انسان کا ذہن جب ذاتی اغراض‘ مفادات اور اہداف سے اٹ جائے اور اس کی سوچ اس نکتے پہ مرکوز ہوجائے کہ اوہ اپنی شاطرانہ چال بازی اور فریب کارانہ بازیگری سے سب کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے تو جان لیجئے کہ تقدیروں کا مالک اُس سے خفا ہے اور وہ شخص اپنے گرد ایسا جال بن رہا ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ تاریخ ایسے دانش مندوں اور حکمت کاروں کے انجام سے بھری پڑی ہے جو اس زعم میں مبتلا ہوئے کہ وہ علم وحکمت کی معراج کمال پر فائز ہیں اور کوئی اُن کے فولادی قلعے میں نقب نہیں لگا سکتا لیکن آسمانوں پہ لگی عدالت کا فیصلہ آیا تو ہوا کے ایک لطیف سے جھونکے نے بڑے بڑے قلعوں کی بنیادیں تک ہلاڈالیں۔
عبدالحمید عدم کا شعر ہے۔ #
آگہی میں اک خلا موجود ہے
اس کا مطلب ہے خدا موجود ہے
اس وقت سید یوسف رضا گیلانی اور اُن کے گرد جھومر ڈالتی آئینی و سیاسی سپاہ، اس فریب میں مبتلاہے کہ وہ پرویز مشرف کے متروک ہتھیاروں کے ساتھ ایسا ولولہ انگیز معرکہ لڑسکتی ہے کہ عدلیہ، میڈیا، اپوزیشن اور فوج اپنے مورچوں میں بیٹھے بیٹھے بھسم ہوجائیں گے۔ وہ تہیہ کئے بیٹھے ہیں کہ جس طرح انہوں نے این آر او فیصلے پر عمل نہیں کیا اسی طرح وہ توہین عدالت کے مرتکب ایک سزا یافتہ مجرم کو بھی بدستور وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رکھیں گے۔ اُنہیں کامل یقین ہے کہ وہ مکمل ناکہ بندی کرچکے ہیں۔ وہ صدق دل سے محسوس کرتے ہیں کہ اُن کی ”آگہی“ میں کوئی خلا موجود نہیں اور سردست وہ اس احساس سے بھی عاری ہیں کہ خدا وجود رکھتا ہے۔
عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے فوراً بعد: شریف الدین پیرزادہ اور بابر اعوان کے امتزاج سے نمو پانے والے فکرتازہ کے حامل چوہدری اعتزاز احسن نے مختصر عدالتی فیصلے پر اپنی ماہرانہ رائے دی کہ وہ ناقص ہے کیوں کہ وزیراعظم کو اُس جرم کی سزا دی گئی ہے جس کا فرد جرم میں کوئی ذکر نہ تھا۔ کوئی نیکی بابر اعوان کے کام آگئی کہ عین وقت پر قدرت نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اُنہیں مکروہات کے اس بے ذوق سرکس سے باہر کردیا۔ کبھی ملاقات ہوئی تو میں اُنہیں ضرور مبارکباد پیش کروں گا کہ وہ اس وقت شاہ کے دربار خاص سے نکال دیئے گئے جب دربار اور درباری”بصد سامان رسوائی سر بازار می رقصم“ کاسماں پیدا کرنے جارہے تھے۔ جناب اعتزاز احسن نے دراصل عدالت کو یہ پیغام دیا کہ آپ جو چاہے فیصلے دیتے رہو۔ فیصلوں پر عمل درآمد کا اختیار میرے موکل کے پاس ہے جو انتظامیہ کا سربراہ ہے اور جسے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے۔ سو آئین ہو یا عدالتی فیصلہ، اس کی تشریح و تعبیر ہم اپنی مرضی ومنشا کے مطابق کریں گے۔
اسی دلیل کو پلے باندھ کر یوسف رضا اسمبلی پہنچے اور خطابت کے اس بانکپن کا مظاہرہ کیا جو بلند فشار خون یا اعصاب زدگی کا کوئی مریض ہی کرسکتا ہے۔ اپوزیشن کو چیلنج کیا کہ وہ ”تحریک اعتماد“ لے آئے۔ اپوزیشن تو اب انہیں وزیراعظم ہی نہیں مان رہی تو تحریک عدم اعتماد کیسی؟ سید زادہ ملتان یہ باور کرنے پر تیار نہیں کہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت اُنہیں سزا دے چکی ہے اور اس سزا پر عمل درآمد بھی ہوچکا ہے۔ اب وہ آئین وقانون کی زبان میں "convicted" یعنی سزا یافتہ مجرم ہیں۔ عدالت اپنے فیصلے میں یہ بھی کہہ چکی ہے کہ مجرم کو کم سزا دینے کا ایک محرک یہ بھی ہے کہ اُسے اب 63-1(g) کے سنگین نتائج کا بھی سامنا ہوگا۔ عدالتی فیصلے کے اس حصے کی آسان زبان میں تشری و تفسیر یہ ہے کہ چوں کہ یوسف رضا گیلانی، پانچ سال کے لئے اسمبلی رکنیت کا اہل نہیں رہے گا جو بذات خود خاصی بڑی سزا ہے اس لئے قید کی سزا کو علامتی حد تک مختصر رکھا گیا ہے۔ اس کے باوجود الجھاوؤں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے اور درباری آگ کو ہوا دے کربڑے الاؤ میں تبدیل کرنے کے جتن کررہے ہیں۔
ذرا آج کے اخبارات پر نظر ڈالیئے۔ اسسٹنٹ رجسٹرار سپریم کورٹ کی طرف سے تمام متعلقہ شخصیات کو فیصلے کی نقول ارسال کردی گئیں جو ایک معمول کی کارروائی ہے۔ اس حکومت کے کارپردازوں کے لئے تو ایسا کرنا اور بھی ضروری تھا۔ اعتزاز احسن کے شہرہٴ آفاق دلائل میں سے ایک دلیل یہ بھی تھی کہ وزیراعظم گیلانی کو تو این آر او فیصلے کی خبر ہی نہ تھی۔ معمول کی اس کارروائی پر سیخ پا، وزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے اعلان فرمایا کہ اسسٹنٹ رجسٹرار کا یہ خط غیر قانونی ہے جس کے خلاف اسمبلی میں تحریک استحقاق لائی جائے گی۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اسپیکر صاحبہ نے وہ خط ملتے ہی پی پی پی قیادت کے حوالے کردیا۔ دوسری خبر یہ ہے کہ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد خط لکھنے والے ڈپٹی رجسٹرار اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو ”توہین پارلیمان“ کے نوٹس جاری کرکے پارلیمنٹ کے روبرو طلب کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ تیسری خبر پنجاب کے گورنر سردار لطیف کھوسہ کے اس بیان پر مبنی ہے کہ چونکہ پارلیمنٹ سب سے سپریم ادارہ ہے اس لئے وہ عدالت کے فیصلے کو مسترد کرسکتی ہے۔
اس فضا کے خدوخال دیکھیے اور پھر خود ہی کوئی نتیجہ اخذ کیجئے کہ حکومت کے عزائم کیا ہیں۔ ایک بات تو طے ہوگئی کہ یوسف رضا استعفےٰ نہیں دے رہے۔ دوسری بات یہ طے ہوچکی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کو اسپیکر فہمیدہ مرزا کے ذریعے غیر موثر بنادیا جائے گا۔ طریقہٴ کار یہ ہوگا کہ آئین کی شق 63-2 کے مطابق‘ اسپیکر صاحبہ نااہلیت کے معاملے پر غور کریں گی۔ اگر اُنہیں لگا کہ واقعی نااہلیت کا کوئی سوال پیدا ہوگیا ہے تو وہ تیس دن کے اندر اندر معاملہ الیکشن کمشن کو بھیج دیں گی۔ اگر وہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ ایسا کوئی معاملہ پیدا ہی نہیں ہوا تو وہ اسے الیکشن کمیشن کو بھیجنے کے بجائے وہیں داخل دفتر کردیں گی۔ سو حکمت عملی تیار ہے کہ اسپیکر صاحبہ ایک ماہ اس معاملے پر بیٹھنے کے بعد آخری دن اپنا فیصلہ صادر فرمائیں گی کہ یوسف رضا کی نااہلی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوا اور یوں وہ عملاً سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے ڈالیں گی۔
”آگہی“ کے زعم باطل میں مبتلا خدا فراموش قبیلے ایسے ہی سوچا کرتے ہیں۔ لیکن نوشتہ دیوار کچھ اور ہے۔ دانشمندانہ راستہ یہ تھا کہ وزیراعظم سے استعفےٰ لے لیا جاتا کہ اب آپ سزا یافتہ مجرم ہیں۔ بطور رُکن اسمبلی اُن کی نااہلیت کا معاملہ بھلے چلتا رہتا۔ اپیل بھی دائر ہوجاتی۔ کوئی بحران پیدا نہ ہوتا اور کوئی طوفان نہ اٹھتا۔ پیپلزپارٹی اپنی اکثریت کے بل بوتے پر ایک نیا ”گیلانی“ تراش لیتی۔ لیکن ایسا نہیں ہورہا۔ عدلیہ سے براہ راست اور انتہائی جارحانہ ٹکراؤ کا فیصلہ ہوچکاہے۔ اسی فکر عیار کا کرشمہ ہے کہ عدالت کو چڑانے اور اُسے نیچا دکھانے کیلئے یوسف رضا کو بطور وزیراعظم برقرار رکھا جائے۔ پاکستان کو اس کیا قیمت دینا پڑے گی، اس سے کسی کو کچھ واسطہ نہیں۔گزشتہ روز رات کے کھانے پر ایک سینئر اور کہنہ مشق وکیل نے، جس کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، ایک نیا نکتہ اٹھایا۔ ”این آر او فیصلے پر عمل درآمد نہ کرکے یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کے مرتکب ہوئے سزا ہوئی۔ اب وہ بطور چیف ایگزیکٹو، نااہلیت کے باوجود حکومت پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنے اور عدلیہ کو مفلوج کردینے کی ایسی راہ پر چل نکلے ہیں جو آئین کے آرٹیکل 6 کی بارودی سرنگ کی طرف جاتی ہے“۔ ایک اور صاحب نے کہا۔ ”کیا جنرل کیانی کو بھی سوچناپڑے گا کہ فوج کا ایک اعلیٰ افسر کسی سزا یافتہ شخص کے ساتھ بطور ملٹری سیکریٹری ڈیوٹی دے“۔ اس محفل میں ایسے ایسے نکات اٹھے کہ خدشوں کے کئی باب کھلتے گئے۔
حکومت انتہائی خوف ناک منطقے میں داخل ہوگئی ہے۔ اس کے اتحادی وہی ہیں جو مشرف کے دست وبازو تھے۔ وہ آمریت کے ٹائی ٹینک کو ڈوبنے سے نہ بچا سکے اس بے پتوار کی کشتی کو کیسے بچاپائیں گے۔ مجھے پہلی بار خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ جمہوریت کا جہاز کسی برفانی تودے سے نہ ٹکراجائے۔ پیپلزپارٹی غالباً یہی چاہتی ہے لیکن کیا اپوزیشن، میڈیا، وکلاء اور سول سوسائٹی کوئی ایسی راہ نکال سکتے ہیں کہ آمادہ فساد گروہ کو من مانی سے روکا جاسکے۔