نوازشریف کہہ رہے ہیں کہ” میں وزیراعظم کو نہیں مانتا۔ وہ سپریم کورٹ کا حکم مانیں یا اقتدار چھوڑ دیں“ اور وزیراعظم کو نکالنے کے لئے احتجاجی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ ”مارو یا مر جاؤ۔“ وزیراعظم نے کہا ”عدلیہ کسی منتخب نمائندے کو نااہل قرار نہیں دے سکتی۔ (ایک ماتحت عدالت کے فیصلے سے بطور وزیراعظم اندرگاندھی کی برطرفی محض ایک واہمہ تھا)جب تک آئینی طریقے سے نہیں ہٹایا جاتا میں وزیراعظم رہوں گا۔ نوکری پیشہ نہیں ہوں۔ اقتدار میں ہی رہوں گا۔ مجھے اقتدار سے چمٹے رہنے کا کوئی شوق نہیں۔“ اور انتہائی لاجواب دلیل کہ ”مجھے تو صرف چند سیکنڈ کی سزا ہوئی‘ نوازشریف 9 سال سزایافتہ رہ چکے ہیں۔“ اور اس بحث میں ہوشمندی‘ سمجھ بوجھ اور حالات کی نزاکت سے مطابقت رکھنے والی آواز یہ کہہ رہی ہے ”انصاف سب کے لئے برابر ہونا چاہیے۔ جمہوریت کے تسلسل پر یقین ہے۔ ادارے آئین کے مطابق کام کریں۔ جمہوری نظام کا مقصد صرف عوام کی فلاح ہونا چاہیے۔“ یہ الفاظ کسی پروفیسر ‘ مدبر سیاستدان یا سماجی سائنس کے ماہر کی نہیں۔ پاکستان کے چیف آف سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ہیں۔ یہ وہی فوج ہے جو ذرا سا موقع ملنے پر اقتدار سنبھال لیا کرتی تھی۔موقع نہ بھی ہوتا تو سنبھال لیتی تھی۔مثلاً جب یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان دو لخت ہونے کے قریب تھا۔ ملک کے دونوں حصوں میں باہمی عدم اعتمادی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی اور مشرقی پاکستان کے عوام اپنا جمہوری حق طلب کر رہے تھے۔ اگر اس وقت ایوب خان اقتدار فوج کے حوالے کرنے کی بجائے‘ پارلیمنٹ کے سپیکر کو دے کر آزادانہ سیاسی عمل بحال کر دیتے‘ تو شاید پاکستان بچ جاتا۔ مگر ان سے یحییٰ خان نے اقتدار چھین لیا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا‘ وہ سب کے سامنے ہے۔
یہ بات میں نے اس لئے لکھی کہ آج بھی پاکستان ایسے ہی نازک مقام پر کھڑا ہے۔ اگر ذرا سی بے احتیاطی بھی ہو گئی‘ تو ہماری سالمیت خطرے میں پڑ جائے گی۔ آج فوج کا سربراہ اس حقیقت کو جانتے ہوئے وحشیانہ سیاسی کشمکش کو دیکھ رہا ہے اور جو کچھ وہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے‘ اس کا نمونہ چیف آف آرمی سٹاف کی تقریر سے چند اقتباسات کی شکل میں پیش کر چکا ہوں۔ ہماری سیاسی قیادت اس فہم و فراست کے مظاہرے سے کیوں محروم ہے‘ جس کی مثال فوج کے سربراہ نے پیش کی؟ انہوں نے یہ گلا بھی کیا کہ ہم پر تنقید کی جاتی ہے۔ میں اسے یوں دیکھوں گا کہ آگے بڑھ کر اقتدار پر قبضے سے گریز کی پالیسی اس تنقید کی وجہ ہے۔جو لوگ گزشتہ چار برس سے فوج کو بغاوت پر اکسا رہے تھے‘ وہ مایوس ہو کر انتقامی کارروائی پر اتر آئے ہیں۔ اور اب وہ فوج کو حیلے بہانے سے تختہ مشق بناتے رہتے ہیں۔ ان کے غصے کا یہ عالم ہے فوج کے جوانوں اور افسروں کی قربانیوں اور شہادتوں کابھی اعتراف نہیں کرتے اور اقتدار کے گندے کھیل سے دور رہنے پر فوج کے حق میں کلمہ تحسین بھی نہیں کہتے۔ہم یہ فرق بھی نہیں کر رہے کہ ماضی کے جنرلوں نے جو گناہ کئے‘ فوج کی موجودہ قیادت ان سے بچنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ ہمیں ہر کسی کو اس کے اعمال کی بنیاد پر جانچنا چاہیے اور موجودہ فوجی قیادت کا عمل یہ ہے کہ اس نے ہر حال میں جمہوریت کو تحفظ دینے کی بھرپور کوشش کی۔ لیکن یاد رکھیے فوج بھی انسانوں کی تنظیم ہے اور یہ انسان ہمارے ہی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں بھی تصورات اور سوچوں کا فرق ہوتا ہے۔ قیادت کی سوچ اسی وقت تک موثر رہتی ہے جب تک گردوپیش کے حالات اس کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ لیکن اگر فوجی قیادت کی برداشت‘ تحمل اور سیاسی بحرانوں کو نظرانداز کرنے کی پالیسی‘ پر بحث ہونے لگے اور ایک سے زیادہ نکتہ ہائے نظر پیدا ہونے لگیں تو پھر فوجی قیادت کے لئے بھی تحمل سے کام لینامشکل ہو جاتا ہے۔ کم و بیش پاکستان کے ہر دور حکومت میں ماتحت افسروں کی چھوٹی چھوٹی بغاوتوں کی سازشیں پکڑی جاتی رہی ہیں۔ بہت سی منظر عام پر آ گئیں اور بہت سی پردہ راز میں رہیں۔ لیکن پھر ایسا بھی ہوا کہ اپنی ہی فوج کے باغی افسروں کو سزائیں دینے والے جنرل نے خود آئینی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔
اس مرتبہ مزید بدقسمتی کی بات یہ ہو رہی ہے کہ سیاستدانوں نے عدلیہ کو بھی اپنی رزم گاہ میں بدل ڈالا ہے اور پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کا ایک فیصلہ جس طرح نئے تنازعے کی بنیاد بن رہا ہے‘ وہ قانون کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی بنا پر شدید تصادم کی فضا پیدا ہو گئی۔ ایک فریق اس فیصلے کا مطلب اپنے حق میں نکالتا ہے اور دوسرا اپنے حق میں۔ اعلیٰ ترین سطح کی عدالت سے اس طرح کا فیصلہ آنا اور وہ بھی ایک انتہائی حساس سیاسی مسئلے پر‘ بدقسمتی کے سواکچھ نہیں۔ عام طور پر باور کیاجاتا ہے کہ سپریم کورٹ میں اعلیٰ ترین اہلیت اور قابلیت کے قانون دان پہنچتے ہیں۔ ان کی طرف سے آنے والے فیصلے میں ابہام اور اختلاف کی گنجائشوں کا نکل آنا باعث حیرت ہے۔ ہو سکتا ہے فیصلے میں ابہام نہ ہو اور اسے سمجھنے والوں کی نیت خراب ہو۔ لیکن جج کے لکھے ہوئے فیصلے میں تو خراب نیت والوں کے لئے اپنے مطلب کا مفہوم نکالنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ بقول ایک پاکستانی سفیر‘ ہمارے حکمرانوں نے تو جدید دنیا کے ایک اچھے بھلے اور جمہوری ملک کو تماشا بناکر رکھ دیا ہے۔ ہم نے سب سے پہلے اکثریت کو مجبور کیا کہ وہ اقلیت کی ناانصافیوں سے تنگ آ کر آزادی مانگے۔ ہم نے ایک ہی مقام پردو برسرمنصب اور ایک سابق وزیراعظم کو شہید کیا۔ سب سے پہلے لیاقت علی خان‘ ان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے بعد بینظیر بھٹو۔ تینوں کی شہادت ایک ہی مقام پر ہوئی اور پھر ہماری ہی عدلیہ نے ایک برسرمنصب وزیراعظم کو 30 سیکنڈ کی سزا سنائی اور فیصلہ یوں لکھا کہ اس کے مفہوم پر تنازعہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ شاید ہم اپنے حال اور مستقبل دونوں سے بے نیاز ہو چکے ہیں۔ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہر حالت میں اسی گندے سیاسی کلچر کو فروغ دیتے رہیں گے‘ جس کی آلودگی نے ہماری زندگیوں میں زہر بھر دیا ہے۔ ہم تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکہ کے اتحادی یا معمول کے تعلقات رکھنے والا ملک نہیں رہ گئے۔ اگر کسی کو شک ہو تو میں پورے یقین اور اعتماد سے بتا رہاہوں کہ امریکہ نے پہلی مرتبہ ہمیں دشمنوں کی صف میں شامل کرنے کی آپشن سامنے رکھ لی ہے۔ یہ ایسا وقت ہے جب ہمیں متحد ہو کر امریکہ کے ساتھ تعلقات کے نئے ایجنڈے پر اتفاق رائے کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر ہم نے اپنے فیصلہ سازی کے سارے مراکز کو غیرموثر کر کے رکھ دیا ہے۔ امریکی حیران ہیں کہ بات کس سے کریں؟ اگر ہم بات چیت کرنے کے قابل نہیں‘ تو دنیا کی واحد سپرپاور ہمارے حالات میں تبدیلی کا انتظار نہیں کرے گی بلکہ اپنی مرضی کے حالات پیدا کرنا شروع کر دے گی۔ میں فاٹا‘ بلوچستان ‘ گلگت‘ سوات اور کراچی کے حالات کو اسی پس منظر میں دیکھ رہا ہوں اور اگر” مرویا مارو“ کی تحریک آگے بڑھی‘ تو یہ امریکیوں کے لئے نعمت غیرمترقبہ ثابت ہو گی۔ امریکہ افغانستان سے فوجیں نکالنے کے باوجود وہاں اڈے برقرار رکھ رہا ہے‘ ایک روایت کے مطابق وہ چین‘ روس‘ ایران یا وسطی ایشیا کے لئے نہیں پاکستان کے لئے ہیں۔ اگر کسی کو شبہ تھا تو اس خبر کے ساتھ وہ ختم ہو جانا چاہیے کہ قطر کے ہوائی اڈے پر f-22 طیارے متعین کر دیئے گئے ہیں۔جنوبی ایشیا کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے ایک مصنف کا یہ انکشاف بھی پیش نظر رکھیے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں امریکہ سے اپنے لئے وہی درجہ مانگ رہا ہے‘ جو شرق اوسط میں اسرائیل کو حاصل ہے۔ اگر ہم نے اپنے آپ کو اسی طرح فساد کی حالت میں رکھا‘ توہو سکتا ہے امریکہ اور بھارت کا گٹھ جوڑ بھارتی شرطوں پر ہو جائے۔ ایسی صورت میں ہم جنوبی ایشیا کے فلسطینی بن کر رہ جائیں گے۔ہمیں دہشت گردی اور ایٹم بم کی جس طاقت پر بھروسہ ہے‘ وہ ہمیں کسی پر فتح نہیں دلا سکتی۔ البتہ ہمیں بربادیوں کی طرف ضرور دھکیل رہی ہے۔ ایسے حالات میں گھری ہوئی ایک قوم کے اندر جب”میں وزیراعظم بنوں گا“ اور ”میں وزیراعظم رہوں گا“ کی تکرار چل رہی ہو‘ تو انجام کے بارے میں زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔