اس سال حجاج کو تین کیٹیگری میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وائٹ کیٹیگری میں وہ حجاج شامل ہونگے جنکو حرم پاک سے 2ہزار میٹر سے دور رہائش گاہیں فراہم کی جائینگی ۔ حج کے کل اخراجات کیلئے جنوبی زون کے لوگوں کو 2 لاکھ 21ہزار اور شمالی زون یعنی کے لوگوں کو 2لاکھ 33ہزارروپے دینا ہونگے۔گرین کیٹیگری کے حجاج کرام کو کل اخراجات 2لاکھ 68 ہزارروپے دینا ہونگے۔ تیسری کیٹیگری بلیو ہے اس کیٹگری میں جانیوالے حجاز کرام سے 3لاکھ 31 ہزار کل اخراجات وصول کیے جائینگے۔ حج پالیسی تین سا ل کیلئے ہے تاہم وزارت اس میں ردوبدل کر سکتی ہے۔ حج پالیسی پہ سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ گذشتہ برس کی نسبت حج اخراجات میں ایک لاکھ روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ دراصل حکومت نے تو حج کو ایک منافع بخش بزنس بنا لیا ہے نہ کہ لوگوں کو اس فریضہ کی ادائیگی کیلئے سروس فراہم کی جائے۔ اب اپنے ہمسایہ ملک انڈیا کی مثال لے لیں جو غیر مسلم ہے مگر مسلمانوں کو انکے فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے سبسڈی دیتا ہے۔ انڈیاسے جو مسلمان گذشتہ برس گرین کیٹیگری کے تحت حج پہ گئے انہیں ایک لاکھ 2ہزار اور وائٹ کیٹیگری میں صرف 80ہزار روپے دینے پڑے جن میں سے 25ہزار روپے زرمبادلہ کے طور پر حجاج کوواپس کر دیئے گئے ۔جبکہ پاکستان سے گرین کیٹیگری میں جانیوالے حجاج سے 2لاکھ 22ہزار 875روپے لیے گئے اور وائٹ کیٹیگری والوں سے 2لاکھ 12ہزار 875روپے وصول کیے اور صرف دس ہزار سے 19ہزار روپے تک زرمبادلہ کے طور پر واپس کیے گئے ۔ حکومت جسکے چل چلاؤ کے دن ہیں اُسے اپنے دور میں کوئی ایک چھوٹی سی نیکی کر دینی چاہئے کہ وہ ایئر ٹکٹ آدھا وصول کرے اور زرمبادلہ کی مد میں بھی زیادہ پیسے حجاج کو دیئے جائیں کیونکہ حج اخراجات بڑھاتے وقت یہ اعلان تو کر دیا گیا ہے کہ پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں سعودی ریال کی شرح میں بہت اضافہ ہو گیا ہے مگر یہ خیال کیوں نہیں کیاگیا کہ پاکستانی کرنسی کی شرح میں کمی کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء سعودی عرب میں بہت مہنگی ہونگیں اور حجاج کس طرح اپنے اخراجات پورے کرینگے۔
حج پالیسی کیمطابق تقریباً 90ہزار حجاج پرائیویٹ ٹور آپریٹر کے ذریعے حجاز مقدس جائینگے ۔ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز سے گذشتہ برسوں میں بہت زیادہ شکایات رہی ہیں۔بہت کم آپریٹر ایسے تھے جنہوں نے حاجیوں کو صحیح سروس فراہم کی ہو، انکا سارا فوکس پیسے کمانا تھا،حاجیوں کو زیارتیں تک نہ کروائی گئیں۔ جسکی ذمہ دار وزارت مذہبی امور ہی تھی کیونکہ بغیر کسی میرٹ اور رشوت کی بنیاد پر حج کوٹہ بیچاگیا جس سے چند افراد کی عیاشیوں کا سامان تو ہوا مگر حجاج رُلتے رہے اور انکا کوئی پرسان حال نہ تھا ۔ گواب وزارت مذہبی امور انے پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے اندراج کیلئے سخت شرائط رکھی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ وہ کمپنیاں رجسٹریشن کی اہل ہونگیں جو پچاس لاکھ روپے سرمائے کیساتھ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کیساتھ رجسٹرڈ ہوں‘ انکے پاس سرٹیفکیٹ ہو کہ کو ئی کسی قسم کا تنازعہ زیر التوا نہیں۔ کمپنی کے پاس سرمایہ 75لاکھ سے کم نہ ہو۔ 2005ء سے حج عمرہ کا قابل تصدیق دستاویزی تجربہ ہو ، ٹیکس نادہندہ نہ ہو ، جعل سازی ، بے ایمانی اور فراڈ یا دیگر جرائم میں سزا یافتہ نہ ہو ، بلیک لسٹ نہ ہوا ہو ۔ گذشتہ تین سالوں کی فنانشنل رپورٹس جو رجسٹرڈ چارٹرڈ اکاؤنٹنس کی آڈیٹگ فرم سے پاس ہوں وہ پیش کرے تو بطور حج آرگنائزر اس کمپنی کا اندراج ہو سکتا ہے ۔ بظاہر تو یہ بڑی کڑی شرائط ہیں اور ان میں سے90فیصد وہ ہیں جو گذشتہ برسوں میں بھی تھیں مگر افسوس کہ ان شرائط کے ہوتے ہوئے بھی ایسی کمپنیوں کو کوٹہ بیچا گیا جو عملی طور پر دس فیصد شرائط پر بھی پوری نہیں اترتی تھیں ۔جعلی اکاؤنٹس دکھائے گئے، جعلی سرٹیفکیٹ پیش ہوئے، جعلی انکم ٹیکس ریٹرن ، لیکن انکے خلاف کارروائی صرف اسلئے نہ ہوئی کہ وزارت مذہبی امور خود اسمیں ملوث تھی۔ اسلئے اب اگر وزارت مذہبی امور نیک نامی کمانے کا ارادہ رکھتی ہے تو اپنی نیت ٹھیک کر ے اور پرائیویٹ ٹور آپریٹرز جنکی رجسٹریشن کی جائے انکو اخبارات میں مشتہر کیا جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ یہ تمام شرائط پوری کرتی ہیں تاکہ انکی شہرت کے حوالے سے کوئی اعتراضات ہوں تو وہ بھی سامنے آسکیں حکومت کو یہ بھی چاہئے کہ انکے ذریعے حج کرنیوالے حجاج سے رائے لیکر اسکی روشنی میں پرائیویٹ ٹورز کیلئے پالیسی ترتیب دی جائے۔
جب بھی حج کیلئے درخواستیں دینے کا اعلان ہوتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں بھی حج پہ جا رہا ہوں اسکے ساتھ ساتھ وہ تمام مسائل بھی میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں جو پاکستانی حجاج کو سب سے زیادہ درپیش ہوتے ہیں۔ میں نے ایسے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں کہ جنہیں نہ تو طواف اور سعی کا صحیح طریقہ معلوم ہوتا ہے ۔ نہ وہ جمرات ، وقوف عرفہ ، مزدلفہ اور طواف زیارت جیسے فرائض ادا کر پاتے ہیں۔ اسکی صرف وجہ یہی ہے کہ ان حجاج کی تربیت صحیح طریقے سے نہیں کی جاتی ۔ وزارت مذہبی امور کوچاہئے کہ وہ اسطرف خصوصی توجہ دے کیونکہ اگر انکی صحیح رہنمائی نہیں ہوتی اور دوران حج غلطیاں سرزد ہوتی ہیں تو اسکی ذمہ دار وزارت مذہبی امور بھی ہے۔ حجاج کو سعودی عرب میں سب سے بڑا مسئلہ رہائش گاہوں اور ٹرانسپورٹ کا ہوتا ہے۔ اب حکومت نے حجاج کو تین کیٹیگری میں تقسیم کیا ہے اسی کے مطابق رہائش گاہیں دی جانی چاہیں لیکن ٹرانسپورٹ کا صحیح انتظام کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ حرم پاک سے دور رہائش رکھنے والے حجاج میں سے اکثریت ٹرانسپورٹ کی سہولت نہ ہونیکی وجہ سے اپنی نمازیں حرم پاک میں نہیں پڑھ سکتی ۔ بسوں کے انتظار میں اکثر نمازیں اڈے پر ہی پڑھنی پڑتی ہیں ۔ خواتین اور عمررسیدہ لوگ تو بسوں میں چڑھ نہیں سکتے اور خدام الحاج کی فوج ظفر موج جنکی نہ تو تربیت ہوتی ہے نہ ہی عربی زبان جانتے ہیں نہ ہی خدمت کا جذبہ ہوتا ہے وہ افسران کے پروٹوکول میں مشغول ہوتے ہیں ۔ حکومت کو چاہئے کہ خدمت کیلئے جو 2 ہزار کا عملہ بھیجا جا رہا ہے انکا چناؤ میرٹ کی بنیاد پر کیاجائے ۔ انکی تربیت کی جائے ایسے لوگوں کو ترجیع دی جائے جنہیں عربی زبان آتی ہو اور خدمت کا جذبہ بھی رکھتے ہوں ۔ ایک اور اہم مسئلہ جو گذشتہ برس درپیش تھا وہ منیٰ میں پرائیویٹ کھانے کے ہوٹلوں کا نہ ہونا تھا ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ منیٰ میں حجاج کے کھانے پینے کا صحیح انتظام کرے اور پرائیویٹ ٹور آپریٹر کو بھی پابند کرے۔ ایک یہ بھی تجویز ہے کہ اخراجات میں کم ازکم ایک لاکھ روپے تک کمی کی جائے اور حجاج کا سعودی عرب میں کل قیام 40دن کی بجائے 30دن کیا جاسکتا ہے۔اب یہ سارے کام کرنے کیلئے مفادات اور لالچ سے بالا تر ہونا ضروری ہے اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب حکومت ، وزارت مذہبی امور کی نیت درست ہوگی ہم تو انہیں نیت ٹھیک کرنیکی استدعا اور خداتعالیٰ سے دعا ہی کر سکتے ہیں۔