بھٹکا دینے والے صحرا اور الجھا دینے والے جنگل میں سیدھا اور سچا راستہ ایک ہی ہوتا ہے ۔ باقی سب شیطان کے وسوسے۔ اللہ کے آخری رسول کا فرمان یہ ہے کہ وسوسہ ابلیس کا ہتھیار ہے اور کرنا اس کے الٹ چاہئے ، جس کی وہ ترغیب دے۔
امیر المومنین کے دربار میں داخل ہو جانے والی مکھی نے زچ کر دیا تو جھلّا کر انہوں نے کہا : اللہ نے یہ مخلوق کیوں پیدا کی؟ وہی متلون مزاج خلیفہ ہارون الرشید جو کبھی پتھر اور کبھی موم ہو جاتا۔ جو کبھی فضیل بن عیاض  کے دروازے پر ایک سائل کی طرح جا کھڑا ہو تا اور پھوٹ پھوٹ کر روتا اور کبھی ایسا سنگ دل کہ بر مکی خاندان کے ایک ایک شخص کو قتل کر دینے کا حکم صادر کیا۔ امام ابو یوسف نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا اورجواب دیا ”بادشاہوں کو زچ کرنے کیلئے“
اللہ بڑا بے نیاز ہے ۔ انسان اپنی چالیں چلتے ہیں اور وہ اپنی چال چلتا ہے ۔ اللہ کے آخری رسول نے ارشاد کیا تھا : کوئی اس دنیا سے اٹھے گا نہیں ، جب تک اس کا ظاہر و باطن آشکار نہ ہو جائے۔ صدر آصف علی زرداری نام کے یہ صاحب اٹھارہ کروڑ انسانوں کے اس ملک پر کیوں مسلط کردئیے گئے؟ وہ شخص ، آخری دنوں میں جس کی اہلیہ نے تقریبا مکمل علیحدگی اس سے اختیار کر لی تھی ۔ طے یہ پایا تھا کہ حکومت اورپارٹی کے معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔ پاکستان اور دبئی سے بہت دور جو نیو یارک میں مقیم تھااو رسمندر پار اپنے اثاثوں کی دیکھ بھال کر تا تھا۔ پھر ایک شب یہ مقبول لیڈر قتل کر دی گئیں اور وہ سریر آرائے سلطنت ہو ا۔
سیدہ عابدہ حسین سے کہ کڑوے سے کڑوا سچ بول سکتی ہیں ، طالب علم نے سوال کیا کہ ایک مشکوک وصیت کی بنیاد پر وہ شخص پارٹی کامطلق العنان سربراہ کیسے ہو گیا ، جس کا اور چھور اور سیاق و سباق ہی معلوم نہ تھا۔ انہوں نے جواب دیا : اس کے سوا راستہ بھی کیا تھا۔ پارٹی اگر اس کی قیادت قبول نہ کرتی اور کیا کرتی؟
یہ ہیں ہماری سیاسی جماعتیں اور یہ ہیں ہمارے لیڈر ۔ سبھی جانتے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری اور شریف خاندان نے ناجائز دولت کے انبار بیرون ملک جمع کر رکھے ہیں۔ شریف خاندان دھڑلے سے لندن میں کاروبار کر تا ہے اور صدر آصف علی زرداری کی مملوکہ عمارتوں کی تصاویر اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں مگر کون ہے جو ان کاہاتھ پکڑے اور کون محتسب ہے جو ان سے باز پرس کرے۔ عدالت کو تو وہ مانتے ہی نہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر تکنیکی بحث بہت ہے ۔ دانشور اور قانون دان ایک سے ایک نیا نکتہ اٹھاتے ہیں ۔ اس سوال کا جواب مگر کوئی نہیں دیتا کہ سوئٹزرلینڈ کے بینک میں پڑے 5ارب روپے کس کے ہیں ۔ اگر وہ جائز طریقے سے کمائے گئے تو صدر زرداری اعتراف کیوں نہیں کرتے ، جس طرح کہ بالآخر سرے محل کی ملکیت انہوں نے مان لی تھی ۔ پھر یہ کہ پاکستانی عدالتوں پر تو انہیں اعتماد نہیں مگر سوئٹزرلینڈ کے ججوں کو وہ کیونکر نا انصاف قرار دے سکتے ہیں ۔ کیا پاکستان کی سپریم کورٹ سے بہت پہلے غیر ملکی عدالت انہیں مجرم قرار نہیں دے چکی؟
صدر زرداری کو شاید اللہ نے اس لیے اقتدار بخشا تھا کہ ایک ایک کر کے اس ملک کے تمام ریاکار بے نقاب ہوجائیں ۔اب بالآخر یہ بات پوری طرح سمجھ میں آتی ہے کہ دو بار بائیکاٹ کا واضح اعلان کرنے والے نواز شریف کو محترمہ بے نظیربھٹو اور بعد میں آصف علی زرداری 2008ء کے الیکشن میں شامل و شریک کرنے پر اس قدر مصر کیوں تھے۔امریکی منصوبہ تو یہ تھاکہ صدر پرویز مشرف کی قیادت میں قاف لیگ اورپیپلز پارٹی کی حکومت تشکیل دی جائے۔ اے این پی، مولانا فضل الرحمن اور ایم کیو ایم ان کے مددگار ہوں ۔ پھر اس سہولت کے ساتھ نون لیگ کو انہوں نے پنجاب کی حکومت کیسے سونپ دی حالانکہ اکثریت انہیں حاصل نہ تھی اور قاف لیگ سے تب بھی معاملہ طے پاسکتا تھا۔ صدر آصف علی زرداری کی دیانت میں کلام ہو سکتا ہے مگر ذہانت میں ہرگزنہیں ۔ اقتدار کے ثمر میں انہوں نے سبھی کو شریک کیا اور سبھی کو واشگاف کر دیا ۔کیا وہ باتیں بنانے اور ہمہ وقت گریہ کرنے والی ایک ناکردہ کار قوم کے لیے اللہ کی سزانہیں؟ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ لوگ اس بات پر غور کریں۔اللہ کے حضور قوم سربسجود ہو اور جان لے کہ ایک مکمل سیاسی تبدیلی اور ایک ہمہ گیر سیاسی تبدیلی کے بغیر ملک اس ادبار سے نجات نہ پائے گا جو ماضی کے تمام عذابوں سے بڑھ کر ہے اور ناسور بن گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد سے انکار کے بعد میاں محمد نواز شریف نے احتجاجی تحریک کا اعلان کیا ہے ۔ کون سی تحریک اور کیسی تحریک؟ …ابھی چند ماہ قبل بھی انہوں نے طوفان اٹھا نے کا فیصلہ کیا تھا ۔ میاں محمد شہباز شریف نے ا رشاد کیا تھا کہ وہ زرداری صاحب کو صدر تسلیم نہیں کرتے اور انہیں سڑکوں پر گھسیٹا جائے گا۔
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا
میاں محمد نواز شریف کا مسئلہ قانون کا نفاذ اور کرپشن نہیں، عمران خان ہیں وگرنہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر پنجاب میں حکومت تشکیل نہ دیتے اور صدر زرداری انہیں قاف لیگ کے لوٹے خریدنے کی ایسی آزادی عطا نہ کرتے۔ سامنے کا سوال یہ ہے کہ ایسے تند و تیز اور تلخ بیانات جاری کرنے کی بجائے، میاں صاحب سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیوں نہیں کرتے۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یومِ شہدا کی تقریب میں غالباً اسی طرف اشارہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ جمہوری نظام کی خاطر تمام اداروں کو اپنی حدود میں بروئے کار رہنا چاہئے۔ کیا ان کا مشورہ یہ نہیں کہ قوم کو صبر کے ساتھ عدالت عظمیٰ کی تشریح کا انتظار کر نا چاہئے۔ کتنے دن اور ؟ پانچ سات دن یا شاید زیادہ سے زیادہ دو ہفتے ۔ میاں صاحب کو مگر دھڑکا لگا ہے کہ بے چین اوربے باک عمران خان اس خلا کو پر کرنے کے لیے لپک کر آگے بڑھیں گے اور حشر برپا کردیں گے۔ اگر احتجاجی تحریک کپتان نے اٹھا دی تو لاکھوں افراد کو وہ اسلام آباد میں جمع کر سکتے ہیں ، پھر بیچاری نون لیگ کا کیا ہو گا؟ کرپشن کے الزامات تو میاں صاحب پر بھی بہت ہیں اور سنگین ہیں ۔ 43صفحات پر پھیلا ہوا سینیٹر اسحٰق ڈار کا بیان موجود ہے، جس میں منی لانڈرنگ کا اعتراف ہے اور شریف خاندان کے خلاف ضروری شواہد بھی۔ اقتدار خطرے میں ہے تو صدر زرداری اب خاموش کیوں رہیں۔ شاید نیب کو اب وہ چڑھ دوڑنے کا حکم دیں گے ۔
کیا بدعنوان سیاستدانوں کا کھیل ختم ہونے کا وقت قریب آپہنچا اور کیا بالآخر قوم کو ان سے نجات ملنے والی ہے ؟ کون جانتا ہے کہ آنے والا کل کیا لائے گا۔ کب اور کتنے دن انتظارکرنا ہو گالیکن ایک نکتہ تو آشکار ہے ۔ اگر بالآخر یہ ایک ہوش مند قوم ہے اور اگر اس ملک پر قانون کی حکمرانی قائم ہونی ہے تو ملک کو ایک سچا اور کھرا الیکشن درکار ہے ۔سپریم کورٹ کے حکم پر فوج کی نگرانی میں ایک بے داغ الیکشن۔ ایک شائستہ جمہوری جدوجہد کے ذریعے بدعنوان لیڈروں کا مکمل عوامی احتساب ۔ بھٹکا دینے والے صحرا اور الجھا دینے والے جنگل میں سیدھا اور سچا راستہ ایک ہی ہوتا ہے ۔ باقی سب شیطان کے وسوسے۔ اللہ کے آخری رسول کا فرمان یہ ہے کہ وسوسہ ابلیس کا ہتھیار ہے اور کرنا اس کے الٹ چاہئے، جس کی وہ ترغیب دے۔ اھدنا الصراط المستقیم۔