آج مورخہ 29 اپریل کو میں لندن اور کیو(Kiev) کی پندرہ روزہ سیروتفریح سے لوٹا ۔ لندن میں بیگم کی والدہ کے گھر داماد رہے اور (Kiev) میں اپنے قریبی دوست جنرل سلیم میلا جو آج کل یوکرائن میں پاکستان کے سفیر ہیں ان کے گھر رہے اور ان کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔چونکہ یہ نجی دورہ تھا اس لئے آدھا کامیاب اور آدھا ناکام رہا۔کامیابی کی وجہ ذہنی سکون کی دستیابی تھی کیونکہ اس عرصہ میں پاکستان کے اخبارات اور ٹی وی ٹاک شوزسے دور رہا۔ دوسری کامیابی یہ ہوئی کہ ہمارے قیام و طعام کا بندوبست کسی اور کے سر تھا۔ناکامی کی وجہ سوچتے ہوئے ایک پرانا قصہ یا د آ یا جب مشتاق یوسفی صاحب انگلستان سے لوٹے تو سید ضمیر جعفری نے ان سے دریافت کیا کہ قبلہ آپ کا دورہ کیسا رہا؟ جس پر وہ بولے ” فوائد تو خاصے نظر آئے مگر کم بخت ہاتھ نہ آئے“ میری ناکامی اس سے بھی کچھ زیادہ ٹھہری۔ سب سے بڑی ندامت تو اپنی ناکامی پر ہوئی کہ ہم نے اپنے پیارے ملک کو وسائل ہونے کے باوجود کس حال تک پہنچا دیاہے۔ آج جب کچھ لکھنے بیٹھاتو یک لخت بیگم اختر ریاض الدین کی کتاب ”دھنک پر قد م“ کی یاد آئی۔ یہ پہلا سفر نامہ تھا جو میں نے فوج میں جانے سے پہلے پڑھا اور اس پر پہلا اور آخری مقالہ29 جون1970 ئکو کتاب کی تقریب رونمائی میں پڑھا۔مزے کی بات کہ آج سید ضمیر جعفری کی 1971 ء کی لکھی ہوئی ڈائری میرے ہاتھ لگی جس میں انہوں نے اس تقریب کا حوالہ کچھ یُوں دیا ” رسالہ نقوش کا شمارہ ملا۔ عام نمبر ہے مگر اس کا عام نمبر دوسرے رسائل کے خاص نمبروں سے زیادہ وزنی ہوتا ہے۔ مراد ادبی وزن سے ہے۔ کچھ عرصہ ہوا جب احتشام گورڈن کالج میں پڑھتا تھا تو پاکستان کونسل راولپنڈی نے بیگم اختر ریاض الدین احمد کی کتاب ”دھنک پر قدم“کی تعارفی تقریب کا اہتمام کیا تو اس میں تبصرے کے لئے معروف و ممتاز اہل قلم کے ساتھ نوجوان پود کا نکتہ نظر دریافت کرنے کی غرض سے گورڈن کالج کے پرنسپل سے کسی طالب علم کو نام زد کرنے کو کہا تو پرنسپل نے ہمارے احتشام کو نام زد کردیا۔جس کا بچے نے مجھ سے کوئی ذکر نہ کیا۔تقریب میں صاحب زادے کو مضمون نگاروں میں دیکھ کر حیرت ہوئی اور جب اس نے مضمون پڑھا تو شرمساری! کتاب سفر ناموں کی تھی۔میکسیکو کے تذکرے میں مصنّفہ نے ”سانڈوں کی لڑائی“ کا بہت ذکر کیا ہے ۔اس حوالے سے احتشام نے کہا ”سمجھ میں نہیں آتا کہ بیگم اختر ریاض الدین انسان کے ساتھ ہیں یا سانڈ کے ساتھ“۔ اس پر ایوان تو دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا مگر میرا سر مارے ندامت اس کی شوخی اور جسارت پر اتنی ہی دیر جھکا رہا۔ اب جو دیکھتا ہوں تو ”نقوش“ کے اس شمارے میں وہ مضمون بھی شامل ہے“۔ یہ سب کچھ پڑھنے کے بعد مزید سفر نامہ لکھنے کی کیا کوئی گنجائش بچتی ہے؟۔ البتہ سفر کی مختصر تفصیل دیئے دیتا ہوں۔کافی عرصے بعد PIA میں اڑنے کا اتفاق ہوا۔ 13اپریل کو کراچی جانے کے لئے بڑی تگ و دو کے بعد اکانومی کلاس میں دو عدد ”بلک ہیڈ“ نشستیں حاصل کیں۔ یہ وہ اہم نشستیں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے آپ اپنی نشست کی تنگدستی کو ٹانگیں پھیلا کر وسعت دے سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ جب بورڈنگ کارڈ ملا تو ہمارے لیے مخصوص نشستیں تبدیل ہو چکی تھیں اور پوچھنے پر معلوم ہو ا کہ یہ ارکان نیشنل اسمبلی کو دے دی گئی ہیں ۔ میں اس تبدیلی پر خاموش رہا کیونکہ بھلے وقتوں میں بھی بسوں کی فرنٹ سیٹ کے سامنے لکھا ہوتا تھا کہ یہ سیٹ کسی بھی وقت خالی کرائی جا سکتی ہے۔لندن میں ماسوائے مشرف صاحب کے خاصے پاکستانیوں سے ملاقات ہوئی جو پاکستان کے مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے۔ ایک بچی نے اپنے تاثرات سناتے ہوئے انگلستان کی تعریف کی کہ یہاں ہر وہ کام ہوتاہے جس کی تعلیم اسلام نے دی ہے۔ اور بد قسمتی سے ہمارے ہاں وہ کام ہوتے ہیں جن کی اسلام نفی کرتا ہے۔ پاکستانی نژاد نوجوانوں کو مَیں نے پاکستان میں تبدیلی کے حق میں بہت پرجوش اور پُر امید پایا۔ زیادہ تر کی نظریں عمران خان پر لگی ہوئی ہیں کہ شاید وہ ہمارے ملک کی تقدیر بدل سکے۔بہت سے برطانوی نژاد پاکستانیوں نے مجھ سے حیرانگی کا اظہار کیا کہ آپ کس طرح کے لوگ ہیں جو عدلیہ کے فیصلوں کو بھی نہیں مانتے؟ مجھے ان معاملات میں اپنی ریاست کی ناکامی اور خود کو ناکام شہری ہونے پر بہت شرمندگی ہوئی۔ایک صاحب نے برطانیہ کے ہوم سیکرٹری کا ذکر کیا جس نے اس الزام پر استعفیٰ دے دیا کہ اس نے اپنی گھریلوملازمہ کے ویزا کی درخواست کی کارروائی کو تیز کرنے پر زوردیا ۔ حالانکہ اس خاتون کی درخواست قواعد و ضوابط کے عین مطابق تھی۔ مگرپھر بھی میڈیا نے اس کو قطار بندی کی کارروائی کی خلاف ورزی قرار دیا ۔ جو انسانی حقوق کی پامالی کے زمرے میں آتی ہے۔
قارئین کرام! یوکرائن جانے کی ہامی بھرنے کی دو
بڑی وجوہات تھیں۔ ایک تو ہمارے سفیر دوست کی پر خلوص دعوت اوردوسرے وہاں پر موجود حوروں کا چرچا۔ دوست کا خلوص اور ان کی مہمان نوازی میں تو خاصی کامیابی ہوئی۔البتہ حوروں کے دیدار میں سراسر ناکامی۔ یقین کیجیے مجھے تو کوئی حور نظر نہیں آئی اور بھلا آتی بھی کیسے ، کیونکہ بیگم ہر روز دو سے تین بار پوچھتیں کہ کوئی حور نظر آئی، اگر آئے تو مجھے بھی دکھانا۔فی الحال ظہر کی نماز پڑھ لو وقت نکلتا جا رہا ہے۔شکر ہے اس عرصے میں میری کوئی نماز قضا نہ ہوئی۔ اللہ بیگم کا بھلا کرے جس نے شریکِ حیات کے علاوہ الارم کلاک کا فریضہ بھی بخوبی ادا کیا۔ یوکرائن میں پاکستانیوں کی تعدادخاصی کم ہے ۔اس لئے مجھے وہاں کٹہرے میں کم ہی کھڑا ہونا پڑا۔ کئی پاکستانیوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ زیادہ تر نے رنگ اور نسل کے علاوہ ہمارے دونوں ممالک کی قدریں مشترک پائیں۔ نظام اشتراکیت میں اتنا عرصہ رہنے کے باوجود بھی وہ لوگ ابھی تک توہم پرست ہیں۔ یہ لوگ آرتھو ڈوکس کرسچین ہیں جو اپنی عبادت گاہوں میں سر اور ٹانگیں ڈھانپتے ہیں۔ کئی گرجا گھروں میں تو انہیں ماتھا ٹیکتے ہوئے بھی دیکھا۔کرپشن کے میچ میں اگر وہ اور ہم برابر بھی ہوں تواللہ کے فضل سے یہ میچ ہم پینلٹی سٹروک سے جیت جائیں گے کیونکہ وہ اپنی خاصی کثیر رقم قوم کی بھلائی میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ہاں جمہوریت میں ہم ان سے بہت آگے ہیں۔کیونکہ ان کی اپوزیشن لیڈر جیل میں بند ہے اور اس کے حق میں نعرے بازی کی اجازت ایک مخصوص جگہ کے علاوہ نہیں ہے۔لانگ مارچ کی اوّل تو ان کو ضرورت نہیں پڑتی اور اگر پڑ بھی جائے تو سڑک پر نہیں ہو سکتا۔ ہم ان سے تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے ہیں ۔کیونکہ وہاں تعلیم مفت دی جاتی ہے۔اپنے تاریخی ورثے سے لگاؤ رکھتے ہیں اور اس حوالے سے تمام نوادرات اور اپنے ہیروز اور ان کے کارناموں کو محفوظ رکھا ہوا ہے۔ دھنک پر قدم، میں نے 1970ء میں پڑھی اور 2012ء میں سمجھ آئی کہ دھنک پر قدم کس کو کہتے ہیں۔ میرے نزدیک مہذب معاشرے کے باشندے اور ان کی متحرک حکومتیں ہمیشہ سے فلاحی اور خوشحالی کے حصول میں کوشاں رہتی ہیں۔ انسان کے علاوہ جانوروں کی بھی قدروقیمت کا احساس کرتی ہیں ۔دوسری طرف ہم ہیں کہ انسان ہونے کے باوجود بھی انسانوں کو جانوروں سے بدتر سمجھتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے کی کامیابی اور فلاح و بہبودکا حصول امن اور بھائی چارے سے ہی ممکن ہے۔ ان کے ہاں ہر پل دھنک پر قدم ہے مگر ہمارے یہاں مفلسی اور بے چارگی ہر قدم پر ہے۔ ہمارے پاس نہ تو وسائل کی کمی ہے اورنہ ہی ہُنر کی۔ بس اپنی سوچ و فکر میں تبدیلی لانا ہوگی کیونکہ مفلسی ہمارا مقدر نہیں رہ سکتی۔