یوسف رضا گیلانی:

سارا ہفتہ طبیعت قدرے ناساز رہے گی۔ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے پارٹی ورکروں کی ٹولیاں آپ کے ساتھ اظہار یکجہتی کا بہانہ کرکے”چیزا“ لیتی رہیں گی۔ دم درود کرنے والوں کا بھی تانتا بندھا رہے گا۔ ملتان سے آیا ہوا ساڑھے تین سو ملنگوں اور مجذوبوں کا تازہ دم دستہ صبح دوپہر شام آپ کے حق میں دھمال ڈال ڈال کر سارے وزیر اعظم ہاؤس کاجینا حرام کرتا رہے گا، آپ کا پروٹوکول ونگ ان احباب کے لئے روٹی پانی ،بھنگ، چرس و دیگر مقویات کا انتظام کرکرکے ”پھاوہ“ ہوتا رہے گا، مگر آپ صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے۔
آپ کے تمام دوستوں اور ساتھیوں کو آپ کی فکر لاحق رہے گی۔برادرم قمرزمان کائرہ سخت پریشانی کے عالم میں ادھرادھر بھاگتے پھریں گے۔ بالآخر وہ ایک پہنچے ہوئے جعلی سے عامل جادوگر بنگالی بابا کو ا پنے ہمراہ لے کر آپ کی خدمت اقدس میں حاضری دیں گے۔ منکوں، موتیوں اور مندریوں سے مزین اس عجیب الخلقت جادوگر کو دیکھتے ہی آپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے گا۔ برادرم کائرہ بھی قدرے شرمندگی سے بغلیں جھانکنے لگیں گے(اپنی بغلیں، جادوگر کی نہیں)، غصے کے عالم میں آپ ملٹری سیکرٹری سے کہہ کر سب سے پہلے اس کے کان پکڑاویں گے،(یہاں ذکر جادوگر کا ہورہا ہے، برادرم کا نہیں) ۔ بعد ازاں آپ اس منحوس جادوگر کو ملنگ پارٹی کے حوالے کرکے ثواب دارین حاصل کریں گے جس سے طبیعت کا بوجھل پن بھی کافی حد تک جاتا رہے گا البتہ ملنگ حضرات اس مکار کے ساتھ جو بدسلوکی کریں گے اس سے اس بیچارے کی طبیعت پورے چھ ماہ بوجھل رہے گی۔
بروز جمعتہ المبارک ،آپ کے وکیل محترم چودھری اعتزاز احسن صاحب شرف باریابی کی اجازت طلب کرتے رہیں گے مگر آپ اور آپ کا عملہ چونکہ اب ان کی کسی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا، اس لئے وہ پورا مہینہ یہی کچھ کرتے رہیں گے، آپ کو ان کی طرف توجہ دینے کی چنداں ضرورت نہیں۔ بعض عاقبت نااندیش دوست آپ کو مشورہ دیں گے کہ وکیل محترم کو بھی اعتراف خدمت کے طور پر ملنگ پارٹی کے حوالے کردیا جائے مگر آپ اس احمقانہ مشورے پر کان مت دھرئیے گا کیونکہ بیرسٹر صاحب سارے مقدمے میں ہی نہیں ہارتے ،کبھی کبھار جیت بھی جاتے ہیں۔
نواز شریف:
سارا ہفتہ سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا رہے گا۔ دو پارٹی اکابرین جان اور عہدے کی امان طلب کرکے پہلے تو آپ کی شان میں چند قصائد پیش کرکے حاضرین محفل کو خوب بور کریں گے مگر آپ فرط جذبات سے لہکتے ہوئے مزید گلابی ہونے لگیں گے۔ عین اس وقت یہ اکابرین بیک زبان عرض کریں گے کہ آپ نے لانگ مارچ والا پنگا آخر لیا ہی کیوں اور اگر یہ بڑھک مارہی دی ہے تو پھر چپ کیوں ہوگئے ہیں ،اب شیر ،بنیں شیر۔
ہفتے کی صبح دس بجے کے قریب خوشخبر ی ملنے کا قوی امکان ہے، پیشگی مبارک ہو تاہم اس خوشخبری کا مزا کرکرا کرنے کے لئے وہی دونوں پارٹی اکابرین بار دیگر حاضر ہو کر جان اور عہدے کی امان طلب کریں گے۔ آپ شدید مجبوری کے عالم میں امان دے کر ان کی بات سننے کے لئے سٹرانگ روم میں تشریف لے جائیں گے۔ یہ احباب حسب روایت قصیدہ گوئی سے بات شروع کرنا چاہیں گے مگر اب تک آپ ان کی شر انگزیوں سے خوب واقف ہوچکے ہوں گے۔ اس لئے صاف کہہ دیں گے کہ مطلب کی بات کرو۔ یہ دونوں دست بستہ عرض کریں گے کہ چودھریوں کو غیر مشروط طور پر گلے لگانے اور مسلم لیگ کو یکجا کرنے کے سوا اب آپ کے پاس اور کوئی چارہ ہی نہیں، ورنہ پیپلز پارٹی و ہمنوا ایک بار پھر پانچ سال کے لئے آن دھمکیں گے۔ آپ سخت غصے کے عالم میں ان دونوں کی قسمت کا فیصلہ صادر فرمانے ہی لگیں گے کہ برادر خورد میاں شہباز شریف سرگوشی میں یاد دلائیں گے کہ آپ انہیں جان کی امان دے چکے ہیں۔اتوار کی شام برادرم انعام اللہ نیازی تحریک انصاف کی طرف سے پیغام لائیں گے کہ اب بھی وقت ہے اگر آپ عمران خان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی بے مثل قیادت میں تحریک نجات کا آغاز کریں، پیپلز پارٹی قیامت تک ا قتدار میں نہیں آسکتی۔ آپ حیرت اور ہمدردی کے ملے جلے جذبات سے مغلوب ہو کر برادرم کو گلے لگائیں گے، اس کے لئے کھانا منگوائیں گے اور وہ بیچارہ بھی فرط اشتہاء کے سبب تقریباً دو تین گھنٹے لگاتار کھانا کھاتا رہے گا ، بالآخر آپ حمزہ شہباز کے کان میں کہیں گے کہ بہلا پھسلا کر برادرم کو اتفاق ہسپتال لے جائیں اور کسی اچھے نیوروسرجن سے ان کا دماغی معائنہ کروائیں اور اگر عمران صاحب بھی آمادگی ظاہر کریں تو ان کا بھی مفت معائنہ کروائیں، ہیں جی؟رات پچھلے پہر وہی دونوں اکابرین در دولت پر حاضر ہو کر ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز خبر دینا چاہیں گے۔ آپ ہمہ تن گوش ہو کر ان کی طرف دیکھنے لگیں گے، مگر حفظ ماتقدم کے طور پر یہ آپ سے جان وغیرہ کی امان طلب کریں گے، مگر آپ چونکہ بھانپ چکے ہیں کہ یہ عیار اکابرین ہر بار آپ کو جھانسا دے کر نہایت بری بلکہ سڑی ہوئی خبر سنا جاتے ہیں اس لئے اب آپ ان کے دام میں نہیں آئیں گے، چنانچہ آپ نیند سے لبالب بھری خوبصورت آنکھوں سے انہیں دیکھیں گے، ٹھوڑی کھجائیں گے،(اپنی،ان کی ٹھوڑی نہیں) پھر گویا ہوں گے،
”برادران ،جو کچھ کہناہے اپنے رسک پر کہو، کیونکہ اب میں تمہیں امان نہیں دوں گا“۔دونوں مکار حیرت سے آپ کی طرف دیکھتے ہوئے تقریباً نصف گھنٹہ سکتے کے عالم میں رہیں گے، آپ انہیں اسی حالت میں چھوڑ کر سونے چلے جائیں گے۔باقی ہفتہ نہایت خوش اسلوبی سے گزرے گا۔