اسکردو… گياري سيکٹرميں برفاني ملبے تلے دبے جوانوں اور آفيسروں کو نکالنے کيلئے جاري سرچ اينڈ ريسکيو آپريشن کو ايک ماہ مکمل ہوگيا، گزرتے وقت کے ساتھ ملبے تلے لاپتہ افراد کے زندہ بچ جانيکي اميديں دم توڑچکي ہيں. گياري سيکٹر ميں پاک فوج کے امدادي کارکن گزشتہ ايک ماہ سے دنيا کا مشکل ترين سرچ اينڈ ريسکيو آپريشن کر رہے ہيں جہاں ايک ماہ قبل پہاڑي تاريخ ميں گليشر ٹوٹنے کا سب سے بڑا واقعہ پيش آيا جہاں گياري سيکٹر ميں واقع بٹالين ہيڈ کوارٹر ميں تعينات پاک فوج کے 125 آفيسرز اور جوانوں سميت 11 سولين ايک مربع کلو ميٹر پر پھيلے 40 لاکھ مکعب فٹ گليشائي ملبے ميں دب کر لاپتہ ہوگئے ہيں اور ان لاپتہ جوانوں کي تلاش کيلئے يہاں گزشتہ ايک ماہ سے گليشائي ملبہ ہٹانے کا کام جاري ہے. امدادي کاموں ميں حصہ لينے والے جوانوں کو جہاں شديد سردي کا سامنہ کرنا پڑ رہا ہے وہي 13 ہزار فٹ کي بلندي کے باعث يہاں انسانوں اور مشينوں کو آکسيجن کي کمي کا بھي سامنہ کرنا پڑ رہا ہے جہاں بلندي اور سردي کے باعث انسان اور مشين کي رفتار بھي کم ہوجاتي ہے. گياري بٹالين ہيڈ کوارٹرکا ايريا وسيع ميدان تھا جہاں چند سال قبل چيف آف آرمي سٹاف نے بٹالين ہيڈ کوارٹر کا دورہ کيا اور يہاں تعنيات جوانوں سے خطاب کيا تھا ليکن کل تک باآج يہ جگہ گليشائي ملبے کا ڈير بن چکي ہے اور ايک ماہ قبل تک يہاں فضاء جوانوں کے گرجدار نعروں سے گونج اٹھتي تھي ليکن اب يہاں کي سوگوار فضا مشينوں کي آوازوں سے گونج رہي ہے. گياري سيکٹر ميں سرچ اينڈ رسيکيو آپريشن آج بھي جاري ہے ليکن گزرتے وقت کے ساتھ جوانوں کے زندہ بچ جانے کي اميديں دم توڑ رہي ہيں ليکن ايک آس ہے جو مٹتي نہيں اور ايک اميد ہے جو مرتي نہيں.