جناب یوسف رضا گیلانی اپنی سیاسی زندگی کے بدترین عدالتی اور سیاسی بحران سے نکلنے کیلئے وہی موقف، زبان و کلمات اور حکمت عملی استعمال کر رہے ہیں جو بدنام زمانہ امریکی اسکینڈل یعنی واٹر گیٹ اسکینڈل کی عدالتی کارروائی کے دوران دو مرتبہ منتخب امریکی صدر رچرڈ نکسن نے 1974ء میں اختیار کی لیکن وہ اپنے عوامی انتخابی مینڈیٹ، عالمی تعلقات میں مہارت، امریکی معیشت کی بہتری اور اپنی دانشورانہ شخصیت کے باوجود نہ صرف امریکی سپریم کورٹ کے عدالتی فیصلے کے آگے سر جھکانے پر مجبور ہوگئے بلکہ عدلیہ کی آزادی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوششوں کے باعث امریکی عوام کی نفرت کا اتنا زیادہ شکار ہوئے کہ 520/الیکٹورل ووٹ یعنی 47 ملین ووٹوں سے دوسری مرتبہ امریکی صدر منتخب ہونے والے رچرڈ نکسن کو اپنی صدارتی میعاد پوری کئے بغیر نہ صرف مستعفی ہو کر خاموشی سے وائٹ ہاؤس خالی کرنا پڑا بلکہ نکسن کے متعدد وزیروں اور مشیروں کو بھی عوامی بے عزتی و بدنامی کے علاوہ جیلوں میں سزائیں کاٹنا پڑیں۔ رچرڈ نکسن نے استعفے دے کر اپنے ہی نامزد کردہ غیرمنتخب نائب صدر جیرالڈ فورڈ کو امریکی تاریخ کا ایک غیرمنتخب صدر بنا کر وہائٹ ہاؤس اس کے حوالے کیا اور خود اپنی بقیہ تمام عمر عوامی غیرمقبولیت اور خاموشی کے ساتھ گزاری اور واٹر گیٹ اسکینڈل اور عدالتی مقدمہ میں نکسن کی حمایت کرنے والے اعلیٰ مشیران و معاونین بھی سیاسی اچھوت بن کر رہے اور ری پبلکن پارٹی کو بھی ایک عرصہ تک اس کے نتائج بھگتنے پڑے۔ صدر آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی اور ان کے حامیوں کو امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ کے اس تازہ بیان پر خوش ہونے کی بجائے واٹر گیٹ اسکینڈل اور اس کے بارے میں امریکی سپریم کورٹ میں دائر شدہ مقدمہ نمبر 73-1766 یو ایس اے بنام نکسن اور مقدمہ نمبر 73-1834 نکسن بنام یو ایس اے کے مندرجات، الزامات دلائل اور فیصلے کو پڑھ اور سمجھ لیں اور 8ججوں کے متفقہ فیصلے کے مضمرات و اثر پر نظر ڈال لیں تو انہیں یہ واضح ہو جائیگا کہ آج بھی امریکہ میں منتخب صدر رچرڈ نکسن کے اس دعوے کو کسی نے جمہوریت اور پارلیمانی بالادستی کا نام نہیں دیا کہ صدر نکسن کو امریکی کانگریس عدم اعتماد یعنی مواخذہ کے ذریعے مستعفی کرائے بلکہ آج بھی امریکہ کے تمام جمہوری، آئینی اور سیاسی ماہرین و نمائندے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت صدر رچرڈ نکسن کو ہٹائے جانے کے عمل کو مکمل جمہوری عمل گردانتے ہیں۔ واٹر گیٹ اسکینڈل کے مذکورہ بالا دونوں مقدمات، مندرجات اٹھائے گئے آئینی و قانونی معاملات، الزامات رچرڈ نکسن اور ان کے حامیوں کے دفاعی و سیاسی موقف کو پڑھنا اور جاننا محترم یوسف رضا گیلانی اور ان کے حامیوں کے علاوہ پاکستانی عوام کیلئے بھی اس لئے مناسب ہوگا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے مقدمہ اور فیصلہ پیپلز پارٹی کے موقف اور گیلانی صاحب کے موقف میں کئی اعتبار سے مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوگا کہ یوسف رضا گیلانی اور ان کے حامی جسے جمہوری تقاضے، پارلیمانی بالادستی کا نام دے کر عدالتی فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں امریکہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کر کے اس پر عمل کر کے دوبار منتخب ہونے والے ری پبلکن امریکی صدر نکسن کے مستعفی ہو جانے کو امریکی جمہوریت کا نام دیا گیا ہے۔ امریکی امداد، فیشن، لائف اسٹائل اور نظام کے پاکستانی پرستاروں کو امریکہ میں عدالتی برتری کو جمہوریت کا لازمی حصہ قرار دینے کے اس ریکارڈ سے بھی سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ گیلانی صاحب کیلئے تو یہ بات اس لئے بھی لازم قرار پاتی ہے کہ ان کی پارٹی کے بانی اور مثالی شخصیت جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کے بطور وزیراعظم دورہ امریکہ کو بھی اس واٹر گیٹ اسکینڈل اور فیصلے نے نہ صرف متاثر کیا بلکہ پاک امریکہ تعلقات ومذاکرات بھی متاثر ہوئے۔ نیز ذوالفقار علی بھٹو نے بھی امریکی عدالتی فیصلے کے نتیجے میں عوام کے منتخب صدر امریکہ کے استعفے کو عوامی اور جمہوری اقدام مانا تھا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1974ء کے آخر میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو امریکی دعوت پر امریکی صدر رچرڈ نکسن سے ملنے اور مذاکرات کیلئے امریکہ کا دورہ کرنے والے تھے مگر واٹر گیٹ اسکینڈل اور امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے باعث بھٹو صاحب کو یہ دورہ ملتوی کرنا پڑا اور صدر نکسن کی بھٹو صاحب سے یہ ملاقات نہ ہو سکی بلکہ جیرالڈ فورڈ کے صدر بننے کے بعد بھٹو مرحوم امریکہ کے سرکاری دورہ پر تشریف لائے اور 5/فروری 1975ء کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور صدر جیرالڈ فورڈ کی یہ ملاقات واشنگٹن میں ہوئی۔ بعض دوسرے صحافیوں کے ساتھ میری زندگی میں یہ دن اس لئے یادگار ہے کہ ہم پہلی بار امریکی وہائٹ ہاؤس میں داخل ہوئے تھے اور امریکی سیاسی نظام، بھٹو صاحب کی سفارتی بصیرت کے بعض واقعات، امریکہ میں پاکستانی سفیر جنرل (ر) صاحبزادہ یعقوب، آغا شاہی مرحوم، فارن سیکرٹری اور وزیر خارجہ عزیز احمد مرحوم کو ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاک امریکہ مذاکرات کی کامیابی کے لئے سرگرم دیکھا تھا۔ بیگم نصرت بھٹو مرحومہ کی اسی دورہ امریکہ کی بعض تصاویر کو پاکستان میں سیاسی تنازع کھڑا کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ جب امریکی صحافیوں نے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے واٹر گیٹ کے حوالے سے ردعمل جاننے کیلئے سوال کئے تو وہ کس ذہانت سے میزبان امریکی حکومت کو ناراض کئے بغیر عدالتی فیصلے، نکسن کے استعفے اور عوامی نفرت کو امریکی جمہوریت قرار دیتے ہوئے خوبصورتی سے آزمائش سے نکل گئے۔ رابرٹ میکنامارا اور ہنری کسنجر نے بھٹو شہید کی ذہانت اور تدبر کے بارے میں کیا کچھ کہا یہ سب پھر سہی۔ فی الحال تو واٹر گیٹ کے بارے میں ذوالفقار علی بھٹو کی سوچ، منتخب صدر امریکہ کا عمل اور امریکی جمہوریت میں عدلیہ کے فیصلے کی برتری کو سامنے رکھ کر رائے قائم کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستانی جمہوریت اور امریکی جمہوریت میں کوئی فرق یا تضاد تو نہیں؟ واضح رہے کہ واٹر گیٹ اسکینڈل میں بھی منتخب امریکی صدر نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر کے یہ کرپشن اور جرم کیا تھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ہیڈ کوارٹر میں چوری کروائی بعد ازاں صدر نکسن نے انتظامی استحقاق (یعنی استثنیٰ)کا موقف و مطالبہ، اختیارات کی تقسیم، اخفاء اور عدالت میں مقدمہ کی بجائے امریکی کانگریس سے مواخذہ (پارلیمانی بالادستی) وغیرہ کے وہی موقف اپنائے جو پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے آنے سے پہلے اور بعد میں وزیراعظم گیلانی اپنائے ہوئے ہیں۔ مذکورہ بالا دونوں مقدمات میں دلائل، ججوں کے ریمارکس، نکسن حکومت کے موقف و دلائل اور اٹھائے گئے سوالات پر نظر ڈالیں تو سوئس بینکوں میں پاکستانی رقومات، وزیراعظم گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے اور دو سال سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ہونیوالی قانونی موشگافیوں اور سیاستدانوں کے موقف میں اس کی بازگشت و مماثلت ملتی ہے۔ لہٰذا یوسف رضا گیلانی اور ان کے حامیوں کو امریکی جمہوریت کے اس ریکارڈ، بھٹو شہید کی سوچ اور منتخب امریکی صدر نکسن کے استعفے کو پاکستانی جمہوریت کاحصہ بنا کر جمہوری استحکام کی خدمت کرنا چاہئے۔