرداری کے سرائیکی صوبے کے حوالے سے قوالی کرنے کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں وہ صرف سرائیکی صوبے کے نام پہ سیاست ہی نہیں بلکہ عوام کو گمراہ بھی کر رہے ہیں، چونکہ ملک کے آئین میں صوبے بنانے کا طریقہ کار موجود ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کی سرائیکی بنک کے حوالے سے سنجیدگی کااندازہ خالد مسعود کے کالم میں دی گئی معلومات سے بھی لگا سکتے ہیں۔ میں تو ہر اُس صوبے کا مخالف ہوں جو پاکستان میں لسانی بنیادوں پر قائم ہو کیونکہ یہ رجحان پاکستان کو غیر مستحکم کرے گا۔ ابھی اگر سرائیکی صوبے کی مثال لے لیں تو اس حوالے سے ایک بنیادی سوال ہے کہ بلوچستان ، خیبر پختونخوا اور سندھ میں بھی بہت سے علاقوں میں سرائیکی بولی جاتی ہے۔ کیا یہ سب علاقے سرائیکی صوبے میں شامل کئے جائیں گے اور کیا باقی صوبے اپنے یہ علاقے سرائیکی صوبے میں شامل کرنے کیلئے تیار ہیں۔ میں تو وزیراعظم سے کہوں گا کہ وہ سرائیکی صوبے کا مجوزہ نقشہ مجھے بھجوائیں، میں آئندہ کالم میں شامل کرنا چاہتا ہوں تاکہ لوگوں کو بھی پتہ چلے کہ اس نعرے کے پیچھے اصل عزائم کیا ہیں۔ لسانی بنیادوں پر صوبے بنانے کی آڑ میں چھپی سازش کو ختم کرنے کا میرے نزدیک طریقہ یہ ہے کہ پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دے دیا جائے جیسے بھارت اور یورپ میں بھی ہے۔سرکاری زبان اردو ہو اور دفتر ی زبان انگریزی، اس طرح ہر زبان کو اہمیت مل جائے گی اور تمام پاکستانیوں کے درمیان ایک مضبوط رشتہ بھی قائم ہو جائے گا ۔ جہاں تک صوبے بنانے کا تعلق ہے یہ ضرور بننے چاہئیں مگر صرف انتظامی بنیادوں پر، لیکن اگر عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے تو پھر لسانیت اور تعصب کی بنیاد پر پورا ملک آگ کی لپیٹ میں ہوگا جو کبھی ختم نہیں کی جا سکتی۔ اب ایک اہم مسئلہ وزیراعلیٰ کی خدمت میں:
ڈیرہ غازی خان سے ایک شخص فیاض نے فون کیا کہ میرا بچہ تین ماہ کا ہے۔ پیدائشی طور پر اس کے دل کے والو بند ہیں، ملتان نشتر اسپتال میں دکھایا تو انہوں نے چلڈرن اسپتال لاہور بجھوا دیا ۔ یہاں ایک مہینے سے دھکے کھا رہے ہیں کسی نے دیکھنا گوارا نہیں کیا پھر یہاں کے ڈاکٹر عاصم کو اتفاق اسپتال میں فیس دے کر چیک کرایا تو انہوں نے کہا کہ اس کا فوری آپریشن ہوگا جس پر ساڑھے چار لاکھ روپے لاگت آئے گی ہم تو اتنے غریب ہیں کہ پرائیویٹ آپریشن نہیں کروا سکتے۔ آپ میڈیا کی وساطت سے بچے کے علاج میں مدد کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں پاکستان کے جو حالات ہیں جہاں انسانی جانیں سب سے سستی ہیں، آئے روز درجنوں افراد کو ٹارگٹ کلنگ کر کے ماردیا جاتا ہے، اتنے اتنے بڑے حادثات میں سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں، ایسے میں کون ایک ننھی سی جان کو بچانے کی کوشش کرے گا لیکن یہ بھی خیال آیا کہ ناامیدی کفر ہے۔ جان تو جان ہے خواہ چھوٹے بچے کی ہو یا بڑے کی، اسی چیز کوپیش نظر رکھتے ہوئے میں نے صوبائی مشیر صحت ڈاکٹر سعید الٰہی کو فون کیا مگربات نہ ہو سکی، ایس ایم ایس بھیجا کہ ایک بہت ہی غریب3ماہ کا بچہ ہے جو سُپر کارڈک tapvc میں مبتلا ہے اس کے علاج کیلئے فوری مددکی درخواست ہے مگر آج تادم تحریرجواب نہیں آیا۔ میں نے اپنے طور پر بڑی تگ و دوکے بعد چلڈرن کمپلیکس کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر وحید راٹھور سے رابطہ کیا۔ جب ان کو بچے کی کنڈیشن بتائی تو انہوں نے کہا کہ ہم کیا کریں اس وقت پانچ ہزار بچے ہماری آپریشن لسٹ میں ہیں۔ آپ اُس بچے کو ڈی جی خان سے بلاکر چیک کروالیں پھر اس کے بعد ان کی باری آئے گی، دیکھ لیں گے۔ وہ بیچارہ غریب انسان اپنے بچے کو لیکر25/اپریل کی صبح لاہور چلڈرن اسپتال آیا سارا دن ڈاکٹر وحید راٹھور سے ملاقات نہ ہو سکی۔ یہ سارا واقعہ یہاں لکھنے کا مقصد خادم اعلیٰ پنجاب کی توجہ دلانا ہے کہ آپ ماشاء اللہ تعلیم اور صحت کے حوالے سے کام کرنے کو اپنا مشن قرار دیتے ہیں آپ اپنے محکمہ صحت کی صورتحال کو دیکھ لیجئے کہ کسی غریب بچے کا مفت علاج ہونا تو دور کی بات، آپ کے بنائے ہوئے اس سسٹم میں غریب بچے کو چیک کرنے کیلئے بھی کوئی تیار نہیں۔ بس میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے نہیں پتہ یہ بچہ کون ہے، اس کا مستقبل کیا ہوگا۔ اس کو کوئی مسیحا ملے گا یا نہیں۔ البتہ میرا اس سے انسانیت کا رشتہ ہے۔ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ اگر ایک دور دراز علاقے کے غریب بچے کا علاج لاہور میں ممکن نہیں ہوتا تو پھروہ لوگ جو” تحت لاہور “ کے چنگل سے آزاد ہونے کا نعرہ لگاتے ہیں تو وہ بالکل درست ہیں اور اس نعرہ پہ لبیک کہنے والوں میں انسانیت کا درد رکھنے والا ہر شخص شامل ہوگا!