برن ... طالبان قيد سے فرار ہونے والے دو سوئس مغويوں نے بتايا ہے کہ انہيں ميران شاہ مارکيٹ کے قريب قيد کيا گيا تھا.سوئس جوڑے نے ميڈيا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے انہيں اغوا کرنے کے بعد شمالي وزيرستان ميں ميران شاہ مارکيٹ کے قريب قيد کيا تھا.کئي ماہ کي قيد کے دوران انہوں نے چار گارڑز کے علاوہ کسي کو نہيں ديکھا.29 سالہ Daniela Widmer نے بتايا کہ گارڑز پاگل نظر آتے تھے ،جسے وہ اندر سے مر چکے ہوں ،وہ دھماکہ خيز بيلٹ پہنے ہوتے تھے.32 سالہ Olivier David Ochنے بتايا ايک رات طالبان کے ٹھکانوں پر ہيلي کاپٹروں کي مدد سے شديد بمباري ہوئي اور وہ ہميں برقعے پہنا کر دوسري جگہ لے گئے جو لالا نامي طالبان رہنما کا گھر تھا.انہيں لالا کے گھر والوں کے ساتھ رکھا گيا جہاں گارڑز ڈيوٹي پر نہيں تھے. Daniela نے بتايا کہ قيد کے دوران انہيں ڈرون طياروں کي آوازيں سنائي ديتي تھي.کھانے ميں خشک روٹي اور تيل ميں پکے چھ آلو اور نمک ديا کرتے تھے.Olivier نے بتاياکہ انہيں ايک طالبان کمانڈر نے بتايا کہ ان کي رہائي کے بدلے 5 کروڈ ڈالر تاوان طلب کيا تھا.انہوں نے کہا کہ اتني بڑي رقم تو کوئي ادا نہيں کر سکتا تھا اس لئے انہوں نے فرار ہونے کا سوچا،وہ ايک رات اندھيرے ميں دو گرنيڈ چرا کر فرار ہو گئے.بہت دور چلنے کے بعد پاکستاني سکيورٹي فورسز کو ديکھا اور انہيں اپني کہاني سنائي اور بلاآخر اپنے وطن واپس پہنچ گئے.