امریکہ کبھی پاکستان کو دھمکیاں دیتا ہے کبھی اس پر دباؤ ڈالتا ہے کبھی اندرونی عناصر کو استعمال کرتا ہے صرف اس لئے کہ وہ افغانستان سے اس طرح نکلنا چاہتا ہے کہ دنیا یہ نہ کہے کہ امریکی اور نیٹو افواج کو شکست ہوگئی ہے اور وہ افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ وہ افغانستان سے یہ تاثر بھی چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے کہ وہ اپنے مقاصد میں ناکام ہوگئے ہیں لیکن یہ ان کیلئے اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک پاکستان وہ کردار ادا نہ کرے جو اس نے روسی اورمجاہدین کیلئے کیا تھا اگر جنیوا معاہدہ مزید ایک دو مہینے اور نہ ہوتا تو روس کو ہتھیار ڈالنا پڑتے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا وہ آج تک یہ نہیں جان سکے کہ افغانستان میں مداخلت سے وہ کچھ بھی حاصل نہیں کرسکے۔ وہ جس طرح افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں اس سے افغان عوام اور افغانستان کے پڑوسی ملک یقینی طور پر متاثر ہوں گے۔ وہ کس طرح نیٹو افواج اور امریکی افواج اور اپنے عوام کے دلوں سے اور ذہن سے اس حقیقت کو محو کرسکتے ہیں کہ طالبان کے دلوں میں جیت کا احساس بڑھ رہا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ امریکی اور نیٹو والے آئندہ کوئی بڑی کامیابی حاصل کرسکیں گے جو پالیسی انہوں نے اس وقت افغانستان میں اپنارکھی ہے وہ ان کیلئے بھی تباہ کن ثابت ہوگی اور افغانستان کے عوام کیلئے بھی اتنی ہی تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب وہ اپنے مقاصد گزشتہ دس سال میں حاصل نہیں کرسکے تو اب2014ء تک وہ کون سا ہمالیہ اکھاڑ دیں گے۔ جس طرح کا ردعمل قرآن کی بے حرمتی پر افغانستان میں ہوا وہ امریکہ اور یورپ والوں کیلئے انتہائی غیرمتوقع تھا۔ امریکی حکومت نے اربوں ڈالر افغانیوں کے ذہن تبدیل کرنے پر خرچ کئے لیکن وہ سب بیکار گئے اور امریکہ نے جتنا کچھ افغان فورسز کو تیار کرنے پر خرچ کیا ہے یہ سب بیکار جائے گا اور جارہا ہے۔
اس وقت پاکستان کے تعلقات بھی امریکہ سے انتہائی کشیدہ ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان سے اس کے تعلقات معمول پر آجائیں لیکن اب یہ اتنا آسان نہیں رہا۔ اس لئے کہ اس ایشو پر صرف حکومت پاکستان اور فوج ہی معاملہ طے نہیں کرسکتے اب یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہوگیا ہے۔ اس میں اب کئی اور عناصر بھی ملوث ہوگئے ہیں۔امریکہ میں صدارتی الیکشن سر پر آپہنچا ہے اور صدر اوباما پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور ان کے پاس کوئی ایسا جواب نہیں ہے جس سے امریکی ووٹر مطمئن ہوسکے۔ امریکی عوام یہ چاہتے ہیں کہ افغانستان سے افواج فوری واپس بلائی جائیں کیونکہ وہ جان رہے ہیں کہ امریکہ ناکام ہوچکا ہے جتنا فوجوں کی واپسی میں زیادہ وقت لگے گا، امریکی قوم کو اتنا ہی بڑھ کر ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی پالیسی ساز اس حقیقت سے بھی اچھی طرح واقف ہیں کہ دس سالہ منظر نامہ یہ بتاتا ہے کہ پشتون علاقوں میں طالبان کی مقبولیت میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آئی ہے اور مشرقی افغانستان اور جنوبی علاقوں میں جہاں پشتون آبادی بہت زیادہ ہے طالبان کے اثرات پہلے سے بھی زیادہ ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ طالبان نے افغانستان میں 15/اپریل2012ء کو جو کارروائی کی تھی اس نے امریکہ اور نیٹو کو ہلا کر رکھ دیا۔16/اپریل کے روزنامہ جنگ کی سرخی سے اس کا اندازہ ہوتا ہے کہ طالبان نے جو کارروائی کی وہ کتنی شدید اور کامیاب تھی۔
افغانستان دھماکوں سے لرز اٹھا پارلیمنٹ، نیٹو ہیڈکوارٹر، سفارت خانوں پر حملے، امریکی جرمن، برطانوی، جاپانی اور روسی سفارتخانوں کو نشانہ بنایا گیا۔کابل میں جدید ہوٹل کو جلادیا گیا، جلال آباد میں فضائی اڈے پر خودکش حملے، گردیز میں پولیس ہیڈکوارٹر اور لوگر میں گورنر کے دفتر پر قبضہ۔ حامد کرزئی کے صدارتی محل میں حزب اسلامی کے وفد کے ساتھ مذاکرات محفوظ مقامات پر منتقل، پاکستانی خواتین ارکان پارلیمنٹ کا وفد سفارتخانے کے اندر محصور، حملوں میں 6 جنگجو ہلاک، متعدد افراد زخمی۔اس خبر کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ جلال آباد ہو یا کابل طالبان کہیں بھی اور کسی وقت بھی حملہ کرسکتے ہیں۔ پھر امریکی یہ بتائیں کہ بے تحاشہ فوجی طاقت کے استعمال سے انہوں نے کیا حاصل کیا ہے۔اب وہ جلدی میں طالبان سے مذاکرات کررہے ہیں۔ صدر اوباما شاید یہ چاہتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے مذاکرات میں انہیں کامیابی نصیب ہوجائے۔ دوسری طرف طالبان بھی سمجھتے ہیں کہ یہی موقع ہے کہ امریکہ پر پریشر بڑھایا جائے تاکہ وہ افغانستان سے انخلاء پر جلدی راضی ہوجائے۔ امریکہ کی اسٹریٹجی یہ ہے کہ طالبان سے مذاکرات کامیاب ہوجائیں تو وہ طالبان سے شمالی افغانستان کی اینٹی طالبان فورسز کو لڑا دے جن کی پشت پر وہ خود بھارت اور روس کو کھڑا کردے۔ امریکہ پھر بہت بڑی غلطی کررہا ہے بھارت کو بھی اپنے آپ کو اس قضیے سے دور رکھنا چاہئے ورنہ یہ آگ اس کے دامن کو بھی جلادے گی۔پاکستان اس وقت ایک اسٹریٹجک بحران سے دوچار ہے وہ اس صورتحال سے بچ سکتا تھا لیکن اس نے اپنے آپ کو دلدل میں پھنسالیا ہے۔ پالیسی کی یہ تبدیلی آج نہیں آئی ہے اگر پاکستان نے بر وقت قدم نہ اٹھایا تو پاکستان انتہائی پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہوسکتاہے۔ امریکہ کچھ بھی کہے قبائلی علاقوں میں قیام امن کی ضرورت ہے اگر افغانستان میں حالات قابو میں نہیں ہیں تو یہ افغان حکومت اور نیٹو افواج کا معاملہ ہے پاکستانیوں کا نہیں اگر پاکستان قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ نہ کردیتا تو نیٹو افواج اور امریکی افواج کب کا بوریا بستر لپیٹ کر جاچکی ہوتیں۔ امریکہ ایک احسان فراموش دوست ہے اسے پاکستان کا ذرہ برابر خیال نہیں اپنے مفادات کی خاطر پاکستان کو غیرمستحکم کرنا چاہتا ہے“۔
اگر حکمراں اس حقیقت کا ادراک 2007ء میں کرلیتے تو ایسی پیچیدہ صورتحال کا پاکستان کو سامنا نہ ہوتا۔ پاکستان کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ نئی خارجہ پالیسی وضع کرے۔ اگر اسی وقت خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمت عملی تبدیل کرلی جاتی تو پاکستان اپنے آپ کو نقصانات سے بچاسکتا تھا۔