بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کے ازالے کے لئے ہم نے اپنے گزشتہ کالموں میں جو اقدامات تجویز کئے، ان کے علاوہ بھی کرنے کے بہت سے کام ہیں۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ وفاقی سطح کی سیاسی پارٹیاں دوسرے صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی اپنی سرگرمیاں بڑھائیں تاکہ یہاں کے عوام کو قومی دھارے میں لایا جاسکے۔ بڑی سیاسی پارٹیوں کا اب تک وطیرہ یہی رہا ہے کہ ان کے لیڈر کوئٹہ یا کبھی کبھار ایک دو دوسرے مخصوص علاقوں میں جاتے ہیں۔ اپنی پارٹی کے صوبائی لیڈروں سے گپ شپ کرتے ہیں۔ میر معتبرین کی پرتکلف دعوتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور پریس کانفرنس یا تحریری بیان جاری کرکے واپس سدھارتے ہیں۔ عام لوگوں سے ان کا ملنا جلنا بہت کم ہوتا ہے۔ اندرون بلوچستان کسی جلسے میں شریک ہوتے ہیں نہ کسی اجتماع میں مقامی لوگوں کے دکھ درد معلوم کرتے ہیں۔ انتخابات کے موقع پر کسی جگہ ”خطاب‘ کرنے جاتے ہیں تو وہ بھی نیم دلی سے۔ اور تو اور صدر اور وزیراعظم سمیت وفاقی وزرا بھی کم ہی بلوچستان کارخ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت کے ذمہ دار لوگ کوئٹہ میں بیٹھ کر امن و امان اور دوسرے مسائل پر توجہ دینے کی بجائے ”اپنے کام“ نکلوانے کے لئے زیادہ تر اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے نظر آتے ہیں، اس بے حسی کی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان اپنی کم آبادی کی وجہ سے قومی لیڈروں کے لئے زیادہ کشش نہیں رکھتا۔ ان کی توجہ کا اصل مرکز پنجاب ہوتا ہے یا سندھ، یا پھر کسی حد تک خیبرپختونخوا کیونکہ آبادی کے لحاظ سے قومی اسمبلی میں ان کی نشستیں زیادہ ہیں۔ 342رکنی قومی اسمبلی میں پنجاب کی 183، سندھ کی 75 اور خیبرپختونخوا کی 43نشستیں ہیں۔ ان کے مقابلے میں بلوچستان کا حصہ صرف 17نشستوں پر مشتمل ہے اتنی تھوڑی سی نشستوں کے لئے وسیع و عریض بلوچستان میں اپنا وقت ”برباد“ کرنے کی بجائے وہ پنجاب کے گلی کوچوں کے چکر کاٹتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیت کر ملک کا اقتدار سمیٹ لیں یا پھر سندھ ان کی توجہ کامرکز ہوتا ہے جو انہیں تاج سلطانی پہنانے میں زیادہ مدد دے سکتا ہے۔ ملک گیر سیاسی پارٹیوں کی اس سوچ کی وجہ سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں علاقائی اور مرکز گریز سیاست کے رحجان کوفروغ حاصل ہوا اورقوم پرست پارٹیوں کو پذیرائی ملی خصوصاً بلوچستان میں جب بھی شفاف انتخابات ہوئے قوم پرستوں نے اکثریت حاصل کی۔ وفاقی اشرافیہ نے باامر مجبوری انہیں حکومت بھی دی مگر اس سے پہلے کہ وہ صوبے کے حقیقی مسائل حل کرتے علیحدگی پسندی یا کسی دوسرے بہانے سے انہیں ایوان اقتدار سے چلتا کیا۔
ذوالفقار علی بھٹو واحد قومی لیڈر تھے جنہوں نے بلوچستان کے زیادہ علاقوں کے دورے کئے اور بلوچ ان کے نام سے آشنا ہوئے۔ دوسرے لیڈروں میں سے اکثر کے تو نام بھی عام آدمی کم ہی جانتا ہے۔ مگر بھٹو جماعتی سیاست کے حصار سے باہر نہ نکل سکے اور بلوچستان میں ’پاکستانیت‘ کو فروغ دینے کا انہیں جو سنہری موقع ملا تھا اسے صوبے میں سب سے بڑے فوجی آپریشن کے ذریعے ضائع کر دیا۔ ملک گیر بڑی پارٹیوں کی بلوچستان میں صوبائی شاخیں قائم ہیں اور کئی نامور اور بااثر شخصیات ان میں شامل ہیں مگر لوگ جانتے ہیں اور وہ خود بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ انہیں ملک کا صدر بننا ہے نہ وزیراعظم۔ ان میں سے علامتی طور پر دوچار کو اقتدار میں شریک کیا بھی گیا تو انہیں پچھلے بینچوں پر ہی بیٹھنا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور بلوچستان کا اصل مسئلہ بھی یہی ہے کہ قومی پالیسیوں کی تشکیل میں ان کا حصہ بس واجبی سا ہی ہوتا ہے اس لئے وہ صوبے سے کم ہی باہر نکلتے ہیں۔ ان کی سیاست زیادہ تر اپنے انتخابی حلقے یا قبیلے تک محدود رہتی ہے۔ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں میں سے کسی کا سربراہ یا سیکرٹری جنرل بھی آج تک بلوچستان سے کسی کومنتخب نہیں کیا گیا کیونکہ ایک تو ان پارٹیوں کی قیادت موروثی ہوتی ہے دوسرا ان میں انتخابات کی روایت ہی نہیں۔ عہدے انتخاب کے نام پر نامزدگیوں کے ذریعے بلامقابلہ تقسیم کئے جاتے ہیں اوروہ بھی بڑے صوبوں کو ملتے ہیں۔ بلوچستان سے محض خانہ پری کی جاتی ہے حالانکہ میرغوث بخش بزنجو، نواب محمد اکبر بگٹی، سردار عطااللہ مینگل اور میرظفراللہ جمالی جیسی نابغہ سیاسی شخصیات کو جنم دینے والے صوبے میں باصلاحیت سیاستدانوں کی کمی نہیں جنہیں آگے لایا جاتا تو وہاں کی سیاسی صورت حال آج مختلف ہوتی۔ ملک گیر سیاسی پارٹیوں کو اگر بلوچستان کی فکر ہے تو انہیں قوم پرستوں سمیت بلوچ و پشتون سیاسی قیادت کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ ان کے مشوروں کو اہمیت دینا ہوگی۔ دوسرے صوبوں کی طرح بلوچستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک شہروں قصبوں کلیوں اورگوٹھوں کے دورے کرنا ہوں گے۔ اوطاقوں اور مجلسوں میں عوام اور ان کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے دکھ سکھ بانٹنے ہوں گے۔ اسلام آباد لاہور کراچی یا پشاور میں بیٹھ کر بلوچستان کے حقوق کی حمایت میں تقریریں کرنے اور بیانات جاری کرنے سے اہل بلوچستان کے مسائل حل ہوسکتے ہیں نہ ان کی ہمدردیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ بلوچستان میں مزاحمتی تحریک شدت اختیارکر رہی ہے۔ سیکورٹی فورسز سرکاری دفاتر اور حساس تنصیبات پر چھپ کر حملے ہو رہے ہیں، مبینہ طور پر لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی جا رہی ہیں اور فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ نے امن و امان کیلئے سنگین خطرات پیدا کر دیئے ہیں، قومی سیاسی پارٹیاں مزاحمت کاروں کی لیڈر شپ کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ یہ کام محض حکومت پر نہ چھوڑیں کیونکہ وہ اس معاملے میں پہلے ہی بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔