بارہ سالہ ازدواجی زندگی میں بچے کی معصوم خوشیوں سے محروم، بیوی کی ٹھنڈی آہوں کو یاد کرتے ہوئے، اس قبائلی نوجوان نے ادھر ادھر دیکھا اور کسی کو موجود نہ پا کر خاموشی سے ڈھائی تین سالہ بچے کو اٹھا کر کندھے پر ڈالا اور اپنی چادر اس پر ڈال کر تیز تیز قدموں چلتا اس علاقے سے نکل گیا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب اغوا برائے تاوان کا لفظ ہماری روزمرہ کی بول چال کا حصہ نہیں بنا تھا۔ بچے اس زمانے میں بھی اغوا ہوتے تھے لیکن ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے یا پھر ملازموں اور غلاموں کی صورت میں فروخت کے لئے۔ میں جس بچے کی کہانی سنا رہی ہوں اسے وہ نوجوان علاقہ غیر اپنے گھر لے گیا اور اپنے خاندانی رسم و رواج کے مطابق اسے پروان چڑھایا۔ قدرت نے اسے اس بچے کے بعد اولاد کی نعمت سے بھی نوازا لیکن اس بچے کی حیثیت ہمیشہ پہلی اولاد نرینہ کی ہی رہی۔ البتہ باپ کے دل میں یعنی اغوا کرنے والے کے دل میں ضمیر کی خلش ہمیشہ ایک کانٹا بن کر کھٹکتی رہی۔ اس نے خود سے یہ عہد کیا کہ وہ ایک بار اس بچے کو اپنے حقیقی والدین سے ضرور ملوائے گا۔
اٹھارہ سال بعد یعنی جب وہ بچہ بیس اکیس سال کا ایک خوش شکل، اونچا لمبا نوجوان تھا۔ باپ اسے لے کراس علاقے میں آیا۔ یادداشت کی مدد سے کھوجتا کھوجتا وہ سیدھا اس گھر تک آپہنچا جس کے چبوترے سے اس نے بچے کو اٹھایا تھا۔کہانی سنانے والے بتاتے تھے کہ پہاڑی علاقے کی سخت زندگی اورکھلی آب و ہوا کی وجہ سے اس نوجوان اور اس خاندان کے مردوں میں جلد کی رنگت اور قد کاٹھ کا واضح فرق تھا لیکن بنیادی مشابہت بہرحال موجود تھی لیکن سب سے بڑی گواہی تو ماں کی طرف سے آئی تھی۔ کہتے ہیں نوجوان پر نظر پڑتے ہی وہ ماں جو اس عمر سے قدرے تجاوز کرچکی تھی، اس کی قمیض ننھے بچوں کو دودھ پلانے والی ماؤں کی طرح، زندگی کے سوتوں سے بھیگ چکی تھی۔ بچے کی یادداشت میں البتہ کوئی تصویر نہیں تھی۔ زبان کی اجنبیت بھی اپنی جگہ تھی۔ پھر اغوا کرنے والے باپ کی اچھی مالی اور سماجی حیثیت سب نے مل کر فیصلہ اس کے ہی حق میں دیا اور وہ نوجوان واپس علاقہ غیر میں ہی چلا گیا۔ البتہ اغوا کرنے والا ”باپ“ اپنے ضمیر کی عدالت میں ضرور سرخرو ہوگیا۔
میں اغوا کرنے والے کو باپ اس لئے لکھ رہی ہوں کہ میرے نزدیک پیدا کرنا ایک قدرتی اور فطری عمل ہے۔ اصل چیز پروان چڑھانا اور لمحے لمحے کی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی ضرورتیں پوری کرنا ہے۔ پرانا مقولہ ہے کہ پالنے کی محبت، پیداکرنے والے سے زیادہ ہوتی ہے۔ فطری سی بات ہے اور اس بات کی سچائی اگلے روز اس وقت کھل کر سامنے آئی جب ایک تئیس (23) سالہ نوجوان لڑکی نے عدالتی فیصلے کے باوجود اپنے حقیقی والدین کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ یہ کہانی تو اس اغوا ہونے والے بچے کی کہانی سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ ایک اسپتال میں کچھ نرسوں اور شاید ڈاکٹر کی ملی بھگت سے ایک جوڑے کی نوزائیدہ بچی کو، کسی ایسے جوڑے کے حوالے کردیا گیا جن کی بچی پیدائش کے فوراً بعد انتقال کر چکی تھی۔ ٹی وی کی خبروں میں تفصیل نہیں تھی اور نہ اگلے روز کے اخبارات میں ہی اس کے بارے میں کوئی کہانی بیان کی گئی تھی لیکن اندازہ ہوتا ہے کہ پچھلے تئیس (23) سال سے وہ مظلوم والدین اپنی بچی کی جائز حوالگی کے لئے کوشاں رہے ہوں گے اور اتنی لمبی مدت کے بعد عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ بچی کو حقیقی والدین کے سپرد کیا جائے۔ آج کے جدید دور میں جب ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے حقیقی والدین کا پتہ چلانا بے حد آسان ہو چکا ہے۔ آخر اتنی لمبی مدت تک یہ کیس کیوں نہ نمٹایا جا سکا۔ یقینا اس میں ہماری قانونی موشگافیوں اور عدالتی سسٹم کا ہی قصور ہے کہ بے مقصد پیشیوں اور کیسوں کو لٹکاتے لٹکاتے عمریں گزر جاتی ہیں اور جب تک فیصلہ آتا تب تک اس کہانی کا اصل مقصد ہی فوت ہو چکا ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس لڑکی کے معاملے میں ہوا۔ تئیس (23) سال ایک عمر ہوتی ہے۔ حقیقی یا غیر حقیقی۔ آپ زندگی کے تئیس (23) سال تو واپس نہیں لاسکتے۔ میرے نزدیک اس معاملے میں لڑکی کا فیصلہ بالکل جائز اور فطرت کے عین مطابق ہے۔ ذرا خود کو اس کی جگہ رکھ کر سوچیں۔ حقیقی والدین تو ہر لحاظ سے اس کے لئے اجنبی کا ہی درجہ رکھتے تھے۔ اپنی اچھی بھلی مانوس زندگی کو چھوڑ کر وہ ایک بالکل نامانوس ماحول میں کیسے خود کو سونپ سکتی تھی۔ چاہے یہ فیصلہ حقیقی والدین کے لئے کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔ لڑکی کی زندگی کے لحاظ سے سوچیں تو بالکل فطری ہے۔ ایک چیز البتہ اس سارے فیصلے میں جس کا کوئی ذکر نہیں۔ وہ ان لوگوں کا کردار ہے جنہوں نے یہ بھیانک ڈرامہ شروع کیا تھا۔ وہ نرس، ڈاکٹر یا اسپتال کا عملہ۔ جو اس ڈرامے کے اصلی کردار تھے۔ آخر ان کو بھی کوئی سزا ملی کہ نہیں؟ لیکن اصل سزا تو اب وہ بچی کاٹے گی گرچہ فی الوقت اس کا فیصلہ بالکل جائز اور فطرت کے عین مطابق ہے لیکن جب زندگی میں وہ خود اس مرتبے پر فائز ہو گی جب اپنے کسی بچے کو گود میں لے گی، تب اپنی حقیقی ماں کا دکھ اور محرومی اسے ضرور کچوکے لگائے گی۔
اسی لئے تو کہتے ہیں کہ دیر سے ملنے والا انصاف درحقیقت انصاف نہیں بلکہ زیادتی کہلائے جانے کا حق دار ہے یا انگریزی میں وہ جو کہتے ہیں کہ
justice delayed is justice denied
یعنی بہت دیر گزرنے کے بعد انصاف کا ملنا نہ ملنا بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے لوگ مر کھپ جاتے ہیں، ترجیحات بدل جاتی ہیں لیکن اصل چیز تو زندگی ہے آپ اسے نئے سرے سے دوبارہ تو نہیں گزار سکتے۔ جیسا اس بچی کے ضمن میں ہوا یا اس اغوا ہونے والے بچے کے ساتھ ہوا۔ کس کا خون ہے اورکس خاندان سے تعلق ہے۔ یہ بڑی بنیادی اور ضروری چیزیں ہیں لیکن روزمرہ کی اور گزرنے والی زندگی میں یعنی لمحے لمحے کی خوشیوں، دکھوں، کامیابیوں، ناکامیوں، کچھ پانے اورکچھ کھونے کے لمحوں میں۔ صرف آپ ہوتے ہیں، آپ کی ذات ہوتی ہے اور ان لمحوں کو کوئی واپس نہیں لا سکتا۔ نہ کوئی ان میں دوبارہ جی سکتا ہے۔ قانونی گتھیاں سلجھانے والوں کو زندگی کے اس پہلو پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، کبھی کبھی دیر سے ملنے والا انصاف ظلم بھی بن جاتا ہے…!!!