ج صبح اخبارات کی خبریں اور ادارتی تبصرے پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ ہم پاکستانی کچھ بھی نہ کرتے ہوئے بہت کچھ کر رہے ہوتے ہیں اور کچھ بھی نہ ہو سکے تو بلاارادہ اور بغیر کسی کوشش کے نت نئے قومی ریکارڈ قائم کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ سوچتے ہوئے اپنی ایک پنجابی نظم کے آخری مصرعے یاد آئے
دوستو! زندہ رہن دی سوچو
خورے کیہہ کجھ اجے کراں گے اسی
آپ کجھ وی نہ کر سکے فر وی
بہت کجھ دیکھ کے مراں گے اسی
اپنی زندگی کے 79سال پورے کر کے عمر کی آٹھویں دہائی میں داخل ہوتے ہوئے صحافت کے پچپن اور کالم نگاری کے پچاس سال پورے کر چکا ہوں چنانچہ ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ ہماری قومی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا مختصر عدالتی فیصلہ جاری کیا گیا ہو گا جس کے معانی، مطلب یا مقصد واضح نہیں ہوں گے بلکہ متنازعہ قرار پائیں گے۔ وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت عظمیٰ کے مقدمے پر ”تابرخاست عدالت“ کی سزا سناتے وقت جو مختصر فیصلہ منظر عام پر لایا گیا ہے اسے بھی بہت سے ماہرین قانون اور مبصرین ”غیرواضح“ یا ”وضاحت طلب“ قرار دیتے ہیں اور تفصیلی فیصلے کا انتظار کرنے پر زور دے رہے ہیں جبکہ کچھ ماہرین قانون اور مبصرین یہ سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے کے تحت کم از کم تیس سالوں تک براہ راست فوجی حکومتوں کی اذیت سے گزرنے والے ملک پاکستان کے دو تہائی سے زیادہ اکثریت سے منتخب ہونے والے جمہوری وزیر اعظم پانچ سالوں کے لئے سیاسی عہدہ پانے سے محروم ہو گئے ہیں اور اقتدار پکے ہوئے پھل کی طرح اپوزیشن کی جھولی میں گرنے والا ہے۔
قومی اسمبلی کی مادام سپیکر اور انتخابی کمیشن کے قائم مقام چیف کمشنر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کسی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ وزیر اعظم کے وکیل بیرسٹر چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ مختصر فیصلے دیوانی مقدمات میں تو جاری کئے جاتے ہیں مگر فوجداری مقدمات کے فیصلے مختصر نہیں تفصیلی اور مکمل ہوتے ہیں جن کی مصدقہ نقول فریقین کو فراہم کرنی لازمی ہوتی ہیں۔ وزیر اعظم کے وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ مختصر فیصلے میں وزیر اعظم کو عدالت عظمیٰ کی تضحیک کی ”تابرخاست عدالت“ قید کی سزا دی گئی ہے جبکہ وزیر اعظم پر عائد کی گئی فرد جرم میں عدالت کی تضحیک کا کوئی ذکر نہیں ہے گویا بقول شاعر
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہیں
وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے
یہ بھی شاید ہمارا کوئی قومی ریکارڈ ہو گا کہ ایک جمہوری دورِ حکومت کے وزیر اعظم پہلی بار تین مرتبہ عدالت ِ عظمیٰ میں بطور ملزم پیش ہوئے ہیں اور عائد کی جانے والی سزا میں سے بھی گزرے ہیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ سزا یافتہ وزیر اعظم کو ایوان میں داخل ہونے اور وزیر اعظم کی نشست پر بیٹھنے نہیں دیں گے مگر جب سزا یافتہ وزیر اعظم ایوان میں داخل ہوئے اور اپنی نشست پر پہنچے تو قائد حزب اختلاف اور ان کے ساتھی ایوان میں موجود ہی نہیں تھے ۔ شاید ”واک آؤٹ“ منعقد کر رہے تھے۔ سزا یافتہ وزیر اعظم گیلانی وزیر اعظم منتخب ہونے سے پہلے بھی لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کے جرم میں سزا یافتہ تھے اور شاید پاکستان مسلم لیگ نون گروپ کے سربراہ میاں نواز شریف بھی اڈیالہ جیل سے سعودی عرب کے مہمان خانے میں منتقل ہونے سے پہلے صدر جنرل پرویز مشرف کے طیارے کے اغوا کے الزام میں سزایافتہ ہی تھے۔ وزیر اعظم گیلانی سزا یافتہ ہیں تو ملک کی ان تمام سیاسی جماعتوں نے بھی کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو گا جنہوں نے صدر آصف علی زرداری کو ملک کا متفقہ صدر منتخب کیا تھا اور یہ جانتے ہوئے کیا تھا کہ وہ اپنے ملک کی عدالتوں کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں سے ماورا گیارہ سالوں کی قید کی اذیت سے گزر چکے ہیں۔ کیا تیس سالوں سے بھی زیادہ عرصے تک براہ راست غیر جمہوری، غیر دستوری فوجی حکومتوں کو برداشت کرنے والے عدالت عظمیٰ کے تفصیلی فیصلے کے جاری ہونے کا انتظار نہیں کر سکتے؟