چلو مخدوم یوسف رضا گیلانی کے خلاف عدالتی فیصلے کا ایک فائدہ تو ہوا صنعتی کارکنوں کو ریلیف ملا۔ گزشتہ چار سال میں یہ پہلا یوم مئی ہے جو ملک بھر کے صنعتی کارکنوں اور مزدوروں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوا۔ ”نااہل“ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے مزدوروں کی تنخواہ آٹھ ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کا اعلان کیا، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے گیلانی صاحب کے نہلے پر دہلا مارا اور تنخواہ میں دو ہزار اضافہ کر کے نو ہزار روپے ماہانہ کر دی جبکہ یوم مئی کے موقع پر ڈیفنس روڈ لاہور میں تیرہ سو مکانوں کی چابیاں غریب صنعتی کارکنوں کے حوالے کرنے کی تقریب میں مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف نے نو ہزار روپے کو بھی ایک خاندان کی ضروریات کے لئے ناکافی قرار دیتے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ اقتدار میں آ کر کم از کم ماہانہ اجرت بیس ہزار روپے کریں گے۔
یہ تقریب اس لحاظ سے شاندار تھی کہ صنعتی کارکنوں کو اپنے گھروں کا قبضہ مل رہا تھا اور ان کی زندگی بھر کی خواہش پوری ہو رہی تھی مگر میاں شہباز شریف نے یہ بتا کر فلیٹس کے مالکان کو پریشان کر دیا کہ پیپکو اور لیسکو نے زرداری حکومت کی ہدایت پر تاحال اس کالونی کو بجلی فراہم نہیں کی مگر کوئی بات نہیں وہ مزدور لیڈر خورشید احمد کے ساتھ مل کر لیسکو کے دفتر پر دھرنا دیں گے اور تیرہ سو گھروں کے لئے الیکٹرسٹی کنکشن لے کر اٹھیں گے جس پر میاں نواز شریف نے گرہ لگائی کہ کالونی میں بجلی آ بھی گئی تو کتنی دیر کے لئے؟ پھر چلی جائے گی کیونکہ یہاں تو بجلی ایک گھنٹہ آتی اور کئی گھنٹوں کے لئے چلی جاتی ہے۔
گیلانی صاحب اور خادم پنجاب کے اعلانات پر زمیندار اور میرزادے کے مابین ہونے والا مکالمہ یاد آ رہا ہے جس میں میرزادے نے زمیندار سے کہا تھا کہ ”آپ مصیبت میں پڑے رہیں تو ہم آپ کی زیاتیوں سے محفوظ رہتے ہیں اور کچھ نہ کچھ بھلا ہو جاتا ہے“ تنخواہوں میں اضافے کا اعلان سن کر صنعتی کارکن دعائیں مانگ رہے ہیں کہ صوبوں میں ہمیشہ ایک دوسرے کی مخالف حکومتیں قائم ہوں تاکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے غریبوں کی بھلائی کا کوئی کام کر سکیں اور ہر چار چھ ماہ بعد کوئی نہ کوئی اعلیٰ عہدیدار عدالتی فیصلے کی زد میں ضرور آئے تاکہ اپنی عوام دوستی ثابت کرنے کے لئے مہنگائی میں کمی اور تنخواہوں میں اضافے کی تدبیر کرتا رہے شریف برادران لانگ مارچ کی تیاری کر رہے ہیں تو یقینا صوبے کے عوام کے لئے بہت سے اقدامات کریں گے تاکہ ان کی عوامی تائید و حمایت میں اضافہ ہو اور دوسرے صوبوں کے عوام کو بھی ترغیب ملے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو اپنے اپنے صوبوں اور مرکز میں اقتدار دلائیں اور ان فوائد سے بہرہ مند ہوں جو پنجاب کے حصے میں آ رہے ہیں جبکہ وفاقی حکمرانوں کو بھی کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا تاکہ ان کی دال روٹی چلتی رہے۔
صنعتی کارکنوں کی فلاح و بہبود کے لئے مرکز میں ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ کا ادارہ عشروں سے قائم ہے جس کے پاس اربوں روپے کے فنڈ ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے شکوہ کیا کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت یہ ادارہ صوبے کو منتقل ہونا چاہئے مگر اربوں روپے کے فنڈز وفاقی حکومت نے روک رکھے ہیں گیلانی صاحب چاہیں تو تین ہزار روپے کی موجودہ ماہانہ پنشن کو دگنا یعنی چھ ہزار کر کے صوبوں کے حوالے کر دیں تاکہ کارکن خوش ہو جائیں اور صوبوں کا مطالبہ بھی پورا ہو جائے خادم پنجاب البتہ چھ کو سات کر کے بازی لے گئے تو؟ مگر یہ بعد کی بات ہے فی الحال تو یہ فنڈز بیورو کریسی اور جیالوں پر خرچ کرنے کے بجائے کارکنوں کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کرنے کی ضرورت ہے۔
یوم مئی پر کارکنوں کی فلاح و بہبود کا خیال حکمرانوں کو یوں ہی بیٹھے بیٹھے نہیں آ گیا یہ اس سال کے آخر میں عام انتخابات کے انعقاد کی خوشخبری ہے دونوں بڑی جماعتیں ووٹ بٹورنے کی تدبیر کر رہی ہیں دونوں چار سال سے اقتدار میں ہیں اس لئے بلند بانگ جذباتی نعروں اور خالی خولی دعوؤں سے مہنگائی، بے روزگاری، لاقانویت اور لوڈ شیڈنگ کی چکی میں پسنے والے عوام کو موم کرنا مشکل نظر آتا ہے اور دونوں طرف کے تجربہ کار سیاستدان، عمران خان کی صورت میں تھرڈ آپشن سے بھی خوفزدہ ہیں اس لئے دونوں کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر عوام دوستی کا بخار چڑھا ہے اصل تماشہ بجٹ کے موقع پر لگے گا جب مرکز اور صوبے کی حکومتیں عوام کے لئے مراعات اور سہولتوں کا اعلان کریں گی۔
وفاقی حکومت کو نوٹ چھاپنے اور غیر ملکی قرضے لینے کی سہولت حاصل ہے وہ صوبوں کے فنڈز روک سکتی ہے اور بجلی، گیس، پٹرول اس کی دسترس میں ہے اس لئے وہ بہت کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہے مگر اس کی اقتصادی ٹیم نکھٹو اور میڈیا منیجرز پرلے درجے کے نااہل اور نالائق ہیں۔ پارٹی لیڈروں کا یہ زعم بھی پاؤں کی بیڑی ہے کہ عوام ان کے ساتھ ہیں اور انہیں کچھ کرنے یا میڈیا کے تعاون کی ضرورت نہیں جبکہ شریف برادران اس معاملے میں خاصے تیز اور حقیقت پسند ہیں 30 اپریل کے جلسے کے بعد آزاد میڈیا نے جس طرح مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے منہ موڑ کر تحریک انصاف اور عمران خان کی بلائیں لیں اسے دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ اب شریف برادران کبھی میڈیا کی ہمدردیاں حاصل نہیں کر پائیں گے مگر دوچار ماہ کے اندر کچھ عمران خان کی نرگسیت، قدرے تحریک انصاف کے میڈیا منیجروں کی لاپروائی اور زیادہ تر شریف برادران کی ذاتی توجہ کی بناء پر صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اس لئے اگلے چند ہفتوں اور مہینوں میں میدان خوب سجے گا، مقابلہ سخت ہو گا اور نامی گرامی پہلوان اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے آگے عوام کی قسمت #
دیکھئے، پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
حکومت اور اپوزیشن کی اس لڑائی، عدالتی فیصلوں کے خوف اور عوام کو ایک بار پھر بے وقوف بنانے کی دھن میں غریب آدمی کو کچھ ریلیف مل جائے اور نااہلوں سے جان چھوٹے تو کوئی برہمن کہے نہ کہے لوگ اس سال کو اچھا ہی کہیں گے۔ انہیں آم کھانے سے غرض ہے پیڑ گننے سے نہیں: کام اچھا ہے وہ، جس کا کہ مال اچھا ہے۔