پاکستان اور مراکش دو برادر اسلامی ممالک ہیں جن کے تعلقات نصف صدی سے بھی زیادہ پرانے ہیں اور یہ تعلقات ٹھوس اسلامی رشتہ اخوت کی بنیادوں پر استوار ہیں ،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات مزید مضبوط و مستحکم ہوتے جارہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان حکومتی سطح پر مختلف شعبوں میں وفود کا تبادلہ ہوتا رہا ہے مگر یہ پہلی بار ہوا جب گزشتہ دنوں عدلیہ کی سطح پر مراکش کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مصطفی فاریس دیگر 3 سینئر ججوں کے ہمراہ 5 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان تشریف لائے۔ اس سے قبل گزشتہ سال وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس آغا رفیق احمد مراکش کی حکومت کی دعوت پر مراکش گئے تھے۔اس کے علاوہ بھی کچھ ماہ قبل مراکش میں ہونے والی عرب ممالک کے چیف جسٹسزکانفرنس میں انہیں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ مراکش کے چیف جسٹس مصطفی فاریس کا حالیہ دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
پاکستان میں اپنے قیام کے دوران مراکش کے چیف جسٹس مصطفی فاریس نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ اس موقع پر مراکش کے چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف مہیا کرنا ایک عبادت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور مراکش کی ترجیحات یکساں ہیں جن میں اعتدال پسند معاشرے کا قیام، غربت اور بدعنوانی کا خاتمہ اور ملک کے غریب عوام کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ اسلام آباد کے دورے کے بعد مراکش کے چیف جسٹس، وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس آغا رفیق احمد کے ہمراہ 3 دن کے دورے پر کراچی بھی تشریف لائے اور اپنے وفد جس میں مراکش کے سینئر جج صاحبان، پاکستان میں مراکش کے سفیر ردا الفاسی اور مراکش کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے میں بھی شامل تھا کے ہمراہ سندھ ہائیکورٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیر عالم نے ہائیکورٹ کے دیگر جج صاحبان کے ساتھ وفد کااستقبال کیا اور انہیں سندھ ہائیکورٹ کی کارکردگی اور فنکشن سے آگاہ کیا۔ مراکش کے چیف جسٹس اور وفد کے اراکین سندھ ہائیکورٹ کی عمارت سے بہت متاثر ہوئے۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے وفد کو بتایا کہ ہائیکورٹ کی یہ عمارت 1929ء میں تعمیر کی گئی تھی جس کی بنیادیں اونچی رکھنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ عمارت قریب واقع سندھ اسمبلی اور دوسری سرکاری عمارتوں سے اونچائی پر ہو جو اس بات کا مظہر ہو کہ عدلیہ کو دوسرے حکومتی اداروں پر فوقیت حاصل ہے۔ قریب ہی کھڑا میں یہ سوچ رہا تھا کہ حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے اور اسے عدلیہ پر سبقت حاصل ہے لیکن ہائیکورٹ کی یہ بلند عمارت حکومتی دعوؤں کی نفی کرتی ہے۔ مراکش کے چیف جسٹس نے اس موقع پر پاکستان کی عدلیہ اور ججز کو باہمی اتحاد، بہترین نظم و نسق اور دین اسلام سے والہانہ لگاؤ پر مبارکباد پیش کی۔ان کا کہنا تھا کہ عدالتی شعبے میں پاکستان اور مراکش کے درمیان جو اشتراک ہے دونوں ممالک کو چاہئے کہ وہ اس سے افادہ اٹھائیں۔ہائیکورٹ کے دورے کے بعد وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس آغا رفیق احمد، سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم اور مراکش کے چیف جسٹس مصطفی فاریس نے اپنے وفد کے دیگر ارکان کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری دی۔ اس موقع پروہاں تعینات چاک و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ تینوں چیف جسٹس صاحبان نے اپنے وفود کے ہمراہ مزار قائد پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر مراکش کے چیف جسٹس نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کرتے ہوئے لکھا کہ ”قائداعظم محمد علی جناح کا شمار دنیا کے عظیم لیڈروں میں ہوتا ہے اور مراکش میں بھی ان کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، مجھے فخر ہے کہ آج میں ان کے مزار پر حاضری دے رہا ہوں۔“
کراچی میں اپنے قیام کے دوران مراکش کے چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے بھی ملاقات کی۔گورنر سندھ سے ملاقات کے دوران چیف جسٹس مصطفی فاریس نے گورنر سے کہا کہ میرے دورے کا سب سے اہم دن آج کا ہے جب میں اُس گھر میں موجود ہوں جہاں قائداعظم محمد علی جناح جیسی عظیم شخصیت رہائش پذیر تھی۔ اس موقع پر گورنر سندھ نے مراکش کے چیف جسٹس کی قائداعظم سے عقیدت و محبت کو دیکھتے ہوئے قائداعظم کے اُس دفترکو کھولنے کا حکم دیا جہاں قائداعظم گورنر جنرل کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیا کرتے تھے اور ہم سب نے وہاں کچھ وقت گزارا۔ یہ دفتر آج بھی اُسی حالت میں موجود ہے جیسا قائداعظم کے دور میں ہوا کرتا تھا اور قائداعظم کی کرسی اور ٹیبل بھی اپنی اصلی جگہ موجود ہے جبکہ کمرے میں قائداعظم اور ان کی فیملی کی ذاتی تصاویر بھی آویزاں تھیں، دیوار پر ایک جگہ قائداعظم کے پاکستانی پاسپورٹ کا عکس بھی آویزاں ہے۔ اپنے قیام کے دوران چیف جسٹس مصطفی فاریس، چیف جسٹس شرعی عدالت آغا رفیق احمد اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیر عالم کے ہمراہ حیدرآباد تشریف لے گئے جہاں ڈسٹرکٹ کورٹ میں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ کورٹ کے دورے کے دوران انہوں نے مقدمہ کی کارروائی بھی دیکھی۔ بعد ازاں مراکش کے چیف جسٹس نے جوڈیشل آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی حیدرآباد میں قائم جامع مسجد محمد کا افتتاح کیا اورکہا کہ حضور اکرمﷺ کا فرمان ہے ”جس شخص نے مسجد بنائی گویا اس نے جنت میں اپنے لئے گھر بنایا۔“
وہ لمحہ بڑا یادگار تھا جب مسجد کے افتتاح کے بعد مراکش کے چیف جسٹس کی امامت میں چیف جسٹس آغا رفیق احمد، جسٹس مشیر عالم، سندھ ہائیکورٹ کے دیگر سینئر ججوں اور میں نے نماز ظہر ادا کی جس کے بعد پاکستان کی سلامتی و استحکام کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ نماز کے بعد منعقد کی گئی ایک تقریب میں نعت خواں صدیق اسماعیل کی عربی زبان میں پڑھی گئی قصیدہ بردہ شریف ”مولا یا صلی وسلم دائماً ابدا“ًنے عجب سماں پیدا کردیاجسے سن کر چیف جسٹس مصطفی فاریس پر رقت طاری ہوگئی اور انہوں نے نعت خواں کو یہ قصیدہ دوبارہ پڑھنے کی فرمائش کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جس شخص نے حضور اکرمﷺ کو خواب میں دیکھا اس نے انہیں حقیقت میں دیکھ لیا۔ان کا کہنا تھا کہ آج کا دن میرے لئے عید کی طرح ہے جسے میں پاکستان میں منارہا ہوں۔ مراکش کے چیف جسٹس نے کہا کہ مہمان نوازی کی اعلیٰ روایات پاکستانیوں کیلئے نئی نہیں بلکہ ان جڑیں اسلامی تاریخ و روایات سے وابستہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ”وہ اور ان کے وفد کے اراکین پاکستان سے بہت خوبصورت یادیں لے کر جارہے ہیں اور وہ پاکستانی عدالتی وفد کے مراکش میں آمد کے منتظر رہیں گے۔ “عدلیہ کے شعبے میں وفود کا تبادلہ ایک مثبت قدم ہے، اس سے جہاں ایک طرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی وہاں عدلیہ کے شعبے میں ایک دوسرے کے تجربات سے بھی افادہ ہوگا۔