گزشتہ سالوں کے دوران اداروں(عدلیہ اور میڈیا) نے غیرمعمولی عزت کمائی تھی اور ان دونوں سے ہی غیرمعمولی توقعات وابستہ کرلی گئی تھیں لیکن یہی وہ خیالات ہیں جن کی وجہ سے کچھ لوگوں کے خیال میں عدلیہ بھی متنازع ہوگئی اور میڈیا کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا۔یقینا حکمران سیاسی قیادت کی چالوں نے بھی بڑا کردار ادا کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنے آپ کو اس مقام تک پہنچانے کا خود عدلیہ اور میڈیا بھی ذمہ دار ہے ۔ افسوس کہ دونوں اپنے اپنے حد میں نہیں رہے ۔ قانون دانوں کی رائے میں عدلیہ نے بعض مواقع پر ایگزیکٹیو اور مقننہ کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی جبکہ میڈیاکے بعض لوگ بھی لیڈر‘جج اور مفتی بننے کی کوشش کرتے رہے ۔ فوج ‘ ایجنسیوں اور بعض مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے متعلق عدلیہ نے زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر مصالحانہ رویہ اختیار کئے رکھا لیکن حکومت سے متعلق وہ خالصتاً آئین اور میرٹ کے مطابق اس روش پریوں گامزن رہی کہ جیسے وہ پاکستان کی نہیں بلکہ برطانیہ کی سیاسی حکومت ہو۔ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ میڈیا بھی بحیثیت مجموعی مذکورہ عناصر سے متعلق چشم پوشی کرتا رہا اور اپنی ساری انقلابیت کا رخ حکومت اور اس کے چند افراد کی طرف رکھا۔کئی نقاد یہ کہتے ہیں عدلیہ نے اپنے آپ کو شیشے کے گھر سے نکالا اور نہ میڈیا نے لیکن اس میں بیٹھ کر دونوں نے ایک طبقے کے خلاف سنگ باری شروع کردی۔ گیلری کی اہمیت سب سے بڑھ کر سیاست کے میدان میں ہوتی ہے لیکن اگر سیاست بھی صرف گیلری کو مدنظر رکھ کر کی جائے تو ناکامی سے دوچار ہوتی ہے لیکن صحافت اور عدالت اگر گیلری کو دیکھ کرکی جائے تو صحافت ‘ صحافت رہتی ہے اور نہ عدالت ‘ عدالت۔ افسوس کہ پچھلے سالوں میں عدلیہ نے اپنے فیصلوں میں اور میڈیا نے بھی اپنے کام میں گیلری کو مدنظر رکھا۔نتیجہ یہ نکلا کہ آج سیاسی قیادت عدلیہ کو چیلنج کرنے لگی اور میڈیا کی تنقید کو بھی اہمیت نہیں دے رہی ۔اب تو عوام بھی عدلیہ اور میڈیا سے نالاں نظر آتے ہیں۔ عدالت جمشید دستی کو نااہل قرار دیتی ہے لیکن عوام اگلے دن انہیں دوبارہ منتخب کرلیتے ہیں ۔کئی لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا جس روز سپریم کورٹ وزیراعظم کو توہین عدالت کے جرم میں سزا سناتی ہے ‘ اسی ہی روز ملتان میں صوبائی اسمبلی کے لئے ان کے امیدوار پر ووٹوں کی بارش ہوجاتی ہے ۔ میڈیا جس کو جس قدر زیادہ کرپٹ اور قانون شکن ثابت کرتی ہے‘ وہ اتنا ہی زیادہ بڑے منصب کا حقدار قرار پاتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اب حکومت کھل کر دونوں کو چیلنج کرنے لگی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ توہین عدالت میں سزا پانے کے بعد بھی سید یوسف رضا گیلانی استعفیٰ دینے کی بجائے مقابلے پر اتر آئے ہیں۔ اخلاقیات کی بنیاد پر فیصلہ ہونا ہوتا تو اس فیصلے کے بعد وزیراعظم ایک منٹ کے لئے بھی اس منصب پر فائز نہیں رہ سکتے تھے لیکن جب عدلیہ اعلیٰ اخلاقی معیارات پر کھڑی ہے ‘ میڈیا اور نہ اپوزیشن تو پھر وہ کیوں کر اخلاقیات کی بنیاد پر حکومت چھوڑیں گے ۔ سچ تو یہ ہے کہ عدلیہ نے بھی اپنے فیصلے میں بڑی مہارت سے بوجھ اپنے کاندھوں سے اتار کر سیاستدانوں کے کاندھوں پررکھ دیا ہے ‘ ورنہ تو فیصلے میں اسمبلی کی رکنیت سے نااہلی کا ذکر بھی کیا جاسکتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ فیصلہ اب بھی آصف علی زرداری صاحب کی توقع کے برعکس ہوا ہے ۔ ان کی تو خواہش تھی کہ وزیراعظم کو عدالت ہی ہٹا دے اور تبھی تو متبادل وزیراعظم کے انتخاب کی بھی تمام تیاریاں مکمل کی جاچکی تھیں ۔ اس حکم سے قبل وہ عدلیہ کے ساتھ تصادم کا آغاز کرچکے تھے ۔ سزایافتہ اور مشکوک لوگوں کو وفاقی وزیربنانے کا ان کا مقصد بھی یہی تھا کہ عدلیہ کو غصہ دلایا جائے ۔ہمارے ایک دوست نے بڑا اچھا تبصرہ یوں کیا تھا کہ صدر صاحب خود چاہتے تھے کہ وزیراعظم کوسزا ملے تبھی تو انہوں نے ان کے لئے ایسا وکیل کررکھا تھاکہ جن کی فیس صرف سو روپے ہے ۔بہ ہر حال توہین عدالت کے فیصلے کے بعد بھی صدر صاحب یہ روش اپنائے رکھیں گے کہ عدلیہ کو اس قدر طیش میں لے آئے کہ وہ اس کی حکومت کو قبل ازوقت رخصت کرلے ۔ اب تو وزیراعظم یوسف گیلانی کے لئے بھی اپنی گناہوں کی بخشش اور دوبارہ لیڈر بننے کا نادر موقع ہاتھ آگیا ہے ۔ ان جیسے لیڈر کے لئے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ کرپشن کی بجائے ان کو سیاسی اور آئینی نکتے پر سزا ہوئی اور وہ بھی ایسی کہ نتیجے میں وہ اقتدار سے بھی محروم نہیں ہوئے۔ یوں اب عدلیہ سے متعلق ان کا رویہ بھی مزید جارحانہ بن جائے گا۔لگتا یہی ہے کہ اس بدقسمت قوم کے اگلے کئی ماہ بھی اداروں کے اس ٹھکراؤ میں گزر جائیں گے اور ملک کے لئے زندگی اور موت کی حیثیت رکھنے والے ایشوز کا ذکر ایوانوں میں ہوگا‘ عدالتوں میں اور نہ میڈیا میں ۔ گذشتہ ماہ کے دوران پاک بھارت تعلقات کے محاذ پر کئی اہم واقعات رونما ہوئے ۔ پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے بھی کئی اہم فیصلے ہوئے ۔ سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کے فیصلے کے دن پاکستان‘ افغانستان اور امریکہ کے سب سے اہم فورم یعنی کور گروپ کے اجلاس کے لئے امریکی اور افغانی حکام پاکستان آئے ہوئے تھے لیکن میڈیا میں اس کا تذکرہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ اب جب اصل مسائل یعنی غربت‘ جہالت ‘ بے روزگاری‘ بدامنی‘ پاک بھارت تعلقات‘ پاک افغان تعلقات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسی پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا موجب بننے والے مسائل سے صرف نظر کی جائے گی اور یہاں سیاسی اور صحافتی افق پر اسی طرح کے آئینی اور قانونی مباحث جاری رہیں گے تو اس ملک کا کیا بنے گا؟۔ ضرورت ا مر کی ہے کہ صرف حکومت نہیں بلکہ اپوزیشن‘ عدلیہ ‘ میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ بھی اپنے اپنے رویے پر نظرثانی کریں اور مستقبل کو مدنظر رکھ کر نئے رولز آف گیم بنا کر ایک نئے سفر کا آغاز کریں ۔ میری رائے میں اپوزیشن اور دیگر اداروں کو چاہیے کہ وہ آصف علی زرداری اور وزیراعظم گیلانی کے آرام سے ان کے پانچ سال پورے ہونے دیں اور ان دونوں حضرات کو چاہئے کہ وہ اس قوم پر رحم کرکے اپنی روش کو درست کرلیں۔ پچھلے چار سالوں میں انہوں نے جو اختیارات اور وسائل سمیٹے ‘ وہ بہت ہیں ۔ اب اگر یہ ایک سال قوم اور ملک کے نام کردیں تو ان کے لئے بھی بہتر ہوگا اور ملک بھی تباہی سے بچ جائے گا۔نہیں تو ایسا کچھ ہوگا جس کے نتیجے میں سب ذلیل و خوار ہوجائیں گے ۔ نہ آئینی و قانونی اختیار کسی کے کام آسکے گا اور نہ مینڈیٹ۔