پچھلی چار پانچ دہائیوں میں دیہات اور قصبوں سے ہمارے شہروں میں جس بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے اُس کی مثال ہماری پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس نقل مکانی کی بنیادی وجہ توروزگار اور کاروبار کے مواقع ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی سماجی،معاشی، معاشرتی اور نفسیاتی وجوہات ہیں۔ بہر حال اس نقل مکانی نے جہاں ہمارے چھوٹے بڑے شہروں کا حُلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے وہیں ہماری دیہی زندگی کی ثقافت کو بھی کافی حد تک تبدیل کر دیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ ہمارے شہری لوگ دیہاتیوں کو اَن پڑھ، جاہل، سادہ لوح اور بیوقوف کہتے ہی نہیں بلکہ سمجھتے بھی تھے اوراپنے شہری تعصب کے باعث اُنہیں کم درجہ کا انسان جانتے تھے۔ ہماری قومیتی زبانوں میں ایسے کئی محاورے ہیں جن سے یہ تعصب ظاہر ہوتا ہے۔ شاید ہمارا یہی شہری رویہ تھا جس نے ہمیں دیہی دانش کو سمجھنے اور اُس سے استفادہ کرنے سے روکے رکھا۔ ٹی ہاؤسوں میں بیٹھنے والے ہمارے اکثردانشوروں نے بھی دیہی دانش و حکمت کو جاگیردارانہ سوچ قرار دے کر نظرانداز کر دیا۔ ہمارے ملک میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ افسوس ناک، غم ناک ،دردناک اور خوفناک ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی کریہہ ہے لیکن ہمارے ہاں ایسوں کی بھی کمی نہیں جو اُس سے حذ اٹھا رہے ہیں اور اپنی بدبودار بغلیں بجائے چلے جا رہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں متعارف ہونیوالے الیکڑانک میڈیا کے طفیل آج کل ریٹائرڈ بیورو کرٹیس، ریٹائرڈ فوجی اور اینٹلی جنس افسروں اور ریٹائرڈ ججوں اور نجی ائرلائنز کی وجہ سے ریٹائرڈ پائلٹوں ، فلائٹ انجینئروں اور ائر ہوسٹسوں کے وارے نیارے ہیں۔ انہیں اپنی اُن خوابیدہ صلاحتیوں کو اُجاگر کرنے کا سنہرا موقع مل رہا ہے جو سرگرم سروس کے دوران بوجوہ بے ہوشی سے بیدار نہ ہو سکیں۔ لیکن اگر گئے گذرے زمانوں کے کسی ریٹائرڈ تھانیدار سے کوئی صرف یہ پوچھ لے کہ دیہات میں نسلوں سے خاندانی دشمنیاں پالنے والے کس موسم میں لڑتے ہیں اور ایک دوسرے سے پرانے بدلے چکاتے ہیں تو وہ آپ کو بلا تامل بتائے گا کہ وہ نہ صرف فصل کے پکنے اور اُس کے کٹنے کا انتظار کرتے ہیں بلکہ اُسے منڈی میں فروخت کرنے اور اُس کی رقم وصول کرنے کے بعد ہی لڑائی جھگڑوں کی ’غیر پیداواری‘ سرگرمیوں کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ وہ تھانوں، عدالتوں اور شہادتوں کے ناکارہ اور ’رقم چوس‘نظام کے بارے میں ہماری نو آزاد عدلیہ کے فیصلوں پر ہر چوتھے مہینے ایک دوسرے کے منہ میں مٹھائی ٹھونسنے اور تالیاں بجا کر رقص کرنے والے وکیلوں سے کہیں زیادہ تجربہ اور آگاہی رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ عدالتوں میں تھانے سے کتنا زیادہ ’خرچہ پانی‘ ہوتا ہے کیوں کہ قتل کے مقدمہ میں بھی تھانے میں دو چار ہفتے رہنا پڑتا ہے جب کہ عدالتوں کے ساتھ تو برسوں بلکہ دہائیوں تک واسطہ رہتا ہے۔ وہ ایک دیہاتی ہی تھا جس کا اپنے ایک مخالف رشتہ دار کے ساتھ اراضی کا برسوں تنازع چلتا رہا۔ وکیلوں کی فیس،عدالتی اہلکاروں کا چائے پانی اور شہر میں پیشیاں بھگتنے کے نتیجہ میں اُس کا واحد کھیت بک گیا اور فیصلہ بھی اُس کے خلاف ہو گیا۔ جب گاؤں والے اُس سے افسوس کرنے آئے تو اُس جواں مرد نے جواب میں بس ایک ہی جملہ کہا کہ ’ ’افسوس کی کوئی بات نہیں۔ کھیت بک گیا تو کیا ہوا؟ قانون کی تو سمجھ آ گئی“۔ ہم دیہی دانش سے کیا سیکھیں گے کہ اپنے ہاں نہ وقت پر لڑائی اور نہ وقت پر صلح! سب کچھ ہی بے وقت چل رہا ہے اور اوپر سے قانون اور اُس کے پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت پر اطلاق کی کسی کو سمجھ نہیں آ رہی۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ وزیر اعظم کو علامتی سزا کے ایک عدالتی فیصلے کی اتنی زیادہ تشریحات کہ وہ کنفیوژڈ عاشق جو شاعر بھی تھا یاد آ جائے جس نے کہا تھا کہ ’لائے ہیں تیری گلی سے لوگ خبر الگ الگ‘! ان تشریحات میں درس اخلاقیات کی دخل در معقولات نے عجب منظر پیدا کر دیا۔ کچھ پلے نہیں پڑ رہا کہ کیا قانونی ہے؟کیا سیاسی؟ کیا واجبی؟ اور کیا واہیاتی کہ کرپشن میں سر سے پاؤں تک لبڑے ہوئے بھی کرپشن کرپشن کی چیخ و پکار کر رہے ہیں اور ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش میں مبتلاہیں کہ دھوبی کے دھلے اُن کے اُجلے لباس کے اندر جو جسم و روح ہے وہ تو فرشتہ پیدا ہوئی اور فرشتوں کی صورت میں ہی اس دنیا سے رخصت ہو گی۔ دیہی نفسیات میں دھڑے بندی کی اخلاقیات غالب ہوتی ہیں اور دھڑے بند کاہمیشہ سے اونچا مقام رہا ہے۔ جنوبی پنجاب کے یوسف رضا گیلانی نے دھڑے بندی کی جو مثال قائم کی ہے ، وسطی پنجاب کے دیہات میں اُس کی پذیرائی کی جا رہی ہے۔ یقین نہ آئے تو رائیونڈ سے باہر نکل کر دیکھیں!!