تصوّر کریں آپ ایک طالب علم ہیں اور آپ کا اہم ترین امتحان سر پرمنڈلا رہا ہے، مگر آپ نے اس امتحان کیلئے کوئی تیاری نہیں کی ہے، جو وقت امتحان کی تیاری کیلئے تھا آپ اس دوران کمپیوٹر پر گیمز کھیلنے میں، ٹی وی دیکھنے میں اور سماجی ویب سائٹ فیس بک پر لوگوں کے ساتھ رابطے بڑھانے میں مصروف رہے، اور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ امتحان آپ کے مستقبل کیلئے پاس کرنا کتنا ضروری ہے، اور اس حقیقت سے بھی آپ انکار نہیں کرسکتے کہ جو تیاری آپ کی اس وقت ہے اس سے آپ یہ امتحان پاس کرنے کی بالکل بھی صلاحیت نہیں رکھتے، اس طرح کی صورتحال میں ایک عام طالب علم کیلئے آسان راستہ دھوکہ دہی یا پھر نقل کرنا ہی رہ جاتا ہے، افسوسناک بات یہ نہیں ہے کہ نقل ہو رہی ہے بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ نقل کو وسیع پیمانے پر قبول کیا جا رہا ہے اور اس میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
وہ کونسی صورتحال یا واقعات ہیں جو طالب علم کو ایسا کرنے پر مجبور کرتے ہیں؟دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ دھوکہ دہی یا نقل کرنا اب کوئی طعنہ نہیں رہا، جیسا کہ ماضی میں ہوا کرتا تھا ، طالب علموں کا خیال ہے کہ نقل تیزی سے پھیل رہی ہے اور اسے آج کے دور میں قبول بھی کیا جا رہا ہے، انہیں نقل اور دھوکہ دہی ہر ہر شعبہ زندگی میں دکھائی دیتی ہے، چاہے وہ سیاست ہو، کاروبار ہو، ان کا گھر ہو یا اسکول ہو، نقل کا یہ مسئلہ حال ہی میں ہونے والے میٹرک کے امتحانات میں ابھر کر سامنے آیا ہے، واضح طور پر دکھائی دیا کہ طالب علم کمرہ امتحان میں باہر سے اندر سمگل کی گئی کتابوں سے سوالات کے جوابات دیکھ دیکھ کر لکھ رہے تھے، ایک دوسرے کی کھل کر مدد کر رہے تھے، حتیٰ کہ ان میں اتنی ہمت آگئی ہے کہ وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر اپنے دوست کے پاس جاتے اور اس سے سوال کا جواب پوچھ کر آتے، یہ صورتحال واضح طور پر آج کی نوجوان نسل کی انتہائی بری تصویر پیش کرتی ہے، اس صورتحال کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ جو طالب علم اب کامیابی کیلئے ناجائز ذرائع استعمال کر رہا ہے کل وہ زندگی میں مزید کامیابیوں کیلئے کیا کچھ نہیں کرے گا، یہ جو مثال قائم کی جا رہی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے، مگر اس تمام صورتحال میں صرف طالب عالم کو قصور وار ٹھہرانا غلط ہوگا، طالب علموں کی پرورش ہی ایسے ہوتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نقل کرنا ان کا حق ہے، یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صحیح اور غلط کا علم دیں، ہم جب ایسا نہیں کرتے تو سمجھ لیں کہ ہم اپنی بنیادی ذمہ داری میں فیل ہو گئے ہیں۔
طالب علموں کی جانب سے نقل کی پہلی وجہ یہ ہے کہ ان کے خاندان کی جانب سے اچھے نمبر اور بہترین گریڈ لینے کیلئے دباؤ ہوتا ہے اور جب طالب عالم اس دباؤ میں آجاتا ہے تو وہ توقعات پر پورا اترنے کیلئے نقل کا راستہ اختیار کرتا ہے، اپنے خاندان اور دوستوں کو متاثر کرنے اور اچھے نمبر لینے کیلئے اس کے پاس نقل کا راستہ ہوتا ہے، ان کا خاندان ان کیلئے یہ اعلیٰ معیار قائم کرتا ہے، طالب علم اس کو پانے کیلئے نقل کی راہ پر چل پڑتا ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ والدین جو اپنے بچوں کے قریب ہوتے ہیں وہ بچوں کو ان کے اہداف حاصل کرنے میں مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں، لیکن دیکھنے میں آیا کہ والدین کی جانب سے غیرضروری توقعات بچوں پر دباؤ بڑھا دیتی ہیں اور اس سے اس کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے، دباؤ کی وجہ سے طالب علم ہر کام کرنے کیلئے تیار ہوجاتا ہے، بچوں کو آج کے دور میں شوپیس سمجھ لیا گیا ہے، ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ والدین کا سر فخر سے بلند کرنے کیلئے مشین کی طرح کام کریں، آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو بچے اسکول میں بہت زیادہ دباؤ میں رہتے ہیں، راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھتے ہیں، ان میں بھوک کی کمی واقع ہو جاتی ہے اور وہ اکثر ڈیپریشن میں چلے جاتے ہیں، ایسے بچوں میں خود کشی کی جانب جانے کے زیادہ امکانات پائے جاتے ہیں، اگر ہم طالب علموں کو توقعات سے آزادی دے دیں تو اس طرح ایک جانب ان کی کارکردگی میں بہتری آئے گی تو دوسری جانب نقل کے رحجان میں بھی کمی واقع ہو گی، ہماری توجہ اس بات پر نہیں ہونی چاہئے کہ ہمارا بچہ کلاس میں بہترین بچہ ہو بلکہ ہمیں اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق بہترین کام کرے۔ ان دنوں سب سے زیادہ خطرناک کام جو ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ والدین اب خود بچوں کو نقل میں مدد فراہم کرتے ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سولہ سالہ بچہ امتحان سے قبل عملے کو رشوت دے یا امتحان سے پہلے پرچے خریدے؟یہ سب کچھ والدین کی جانب سے ہی ہوتا ہے، والدین کو یہ بات سمجھنا چاہئے کہ سب کچھ امتحانات ہی نہیں ہوتے ہیں۔
نقل کی ایک دوسری وجہ ہمارا پورا نظام تعلیم بھی ہے، طالب علموں پر شرط عائد کردی جاتی ہے کہ وہ سیکھنے کی بجائے بہترین نتائج دیں، ہمارا نظام تعلیم صرف اچھے گریڈ حاصل کرنے پر مرکوز ہے، چاہے وہ کسی طرح بھی حاصل کیا جائے، انفرادی طور پر کچھ سیکھنا نہ ہی ہمارا ہدف ہے اور نہ ہی ہماری اس پر توجہ ہے، اگر ہم اپنے نظام تعلیم کو بہتر بنالیں اور اس میں کچھ بہتر سوچ لے آئیں تو ہم انقلابی طور پر اس صورتحال کو تبدیل کرسکتے ہیں، ہمارا سلیبس ایسا ہونا چاہئے جس میں سیکھنے پر توجہ دی جائے نہ کہ رٹّا سسٹم کو فروغ دیا جائے،امتحانات میں شریک ہونے والے طالب علموں کو نسل، مذہب اور علاقے سے ہٹ کر کامیابی کیلئے مساوی مواقع فراہم کئے جائیں، دوردراز علاقوں میں رہنے والے طالب علموں کو بھی اسی معیار کی تعلیم دی جائے، جس معیار کی تعلیم کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے طالب علموں کو ملتی ہے، اس طرح کے شفاف نظام تعلیم کے رائج ہونے سے یہ بات یقینی ہو جائے گی کہ ہر طالب علم کو بہترین تعلیم ملے گی، اس طرح انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کیلئے نقل کا سہارا لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔
امتحانی پرچہ جات کی تیاری، ان کی ترسیل اور ان کو نمبر لگانے کیلئے ایک بہترین نظام ضروری ہے، امتحانات کے وقت طالب علم پر سے دباؤ ہٹانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ سال بھر اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے، اس کے علاوہ کمپویٹرائزڈ نمبر لگانے کا نظام بھی متعارف کرایا جائے، یہ نظام کئی یونیورسٹیوں میں انٹری ٹیسٹ کے وقت لاگو کیا جاتا ہے اور یہ کامیاب بھی رہا ہے اس سے مایوسی اور ناانصافی کی فضاء ختم ہو جائے گی، نقل کی حوصلہ شکنی کیلئے اگر امتحانات میں مختلف پیپر استعمال کیا جائے، اس طرح ساتھ والے ساتھی کا سوالنامہ مختلف ہوگا، ایسے طالب علموں کیخلاف سخت اقدامات کئے جائیں جو نقل کرتے ہیں اور جو ان کو نقل میں مدد کرتے ہیں، باقاعدہ قوانین لاگو کئے جائیں اور طالب علم یا امتحانی عملے کا کوئی شخص ملوث پایا جائے تو سخت سزائیں دی جائیں، مختلف امتحانی سینٹرز میں سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کا نظام بھی متعارف کرایا جائے۔نقل کرنا جرم ہے، یہ اقدامات اس کے مکمل تدارک یا اس کو کم کرنے کیلئے ضروری ہیں، اگر ہم نے امتحانات میں نقل کے رحجان کو جڑ سے نہ اکھاڑ پھینکا تو اس سے ایک انتہائی خطرناک مثال قائم ہو جائے گی جس سے آنے والی نسل یہی سمجھے گی کہ جرم کرنا کوئی بری بات نہیں ہے اور زندگی میں آگے بڑھنے کیلئے غیر اخلاقی طریقے اپنائے جاسکتے ہیں اور یہ مثال صرف اور صرف ہماری نسل کو تباہ کرے گی۔