آج سے 28 برس قبل اپریل میں سیاچن تنازعے کے بیج بوئے گئے تھے۔ رواں اپریل فطرت کا ایک سنگین سانحہ پیش آیا اور علاقے میں ایک عظیم برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں وہاں 139 پاکستانی فوجی اور سویلین ورکر برف میں دب گئے۔ یہ سانحہ اس بات کی ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ اس طویل مہنگے ترین تنازعے کا حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ چوں کہ سیاچن پر حالیہ ٹی وی مباحثوں میں حقائق پر بہت کم بات کی جا رہی ہے لہٰذا مفید ہو گا کہ اس تنازعے کی فوجی، سیاسی اور سفارتی تاریخ کو ایک بار دہرا لیا جائے۔ اس پوری تاریخ کو دہرانے کا ایک طریقہ یہ 10 بنیادی اگر چہ امکانی طور پر غیر جامع سوالات ہیں۔ (1) اس تنازعے کی بنیاد کیا ہے؟ 1948 اور 1971 کی جنگوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین کیے جانے والے معاہدے کشمیر کے جنوب مشرقی علاقوں میں کسی سرحدی پٹی کا تعین یا حدود بندی نہیں کرتے جو کہ زندگی کے لیے دنیا کے سب سے خطرناک اور ویران ترین خطوں میں سے ایک ہے۔ جولائی 1949 میں کراچی معاہدے کے تحت ایک سیز فائر لائن تشکیل دی گئی جو 1972 میں شملہ معاہدے کے تحت معمولی تبدیلیوں کے بعد لائن آف کنٹرول بن گئی۔ یہ پٹی سیاچن گلیشیئر کے جنوب میں ’گرڈ ریفرنس NJ9842‘ سے موسوم مقام تک پہنچتی ہے۔ معاہدے میں تحریر ہے کہ اس مقام سے آگے یہ لائن ’یہاں سے گلیشیئر کے جنوب کی جانب‘ جاری رہتی ہے۔ NJ9842 سے آگے کے علاقے کی حد بندی نہیں کی گئی تھی کیوں کہ یہ جگہ رہائش کے اعتبار سے نہایت سخت اور نا قابل رسائی باور کی جاتی تھی۔ اس وقت طرفین میں سے کسی کا خیال بھی اس طرف نہیں گیا تھا کہ اس خطے کی کوئی فوجی یا تزویراتی اہمیت ہو سکتی ہے۔
یہ بات کسی کے وہم گمان میں بھی نہیں تھی کہ مستقبل میں یہ خطہ ایک شدید تنازعے کا روپ دھار لے گا یا یہ کہ جدید پہاڑی جنگی حکمت عملی یا تغیر پذیر تزویراتی اعداد و شمار اسے متنازع بنا دیں گے۔ ستر کی دہائی کے وسط میں پاکستان نے بین الاقوامی کوہ پیماؤں اور مہم جو ٹیموں کو گلیشئر کی چوٹیوں کا دورہ کرنے کی اجازت دینا شروع کر دی۔ اس خطے پر پاکستان کے انتظامی کنٹرول کو نقشے کے اعتبار سے بھی حمایت ملی۔ نقشے بنانے والے بین الاقوامی پبلشرز نے شمال مشرق کی طرف سے قراقرم پاس اور سیاچن کے علاقے کی جانب جانے والی لائن آف کنٹرول کو پاکستانی حدود میں دکھانا شروع کر دیا۔ بد ترین موسمی حالات کے باعث پاکستان نے اس علاقے میں مستقل چوکیاں قائم نہیں کیں۔ وقتاً فوقتاً صرف اسکاؤٹنگ مشن اس طرف کا رخ کرتے تھے۔ تنازع کس طرح شروع ہوا؟ تنازعے کا آغاز اس وقت ہوا جب 1984 میں بھارت نے ’میگھ دوت‘ نامی ایک بڑے فضائی آپریشن کے ذریعے یہاں اہم چوٹیوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ یہ انٹیلی جنس کی ناکامی تھی کہ پاکستان کو اس آپریشن کی اطلاع اس وقت ملی اور اس نے اس وقت وہاں اپنے فوجی دستے روانہ کیے جب بھارتی فورسز سالٹورو (Saltoro) رینج کے ساتھ زمین سے بلند تقریباً تمام مقامات پر قبضہ کر چکی تھیں۔ پاکستان کی بھارتی فوج کو پیچھے دکھیلنے کی کوششیں کام یاب نہ ہو سکیں۔
دونوں ممالک نے بتدریج مزید فوجی دستے تعینات کر دیے اور مزید چوکیاں قائم کر لیں۔ (2) تنازعے کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کا آغاز کب ہوا؟ ابتدائی جھڑپوں کے فوراً بعد تنازعے کے سفارتی حل کی کوششوں کا آغاز ہوا۔ تاہم 1985 میں جنرل ضیاء الحق اور اس وقت کے بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کے درمیان دہلی میں میٹنگ کے بعد اس تنازعے کا کوئی حل نکالنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ تا حال اس ضمن میں مذاکرات کے 12 دور ہو چکے ہیں جن میں سے آخری مئی 2011 میں منعقد ہوا تھا۔ (3) کیا کبھی اس معاہدے تک پہنچا گیا کہ سیاچن سے فوجیں واپس بلا لی جائیں؟ ہاں، بے نظیر حکومت کے اقتدار میں آنے اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں زبردست بہتری آنے کے بعد جون 1989 میں منعقد کردہ مذاکرات کے پانچویں دور میں۔ سترہ جون 1989 کو مذاکرات کے بعد جاری کردہ مشترکہ بیان میں تنازعے کے حل کے بنیادی نکات اس طرح بیان کیے گئے تھے: ’دونوں ممالک تنازعے کے جامع حل کی تلاش کے لیے کام کرنے پر باہمی رضا مند تھے، جس کی بنیاد یہ تھی کہ خطے میں فورسز کی تعیناتی کی جگہوں کو تبدیل کیا جائے تا کہ جھڑپ کے خدشے کو کم کیا جا سکے، شملہ معاہدے کے مطابق اور سیاچن کے علاقے میں دیرپا قیام امن کو یقینی بنانے کے لیے طاقت کے استعمال اور خطے میں مزید پوزیشنز قائم کرنے سے گریز کیا جائے‘۔ مزید یہ کہ: ’دونوں اطراف کے فوجی حکام ان پوزیشنز کا تعین کریں گے‘۔ (4) جون 1989 کی یہ عظیم پیش رفت کتنی اہم تھی؟ اس سے تنازع کے حل کا بنیادی خاکہ سامنے آیا۔ پہلی مرتبہ بھارتی حکام فورسز کو متنازعہ چوٹیوں سے دور تعینات کرنے پر آمادہ ہوئے، تا ہم 1989 میں فوجی حکام کے مابین مذاکرات میں اختلافات سامنے آئے جن کی وجہ سے بھارتیوں کی یہ آمادگی ختم ہو گئی۔
پاکستان نے ’پیچھے ہٹنے‘ کے بجائے فورسز کی ’از سر نو تعیناتی‘ کے الفاظ استعمال کیے جس کا مقصد راجیو گاندھی کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ انتخابی سال میں اپنی فوج اور سیاسی مخالفین کو اس معاہدے کو قبول کرنے پر تیار کر سکیں۔ اس معاہدے کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور راجیو گاندھی نے اپنے جولائی 1989 کے دورہ اسلام آباد کے دوران توثیق کی تھی۔ (5) کیا پاکستان اس موافق بات کو ایک معاہدے کا روپ دینے کا بہت زیادہ خواہش مند تھا؟ قطعی طور پر۔ پاکستان کے سیکریٹری دفاع کو نومبر 1992 میں مذاکرات کے چھ ادوار کا مینڈیٹ دیا گیا تھا کہ وہ 1989 کے معاہدے کے نکات کے نفاذ پر بات چیت کریں۔ (6) معاہدہ کیوں نہ ہو سکا؟ بھارت کے 1989 کے متفقہ نکات سے پیچھے ہٹ جانے اور بڑے پیمانے پر فوج کے اصرار پر معاہدے کی شرائط کو تبدیل کرنے کے باعث جو سیاچن سے فوجی دستوں کی واپسی کے خلاف تھی، کوئی معاہدہ طے نہ پا سکا۔
1992 کے مذاکرات اس وقت ڈیڈ لاک کا شکار ہو گئے جب دہلی کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ از سر نو تعیناتی سے قبل ’موجودہ‘ پوزیشنز کی ’کلی طور پر‘ تصدیق کی جائے اور بھارتی حکام نے سابقہ طے شدہ امور کو دوبارہ اٹھانے کی کوشش کی۔ پاکستان نے ان تبدیلیوں کو اس طور دیکھا کہ بھارت 1989 کے معاہدے پر ہچکچاہٹ میں مبتلا ہے جن کے تحت طرفین 1972 سے قبل کی پوزیشنز پر واپس جانے کے پابند تھے۔ پاکستان کا موقف تھا کہ بھارت نے ایک ایسے علاقے پر قبضہ کر کے شملہ معاہدے سے انحراف کیا ہے جس کی اگر چہ حد بندی نہیں کی گئی تھی مگر وہ خطہ پاکستان کے انتظامی کنٹرول میں تھا۔ تمام تر متضاد قانونی تشریحات کے باوجود شملہ معاہدے کے تحت خطے کی حالت موجودہ میں یک طرفہ تبدیلی ممنوع تھی۔ (7) کیا پوزیشنز کی تصدیق کا مطالبہ وجہ نزاع ثابت ہوا؟ ہاں۔ 1989 کے مشترکہ بیان میں ’کرنٹ پوزیشنز‘ کے تعین کا کوئی ذکر نہیں تھا اور اس میں صرف ’مستقبل کی پوزیشنز‘ کے تعین کا حوالہ دیا گیا تھا۔ پاکستان نے تصدیق کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا کیوں کہ (اول) اس سے ایک غیر قانونی عمل کو قانونی حیثیت حاصل ہوتی تھی اور (دوم) اس سے بھارت کو مذاکرات میں اس قانونی دعوے کا جواز ملتا تھا کہ وہ بعد میں NJ 9842 سے آگے کے علاقے کی حد بندی کر سکے۔ بھارت کے نقشے پر اور زمین پر ’ایگریڈ گراؤنڈ پوزینش لائن‘ (AGPL) کی تصدیق کے مطالبے کی بنیاد اس دلیل پر تھی کہ یہ اس صورت میں ایک قانونی اور سفارتی تحفظ کا کام کرے گا اگر بعد میں پاکستان اپنے معاہدے سے پھر جائے اور سالٹورو کے علاقے پر قبضہ کر لے۔ اس کے علاوہ ’کرنٹ پوزینشز‘ کی توثیق کے آلے کے بطور، تصدیق کا یہ مطالبہ کئی سالوں سے بھارتی فوج کے لیے فوجی دستے کی واپسی کے مطالبے کے خلاف ایک عذر بن چکا ہے۔ سابقہ بھارتی حکام دلیل دے چکے ہیں کہ کہ سیاچن سے فوجی دستوں کی واپسی سے پاکستان کو سالٹورو کے پار چینی سرحد پر قراقرم پاس تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ (جاری ہے)