Results 1 to 6 of 6

Thread: ایک خطرناک كام

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    candel ایک خطرناک كام


    ہرمسلمان (مردوعورت)جو اللہ اور آخرت کےدن پر ایمان ویقین رکھتاہواس کےلئے مناسب ہےکہ ہر اس چیز سےاپنی زبان کی حفاظت کرےجوموجبِ غضبِ الہی ہو۔کوئی ٹھوس ثبوت اور بغیر کسی سبب کےکسی مسلمان کو کافر کہنےاور دین اسلام سےاُسے نکالنےسےمکمل طور پر احتیاط برتے،کیونکہ بغیر علم وبصیرت کے کسی کو کافر کہ دینا وہ خطرناک امر ہے جو خون خرابہ اور تفرقہ بازی کا سبب بنتاہے ۔

    لہذا جس کےپاس علم ومعرفت اور بصیرت ودانائی نہ ہو اس کےلئے جائزنہیں ہےکہ اس مسئلہ کو چھیڑے ، کفر کا حکم اُسی بات پر لگے گاجسے اللہ اور اُس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلمنےاسلام کے منافی امور میں سے کسی امر کے مرتکب کوکافر قرار دیاہو اور جن اُمور پر علماء کا اتفاق ہو ۔

    پھر یہیں سےایک مسلمان پر ضروری ہےکہ اس بارے میں کلام کرنےسے پہلے علم سیکھے اور بغیر علم ومعرفت کے اس بارے میں کوئی بات نہ کرے ورنہ کسی مسلمان کو کافر کہنے کی وجہ وہ خود ایسے سےدو بڑے جرم کامرتکب ہوگا کہ ان میں کا ہر ایک دوسرے سے زیادہ خطرناک ہے،اور وہ یہ ہیں:

    ôبغیر علم کےاللہ پر بہتان باندھنا:

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِباً
    (الأنعام21)

    (اس سے زیادہ بےانصاف کون ہوگاجو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بہتان باندھے)

    نیز ارشاد ہے:

    قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُواْ بِاللّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَاناً وَأَن تَقُولُواْ عَلَى اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
    (الأعراف33)

    (آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نےصرف حرام کیاہے ان تمام فحش باتوں کوجواعلانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اور ہر گناہ کی بات کو اور ناحق کسی پرظلم کرنے کو اوراس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگادو جس کو تم نہیں جانتے)


    اس آیت میں اللہ پر بغیر علم کے کوئی بات کہنےکو اللہ نے شرک سے زیادہ خطرناک بتایاہے اسی لئے اس کا ذکر شرک کے بعد ہواہے۔

    ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
    وَلاَ تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولـئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولاً
    (الإسراء36)

    (جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہواس کے پیچھے مت پڑ،کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے)

    پس ضروری ہے کہ انسان کچھ بولنے سے پہلے اسے سیکھے،کیونکہ قول وعمل کا مرتبہ علم کے بعد ہے۔

    ارشاد الہی ہے: فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ
    (محمد19)

    (پس (اے نبی!)آپ جان لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مَردوں اور مومن عورتوں کے حق میں بھی)


    لہذا جس قول کی بنیاد علم پر نہ ہو خصوصاً دین اور عقیدہ کے معاملہ میں تو وہ باطل قول ہے اور اللہ پر کذب بیانی ہے۔

    2- مسلمان پر ظلم :

    کسی مسلمان کو کافر اور اُسے دینِ اسلام سے خارج کہنا اُس مسلمان پر ظلم ہے کیونکہ اس حکم کے بعد اس پر کئی احکام مرتب ہوتے ہیں ،مثلاً:بیوی اس سے جُدا ہوجائےگی، نہ اس کا کوئی وارث اور نہ وہ کسی کا وارث ہوگا،مرنے کے بعد غسل و کفن، نمازِ جنازہ ، و دعاکی جائے گی اور نہ ہی اُسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفنایا جائے گا۔ پس جس نے اُسے بغیر حق کےکافر کہا تو اس پر مرتب ہونے والے مذکورہ امور کاوہ خود متحمل ہوگا۔

    اسلئے ضروری ہےکہ انسان ان امور کو جانے جو مُوجبِ کفر و ارتداد ہو،بغیر علم کے بات کرے اور نہ اپنی رائے کے مخالف پر کُفر کا حکم لگائے۔

    پھریہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اس علم کا ماخذ کہاں ہے؟ کیا یہ علم کتابوں کے مطالعے،اور شرعی نصوص کو حفظ کرنے سے حاصل ہوگا؟ نہیں ،ایسا ہرگز نہیں ہے ،بلکہ پختہ اور گہراعلم رکھنے والے علماء ہی سے یہ حاصل ہوسکتاہے ۔کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ جو شخص کتابوں کا مطالعہ کرلے اور نصوص کو یاد کرلے وہ عالم بھی بن جائے،عالم تووہی ہے جسے اللہ کے دین کی سمجھ بوجھ ہو ،اور یہ چیز اہلِ علم سے ایک طویل عرصہ تک اخذ وتلقی کے بعد ہی حاصل ہوگی۔

    تکفیر سے متعلق یہ صورت حال ان اولین بدعتوں میں سے ہےجو خوارج کے ذریعہ اسلام میں ظاہر ہوئی ،یہ پہلی صدی ہجری کے نصف اول کا زمانہ تھا۔ اس گمراہی میں جس چیز نے انہیں مبتلا کیا وہ اُن کا دین میں قلتِ فہم ،سنتِ رسول کی عدم معرفت ، اپنی عبادتوں پر اترانا ،اور ظاہری نصوص پر اڑے رہنا تھا ۔

    عصرِ حاضرمیں کسی بھی غلطی یا گناہ پر کُفر کا فتوی لگانا،کسی کو کافر کہ دینا (دین میں)غلو کا ایک مظہر ہے۔یہ فتوئے کفر مسلمانوں کے جان ومال کی حلت کا سبب بنتاہے ،حالانکہ مسلمان اگرچہ کسی بڑے گناہ کا ارتکاب کر رہاہے لیکن وہ اپنے اسلام پر باقی ہے ، اس پر نہ تو کُفر کا فتوی لگے گا اور نہ ہی اُسے کافر قرار دیا جائےگا الا یہ کہ وہ کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کرے جس سے کفر لازم آتا ہے، اس حال میں بھی اُس پر کفر کا فتوی اس وقت تک نہ لگے گا جب تک کہ اس کے سامنے اس کی وضاحت نہ کردی جائے، اور اس کے بعد بھی یہ حکم، پختہ علم رکھنے والے اہلِ علم کےذریعہ ہی ہوگا ،وہی لوگ اُس کے اوپر کفر وردت کا حکم لگائیں گے،ہر ایرے غیرے کو یہ اختیار نہ دیا جائے گا ۔

    ôکسی کو کافر کہنے کی ممانعت:

    اسلام نے کسی مسلمان کو کافرکہنے سے سختی سے منع کیا ہے اور اس سے مکمل طور پر بچنے کا حکم دیا ہے ۔چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِناً
    (النساء94)


    (اور جو تم سے سلام علیک کرے تم اُسے یہ نہ کہ دو کہ تو ایمان والا نہیں)


    ایک مسلمان کا کام صرف یہ ہےکہ وہ بصیرت، علم اور دور اندیشی کے ساتھ
    لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے،اُسے یہ حکم نہیں ہے کہ وہ لوگوں کےدلوںمیں کیا پوشیدہ باتیں ہیں اس کا فیصلہ کرے۔

    دوستو!
    آئیےچند دلائل اور اہلِ علم کے اقوال کی روشنی میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتےہیں۔

    حضرت عبد اللہ بن عُمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنےفرمایا:

    "إذا قال الرجل لأخيه يا كافرفقد باء بها أحدهما، فإن كان كما قال وإلارجعت إليه"
    (بخاري ومسلم)

    (جب کوئی شخص اپنے کسی بھائی کو مخاطب کرکے کہتا ہےکہ اےکافر!تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہوگیا،اگر وہ ایسا ہی ہے جس کو اس نے کافر کہا ہے ورنہ پکارنے والےپر لوٹ آئےگا)


    اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہےکہ انہوں نے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا:
    "من دعا رجلاً بالكفر أو قال عدو الله وليس كذلك إلا حار عليه"
    (بخاري ومسلم)

    (کہ جو شخص کسی کو کافر کہہ کر بلائے یا اسے اللہ کے دشمن کہہ کرمخاطب کرے پھر وہ (جس کو اس نام سےپکارا ہے)ایسا نہ ہو تو وہ پکارنے والے پر پلٹ آئےگا)


    ایک اور مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:
    "إذا قال المسلم لأخيه يا كافر فقد باء بها أحدهما"
    (بخاري)
    (جب کوئی مسلمان اپنے(مسلم)بھائی کو کافرکہے تووہ کفر دونوں میں سےکسی پر ضرور پلٹے گا )

    ایک دوسرے مقام پرحضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
    "ثلاث من أصل الإيمان:
    الكف عمن قال لا إله إلا الله لانكفره بذنب ولا نخرجه من الإسلام بعمل، والجهاد ماضٍ منذ بعثني الله إلى أن يقاتل آخر أمتي الدجال ، لايبطله جور جائر ولاعدل عادل، والإيمان بالأقدار"

    (ابوداؤد(2532)ترمذي(1978)
    حاكم نے صحیح قرار دیاہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے)

    (کہ تین چیزیں ایمان کی بنیاد میں سے ہیں : (1) لا الہ الا اللہ کہنے والےسےہاتھ روکنا،کسی گناہ کی وجہ سے نہ اُسے کافر کہنا اور نہ کسی عمل کی وجہ سے اُسےدائرہ اسلام سے خارج کرنا۔(2)میری بعثت سے لے کر جہاد اس وقت تک جاری رہےگا جب تک کہ میری اُمت کا آخری (گروہ)دجال سے قتال نہ کرے ،نہ کسی ظالم کا ظلم اُسے باطل ٹھہرا سکتاہے اور نہ کسی عادل کا عدل۔(3)اور تقدیر پر ایمان)


    جیساکہ اپنی کتابوں میں ائمہ اسلام نے متنبہ کیا ہے:

    فرماتے ہیں کہ"کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان پر کفر کا فتوی لگائے اگرچہ وہ غلطی اور خطا کرے یہاں تک کہ اس پر حُجت قائم کردی ،اور اس کو صحیح طریقہ بتادیاجائے، اور واضح رہے کہ جس کا مسلمان ہونا یقینی طور پر ثابت ہوچکا ہے تومحض شک کی وجہ سے اُس سے زائل نہ ہوگا بلکہ حُجت قائم ہونے یا شُبہ کے ازالہ کے بعد ہی زائل ہوگا"
    (مجموع فتاوی 12/466)

    حضرت امام احمد – رحمہ اللہ – علماء جہمیہ اور ان کے قاضیوں سے کہتے تھے:اگر تمھارا قول میں کہوں تو میں کافر ہو جاؤں گا لیکن میں تمھیں کافر نہیں کہتا اسلئے کہ تم سب میرے نزدیک جاہل ہو۔

    علامہ شوکانی – رحمہ اللہ – فرماتے ہیں: "جان لو کہ کسی مسلمان پر اس کے دین سے خارج ہونے کا حکم لگانا اور (یہ کہنا کہ )وہ کفر میں داخل ہوگیا،کسی ایسے مسلمان کے لئے جو اللہ اور یومِ آخرت پر یقین رکھتا ہو مناسب نہیں ہے کہ اُس (مسلمان)پر (اس طرح کا حکم لگانے کی )ہمت کرےالا یہ کہ اس کے پاس ایسی دلیل ہو جو سورج سے زیادہ واضح اور روشن ہو، اسلئے کہ صحابہ کی ایک جماعت سے مروی کئی صحیح حدیثوں سے یہ ثابت ہے کہ جس نے اپنے بھائیوں سے کہا اے کافر!تو وہ کفر ان میں سے کسی ایک پر ضرور لوٹےگا ۔ (بخاری)۔

    اور بخاری ومسلم اور ان کےعلاوہ دوسری حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں وارد ہے کہ جس نے کسی آدمی کو کافر کہ کر بلایا ، یا اللہ کا دشمن کہ کر پکارا اور وہ ایسا نہ ہو تو وہ کفر پکارنے والے پر پلٹ آئے گا۔ اور ایک دوسرے لفظ میں ہے کہ ان میں سے ایک کافر ہوگیا ۔

    تویہ حدیثیں اور اس طرح کی دوسری حدیثوں میں اس بات پر سخت تنبیہ اور بڑی نصیحت ہے کہ کسی کو کافر کہنے میں جلد بازی سے کام لیا جائے..." (السیل الجرار: (4/578)




    Last edited by Mohammad Sajid; 30-04-2012 at 11:19 PM.

  2. #2
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: ایک خطرناک كام


    حضرت امام مالک – رحمہ اللہ – کہتے تھے:اگر ننانوے سبب سے کسی شخص کے کافر ہونے اور ایک وجہ سے مسلم ہونے کا احتمال ہو تو مسلم سے حُسنِ ظن کی بنا پر اُسے مسلم کہا جائےگا۔

    جیسا کہ کتاب "صیانۃ الانسان عن وسوسۃ الشیخ دحلان "میں امام محمد بن عبد الوہاب کا یہ صریح قول موجود ہے کہ عبد القادر جیلانی اور سید بدوی کی قبروں کے پاس سجدہ کرنے والے کو اس وقت تک کافر نہیں کہیں گے یہاں تک کہ اس پر حُجت قائم ہوجائے۔

    مسئلہ تکفیر اور اس کی خطرناکی کے بارے میں چند احادیث اور علماء سلف اور اہلِ صلاح وتقوی اہلِ علم کے اقوال کے یہ چند نمونے ہیں۔برخلاف اس کے جن کی زبان سے بغیر علم وبرہان کے تحلیل وتحریم، تبدیع وتفسیق اور تکفیر کے فتوے ہم سنتے رہتے ہیں اور خاص کر علماءو امراء اور حُکام کے بارے میں تکفیر کے فتوے تو بہت عام ہیں ۔

    ô تکفیرسے متعلق اہم ضابطے اور اُصول:

    (1) لفظ ایمان اور کفر ان شرعی الفاظ میں سے ہیں جن کا مفہوم انسان اپنی عقل اور خواہش سے متعین نہیں کرسکتا بلکہ اس کے لئے شرعی قیود کی پابندی اور غایت درجہ احتیاط ضروری ہے۔چنانچہ کتاب وسنت میں جن لوگوں کے کفر وفسق پر واضح دلیل موجود ہے اُسے ہی کافر یا فاسق کہا جائےگا۔

    (الرد علی البکری لشیخ الاسلام ابن تیمیہ ص:258، ملاحظہ فرمائیے:براءۃ السنۃ جنیدی کی ص: 39)


  3. #3
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: ایک خطرناک كام



    ô تکفیرسے متعلق اہم ضابطے اور اُصول:

    (1) لفظ ایمان اور کفر ان شرعی الفاظ میں سے ہیں جن کا مفہوم انسان اپنی عقل اور خواہش سے متعین نہیں کرسکتا بلکہ اس کے لئے شرعی قیود کی پابندی اور غایت درجہ احتیاط ضروری ہے۔چنانچہ کتاب وسنت میں جن لوگوں کے کفر وفسق پر واضح دلیل موجود ہے اُسے ہی کافر یا فاسق کہا جائےگا۔



    (2) کفر وشرک اور ظلم میں سے ہر ایک کی دو قسم ہے:اکبر اور اصغر، یہ وہ اہم قاعدہ ہے جو خوارج اور ان کے پیروکاروں پر مخفی ہے، البتہ سلف صالحین کے نزدیک یہ واضح اور معروف رہا ہے۔ چنانچہ حضرت امام بخاری –رحمہ اللہ – اپنی صحیح میں فرماتے ہیں :"باب کُفران العشیر وکفر دُونَ کفر"(باب خاوندوں کی ناشکری کے بیان میں اور ایک کفر کا – اپنے درجہ میں – دوسرے کفر سے کم ہونے کے بیان میں )

    حافظ ابن حجر- رحمہ اللہ– لکھتے ہیں کہ قاضی ابو بکر ابن العربی اپنی شرح میں فرماتے ہیں :اس قول سے مصنف یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جسطرح طاعات کو ایمان کہا جاتا ہےاسی طرح معصیت کو کفرکا نام دیا جاتا ہے ۔لیکن جس جگہ معصیت پر کفر کا اطلاق ہوگا وہاں کفر سے مُراد وہ کفر نہ ہوگا جو ملت سے نکال دینے والا ہے ۔
    [ الفتح : 1/83 ]

    [الابانۃ لابن بطۃ 2/723، ملاحظہ فرمائیے:براءۃ السنۃ ص:4،فتح الباری: (1/83-87)،مدارج السالکین: (1/344)،اقتضاء الصراط المستقیم : (1/207)]۔

    (3) کسی شخص معین کی تکفیر اوراس کے قتل کا جواز اس وقت تک موقوف رہے گا جب تک کہ اس کے سامنے ان دلائل نبویہ کی وضاحت نہ کردی جائے جن کی مخالفت کفر تک پہونچادیتی ہے ، اس لئے کہ ہر جاہل کو کافر نہیں کہا جائے گا۔

    ( مجموع الفتاوی: (3/229)۔

    (4) کسی مسلمان پر کفر یا فسق کا حُکم لگانے سے قبل دو چیزوں پر غور کرنا ضروری ہے :

    (الف) کتاب وسنت میں واضح دلالت موجود ہو کہ یہ قول یا فعل مُوجب کفر یا فسق ہے۔

    (ب) اس عمل و قول کے کہنے اور کرنے والے شخص پر حکم لاگو بھی ہو اس طرح کہ تکفیر اور تفسیق کے شروط اس کے حق میں پورے ہوتے ہوں اور اس میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔

    ôتکفیر (مُعین )کے شرائط:

    اہلِ سنت وجماعت اس وقت تک کسی مسلمان پر کفر یا ارتداد کا حکم نہیں لگاتے جب تک کہ متفق علیہ اسلام کے منافی امور جو علماء کے نزدیک معروف ہیں ان میں سے کسی امر کا مرتکب نہ ہوجائے،نیزیہ بھی ضروری ہے کہ جس پر ارتداد اور کفر کا حکم لگایا جارہا ہے ذیل میں آنے والے شرائط بھی پائے جائیں ۔

    (1) وہ شخص جاہل نہ ہو جس کی وجہ سے وہ معذور سمجھا جائے۔جیسے کوئی نیا مسلمان ہوا اور شرعی احکام کو ابھی تک نہ سیکھ سکا،یا ایسے ملک میں رہتا ہو جہاں اسلام کا بول بالا نہیں ہے اور قرآن کی تعلیمات قابلِ فہم انداز میں اس تک نہ پہنچی ہوں، یا وہ جس عمل کفر کا ارتکاب کررہا ہے ایسا مخفی حکم ہو جو محتاجِ بیان ہو۔

    (2) وہ مجبور نہ کیا گیا ہو کہ اپنی مجبوری کی وجہ سے صرف چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسلئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    )مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن بَعْدِ إيمَانِهِ إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ وَلَـكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْراً فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
    ((النحل106)

    (جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرےبجز اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو ، مگر جو لوگ کھُلے دل سے کفر کریں تو ان پر اللہ کا غضب اور انہیں کے لئے بہت بڑا عذاب ہے
    )

    یہ آیت اس امر پر دلیل ہے کہ جو شخص مجبوراً کلمہ ء کفر ادا کرے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو اور اس کا مقصد صرف چھٹکارا حاصل کرنا ہو تو وہ کافر نہ ہوگا۔

    (3) وہ ایسی تاویل کرنے والا نہ ہو جسے وہ صحیح سمجھ رہا ہے۔ ایسی صورت میں ضروری ہے کہ اس کی اس غلطی کو واضح کیا جائے۔

    (4) جہالت کی وجہ سے کسی ایسے شخص کی تقلید کرنے والا نہ ہو جسے وہ حق پر سمجھ رہا ہے یہاں تک کہ اس کی (جس کی تقلید کررہا ہے)حقیقت کو واضح نہ کردیا جائے۔

    (5) دین کا پختہ علم رکھنے والے ہی کسی کے مُرتد یا کافر ہونے کا حکم لگائیں گے جو ہر حکم کو اس کا صحیح مقام دیتے ہیں ، اس بارے میں کسی جاہل اور طالب علم کے حکم کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

    خلاصئہ کلام یہ کہ صحیح اور واضح دلیل کے بغیر کسی مسلمان کو خارج از اسلام قرار دینا ایک خطرناک امر ہے، جیسا کہ پچھلے صفحات میں دلائل کے ذریعہ اس کی خطرناکی واضح ہو چکی ہے۔ (الغلو مظاهره ـ أسبابه ـ علاجه)

    ôتکفیر مُطلق:

    قارئین کرام!مذکورہ باتیں کسی شخص مُعین کو کافر قرار دینے سے تعلق رکھتی ہیں،البتہ جہاں تک تکفیر مُطلق کا تعلق ہےتو جو شخص اعمالِ کفریہ میں سے کسی عمل کا مُرتکب ہوگا اُسے مُطلقاً (اس کا نام لئے اور متعین کئے بغیر)کافر کہا جائے گا ۔

    مثلاً:یوں کہا جائے گا کہ جس نے اس طرح کا اعتقاد رکھا وہ کافر ہے،جوان امور میں جو اللہ کے ساتھ خاص ہیں یہ کام کرے وہ کافر ہے،جو غیر اللہ سے فریاد کرے وہ کافر ہے۔

    اس لئے کہ جوشخص بھی اعمالِ کفر کا مُرتکب ہوگا اس کے کافر ہونے پر کتاب وسنت اور سلف صالحین کے اقوال میں دلیل موجود ہے۔

    چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    )إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُواْ بَيْنَ اللّهِ وَرُسُلِهِ وَيقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُواْ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً أُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقّاً وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَاباً مُّهِيناً

    ((النساء150-151)

    ( جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے اور اس کے بین بین کوئی راہ نکالیں ۔یقین مانو یہ سب لوگ اصلی کافر ہیں، اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے)۔

    نیز ارشاد ہے
    وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهاً آخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ( (المؤمنون117)

    (اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں ،پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے بے شک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں) ۔

    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    "من مات يشرك بالله شيئا دخل النار"
    (بخاری:1283،مسلم:92)

    (جو شخص اس حالت میں مرجائے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتاہو تو ہو جہنم میں جائےگا )

    نیز آپ کا ارشاد ہے:
    " العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها فقد كفر"
    (احمد، ترمذی،ابن ماجہ ، بروایت یزید وغیرہم)

    ہمارے اور ان کے درمیان عہد نماز ہے ،جس نے نماز کو ترک کردیا اس نے کفر کیا)۔

    اسی طرح سلف صالحین بعض اہلِ بدعت کوان کے کفریہ اعمال واقوال کی وجہ سے
    (اس کا نام لئے بغیر)کافر کہتے تھے۔مثلاً: قرآن اللہ کا کلام ہے جس نےاسے مخلوق کہا وہ کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔اور جس نے تقدیر کا انکار کیا وہ کافر ہے، اسی طرح جس نے صحابہ کرام کو گالی دی وہ کافر ہے گرچہ وہ روزہ رکھے، نماز پڑھے، اور مسلمان ہونے کا دعوی کرے،اسی طرح جو حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے معبود ہونے کا اعتقاد رکھے، یا یہ کہ (اصل) نبی وہی ہیں حضرت جبریل علیہ السلام سے تبلیغ رسالت میں غلطی ہوئی،تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں بلکہ اس کے کافر ہونے میں جو توقف کرے وہ بھی کافر ہے ۔

    اسی طرح جو یہ گمان کرے کہ نبی (کی وفات) کے بعد سوائے چند کے سارے صحابہ مُرتد ہوگئے،اور (نعوذ باللہ )عموماً صحابہ فاسق ہوگئے،تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں بلکہ اس طرح کے کفر میں جو شک کرے وہ یقینی طور سے کافر ہے۔

    ôتکفیرِ مُطلق میں دو چیزوں کی رعایت:

    (1) اس مسئلہ میں اس بات کی رعایت ضروری ہےکہ اس (تکفیر مطلق)سے تکفیر مُعین لازم نہیں آتا اسلئے کہ آدمی کبھی کفریہ کام کرتا ہے یا اس کی زبان سے کُفریہ کلمات نکل جاتے ہیں لیکن اس کی وجہ سے وہ کافر نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس میں تکفیر کے شروط پائے جاتے ہوں اور اس بارے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔

    (2) اس باب میں اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ سلف سے بعض بدعتی فرقے کی جو تکفیر منقول ہے اس کا تعلق تکفیر مطلق سے ہے ، اس سے اس فرقے کے ہر شخص کی تکفیر لازم نہیں آتی ۔

    جیسے سلف کا جہمیوں اورقدریوں کو کافر کہنا،تو اِن کو کافر کہنا اس بات کا متقاضی نہیں ہے کہ ہر جہمی اور ہر قدری کافر ہے۔ان کے علاوہ اور جن دوسرے فرقوں کو سلف نے کافر کہا ہے اس سے ان کے اعیان کی تکفیر لازم نہیں آتی۔

    (موقف اہل السنہ والجماعۃ من اہل الاہواء والبدع:1/185-191)

    میرے بھائیو!تکفیر مُعین کا معاملہ بڑا خطرناک ہے جیسا کہ آپ کو گزشتہ بیان سے اندازہ ہوگیا ہوگا اسلئے اس معاملہ میں جلدی نہ کریں بلکہ اس مسئلہ میں پختہ علم رکھنے والے علماء کی طرف رجوع کریں ۔بغیر علم کے کلام کرکے اپنی عاقبت خراب نہ کریں۔

    اللہ ہمیں اور آپ کو سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    (آمین)

    (وما توفيقي إلا بالله)



    المراجع والمصادر:

    1ـ تكفير المعين. للشيخ الإمام العلامة عبد الله بن عبد الرحمن أبا بابطين

    2ـ الغلو مظاهره ـ أسبابه ـ علاجه.للشيخ محمد بن ناصر العريني

    3ـ موقف أهل السنة والجماعة من الأهواء والبدع.للدكتور إبراهيم بن عامر الرحيلي

  4. #4
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: ایک خطرناک كام



    ô تکفیرسے متعلق اہم ضابطے اور اُصول:

    (1) لفظ ایمان اور کفر ان شرعی الفاظ میں سے ہیں جن کا مفہوم انسان اپنی عقل اور خواہش سے متعین نہیں کرسکتا بلکہ اس کے لئے شرعی قیود کی پابندی اور غایت درجہ احتیاط ضروری ہے۔چنانچہ کتاب وسنت میں جن لوگوں کے کفر وفسق پر واضح دلیل موجود ہے اُسے ہی کافر یا فاسق کہا جائےگا۔



    (2) کفر وشرک اور ظلم میں سے ہر ایک کی دو قسم ہے:اکبر اور اصغر، یہ وہ اہم قاعدہ ہے جو خوارج اور ان کے پیروکاروں پر مخفی ہے، البتہ سلف صالحین کے نزدیک یہ واضح اور معروف رہا ہے۔ چنانچہ حضرت امام بخاری –رحمہ اللہ – اپنی صحیح میں فرماتے ہیں :"باب کُفران العشیر وکفر دُونَ کفر"(باب خاوندوں کی ناشکری کے بیان میں اور ایک کفر کا – اپنے درجہ میں – دوسرے کفر سے کم ہونے کے بیان میں )

    حافظ ابن حجر- رحمہ اللہ– لکھتے ہیں کہ قاضی ابو بکر ابن العربی اپنی شرح میں فرماتے ہیں :اس قول سے مصنف یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جسطرح طاعات کو ایمان کہا جاتا ہےاسی طرح معصیت کو کفرکا نام دیا جاتا ہے ۔لیکن جس جگہ معصیت پر کفر کا اطلاق ہوگا وہاں کفر سے مُراد وہ کفر نہ ہوگا جو ملت سے نکال دینے والا ہے ۔
    [ الفتح : 1/83 ]

    [الابانۃ لابن بطۃ 2/723، ملاحظہ فرمائیے:براءۃ السنۃ ص:4،فتح الباری: (1/83-87)،مدارج السالکین: (1/344)،اقتضاء الصراط المستقیم : (1/207)]۔

    (3) کسی شخص معین کی تکفیر اوراس کے قتل کا جواز اس وقت تک موقوف رہے گا جب تک کہ اس کے سامنے ان دلائل نبویہ کی وضاحت نہ کردی جائے جن کی مخالفت کفر تک پہونچادیتی ہے ، اس لئے کہ ہر جاہل کو کافر نہیں کہا جائے گا۔

    ( مجموع الفتاوی: (3/229)۔

    (4) کسی مسلمان پر کفر یا فسق کا حُکم لگانے سے قبل دو چیزوں پر غور کرنا ضروری ہے :

    (الف) کتاب وسنت میں واضح دلالت موجود ہو کہ یہ قول یا فعل مُوجب کفر یا فسق ہے۔

    (ب) اس عمل و قول کے کہنے اور کرنے والے شخص پر حکم لاگو بھی ہو اس طرح کہ تکفیر اور تفسیق کے شروط اس کے حق میں پورے ہوتے ہوں اور اس میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔

    ôتکفیر (مُعین )کے شرائط:

    اہلِ سنت وجماعت اس وقت تک کسی مسلمان پر کفر یا ارتداد کا حکم نہیں لگاتے جب تک کہ متفق علیہ اسلام کے منافی امور جو علماء کے نزدیک معروف ہیں ان میں سے کسی امر کا مرتکب نہ ہوجائے،نیزیہ بھی ضروری ہے کہ جس پر ارتداد اور کفر کا حکم لگایا جارہا ہے ذیل میں آنے والے شرائط بھی پائے جائیں ۔

    (1) وہ شخص جاہل نہ ہو جس کی وجہ سے وہ معذور سمجھا جائے۔جیسے کوئی نیا مسلمان ہوا اور شرعی احکام کو ابھی تک نہ سیکھ سکا،یا ایسے ملک میں رہتا ہو جہاں اسلام کا بول بالا نہیں ہے اور قرآن کی تعلیمات قابلِ فہم انداز میں اس تک نہ پہنچی ہوں، یا وہ جس عمل کفر کا ارتکاب کررہا ہے ایسا مخفی حکم ہو جو محتاجِ بیان ہو۔

    (2) وہ مجبور نہ کیا گیا ہو کہ اپنی مجبوری کی وجہ سے صرف چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسلئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    )مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن بَعْدِ إيمَانِهِ إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ وَلَـكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْراً فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
    ((النحل106)

    (جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرےبجز اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو ، مگر جو لوگ کھُلے دل سے کفر کریں تو ان پر اللہ کا غضب اور انہیں کے لئے بہت بڑا عذاب ہے
    )

    یہ آیت اس امر پر دلیل ہے کہ جو شخص مجبوراً کلمہ ء کفر ادا کرے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو اور اس کا مقصد صرف چھٹکارا حاصل کرنا ہو تو وہ کافر نہ ہوگا۔

    (3) وہ ایسی تاویل کرنے والا نہ ہو جسے وہ صحیح سمجھ رہا ہے۔ ایسی صورت میں ضروری ہے کہ اس کی اس غلطی کو واضح کیا جائے۔

    (4) جہالت کی وجہ سے کسی ایسے شخص کی تقلید کرنے والا نہ ہو جسے وہ حق پر سمجھ رہا ہے یہاں تک کہ اس کی (جس کی تقلید کررہا ہے)حقیقت کو واضح نہ کردیا جائے۔

    (5) دین کا پختہ علم رکھنے والے ہی کسی کے مُرتد یا کافر ہونے کا حکم لگائیں گے جو ہر حکم کو اس کا صحیح مقام دیتے ہیں ، اس بارے میں کسی جاہل اور طالب علم کے حکم کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

    خلاصئہ کلام یہ کہ صحیح اور واضح دلیل کے بغیر کسی مسلمان کو خارج از اسلام قرار دینا ایک خطرناک امر ہے، جیسا کہ پچھلے صفحات میں دلائل کے ذریعہ اس کی خطرناکی واضح ہو چکی ہے۔ (الغلو مظاهره ـ أسبابه ـ علاجه)

    ôتکفیر مُطلق:

    قارئین کرام!مذکورہ باتیں کسی شخص مُعین کو کافر قرار دینے سے تعلق رکھتی ہیں،البتہ جہاں تک تکفیر مُطلق کا تعلق ہےتو جو شخص اعمالِ کفریہ میں سے کسی عمل کا مُرتکب ہوگا اُسے مُطلقاً (اس کا نام لئے اور متعین کئے بغیر)کافر کہا جائے گا ۔

    مثلاً:یوں کہا جائے گا کہ جس نے اس طرح کا اعتقاد رکھا وہ کافر ہے،جوان امور میں جو اللہ کے ساتھ خاص ہیں یہ کام کرے وہ کافر ہے،جو غیر اللہ سے فریاد کرے وہ کافر ہے۔

    اس لئے کہ جوشخص بھی اعمالِ کفر کا مُرتکب ہوگا اس کے کافر ہونے پر کتاب وسنت اور سلف صالحین کے اقوال میں دلیل موجود ہے۔

    چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    )إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُواْ بَيْنَ اللّهِ وَرُسُلِهِ وَيقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُواْ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً أُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقّاً وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَاباً مُّهِيناً

    ((النساء150-151)

    ( جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے اور اس کے بین بین کوئی راہ نکالیں ۔یقین مانو یہ سب لوگ اصلی کافر ہیں، اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے)۔

    نیز ارشاد ہے
    وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهاً آخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ( (المؤمنون117)

    (اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں ،پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے بے شک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں) ۔

    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    "من مات يشرك بالله شيئا دخل النار"
    (بخاری:1283،مسلم:92)

    (جو شخص اس حالت میں مرجائے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتاہو تو ہو جہنم میں جائےگا )

    نیز آپ کا ارشاد ہے:
    " العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها فقد كفر"
    (احمد، ترمذی،ابن ماجہ ، بروایت یزید وغیرہم)

    ہمارے اور ان کے درمیان عہد نماز ہے ،جس نے نماز کو ترک کردیا اس نے کفر کیا)۔

    اسی طرح سلف صالحین بعض اہلِ بدعت کوان کے کفریہ اعمال واقوال کی وجہ سے
    (اس کا نام لئے بغیر)کافر کہتے تھے۔مثلاً: قرآن اللہ کا کلام ہے جس نےاسے مخلوق کہا وہ کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔اور جس نے تقدیر کا انکار کیا وہ کافر ہے، اسی طرح جس نے صحابہ کرام کو گالی دی وہ کافر ہے گرچہ وہ روزہ رکھے، نماز پڑھے، اور مسلمان ہونے کا دعوی کرے،اسی طرح جو حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے معبود ہونے کا اعتقاد رکھے، یا یہ کہ (اصل) نبی وہی ہیں حضرت جبریل علیہ السلام سے تبلیغ رسالت میں غلطی ہوئی،تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں بلکہ اس کے کافر ہونے میں جو توقف کرے وہ بھی کافر ہے ۔

    اسی طرح جو یہ گمان کرے کہ نبی (کی وفات) کے بعد سوائے چند کے سارے صحابہ مُرتد ہوگئے،اور (نعوذ باللہ )عموماً صحابہ فاسق ہوگئے،تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں بلکہ اس طرح کے کفر میں جو شک کرے وہ یقینی طور سے کافر ہے۔

    ôتکفیرِ مُطلق میں دو چیزوں کی رعایت:

    (1) اس مسئلہ میں اس بات کی رعایت ضروری ہےکہ اس (تکفیر مطلق)سے تکفیر مُعین لازم نہیں آتا اسلئے کہ آدمی کبھی کفریہ کام کرتا ہے یا اس کی زبان سے کُفریہ کلمات نکل جاتے ہیں لیکن اس کی وجہ سے وہ کافر نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس میں تکفیر کے شروط پائے جاتے ہوں اور اس بارے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔

    (2) اس باب میں اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ سلف سے بعض بدعتی فرقے کی جو تکفیر منقول ہے اس کا تعلق تکفیر مطلق سے ہے ، اس سے اس فرقے کے ہر شخص کی تکفیر لازم نہیں آتی ۔

    جیسے سلف کا جہمیوں اورقدریوں کو کافر کہنا،تو اِن کو کافر کہنا اس بات کا متقاضی نہیں ہے کہ ہر جہمی اور ہر قدری کافر ہے۔ان کے علاوہ اور جن دوسرے فرقوں کو سلف نے کافر کہا ہے اس سے ان کے اعیان کی تکفیر لازم نہیں آتی۔

    (موقف اہل السنہ والجماعۃ من اہل الاہواء والبدع:1/185-191)

    میرے بھائیو!تکفیر مُعین کا معاملہ بڑا خطرناک ہے جیسا کہ آپ کو گزشتہ بیان سے اندازہ ہوگیا ہوگا اسلئے اس معاملہ میں جلدی نہ کریں بلکہ اس مسئلہ میں پختہ علم رکھنے والے علماء کی طرف رجوع کریں ۔بغیر علم کے کلام کرکے اپنی عاقبت خراب نہ کریں۔

    اللہ ہمیں اور آپ کو سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    (آمین)

    (وما توفيقي إلا بالله)



    المراجع والمصادر:

    1ـ تكفير المعين. للشيخ الإمام العلامة عبد الله بن عبد الرحمن أبا بابطين

    2ـ الغلو مظاهره ـ أسبابه ـ علاجه.للشيخ محمد بن ناصر العريني

    3ـ موقف أهل السنة والجماعة من الأهواء والبدع.للدكتور إبراهيم بن عامر الرحيلي

  5. #5
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi/Lahore Pakistan
    Posts
    12,439
    Mentioned
    34 Post(s)
    Tagged
    9180 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    249126

    Default Re: ایک خطرناک كام

    Jazak Allah Khair

  6. #6
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default Re: ایک خطرناک كام

    jazakALLAH khair....

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •