نئي دہلي…بھارتي سپريم کورٹ ميں پاکستان کے ڈاکٹرخليل چشتي کے مقدمے کي سماعت ہوئي ،جس ميں بھارتي حکومت کي جانب سے ڈاکٹر چشتي کو پاکستان جانے کي اجازت دينے کي مخالفت کي گئي .سپريم کورٹ ميں حکومت کي جانب سے دلائل ميں کہا گيا کہ اگر ڈاکٹر چشتي کو پاکستان جانے کي اجازت دي اور وہ واپس بھارت نہيں آئے تو حکومت کيا کرے گي .سپريم کورٹ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر چشتي کي تعليمي قابليت ديکھتے ہوئے اس کيس کو خصوصي طور پر ليا جانا چاہيے ،کبھي کسي معاملے پر ہميں تعميري سوچ کا مظاہرہ بھي کرنا چاہيے ،سپريم کورٹ نے ريمارکس ديئے کہ صرف اس وجہ سے کہ ڈاکٹر چشتي پاکستان سے آئے ہيں کيا ہم ان سے مختلف رويہ اختيار کريں ؟اس کے بعد بھارتي سپريم کورٹ نے مقدمے کي سماعت جمعرات تک ملتوي کردي ،توقع ہے کہ اسي دن مقدمے کا فيصلہ بھي سنايا جائے گا،بھارت ميں قيد پاکستان کے ڈاکٹرخليل چشتي کو بھارتي سپريم کورٹ کے حکم پر 12اپريل کو ضمانت پر رہا کيا گيا تھا.