پيرس ... فرانس ميں صدارتي انتخاب کے غيرسرکاري نتائج کے مطابق سوشلسٹ پارٹي کے فرانسو اولاند نے 52 فيصد سے زيادہ ووٹ حاصل کرکے صدر سرکوزي کو شکست دے دي ہے. ان کي کاميابي پر حاميوں نے ملک بھر ميں جشن منايا. موجودہ انتخابات ميں ٹرن آو?ٹ 70 فيصد سے زيادہ رہا ہے. صدارتي انتخاب کے نتائج ناصرف فرانس بلکہ پوري دنيا پر اثر انداز ہوں گے. فرانس ميں آباد پاکستانيوں کا کہنا تھا کہ يہ انتخاب ان کيليے بھي خاصي اہميت کا حامل ہے. فرانس کے نئے صدر فرانسو اولاند نے اپنے پہلے خطاب ميں کہا کہ وہ اميروں پر ٹيکس اور غريبوں کي اجرت بڑھائيں گے.قرض کا حجم کرنے کيلئے يورپ کا آپشن سادگي اپنانا نہيں بلکہ پيداوار بڑھانے کي جانب پيش رفت کرنا ہے.سابق صدر نکولس سرکوزي نے انتخاب ہارنے کے بعد پارٹي کي قيادت چھوڑنے کا اعلان کرديا.اليکشن کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کے عوام نے اپنا انتخاب کرليا ہے. اور يہ ايک نئے دور کا آغاز ہے. انتخاب ميں کاميابي کے بعد پيرس اور دوسرے شہروں ميں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور فتح کا جشن مناتے رہے. جوش وجذبے سے بھرپور عوام 1988 کے بعد کسي سوشلسٹ اميدوار کے صدر بننے کي خوشي ميں کاروں کي چھتوں پر چڑھ گئے اور مختلف طريقوں سے خوشي کا اظہار کرتے رہے. عوام کا کہنا تھاکہ انہيں ملک ميں تبديلي کيليے پانچ سال مل گئے ہيں.