سپریم کورٹ سے وزیر اعظم کو سزاہوجانے کے بعد خدشہ ہے کہ ہمارے قومی اداروں میں بداعتمادی نہ بڑھ جائے جس سے پاکستان کے جمہوری سسٹم کو نقصان پہنچ سکتا ہے رول آف لاء کو یقینی بنانے کے لئے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد بھی ضروری ہوتا ہے۔ عدالتی فیصلوں سے اختلاف دنیا کے ہر ملک میں ہوتا ہے لیکن ہر جگہ پہلی ترجیح قومی مفاد کو دی جاتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت جو نئی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے ملکی و غیرملکی سرمایہ کار اور تاجروں میں پریشانی بڑھ گئی ہے کہ اب اگر حکومت نے سپریم کورٹ کا وزیر اعظم گیلانی کے حوالے سے فیصلہ نہ مانا تو اس حوالے سے ملک میں قانونی اور آئینی نقطہ نظر سے ایک نئی بحث کئی قومی مسائل پیدا کر سکتی ہے جس سے سب سے زیادہ منفی اثر ملکی معاشی اور تجارتی سرگرمیوں پر پڑ سکتا ہے جو کہ پہلے ہی کمزور طرز حکمرانی، بدانتظامی، کرپشن اور توانائی کے بحران سمیت کئی وجوہ کی بنیاد پر مشکل حالات سے دوچار ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی دعوے تو یہ ہیں کہ رواں مالی سال میں ہر طرح کے حالات کے باوجود گروتھ ریٹ 4فیصد رہے گا جبکہ آزاد اقتصادی ماہرین کی رائے میں حقیقی معاشی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ایسے حالات میں ملک میں ایک نئی قانونی بحث شروع ہو گئی تو اس سے دنیا میں پاکستان کے امیج پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جو ملک میں امن و امان کی پریشان کن صورتحال اور معاشی بحران اور کرپشن کے کئی الزامات یا واقعات کی وجہ سے پہلے ہی کوئی اچھا نظر نہیں آرہا۔ اس وقت حالات کا تقاضا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ میں اعتماد میں کمی کو دور کرنے کی حکمت عملی مرتب کی جائے ورنہ ایک طرف تو جمہوری نظام کے لئے خطرات بڑھتے جائیں گے دوسرا ملکی معاشی سرگرمیوں میں تیزی کی بجائے کمی بڑھ سکتی ہے جس سے مزید کارخانے بند ہو سکتے ہیں اور روزانہ اجرت سے لے کر ریگولر جاب کرنے والے بے روزگاروں میں خوفناک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ معاملہ بڑھ گیا تو ملک میں دہشت گردی اور بدامنی کے واقعات بھی بڑھ سکتے ہیں جس سے غیر ملکی تو کیا ملکی سرمایہ کار بھی اپنا بزنس بند کرنے یا کسی اور جگہ جا کر بزنس کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ پاکستان میں اس وقت اصل ایشو مینجمنٹ کا ہے، اگر ہمارے حکمران صرف اس کی اہلیت پیدا کر لیں تو توانائی کے بحران سمیت کئی سنگین مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ دوسرا پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول کی فراہمی از حد ضروری ہے۔ اس وقت حکومتی سطح پر کئی امریکی پالیسیوں کو من و عن اپنانے کے باعث ایسے نظر آ رہا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں پاکستان کے معاشی حالات میں ایک بڑی مثبت تبدیلی ہوتی نظر آ رہی ہے اس لئے کہ امریکی مفادات کی پاسداری کے بدلے میں یورپی ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے پاکستان کو ہر طرح کے بحرانوں سے نکالنے کے لئے عملی طور پر سوچ بچار شروع کر دی ہے۔ پاکستان جوں جوں امریکی خواہشات پوری کرتا جائے گا توں توں یہاں کے معاشی حالات میں بہتری کی راہ ہموار ہوتی جائے گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ پاکستان میں ریاست کا نظام صحیح سمت میں چلے اور یہ صحیح سمت قومی سلامتی اور معاشی خودمختاری کے حوالے سے قومی امنگوں کے مطابق قومی سوچ اپنانے اور سب سیاسی قوتوں کو امریکہ، بھارت یا کسی اور ملک کی پالیسی اپنانے کی بجائے صرف او رصرف عوام کے مفاد میں سوچنا ہو گا۔ یہی وقت اور حالات کا تقاضا ہے جہاں تک سپریم کورٹ کی طرف سے وزیر اعظم کو مجرم قرار دینے کا معاملہ ہے ، اس کے بعد معاشی نقطہ نظر سے یہ دیکھنا ہو گا کہ اسلام آباد میں نئے بجٹ کے حوالے سے اہم ترین اقدامات کی منظوری کی حیثیت کیا ہو گی اور کیا پوری قوم وزیر اعظم کے آئندہ کسی بھی فیصلے یا اقدام کو قبول کرے گی یا نہیں۔ اس قانونی مسئلہ کو حل کئے بغیر نئے مالی سال کی بجٹ سازی کا کام شاید صحیح طریقے سے آگے نہ بڑھ سکے ۔