یوں محسوس ہوتا ہے کہ بڑے میاں نواز شریف پر برادر خورد چھوٹے میاں شہباز شریف عرف خادم پنجاب کا کچھ زیادہ ہی اثر ہوگیا ہے کہ پہلے تو وہ ایسی عجلت پسندی کے عادی نہ تھے اور ہمیشہ ٹھنڈی کرکے کھاتے تھے لیکن اب وہ ہر گرم نوالہ سوچے سمجھے بغیر منہ میں ڈال لیتے ہیں جو تحریک استقلال سے بذریعہ جنرل جیلانی و جنرل ضیاء الحق یہاں تک پہنچنے والے”تجربہ کار“ سیاستدان کو زیب نہیں دیتا۔ پہلا گرم گرم نوالہ جو توے سے سیدھا منہ میں جا کر زبان جلا گیا میمو گیٹ کا نوالہ تھا کہ آپ سوچے سمجھے بغیرکالا کوٹ زیب تن فرما کر عدالت جا پہنچے تو نتیجہ سب کے سامنے ہے۔کھایا پیا کچھ نہ گلاس توڑا چار آنہ اور اب پھرناقابل یقین و بیان پھرتی کے ساتھ لانگ مارچ کی بڑھک لگادی تو مجھے ذاتی طور پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی اس بات میں بہت دم دکھائی دیتا ہے کہ حضرت عمران خان سے بری طرح خوفزدہ ہیں۔ان کی تمام تر سیاسی دانش کے پیچھے صرف اور صرف عمران خان کا دباؤ تھا کہ اس کے مارچ سے پہلے میاں صاحب اپنا مارچ اناؤنس کرکے خود سارا کریڈٹ سمیٹ سکیں۔ دوسری طرف عمران خان نے خلاف توقع حددرجہ سیاسی میچورٹی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف وزیر اعظم کی اپیل اور پھر اس اپیل کے نتیجہ تک کوئی حرکت نہیں کرے گی۔
عمران خان کی یہ میچورٹی میاں نواز شریف کی عجلت پسندی کو بری طرح ایکسپوز کردے گی کیونکہ اگر فائنل فیصلہ گیلانی کے حق میں آتا ہے تو ان کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی اور اگر فیصلہ گیلانی کے خلاف جاتا ہے تو مجھے سو فیصد یقین ہے کہ گدی نشین فوری طور پر وزارت عظمیٰ کی گدی سے سٹیپ ڈاؤن کر جائے گا سو ایک اور ”کھسیانگی“ میاں صاحب کے سیاسی کھاتے میں درج کردی جائے گی۔
میاں صاحب کا یہ فرمانا بھی”اقوال زریں“ سے کچھ کم نہیں کہ وہ ”ذاتی“ لانگ مارچ کے لئے مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی، ناہید خان ٹائپ ڈھائی ٹوٹرو اور عمران خان سے بھی رابطہ کرینگے تاکہ یہ سب”احمق“ مل جل کر نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کا رستہ ہموار کرسکیں۔ قاضی حسین احمد صاحب کا ری ایکشن تو میں ٹی وی پر دیکھ چکا، فضل الرحمن کا کچھ کہہ نہیں سکتا کیونکہ ڈیزل سے غسل کرنے والا کسی بھی لمحے ہاتھ سے پھسل سکتا ہے، رہ گئی ناہید خان تو وہ بے چاری تو نہ تین میں نہ تیرہ میں اور بینظیر بھٹو سے”ڈیل“ کرنے والا اگر آج اس کی”اٹینڈنٹ“ تک آپہنچا تو جان لیں کہ ن لیگ کی اصل حالت کیا ہے؟ فرسٹریشن کا گراف کہاں پہنچ چکا ہے؟
باقی بچا عمران خان تو سبحان اللہ… اول تو وہ برسہا برس جن دونوں کو چور کہتا رہا ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی جائے گا تو بری طرح برباد ہوجائے گا۔ دوسری بات یہ کہ آج عمران خان سیاسی مقبولیت کی جس معراج پر ہے تو اس کو نواز شریف کی نہیں نواز شریف کو اس کی قیادت میں اسے جوائن کرنا ہوگا۔عمران خان اس کی”پخ“ یا”کرالری“ نہیں بن سکتا کہ تحریک انصاف قبولیت و مقبولیت میں ن لیگ سے کہیں آگے ہے سو پہلی بات یہ کہ لوجیکل لانگ مارچ کی نوبت ہی نہ آئے گی کیونکہ حتمی خلاف فیصلے کے بعد گیلانی صاحب اپنا کوئی”ثانی“ چھوڑ کر پھر ملتانی ہوجائیں گے۔ بالفرض محال ایسا نہیں ہوتا اور وہ منصب سے چپکے رہنے کی کوشش کرتے ہیں تو نواز شریف کی طرح عمران خان کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں… وہ اکیلا ہی کافی ہوگا کسی بھی لانگ مارچ کے لئے۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
میاں برادران کو دوسرا خطرہ”زرداری بجٹ“ سے ہے کہ وہ آصف زرداری کی”سرپرائزر“ سے بھی بری طرح سہمے ہوئے ہیں۔ یہ بات میرے سیاسی ایمان کا حصہ ہے کہ بھولی بھالی کونونٹ ماری بی بی بینظیر زندہ ہوتی تو یہ اسے کب کا کھاپی گئے ہوتے اور یہ صرف صرف اور صرف آصف زرداری ہی ہے جس نے انہیں تگنی کا ناچ نچائے رکھا اور سمجھ ہی نہیں آنے دی کہ ہو کیا رہا ہے۔ اس انگریری محاورہ کا خالق میں نہیں کہ"At rome do as the romans do"اس کا قریب قریب اردو ترجمہ کچھ یوں ہے کہ… ”جیسا دیس ویسا بھیس“۔ پاکستان کیگندی، غلیظ، بکاؤ، بے اصول، بدکردار، رنگ باز،جھوٹی، منافق، ڈھیٹ، بے شرم اور بے حیا سیاست و جمہوریت میں بیشک میاں صاحبان بے جوڑ اور صاحبان اسلوب تھے۔ بھٹو کی بیٹی ان کے سامنے”طفل مکتب“ تو کیا…سمجھو ابھی پیدا بھی نہ ہوئی تھی لیکن آصف زرداری…الامان الحفیظ میں جانتا تھا کہ انہیں انہی لوگوں کی وکٹ پر اس طرح مارے ،بھگائے اور پدائے گا کہ انہیں سمجھ ہی نہیں آئے گی کہ ہو کیا رہا ہے۔اسی لئے جب زرداری نے ٹیک اوور کیا تو میں نے لکھا تھا کہ گوالمنڈی کا اصل جواب بمبینو سینما کی صورت میں اب سامنے آیا ہے۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا اور آخر پر ترجمان شریف فیملی کا یہ ایمان افروز بیان ملاحظہ فرمائیے۔”مہران بینک کا قرضہ سود سمیت واپس کردیا، مہران بینک سے4.80کروڑ روپے قرضہ لیا،10کروڑ80لاکھ واپس کئے“کیا زمانہ ہے کہ لوگ کسی اور غلطی کا اعتراف تو کرتے نہیں”سود“ کااعتراف کرتے ہوئے ہچکچاتے نہیں۔نوٹ:۔ بیشمار قارئین کی فرمائش ہی نہیں باقاعدہ”ضد“ ہے کہ ریمنڈ بیکر کی کتاب سے اقتباسات پیش کرو ں، عنقریب تعمیل ہوگی۔ قارئین یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ یہ کتاب کہاں سے ملے گی۔ اطلاعاً عرض ہے کہ میں نے کمپیوٹر سے ڈاؤن لوڈ کرائی ہے شاید پاکستان میں دستیاب ہی نہ ہو۔