Results 1 to 2 of 2

Thread: پاکستان ميں ہر سال پانچ ہزار سے زائد بچے تھليسيميا کا شکار

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    ♥ ♥ ChaAnd K paAr♥ ♥
    Posts
    41,780
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1314 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474887

    Default پاکستان ميں ہر سال پانچ ہزار سے زائد بچے تھليسيميا کا شکار

    لاہور… پاکستان ميں ہر سال پانچ ہزار سے زيادہ بچے تھليسيميا کا شکار ہو رہے ہيں. ايک اندازے کے مطابق ملک ميں اس بيماري ميں مبتلا بچوں کي مجموعي تعداد ايک لاکھ پچيس ہزار کے قريب ہے. ماہرين کا کہنا ہے کہ تھليسيميا ايک موروثي مرض ہے جو والدين سے بچوں ميں منتقل ہوتا ہے. اس بيماري ميں مبتلا مريضوں کے خون ميں ہيموگلوبن بنانے کي صلاحيت نہيں رہتي. بھوک نہ لگنا، زرد رنگت، الٹياں اور تيز بخار اس مرض کي واضح علامات ہيں. بچوں کو پيدائش کے تين ماہ بعد ہي خون تبديل کروانا پڑتا ہے. ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شادي سے پہلے خواتين اور مردوں کي خون کي اسکريننگ ہو جائے تو بچے اس مہلک مرض سے بچ سکتے ہيں. تھليسيما کا واحد علاج بون ميرو ہے جو انتہائي مہنگا اور تکليف دہ ہے. طبي ماہرين کا کہنا ہے کہ تھليسيميا کے حوالے سے قانون سازي پر عملدرآمد کو يقيني بنايا جائے تاکہ بچوں کو اس مہلک مرض سے بچايا جا سکے.

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

    2m4ccw6 - پاکستان ميں ہر سال پانچ ہزار سے زائد بچے تھليسيميا کا شکار

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

  2. #2
    Join Date
    May 2012
    Location
    Karachi
    Age
    33
    Posts
    607
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    6

    Default Re: پاکستان ميں ہر سال پانچ ہزار سے زائد بچے تھليسيميا کا شکار

    So sad

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •