سپریم کورٹ کی طرف سے سنائے گئے اس تاریخی فیصلے کے بعد مسلم لیگ نواز کے چھوٹے ،بڑے اور درمیانے لیڈران کا کہنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے پاس قانونی جواز کے علا وہ اب کسی بھی قسم کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رہ جاتا کہ وہ خود کو وزیر اعظم کہلا سکیں یا بطور وزیر اعظم اپنے فرائض انجام دے سکیں جناب نواز شریف نے تو پریس کانفرنس میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ سپریم کورٹ کادیاگیا فیصلہ حرف آخر ہے اور سپریم کورٹ کے اس سات رکنی بنچ کی عزت و توقیر کیلئے وہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ بھی کریں گے اور سنا ہے کہ پنجاب حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ گیلانی کو جو اب وزیر اعظم نہیں رہے پنجاب حکومت کی طرف سے کسی بھی قسم کا کوئی پروٹو کول نہیں دیا جائے گا․․․جواب میں سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کی طرف سے دی گئی جوابی دھمکی اس ملک کی بنیا دوں کو ہلا دینے والی ہے ان کے الفاظ ہیں کہ ” سندھ نے اپنے ساتھ کی گئی زیا دتیوں پر بہت صبر کیا اب اگر لاہور والوں نے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا تو سندھی لاہور کی طرف مارچ کریں گے“۔ گویا پاکستان کے دو صوبوں پنجاب اور سندھ کے حکمران اپنی اپنی ”جماعتیں‘ لے کر ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں گے؟۔ لگتا ہے کہ ٹام اور جیری کا کھیل پھر شروع ہونیو الا ہے؟ اس سے پہلے کہ بات صوبائی منافرت کی طرف بڑھنے لگے سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس محفوظ خاتون رکن اسمبلی سمیت دوسرے اراکین کی نا اہلیت کے ریفرنس چیف الیکشن کمیشن کو بھیجنے ہوں گے اور”ورنہ قائم علی شاہ کی پریس کانفرنس اور ملتان میں ضمنی الیکشن کے نتائج آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہیں لیکن یہ بات بھی مد نظر رہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں عدلیہ کے فیصلوں اور ان کی آراء کا احترام لازمی ہے اور جب ملک کی سب سے بڑی عدلیہ کوئی بھی فیصلہ دے دے کوئی بھی رائے دے دے تواس کی پابندی ایک عام آدمی سے لے کر صدر پاکستان تک سب کیلئے فرض بن جاتی ہے جس طرح26 اپریل کو سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے یوسف رضا گیلانی کے خلاف فیصلہ سنایا ہے اسی طرح آج سے بارہ سال پہلے اسی سپریم کورٹ نے مشہور ظفر علی شاہ کیس میں اپنا ایک فیصلہ سناتے ہوئے جناب نواز شریف کے بارے میں ایک مکمل پیرا تحریر کیاتھا میں اس پیرے میں سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی اس رائے کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا لیکن وہ رائے سپریم کورٹ کی طرف سے ظفر علی شاہ کیس میں سنائے گئے فیصلہ کے ریکارڈ کا آج بھی حصہ ہے ․․․ سپریم کورٹ اور دوسرے لوگوں کو اپنی اس رائے کا احترام بھی کرنا ہو گا آج بے شک سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد یوسف رضا گیلانی کے پاس بطور وزیر اعظم کام کرنے کا کوئی بھی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رہ جاتالیکن مسلم لیگ نواز کے لیڈران کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ظفرعلی شاہ کیس میں جو ریمارکس دیئے ہیں جب تک وہ ریمارکس سپریم کورٹ'' conviction'' کی طرح حذف نہیں کردیتی نواز لیگ کے لیڈران پاس بھی پنجاب یا کسی جگہ حکومت کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا؟۔اور کل ہی وزیر داخلہ رحمان ملک نے جو کچھ بھی کہا ہے32ملین ڈالر کا جو الزام لگایا ہے اس کا بھی اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جا نا چاہئے․․․․اگر رحمان ملک کے یہ الزامات جھوٹے ہیں تو انہیں نشان عبرت بنا دیا جائے اور اگر ان کے یہ الزامات سچے ہیں تو پھر․․․․انصاف کیا جائے…!