کوئی ”مرکز“ پر محو ماتم ہے کوئی ”صوبہ “ پر سینہ کوبی میں مصروف ہے یعنی دائیں بائیں اوپر نیچے کسی کو چین نصیب نہیں ۔ ہر کوئی حکمرانوں کی من مانی کو رو رہا ہے ۔ پاکستان کیا اردو زبان کے سب سے بڑے اور مقبول ہفت روزہ ”اخبار جہاں “ کا اک سلسلہ بہت مقبول ہے ۔ عنوان ہے اس کا ”تین عورتیں تین کہانیاں “پاکستان کا اصل عنوان ہے ”جتنے صوبے اتنی کہانیاں “
زیر نظر کالم کیا ”مرثیہ “ بھی ”مرکز “ اور سب سے بڑے صوبہ کے بارے میں ہے ۔ پروٹوکول کا تقاضا ہے کہ ”مرکز “ سے شروع کریں تاکہ پاکستانی عوام اپنے مرکز کے مائنڈ سیٹ کو اچھی طرح سمجھ سکیں ۔
مڈھیانہ کیس تو آپ کو یاد ہی ہو گا جس میں ایک سابق ایم پی اے کے حکم پر اک سکول ٹیچر کی ٹانگیں توڑ دی گئیں ۔ اذیت ناک اور طویل مراحل سے گزرنے کے بعد یہ سکول ٹیچر سٹریچر پر انصاف ڈھونڈنے نکلا ۔ آخر کار مقامی پولیس حرکت میں آئی اور چھ ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھجوا دیا۔اسلم مڈھیانہ پولیس کے خوف سے دائیں بائیں ہو گیا، عارضی ضمانت حاصل کی جو تیسری پیشی پر خارج ہو گئی تو اس نے لاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت کرالی ۔ ایک بااثر سیاسی خاندان کا فرد ہونے کی وجہ سے ڈی پی او سرگودھا ڈاکٹر رضوان کو دھمکیاں ملنے لگیں کہ اگر مقامی پولیس نے مڈھیانہ کو ”بے گناہ “ نہ لکھا اور اس کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے تو براہ راست ڈی پی او کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔ 5مارچ کو اسے ”گنہگار “ قرار دیتے ہوئے پولیس نے منسوخی ضمانت کیلئے رپورٹ عدالت عالیہ میں پیش کر دی جو حکام مرکز کو بے حد ناگوار گزری کہ ملزم کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے ۔ دھمکیوں کے بعد ”مرکز“ نے تمام ضوابط اور طریقہ کار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ڈی پی او کا تبادلہ گلگت بلتستان کر دیا اور ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دی کہ اگلی پوسٹنگ ”چلاس “ میں ہو گی ۔ ڈی پی او نے جتنا انصاف سرگودھا میں کرنا تھا کر لیا، اب اس کو اس کے حصہ کا ”انصاف “ چلاس میں ملے گا ۔ یہ فرعونیت کی انتہا تھی لیکن آزاد میڈیا نے اسے موضوع بحث بنا کر وفاقی حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت شروع کر دی اور ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے 12مارچ کو ازخودنوٹس لے لیا اور اپنی observationمیں کہا کہ ڈی پی او سرگودھا کا تبادلہ اک غیر مستحسن قدم ہے اور اگلی پیشی پر وفاقی حکومت سے اس کا جواب طلب کر لیا ۔
ادھر 13مارچ کو عدالت عالیہ نے اسلم مڈھیانہ کی ضمانت خارج کر دی ۔ مڈھیانہ عدالت سے فرار ہو گیا لیکن اسی شام جوہر ٹاؤن لاہور سے گرفتار کرکے تھانہ چوہنگ بند کر دیا گیا اور اگلی صبح سرگودھا جیل منتقل ہو گیا ۔13مارچ کو ہی صوبائی حکومت نے ڈی پی او ڈاکٹر رضوان کے سیاسی انتقام کے طور پر کئے گئے تبادلے پر وفاقی حکومت کو ایک مذمتی خط میں تبادلہ فوراً منسوخ کرنے کا کہا ۔23مارچ کو اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ میں جناب چیف جسٹس کو بتایا کہ وہ پہلے ہی اس تبادلے کے احکامات واپس لے چکے ہیں ۔
قصہ مختصر کہ مختصر ہی بھلا …اس کے بعد سے اب تک وفاق نے مختلف بہانوں سے مسلسل ڈی پی او کو زچ کر رکھا ہے مثلاً ڈی پی او سرگودھا سے جونیئر کو گریڈ 19میں ترقی دیدی گئی اور اس کی ترقی کے احکامات روک لئے گئے حالانکہ 6فروری 2012ء کو محکمانہ پروموشن کمیٹی ڈی پی او سرگودھا کی میرٹ پر ترقی منظور کر چکی تھی …ایک دفعہ پھر فرض شناس افسر کو گریڈ 18میں ہی بلوچستان تبادلے کا پروانہ بھجوا دیا گیا ۔ پنجاب حکومت اک سٹار افسر کے دفاع کیلئے تاحال ڈٹی ہوئی ہے لیکن dpoکی معطلی بلکہ معزولی تک کی سازش جاری ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اس ملک بالخصوص اس کے دور افتادہ دیہی علاقوں میں عوام کو انصاف ملنا عملاً ناممکن ہے …جب مرکز ہی اتنا منتقم اور غیر منصف ہو تو ؟؟؟دوسری طرف اک صوبائی کارنامہ ملاحظہ فرمائیں کہ اس کے پیچھے بھی رعونت ہی رواں دواں ہے ۔ یہ قصہ ہے سبزی و فروٹ مارکیٹ کوٹ لکھپت کی جبری تباہی و بربادی کا جو تقریباً60فیصد لاہور کو سبزی و پھل مہیا کر رہی تھی ۔ 120کنال اراضی پر قائم اس منڈی کے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر اک عارضی منڈی میں شفٹ کرنے کا عوام دشمن منصوبہ بنا لیا گیا۔ بالواسطہ اور بلاواسطہ وابستہ تقریباً 5لاکھ لوگوں کو بیروزگار کر دیا گیا اور کیسے ؟ جیسے کوئی دشمن کا علاقہ فتح کرتا ہے اور کمال یہ کہ انتظامیہ عدالت کو بھی اندھیرے میں رکھے ہوئے ہے کہ انہیں ( مظلومین و معتوبین ) کو 1045کنال کاچھا میں دیکر وہاں اک جدید منڈی بنا کر تاجروں کی رضامندی سے وہاں شفٹ کیا جا رہا ہے جو صریحاً جھوٹ ہے اور سچ یہ کہ موجودہ منڈی سے 17کلو میٹر اور فیروزپور روڈ سے 3کلو میٹر دور روہی نالہ کے کنارے 40کنال اراضی پر عارضی شیڈ بنا کر اس جنگل نما ویرانے کو منڈی کا نام دیدیا گیا ہے ۔
حکمرانوں کو نہ موت یاد ہے نہ روز محشر تو منیر نیازی یاد آتا ہے جس نے کہا تھا
ملتی نہیں امان ہمیں جس زمین پر
اک حشر اس زمیں پہ اٹھا دینا چاہئے
نوٹ : دونوں کیسز میں تمام تر معلومات مجھے بذریعہ خطوط موصول ہوئیں بہت سے بھیانک حقائق میں نے طوالت اور احتیاط کی وجہ سے سنسر کر دیئے ہیں اور صرف ان باتوں پر انحصار کیا جو وقفہ وقفہ سے پریس میں رپورٹ ہوتی رہیں ۔