عدالت عظمیٰ سے سزا ملنے کی وجہ سے مجرم قرار دیئے جانے کے بعد یوسف رضا گیلانی کے وزیراعظم کے عہدے سے چمٹے رہنے سے قانون کی حکمرانی کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے نکلا ہے، دنیا میں تو معمولی الزام پر لوگ مستعفی ہوجاتے ہیں یا ان کی جماعتیں ان کو چلتا کر دیتی ہیں۔ صرف الزامات نہ سہی مگر کسی عدالت کے سزا سنا دینے کے بعد عہدہ نہ چھوڑنا آئینی اور اخلاقی اقتدار کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔ گیلانی صاحب کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔ اب تو صرف چند ماہ کی بات ہے ۔ ان کیلئے عقل مندانہ راستہ یہی تھا کہ فیصلہ سننے کے فوراً بعد کمرہ عدالت سے ہی وہ استعفے کا اعلان کر دیتے مگر انہوں نے تو کمال مسکراہٹ سے اسے سنا اور وزیروں کے جھرمٹ میں وہاں سے رخصت ہوئے اور کابینہ کا اجلاس بھی کر ڈالا۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ مستعفی ہونے کے بعد فیصلے کے خلاف اپیل فائل کرتے اور دوسرے آئینی اور قانونی ذرائع استعمال کر کے اپنے آپ کو سزا یافتہ ہونے کے داغ سے صاف کراتے، اس سے ان کے سیاسی قد میں بہت اضافہ ہو جاتا مگر انہیں کیا پڑی کہ وہ اپنا نام روشن کریں وہ تو زیادہ سے زیادہ عرصہ تک وزیراعظم رہنا چاہتے ہیں۔ اب ہر روز بیسیوں بار وہ مجرم وزیراعظم کا لقب سنیں گے جس سے یقیناً انہیں تکلیف ہونی چاہئے۔ آئندہ چند ماہ جن کے دوران وہ اپنے آپ کو پوتّر کرانے کیلئے مختلف آئینی اور قانونی حربے استعمال کریں گے ملک جامد رہے گا۔ وہ اور ان کے قانونی مشیران چاہ رہے ہیں کہ وہ اپنی ٹرم اسی جنگ میں ہی گزار دیں۔ ان کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن جو کسی بھی مقدمے کو کھینچنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں عدالت عظمیٰ کے ایک بڑے بنچ کے سامنے اپیل دائر کریں گے اور اگر فیصلہ ان کے خلاف آیا تو پھر آئین میں دیئے گئے نااہلی کے طریقہ پر عمل شروع ہو جائے گا۔ حکومت کی کوشش ہوگی کہ اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا عدالت کے فیصلے کو یہ کہہ کر رد کر دیں کہ اس سے وزیراعظم کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا اور وہ کوئی بھی ریفرنس الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھجوانے کی پابند نہیں۔ اسپیکر ایسا کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گی کیونکہ وہ حکمران پاکستان پیپلزپارٹی کی ایک وفادار لیڈر ہیں۔ مگر ان کا یہ اقدام غیر آئینی اور غیر قانونی ہوگا کیونکہ وہ عدالت کے واضح فیصلے پر جج بن کر نہیں بیٹھ سکتیں۔ آئین کے مطابق محترمہ کو زیادہ سے زیادہ 30 دن کے اندر یہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوانا ہے جس کو زیادہ سے زیادہ 90 دن میں فیصلہ کرنا ہے جس کی بنیاد سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ہوگا۔ اگر اسپیکر اس مقررہ عرصہ میں ریفرنس پر کوئی کارروائی نہیں کرتیں تو تصور کیا جائے گا کہ یہ الیکشن کمیشن کو خود بخود چلا گیا ہے۔ تاہم عدالت کا مفصل فیصلہ جو آئندہ چند روز میں سامنے آجائے گا الیکشن کمیشن کو بھی ملے گا۔ عین ممکن ہے کہ وہ اس پر ازخود ہی یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دینے کیلئے کارروائی شروع کر دے جس میں وہ ان کو شوکاز نوٹس جاری کرے گا۔ مجرم وزیراعظم کے وکیل دلائل دینے کیلئے اس کے سامنے پیش ہوں گے۔ الیکشن کمیشن میں کسی ایک فرد یعنی چیف الیکشن کمشنر نے نہیں بلکہ اس نے اور چار ممبران نے مل کر فیصلہ کرنا ہے۔ اگر یہ اختیار صرف الیکشن کمشنر کو ہوتا اور وہ حکومت کا کوئی پسندیدہ شخص جیسے جسٹس (ر) حامد علی مرزا تھے تو اس کیلئے کوئی بھی فیصلہ کرانا انتہائی آسان ہوتا۔
جب چند ماہ قبل وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ شروع ہوا تو پیپلزپارٹی خواب دیکھ رہی تھی اور شدت سے چاہ رہی تھی کہ یوسف رضا گیلانی کو سزا ہو جائے اور وہ جیل چلے جائیں تاکہ انہیں ایک اور ”سیاسی شہید“ مل جائے۔ جس سے وہ اگلے عام انتخابات میں بھرپور فائدہ اٹھا سکے اور ساتھ ساتھ وہ یہ بھی ثابت کریں کہ عدالتوں نے ہمیشہ اسے ہی نشانہ بنایا ہے مگر جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 6 ججوں نے ایسا اعلیٰ اور دانشورانہ فیصلہ دیا ہے کہ پیپلزپارٹی کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے۔ وزیراعظم کو سزا بھی ہوگئی، انہوں نے سزا کاٹ بھی لی اور وہ مجرم بھی قرار پائے جس کی وجہ سے وہ اب بطور قومی اسمبلی ممبر نااہل ہو جائیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف عین آئین اور قانون کے مطابق ہے بلکہ بہترین ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت اپنے اختیارات میں رہی اور آئین اور قانون کو ملحوظ خاطر رکھا حالانکہ وہ الیکشن کمیشن کو ڈائریکٹ بھی حکم دے سکتی تھی کہ چونکہ یوسف رضا گیلانی مجرم قرار پائے ہیں لہٰذا ان کی نااہلی کا نوٹیفکیشن فوراً جاری کیا جائے۔ فیصلہ سننے کے بعد پیپلزپارٹی کے بہت سے رہنماؤں کو یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اس پر کیا تبصرہ کریں۔ پیپلزپارٹی نے فیصلے کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں جو توڑ پھوڑ اور مظاہرے کئے ان میں شرکاء کی تعداد معمولی تھی جس نے اس کی مقبولیت کو بڑی حد تک ایکسپوز کیا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ وکلاء اور دوسرے حضرات جنہوں نے قانون کی حکمرانی کی فتح جو اس فیصلے سے ہوئی پر جو مٹھائیاں تقسیم کیں کی تعداد بہت بڑی تھی۔ ان کا مقصد صرف اور صرف آزاد عدلیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا اور اس کے فیصلوں پر عملدرآمد پر زور ڈلوانا تھا۔ وزیراعظم کو سزا ہونے کے بعد بھی 16 دسمبر 2009ء کے عدالت عظمیٰ کے نیشنل ری کنسلی ایشن آرڈیننس (این آر او) کے خلاف فیصلے کے پیرا گراف 178 پر عملدرآمد ہونا باقی ہے۔ اس پر عملدرآمد نہ کر کے ہی یوسف رضا گیلانی نے توہین عدالت کی، جس پر انہیں سزا ہوئی۔ اس حکم کے مطابق وزیراعظم نے سوئٹزرلینڈ کو خطوط لکھنے ہیں کہ وہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے مقدمات کی دوبارہ سماعت شروع کرے۔ این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت علیحدہ سے ہو رہی ہے لہٰذا اصل مسئلہ 2 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی اسی طرح ہی موجود ہے۔ اس وقت دنیا میں یوسف رضا گیلانی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ واحد سزا یافتہ مجرم وزیراعظم ہیں۔