صوبیدار عبدالخالق کا تعلق پاکستان آرمی کی آزاد کشمیر رجمنٹ سے تھا۔ اس کی زندگی کے دو خواب تھے۔ وہ ارضِ وطن کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنا چاہتا تھا اور اپنی بیٹی نازیہ کو قرآن پاک حفظ کرانا چاہتا تھا۔ صوبیدار عبدالخالق کے یہ دونوں خواب پورے ہو چکے ہیں۔ اس کے خوابوں کی کہانی میں نے اس کی پیاری بیٹی نازیہ خالق کی زبانی 30اپریل کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں یومِ شہداء کی تقریب میں سنی۔ اس تقریب میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے خطاب پر بہت تبصرے ہو چکے کئی تجزیئے لکھے جا چکے ہیں لیکن جن شہداء کو سلامِ عقیدت پیش کرنے کے لئے یہ خوبصورت تقریب منعقد کی گئی ان شہداء کا ذکر بھی ضروری ہے۔ نازیہ خالق کا والد شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ کے قریب پاکستانی ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوا۔ نازیہ بتا رہی تھی کہ آخری دفعہ جب اس کے والد سے گفتگو ہوئی تو صوبیدار عبدالخالق نے اپنی بیٹی سے کہا کہ پتر تم نے قرآن حفظ کر کے اپنی ماں کو جنت کا حقدار بنانا ہے۔ بیٹی نے پوچھا کہ ابو جی صرف ماں کیوں آپ کیوں نہیں تو صوبیدار عبدالخالق نے جواب میں کہا کہ پتر میں جنت میں خود چلا جاؤں گا۔ نازیہ نے فخریہ لہجے میں کہا کہ میرے ابو جی کو اپنی شہادت کا یقین تھا اور میں بھی اپنے ابو کی طرح پاکستان آرمی میں شامل ہو کر وطن کا دفاع کروں گی۔ اس کے ان لفاظ پر تقریب میں موجود شرکاء نے پُرنم آنکھوں کے ساتھ تالیاں بجائیں اور میں سوچ رہا تھا کہ صوبیدار عبدالخالق جنت کا متلاشی تھا اور جن پاکستانی طالبان کی گولیوں نے اسے اس کی جنت دی وہ بھی جنت کے راہی تھے۔ دونوں مسلمان تھے، دونوں پاکستانی تھے ، ان دونوں کو آمنے سامنے کون لایا؟ سندھ رجمنٹ کے سپاہی غلام مرتضیٰ کی نوجوان بیوہ سکینہ نے سندھی زبان میں اپنے شہید شوہر کی یادوں کو تازہ کیا۔ بلوچ رجمنٹ کے کیپٹن سفر خان کے والد سلطان خان قنبرانی نے کہا کہ مجھے اپنے بیٹے کو کپتان کی وردی میں دیکھنے کا بہت شوق تھا ۔ میرا یہ شوق اس وقت پورا ہوا جب کیپٹن سفر خان شہید ہو گیا اور اس کی خون آلود وردی میرے سامنے آئی۔ انہوں نے کیپٹن سفرخان کے چھوٹے بھائی کیپٹن ظریف خان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ میں اپنا دوسرا بیٹا بھی قوم کے لئے پیش کرتا ہوں۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے حوالدار حنائر خان کے بیٹے اختر عباس نے یوم شہداء کی تقریب کے شرکاء کو بتایا کہ اس نے اپنے شہید والد کا خون آلود یونیفارم سنبھال کر رکھ لیا ہے اور ایک دن وہ پاکستان آرمی میں شامل ہو کر اپنے شہید والد کی یونیفارم دوبارہ پہنے گا۔ ملٹری کالج جہلم میں زیر تعلیم اختر عباس نے پُرعزم لہجے میں اپنے والد کے قاتلوں کو للکارتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم کے بیٹے اپنے وطن کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ صوبیدار عبدالخالق، سپاہی غلام مرتضیٰ، کیپٹن سفر خان اور حوالدر حنائر خان نے کسی بیرونی دشمن کے ہاتھوں رتبہ شہادت حاصل نہیں کیا۔ ان بہادروں نے اپنوں کے ہاتھوں لگائی ہوئی آگ کو بجھاتے ہوئے اپنے ہی گھر میں جان دی اور تمغہ بسالت حاصل کیا۔ یوم شہداء کی تقریب میں ایک ایسے شہید کا ذکر بھی ہوا جسے پاکستانی طالبان نے نہیں بلکہ طالبان کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اتحادی امریکا نے شہید کیا۔
اس شہید کا نام تھا میجر مجاہد علی میرانی جن کا تعلق لاڑکانہ سے تھا۔ میجر مجاہد علی میرانی26/ نومبر 2011ء کو پاک افغان سرحد پر سلالہ چیک پوسٹ میں موجود تھے۔ یوم شہداء کی تقریب میں میجر مجاہد علی میرانی کے بارے میں ایک مختصر دستاویزی فلم پیش کی گئی اور بتایا گیا کہ انہوں نے رات کی تاریکی میں بلاوجہ حملہ کرنے والے طاقتور دشمن کا بڑی بہادری سے مقابلہ کیا جس پر انہیں ستارئہ جرأت سے نوازا گیا۔ جس وقت میجر مجاہد علی میرانی کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا تھا تو میں نے اپنی بائیں جانب بیٹھے ہوئے کچھ غیرملکی سفیروں اور ملٹری اتاشیوں پر نظر ڈالی۔ ان میں کئی ایسے تھے جن کا تعلق نیٹو ممالک سے تھا اور میجر مجاہد علی میرانی نیٹو فوج کے حملہ میں شہید ہوئے تھے۔ میری نظریں نیٹو ممالک کے سفارتکاروں کے چہروں پر کسی احساسِ ندامت کو تلاش کر رہی تھیں لیکن یہ ندامت ترک سفیر کے سوا کسی دوسرے سفیر کے چہرے پر نظر نہیں آئی۔ میں پچھلے سال بھی جی ایچ کیو میں منعقد ہونے والی یوم شہداء کی تقریب میں موجود تھا۔ پچھلے سال کی تقریب میں جن شہداء کا ذکر ہوا وہ سب کے سب پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہوئے لیکن اس سال اسی جی ایچ کیو میں یومِ شہداء کی تقریب میں جب سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے میں شہید ہونے والوں کا ذکر ہوا تو میرے پیچھے بیٹھے ہوئے کئی شہداء کے لواحقین نے امریکہ کے لئے جن الفاظ میں اپنی نفرت کا اظہار کیا وہ بڑے تشویشناک تھے۔ مجھے محسوس ہوا کہ ہم نے اپنی فوج کو ایک عجیب لڑائی میں الجھا دیا ہے۔ اس فوج کو اندر سے بھی حملوں کا سامنا ہے اور باہر سے بھی حملوں کا سامنا ہے۔ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سے عام پاکستانیوں کی نظروں میں طالبان اور امریکا کے درمیان فرق ختم ہو گیا ہے اور اسی لئے حکومت کے لئے نیٹو سپلائی لائن کی بحالی کا فیصلہ خاصا مشکل ہو چکا ہے۔
یوم شہداء کی تقریب بارش کے باوجود جاری رہی۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے یادگارِ شہداء پر پھول پیش کرنے تھے۔ میں اور ڈاکٹر شاہد مسعود ہاتھوں میں گل دستے لئے یادگار شہداء کی طرف بڑھے تو ہمارے آگے آگے وزیر دفاع احمد مختار، وزیر داخلہ رحمان ملک اور وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی آفتاب شیخ اور نصیر بھٹہ بھی چل رہے تھے۔ ایک لمحے کے لئے دل کو کچھ تسلی ہوئی کہ پارلیمنٹ میں ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے والے کم از کم شہیدوں کی یادگار پر پھول پیش کرنے کے لئے تو اکٹھے ہیں۔ اسی ہجوم میں ایک ٹانگ سے معذور فوج کے ایک سپاہی نے میرا بازو پکڑ لیا اور اپنی کٹی ہوئی ٹانگ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ مجھے اس ٹانگ کے ضائع ہونے کا کوئی افسوس نہیں لیکن کبھی کبھی یہ سوچتا ہوں کہ گیارہ ستمبر 2001ء سے پہلے ہم پر خودکش حملے کیوں نہیں ہوتے تھے؟ آج ہم پر طالبان بھی حملے کرتے ہیں اور امریکی بھی حملے کرتے ہیں آپ بتائیں کہ بڑا دشمن کون ہے اور چھوٹا دشمن کون ہے۔ اگر امریکا طالبان سے مذاکرات کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ میں نے اس بہادر سپاہی کو گلے لگایا اور کہا کہ میرے بھائی یہ وقت آپ سے بحث کا نہیں آپ کو سلام پیش کرنے کا ہے۔ بہادر سپاہی مسکرایا اور اپنے بیٹے کے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ایک باوردی جوان نے آگے بڑھ کر اپنے معذور ساتھی کی اس کے بیٹے اور میرے ساتھ تصویر بنا دی۔ اب مجھے چاروں طرف سے شہداء کے لواحقین نے گھیر رکھا تھا۔ کوئی مجھے اس تقریب میں موجود نیٹو ممالک کے سفیروں کے لئے پیغام دے رہا تھا، کوئی حکمرانوں کے لئے پیغام دے رہا تھا۔ یہاں سے واپسی پر دل بہت بوجھل تھا۔ میرے کانوں میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کے یہ الفاظ گونج رہے تھے کہ انصاف سب کے لئے برابر ہونا چاہئے۔
آج پوری قوم کو اپنی فوج کے ساتھ انصاف کرنا چاہئے۔ اس فوج کو ایک ایسی جنگ میں سے نکالنا چاہئے جو ہمیں اندر سے کمزور کر رہی ہے۔ ہمارا اصل دشمن اندرونی نہیں بیرونی ہے۔ بیرونی دشمن کے خلاف اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ وہ تمام جواز اور وجوہات ختم کر دی جائیں جو ہمیں اندر سے تقسیم کر رہی ہیں۔ جنرل کیانی نے درست کہا کہ انصاف سب کے لئے برابر ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم بھی آئین کا احترام کریں اور خفیہ ادارے بھی آئین کا احترام کریں۔ جنرل کیانی لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کر دیں تو پوری قوم ان کی شکر گزار ہو گی اور پھر اس فوج کے کچھ افسران کے کردار پر سوال اٹھانے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے گی۔