آخرکار سپریم کورٹ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کی سزا میں 32 سیکنڈ تک کھڑا رکھ کر پاکستان کے با اختیار اور اہل ثروت افراد کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے رویوں میں تبدیلیاں لائیں، عدالتوں کا احترام کریں اور کرپشن کرنے سے اجتناب برتیں۔ پاکستان کے عوام کی اکثریت نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ پی پی پی کے بعض افراد نے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔ اپیل دائر کرنا یا ہر اس فیصلے پر نظرثانی کرانے سے متعلق پی پی پی کا آئینی حق ہے، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف پی پی پی کے جیالوں نے سڑکوں پر جس طرح کا مظاہرہ کیا ہے اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پی پی پی کی قیادت عدالتوں کا احترام نہیں کرتی اور اگر ایسا ہوتا تو نوبت یہاں تک نہیں آتی کہ وزیراعظم کو عدالت میں تین بار طلب کیا گیا اور آخری بار انہیں سزا سنا دی گئی۔ ہرچند یہ بہت مختصر اور محض علامتی سزا ہے لیکن یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ اب وہ ایک سزا یافتہ وزیراعظم بن چکے ہیں اور ان کا اب اس اعلیٰ عہدے پر رہنا مناسب نہیں ہے۔
یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ جب بھی پی پی پی کی حکومت برسراقتدار آتی ہے اس کی کوشش یہ رہی ہے کہ عدلیہ کو اپنے تابع کیا جائے تاکہ اس کی لوٹ کھسوٹ اور غلط طرز حکمرانی کو کوئی چیلنج نہ کرسکے ہر طرف کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ خود پی پی پی کے بعض باخبر افراد اس کرپشن سے نالاں ہیں۔
پی پی پی کے پرانے کارکن اور مخلص رہنما یہ بات برملا کہہ رہے ہیں کہ موجودہ پی پی پی آصف علی زرداری کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ یہ جناب بھٹو مرحوم کی پارٹی نہیں ہے جہاں عوام اور ملک کی خدمت کرنا ان کے منشور کا حصہ تھا اور وہ اس پر عمل بھی کرتے تھے،پاکستان ترقی کررہا تھا اور بعض سیاستدان یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اب سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد یوسف رضا گیلانی کا بحیثیت وزیراعظم کام کرنا اخلاقی طور پر ٹھیک نہیں ہے بلکہ غیرآئینی ہے، انہیں سزا سنائی گئی ہے اور اب وہ ایک معتوب وزیراعظم ہیں جن کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے عدالت عالیہ کے حکم کے مطابق سوئس حکومت کو اس ناجائز دولت سے متعلق خط نہیں لکھا جس کی ملکیت آصف علی زرداری ہے منسوب کی جاتی ہے اور حقیقت یہ بھی رہی ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ استدلال بجا ہے کہ اس دولت کا تعلق پاکستان اور پاکستانی عوام سے ہے۔ اس لئے اس کو واپس لایا جائے۔ ادھر سوئس حکومت بارہا یہ کہہ چکی ہے کہ اگر پاکستان کی حکومت خط لکھ کر اس ناجائز دولت کا تعین کردیتی ہے تو وہ فوراً حکومت پاکستان کو منتقل کردیں گے۔ ایسے میں سوئس حکومت اس ناجائز اور غیرقانونی دولت کے سلسلے میں صدر صاحب کے حوالے سے بدنام ہورہی ہے۔ نیز صدر صاحب کو سوئس عدالتوں میں کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ یہ محض ایک پروپیگنڈا ہے کچھ لوگ آصف علی زرداری کے حق میں چلارہے ہیں حالانکہ پاکستان کے تمام باشعور عوام اس حقیقت سے واقف ہیں کہ سوئس بینک میں رکھی ہوئی یہ دولت صدر صاحب نے ماضی میں جب وہ ایک وفاقی وزیر تھے، کک بیک کے ذریعہ حاصل کی تھی۔ خود سوئس اہلکار بھی اس سلسلے میں اپنی رائے دے چکے ہیں اس لئے اس مسئلے پر ابہام نہیں ہونا چاہئے لیکن افسوس صد افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت اور پی پی پی کے بعض ذمہ دار افراد اس ناجائز دولت کے حق میں ایسے دلائل دے رہے ہیں جیسا کہ کرپشن کرنا کوئی بری بات نہیں ہے۔ بدعنوانی کرنا بدعنوان عناصر کے ذریعے اپنے ناجائز مفادات پورے کرنا ان کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے، وہ دراصل عوام کے وزیراعظم نہیں ہیں، جیسا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں، وہ دراصل آصف علی زرداری کے وزیراعظم ہیں جو ان کی مرضی و منشا کے تحت اپنے امور انجام دے رہے ہیں اور اس بھونڈے انداز میں دے رہے ہیں جس کی وجہ سے انہیں عوام کے سامنے خفت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ نیز عالمی سطح پر پورا ملک بھی بدنام ہورہا ہے لیکن یہ لوگ اتنے ہٹ دھرم ہیں کہ انہیں نہ تو ملک اور ملت کی بدنامی کی پروا ہے اور نہ ہی وہ اپنی غلطیاں تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، کسی نہ کسی طرح یہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرنا چاہتی ہے اور جب نام نہاد جھوٹی جمہوریت کے ذریعے ان کے پانچ سال پورے ہوجائیں گے تو یہ ملک سے فرار ہونے کی کوشش کریں گے لیکن اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی بقول شاعر میر تقی میر
اب شہر ہر طرف سے ویران ہورہا ہے
دکھلائی دے جہاں تک میدان ہورہا ہے