اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو تیس سیکنڈ کی سزا ایک دردناک سانحہ ہے اگرچہ عوامی سطح پر یہی تاثر پایا گیا کہ کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے لیکن ایک بات ثابت ہوگئی ”بھولے سے بھی نہ پاوٴ گے ارشد جہان میں … خوئے وفا ومہر جو ملتانیوں میں ہے“ گیلانی اس سے پہلے جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی سزا کاٹ چکے ہیں۔ اس مرتبہ جس جوش وجذبے سے انہوں نے کرپشن اور صدر زرداری کا دفاع کیا اس کے بعد وہ اس سلوک کے مستحق تھے جو بادشاہ بادشاہوں سے کرتے ہیں کچھ اصحاب کے خیال میں عدالت عظمیٰ نے ایسا ہی کیا ہے۔ بعض کے نزدیک پچھلی سزا فاسقانہ تھی تو یہ عاشقانہ ۔ وزیر اعظم خود سزا پاگئے مگر صدر محترم تک گرم ہوا نہیں آنے دی۔ وزیراعظم گیلانی دراصل ایسی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں جس میں ہر طرح آزادی ہو ۔ کاروبار کی آزادی ، اثاثے بڑھانے کی آزادی ،کرپشن کی آزادی وغیرہ وغیرہ ۔ جب اس آزادی کو آئینی استثنیٰ بھی حاصل ہو تو من وتو کا فرق مٹ جاتا ہے ۔ استثنیٰ کی حامل شخصیت اور آئین ایک ہی سکّے کے دو رخ بن جاتے ہیں۔ اس لئے جب وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ سوئس حکام کو خط لکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے تو اس سے ان کی مراد ہوتی ہے کہ خط لکھنا صدر زرداری کی خلاف ورزی ہے ۔ یہ سزا کا عارفانہ پہلو ہے ۔ فیصلے کا ایک پہلو اور بھی دلچسپ ہے ۔ سجناں کو جیل بول گئی لیکن اس کے باوجود سجناں ” جیل وزٹ “ سے محروم رہے ۔ وزیراعظم ہیں انہیں اتنی مبارکبادیں وزیراعظم بننے پر نہیں ملی تھیں جتنی سزا ملنے پر، سزا پانے پر اتنی خوشی ایسی مسرت، اس گرم جوش داد و تحسین پر عادی مجرم تو رشک کر سکتے ہیں لیکن کوئی آئین اور قانون اس شوق مجرمانہ کو ہضم نہیں کر سکتا ۔ سپریم کورٹ آمد پر وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کے قہقہوں میں اعلیٰ عدلیہ کا مذاق اڑانے کا انداز غالب تھا۔ لگتا ہے قہقہے کسی گروپ ریہرسل کا نتیجہ تھے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی جلوس میں سب لوگ ایک ہی وقت میں قہقہے لگا رہے ہوں۔
مملکت پاکستان اکثر افراتفری اور بحرانی موسموں کی زد پر رہتی ہے ۔ ایوان عدل سے جاری ہونے والے اس فیصلے کے بعد ایک نئے بحران نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔ توہین عدالت کا فیصلہ ایوان اقتدار کی دیواروں سے سر ٹکرا رہا ہے جہاں اس عدالتی فیصلے کی بہت زور شور سے مزاحمت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ موقف یہ ہے کہ وزیراعظم گیلانی کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیئے جانے کے باوجود ان کا حق اقتدار برقرار ہے۔ سپریم کورٹ اگر وزیراعظم کو نااہل قرار دینا چاہتی تو اپنے فیصلے میں لکھ دیتی۔ اس دلیل کو بھی قائدانہ کردار ادا کردیا گیا ہے کہ منتخب ایوان ہی وزیراعظم کو ان کے عہدے سے الگ کر سکتا ہے۔ قومی اسمبلی کی اسپیکر کی رائے کو فیصلہ کن اہمیت حاصل ہے۔ حکومت اس فیصلے کے خلاف فل کورٹ کے سامنے اپیل دائر کرے گی۔ اس معاملے میں ماہرین آئین و قانون دوحصوں میں تقسیم ہوچکے ہیں ایک کا موقف یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ابہام رکھا ہے اور وزیراعظم کو نااہل قرار نہیں دیا، دوسرے دھڑے کا کہنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ توہین عدالت کا کیس سن رہی تھی وزیراعظم کی اہلیت یا نااہلیت کا نہیں۔ مختصر فیصلے اور مختصر دورانیے کی سزا سناکر اور اس پر عمل کرواکر عدالت عظمیٰ نے گیند حکومت کے کورٹ میں پھینک دی ہے آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق فیصلے کے بعد آئین کی دوسری شقیں اپنا نفاذ چاہتی ہیں۔ اس محاذ آرائی میں حکومت کو مضبوط سہاروں کی ضرورت ہے جو اسے حاصل ہیں۔ اس کے اتحادیوں کی صفوں میں کوئی شگاف نہیں ایک طرف فوج یا مقامی اسٹیبلشمنٹ اس کے ساتھ ہے تو دوسری طرف امریکہ کو بھی اس کی ضرورت ہے۔ خطے میں بڑے معاملات طے ہورہے ہیں افغانستان فیصلہ کن مرحلہ میں ہے ۔ یہ ایک تہہ درتہہ بحران ہے ۔ ن لیگ کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد گیلانی کو وزیراعظم نہیں مانتے، مارو یا مر جاوٴ احتجاجی تحریک شروع کریں گے، رحمن ملک رائے ونڈ کی طرف مارچ کی بات کر رہے ہیں، عمران خان عوامی سونامی کا ذکر کر رہے ہیں سوال یہ ہے کہ سیاسی ماحول کی آلودگی بڑھتی جارہی ہے گیلانی اگر مستعفی ہوجاتے ہیں، کوئی دوسرا وزیراعظم آجاتا ہے تو کیا وہ سپریم کورٹ کے مطابق سوئس عدالتوں کو مطلوبہ خط لکھ دے گا۔ ظاہر ہے صدر زرداری کی موجودگی میں ایسا نہیں ہو سکے گا۔ یوسف رضا گیلانی واشگاف الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی کا کوئی وزیراعظم خط نہیں لکھے گا، تو کیا نئے وزیراعظم کے ساتھ بھی ایسی ہی کارروائی ہوگی۔ غرض ہر راستہ ایک نئے فساد کا در کھول رہا ہے۔
ایک طرف اقتدار واختیار کی یہ کشمکش ہے تو دوسری طرف کراچی کی گنجان آبادی نواحی بستی لیاری ایک باقاعدہ میدان جنگ کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ رینجرز ، فرنٹیئر کو ر اور پولیس کے دستے تعینات ہونے کے باوجود قتل وغارت، مسلح مزاحمت اور تشدد پوری قوت سے متحرک ہے، قیمتی جانوں کا زیاں روز اک حشر اٹھا رہا ہے۔ جرائم پیشہ گروہ باقاعدہ مورچے بناکر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مصروف جنگ ہیں ۔ مارٹر گولے، راکٹ لانچر، گرنیڈ اور دوسرے خطرناک ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال ہورہا ہے۔ لیاری میں ایک طرف گینگ وار ہے اور جرائم پیشہ گروہ ایک دوسرے سے اور حکومتی فورسز سے برسرپیکار ہیں تو دوسری طرف سیاسی جنگ بھی اپنے رنگ دکھا رہی ہے۔ سیاسی جماعتیں اس صورتحال کے پیچھے ہیں اور لڑائی جاری رکھنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ بیرونی ہاتھ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔عالم ہستی کے بے رنگ اور بے صدا ذرے بھی کسی قانون کے مطابق حرکت کرتے ہیں لیکن وطن عزیز میں اسلام آباد کا ایوان ہو یا کراچی کا لیاری، کوئی بھی کسی بھی قانون پر عمل کرنا تو دور کی بات، ماننے پر تیار نہیں ۔ اس نظام کو علاج کی نہیں دفن کرنے کی ضرورت ہے ۔ ستم رسیدہ اور محروم طبقوں کو مزید کمزور کرنے والی جمہوریت کی بجائے ہمیں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو فعال اور قوت بخش ہو، عوام کی خواہشات کا ترجمان ہو اور تعمیر و ترقی کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہو ایسا نظام صرف اسلام ہے جب تک ہم اس نظام سے محروم ہیں تب تک موجودہ نظام کے تحت جو کچھ خدا دکھائے سوناچار دیکھئے۔