اگلے روز جیو ٹیلی وژن پر میرے پرانے دوست حسن نثار نے اپنے پروگرام میں سوال کیا کہ’ کیاہم نے ترقی یافتہ مغرب سے پیچھے رہنے کی قسم اٹھا رکھی ہے؟‘ گو یہ سوال استفہامیہ نہیں تھا کیوں کہ وہ خود گزشتہ کئی برسوں سے اپنی تحریر وتقریر میں تواتر سے اس موضوع پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں لیکن اُن کے اِس سوال سے میرے ذہن میں کئی سوالات و جوابات اُمنڈ آئے۔جی ہاں ، ہم با ہوش و حواس جو کر رہے ہیں اور جانتے بوجھتے بھی جو نہیں کر رہے، ہم نے اُس کی قسم اٹھا رکھی ہے اور قسم توڑنا ہمارے نزدیک گناہِ عظیم ہے۔ اپنے ہاں کہتے ہیں کہ ”آپ نے میرے منہ کی بات چھین لی“ لیکن مغرب والے ہم سے کہیں آگے ہیں کیوں کہ وہ آج کل اتفاقات اور قدرتی حادثات کی ’سائنس‘ دریافت کر رہے ہیں اور مجھ جیسا غیر دانشور بھی اِن موضوعات پر کوئی درجن بھر کتابیں پڑھ چکا ہے جو انگریزی میں ہیں اور مجھے کوئی امیدنہیں کہ اُن کے تراجم کبھی ہماری زبانوں میں بھی چھپیں گے کہ ایک تو یہ کام مشکل ہے اور دوسرا ہم نئے زمانے کے اُن لاکھوں الفاظ کا متبادل کہاں سے لائیں گے جو فرہنگِ آصفیہ یا نورالالغات میں موجود نہیں۔ ازراہ تفنن ایک اور بات کہ ہمارے ہاں جلد سازی کا فن صدیوں پرانا ہے لیکن پاکستان میں چھپنے والی اکثر کتابوں کی جلد کی عمر ہماری نام نہادجمہوری حکومتوں کی عرصہء ملازمت سے بھی کہیں کم ہوتی ہے اور یہ عرصہ زیادہ سے زیادہ چار سال اور کچھ مہینے سے تجاوز نہیں کر پا رہا۔چلیں چھوڑیں اِن بیکار باتوں میں کیا رکھا ہے؟ کچھ اتفاقات کی باتیں کریں کہ اپنا تو سارا دھندہ اور ساری سیاست اتفاقات کے سر پر چلتی ہے۔ جب پاکستان بنا تھا تو گوالے اور دودھ فروش کم از کم پنجاب میں ’دودھ پتر‘ کی قسم کھاتے تھے اور خریدار کو ان کے اس اخلاقی معیار پر یقین کرنا پڑتاتھا کہ وہ دودھ اور اپنے انمول بیٹے کو برابرجان کر یہ قسم کھا رہے ہیں۔ ’دودھ پتر‘ کی قسم کا یہ سلسلہ جنرل ایوب خان کے دور میں آ کر کم ہونا شروع ہو گیا کیوں کہ امریکی امداد میں غریبوں کے لیے ملنے والا خشک دودھ بلیک مارکیٹ میں فروخت ہونے لگا اور گوالوں نے اُسے گرم پانی میں ملا نے کے بعد اُس پر بھنیس کی تازہ دھاریں پھینک کر وہ جھاگ پیدا کی کہ خالص اور نا خالص میں فرق کرنا مشکل ہو گیا۔ تب سے کیا امریکی اور کیا پاکستانی؟ اُسے جدا کرنا ایسا ہی ہے جیسے روح کو جسم سے الگ کرنا۔ امریکہ کی دنیا بھرمیں بوئی ہوئی فصلوں میں زہریلی جڑی بوٹیوں کی بڑی مقدار تو اپنی جگہ لیکن ساتھ ہی اُن فصلوں کو ایستادہ کرنے اور قد وقامت دینے کے لیے جو کیمیاوی کھاد استعمال ہوئی ہے وہ اُن فصلوں کے اناج کے ذریعے نہ صرف ہمارے اندر اُتر چکی ہے بلکہ ہماری جنین کا حصہ بن چکی ہے۔ سوچیں تو ہمیں زندگی میں کچھ بھی خالص نہیں ملا۔ ہمارے ہاں نہ آمریت خالص اور نہ ہی جمہوریت! جنرل ایوب سے لے کر جنرل مشرف تک جتنے بھی فوجی آمر آئے سب ہی نے اپنے اقتدار کو قائم رکھنے اور بڑھاوا دینے کے لیے ہر دم تیار بیٹھے سیاستدانوں اورسویلین ماہرین کو اپنی ’بکل‘ میں لے لیا اور یوں چور کی ’بکل‘ میں چور کا نظام چلتا رہا ۰ جب اسمبلیوں میں وقفہ سوالات کی طرح اپنے ہاں جمہوری وقفے آئے تو وہ بھی خالص نہیں تھے تب بھی اوپر وہی بیٹھے تھے اور ڈٹ کر من مانیاں اور حکومتوں کی قسمتوں کے فیصلے کر رہے تھے جنہیں ہم اپنے تئیں کب کے بارکوں میں بھیج چکے تھے۔جب سے یورپی یونین نے قانون بنایا ہے اور ایلوپیتھی کی ہر دوائی اور ہر گولی پر اُس کے اطرافی اثرات درج کرنا لازمی قرار پایا ہے تو یقین کیجیے کہ کوئی گولی ہضم کرنا اب آسان نہیں رہا۔ کچھ ایسا ہی حال ہمارا ہے کہ نہ ہمیں نا خالص آمریت کی گولی ہضم ہوتی ہے اور نہ ہی ملاوٹی جمہوریت کی۔ ہم تو بس دونوں کے اطرافی اثرات ہی برداشت کیے چلے جا رہے ہیں۔ لعن طعن ضرور کیجیے لیکن کہنے دیجیے کہ پاکستان کی کم از کم ساٹھ ستر فی صد آبادی کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ پاکستان میں آمریت ہو یا جمہوریت! یہ سچ ہے کہ آمریت میں سیاستدانوں کے سارے عیب چھپ جاتے ہیں اور اُن پر لگنے والے ہرجھوٹے سچے الزام کو انتقامی کارروائی سمجھا جاتا ہے لیکن جمہوری وقفوں میں وہ ایک دوسرے کو ایسا سنگسار کرتے ہیں جیسے وہ خود پوتروں سے پوتر ہوں! اور آخر میں ایک جملہ معترضہ کہ جنرل مشرف کی آمریت کے اطرافی اثرات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے آزاد جلد سازوں پر بھی نظر رکھیں کہ کہیں وہی ہماری ہلاکت کا سبب نہ بن جائیں!!