راولپنڈي…کور کمانڈر پشاور ليفٹيننٹ جنرل خالد رباني نے کہا ہے کہ امريکا کي جانب سے افغان عسکريت پسندوں سے بات چيت کي کوششوں کي موجودگي ميں پاکستان سے يہ توقع نہيں رکھني چاہيے کہ سرحد کے اِس طرف تمام مسلح گروپوں کے خلاف کارروائي ہو.امريکي خبر رساں ايجنسي کو انٹرويو ميں ليفٹيننٹ جنرل خالد رباني کا کہنا تھا کہ افغانستان ميں اپني ناکامي چھپانے کے ليے واشنگٹن اسلام آباد کو قرباني کا بکرا بنانے کي کوشش کررہا ہے.انہوں نے کہا کہ پاکستان کي طرف انگلياں اٹھانے کا مطلب ہے الزام دوسرے کے سَر تھوپنا. امريکا خود افغانستان کو طالبان سے پاک کرنے ميں کامياب نہيں ہوسکا،وہاں اب بھي ان کي تعداد سيکڑوں ہزاروں ميں ہے،جنرل خالد رباني نے شمالي وزيرستان ميں حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ امن معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت وہ کسي قسم کي مشکلات کھڑي کرتا نظر نہيں آتا. جب نيٹو اور امريکا افغانستان ميں عسکريت پسندوں سے بات چيت کرسکتے ہيں تو پاکستان کے ليے اپنے يہاں ايسا کرنا ممنوع تو نہيں.انہوں نے بتايا کہ شمالي وزيرستان ميں عسکريت پسندوں کے خلاف کارووائي ہوگي کيونکہ يہ واحد علاقہ ہے جسے اب تک کليئر نہيں کيا گيا اور ايسا جلد ہوگا.