ایک دن یوم کتاب تھا تو اس کے دودن بعد یوم حساب۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی یوم کتاب میں بھی شامل تھے اور یوم حساب میں بھی ۔یوم کتاب نیشنل بک فاؤنڈیشن نے منایا اور یوم حساب سپریم کورٹ نے۔دو دن پہلے یوسف رضا گیلانی یوم کتاب میں پاکستان بھر میں سب زیادہ کتابیں پڑھنے والی شخصیت کو انعام دے رہے تھے تو دودن بعد سپریم کورٹ کے حکم پر تیس سیکنڈ کی سزا بھگت رہے تھے۔ اب بھلا یوم حساب اورکسے کہتے ہیں؟ اب رہی یوم کتاب کی بات، تو یوم کتاب تو ہم کہہ رہے ہیں اصل میں بک فاؤنڈیشن نے اسے ” کتاب کا قومی دن“ قرار دیا ہے۔نام تو اس کا کتاب کا دن تھا مگر وہ پورے چار دن پر پھیلا ہوا تھا اور یہ چار دن رنگا رنگ تقریبوں سے بھرے ہوئے تھے ہر طرف کتابوں، انکے لکھنے وا لوں اور انکے پڑھنے والوں کا ہجوم تھا ۔یوں تو اس ہجوم میں پاکستان بھر سے آنیوالے خوش خصال ادیب و شاعر اور ٹی وی کے خوش جمال فن کار اور فن کارائیں بھی شامل تھیں مگر اصل رونق بڑھائی تھی ان بچوں اور بچیوں نے جو مختلف اسکولوں سے آئے تھے ۔پاک چائنا کلچرل کومپلیکس میں جو کتابوں کے اسٹال لگائے گئے تھے ان پر سب سے زیادہ ہجوم ان بچوں کا ہی نظر آتا تھا ۔ شاید اسی لئے بک فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر اور ہمارے جانے مانے افسانہ نگار مظہر الاسلام نے ان افواہوں کو غلط قرار دیا کہ پاکستان میں کتابیں فروخت نہیں ہوتیں، انہوں نے کہا اگر کتاب دیدہ زیب گردو پوش کے ساتھ چھپی ہو تو وہ ضرور بکے گی ۔ اس کیلئے انہوں نے بک فاؤنڈیشن کی اپنی کتابوں اور ان کتاب گھروں کا حوالہ دیا جو انہوں نے مختلف شہروں کے ریلوے اسٹیشنوں وغیرہ پر قائم کئے ہیں۔
اب جس وقت وہ یہ بات کر رہے تھے اس وقت تو بحث کی گنجائش نہیں تھی مگر ان کا یہ بیان کہ کتاب خوبصورت چھپی ہو تو ضرور بکے گی ،ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرناذرا مشکل ہے ۔دیدہ زیب کتاب چھاپنے کا مطلب یہ ہے کہ کتاب میں قیمتی کاغذ لگایا جائے،چھپائی کے لئے سینسے ٹائزڈ پلیٹیں استعمال کی جائیں اور اعلی ترین جلد بندی کرائی جائے۔ اب ذراکسی ناشر سے پوچھ لیجے کہ ان سب چیزوں پر خرچ کتنا آ تا ہے ۔ جتنا زیادہ خرچ آئے گا اتنی ہی کتاب کی قیمت بھی بڑھ جا ئے گی ۔ اوپر سے بک سیلر ساٹھ فیصد تک کمیشن مانگتا ہے ۔آپ بازار جا کر دیکھ لیجے ،قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ کتاب کو ہاتھ لگاتے ڈر لگتا ہے ۔نیشنل بک فاؤنڈیشن سرکاری ادارہ ہے اصل میں تو اسے ان مسائل پر غور کر نا چاہئے کہ کتاب کی قیمت کیسے کم کی جا ئے ۔ جو ادیب بکتے ہیں وہ تو ہرحال میں بکیں گے چاہے ان کی کتاب اخباری کاغذ پر ہی کیوں نہ چھپی ہو ۔ اسی طرح عصری سیاسی حالا ت پر کتابیں بھی ہر حال میں بکیں گی ، درود و وظائف بھی بکیں گے ۔ مسئلہ تو دوسری کتابوں کا ہے ۔ اور یہ مسئلہ حل ہو گا ملک کے اندر خواندگی اور معیار زندگی بڑھانے سے۔ خواندگی بھی وہ نہیں جو ہماری آج کل کی تعلیم سے حا صل ہوتی ہے ۔ہمیں نظام تعلیم کے ساتھ نصاب تعلیم بھی بدلنا ہو گا ۔ ایسا نصاب تعلیم جس میں طلبہ کے اندر آزادانہ طور پر سو چنے سمجھنے اور سوال کرنے کا مادہ پیدا ہو ۔ اورہمیں یہ بھی غور کرنا ہو گا کہ اب Kindle جیسے ڈجیٹل آلات کتابوں کی جگہ لے رہے ہیں ۔ایک کنڈل پر ایک سو کے قریب کتابیںآ جا تی ہیں۔اور کنڈل آپ کی ہتھیلی کے برا بر ہے ۔آپ کو علم ہے کہ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کی چھپائی بند ہو گئی ہے؟اب آپ اسے آن لائن ہی پڑھ سکتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے ہمارے لئے یہ دور کی بات ہو، مگر سوچنے کی بات تو ہے ۔
پاکستان بھر میں سب سے زیادہ کتابیں پڑھنے والا کون ہے ؟ طے ہوا کہ غازی صلاح الدین اور چترال کا طالب علم منظور الہی اس انعام کے مستحق ہیں ۔اتنا ہم بھی جانتے ہیں کہ غازی صلاح الدین انگریزی کے بہت پڑھے جانے والے کالم نگار اور اخبار نویس ہیں ۔ جیو ٹی وی پر کتابوں پر پروگرام بھی کرتے رہے ہیں ۔اور ہم یہ بھی نہیں بھولے ہیں کہ کسی زمانے میں وہ اردو میں افسانے بھی لکھتے تھے ۔ منظور الہی نویں جماعت کا طالب علم ہے۔ مگر جس کتاب کے بارے میں بھی پو چھا وہ اس نے پڑھی ہوئی تھی ۔خیر،یہ تو ہوئی یوم کتاب کی باتیں، اب رہی وزیر اعظم کے یوم حساب کی بات، تو جس طرح یوم کتاب گزر گیا اسی طرح یہ یوم حساب بھی گزر جائے گا ۔