Results 1 to 9 of 9

Thread: Hawa Mai Tehri Hui Mout

  1. #1
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    candel Hawa Mai Tehri Hui Mout

    ہوا میں ٹھہری ہوءی موت

    نہیں۔۔۔میں اب اس مورچے میں بیٹھا نہیں رہ سکتا۔ مجھے جانا ہے اور دیکھ کر یقین کرنا ہے کہ میرا دشمن مر چکا ہے یا نہیں؟میں اس میں پوشیدہ خطرات سے آگاہ تھا۔جیسے آپ کی گولی کھانے پر شیر کسی جھاڑی میں چلا جائے۔جھاڑی جس کے اندر خون کی ایک لکیر تو جاتی ہے مگر آپ پھر بھی کبھی نہ جان پاؤ گے کہ وہ واقعی مر گیا ہے۔ جب بیس سال بعد آپ اپنے پوتے کو اس بہادری کا قصہ سناؤ گے تو دل میں ایک چور بیٹھا ہو گا

    ’’کیا خبر وہ شیر بچ نکلا ہو؟‘‘

    نہیں آپ ایسے واپس نہیں جا سکتے۔ اور جب زخمی شکار کے پیچھے آپ جھاڑیوں میں داخل ہوتے ہو تو کچھ بھی ممکن ہے۔۔۔ہو سکتا ہے کہ کہیں دبکا شیر آپ پر حملہ آور ہو جائے اور اپنے نوکیلے دانتوں سے آپ کی گردن کو ادھیڑ ڈالے۔ ایسے میں کچھ بھی ممکن ہے مگر آپ کیا کرو کہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں؟
    تو کیا خبر کہ میرا دشمن ابھی زندہ ہو اور یہ چیخ محض مجھے جال کی طرف دھکیلنے والا ہانکا ہو۔ مگر یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ بس مجھے بلا نا چاہتا ہو۔اس ہزاروں برس کی لڑائی کے خاتمے پر کچھ کہنا چاہتا ہو۔۔۔شاید یہ کہ اتنی بڑی لڑائی کے دوران مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے۔ جیسے باڈر پر آنکھوں میں آنکھیں ڈالے فوجیوں کو ہو جاتی ہے۔ ایسے میں وہ ایکدوسرے کو چھوٹے چھوٹے تحائف دینے لگتے ہیں،ایکدوسرے کے بارے میں ایسی باتیں جاننے لگتے ہیں جنہیں جاننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔جیسے کہ چٹھی آنے والے دن نوجوان کیپٹن کا چہرہ دمکنے لگتا ہے،جیسے کہ سارا دن بندوق پکڑ کر ڈیوٹی کرنے والا سپاہی رات کو محبت کے گیت گاتا ہے۔ تو کیا وہ چیخ محض ایک بلاوا تھی کہ


    ’’میرے قریب آ جاؤ تاکہ میں اپنی محبت کا اظہار کر سکوں۔۔۔اس محبت کا جو میں ہزاروں برس سے اپنے جسم میں چھپائے بیٹھا تھا۔اور تمہاری لگائی ہر ضرب پر اسے زیادہ کینے سے چھپا لیتا تھا۔ تاکہ تم اسے دیکھ نہ پاؤ اور انجانے میں اپنی ہی محبت کا خون کرتے رہو۔۔۔۔۔تو تمام عمر میں اسے تم سے چھپاتا رہا ہوں مگر اب لڑائی ختم ہوئی۔ آؤ! اب تو اسے ایک نظر دیکھ لو۔‘‘

    نہیں میں اب مورچے میں دبکا نہیں رہ سکتاتھا۔ میں پھر سے اٹھا۔بہت سی آوازوں نے مجھے نیچے لیٹنے کو کہا مگر میں نے بندوق پھینک کر دشمن کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ مجھے کوئی پیچھے سے کرخت آواز میں پکار رہا تھا کہ اگر میں نہ پلٹا تو مجھے گولیوں سے چھید دیا جائے گا اور سامنے والوں کو تو اس تنبیہ کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ پر میں رکا نہیں۔ میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یقیناًابھی کچھ فاصلے پر مجھے میرا دشمن نظرآ جائے گا۔ گولیاں میرے چاروں طرف سے گذر رہی تھیں۔اور پھر بڑی عجیب بات ہوئی۔

    ایک گولی ہوا میں ٹھہری تھی۔۔۔وہ ہوا میں ٹھہری تھی اور اس میں میرے پسینے کی خوشبو رچی تھی۔سینکڑوں گولیاں چل رہی تھیں مگر وہ کھڑی تھی جیسے میری منتظر ہو۔یہ وہی گولی تھی جو اس چیخ کے وقت میری بندوق سے نکلی تھی۔مجھے لگا جیسے حرکت کوئی دھوکہ ہواور کوئی چیز کبھی نہ چلتی ہو۔ جیسے زمان و مکان بے حقیت ہوں۔ جیسے ہر چیز چکر لگا کر واپس اپنی جگہ پر آ جاتی ہو۔

    ’’جو تلوار سے جیتا ہے وہ تلوار سے مرے گا۔‘‘

    میں نے یہ جملہ ہزاروں مرتبہ سنا تھا مگر سمجھ نہ پایا تھا۔ کیا ہر ایک کو اپنی ہی گولی سے مرنا ہو گا؟ اپنی ہی تلوار سے کٹنا ہو گا؟

    تو جو ظلم میں نے دوسروں پر ڈھائے،وہ دشمن جسے میں نے اتنی بار مار ڈالا۔۔۔کیا میں اس سب میں بے قصور تھا؟کیا میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا؟ شاید یہ صحیح ہی تھا۔ گناہ گار اور بے گناہ ٹھہرانے کا اختیار مجھے تھا ہی کب؟میرا کوئی دشمن نہیں تھا کہ دشمن ٹھہرانے کا انتخاب میرے پاس تھا ہی کب؟مجھے تو ایک فہرست دے دی جاتی تھی۔جس میں ایسے لوگ تھے مجھے جن سے محبت کرنا تھی، ایسے لوگ تھے مجھے جن کی عزت کرنا تھی، ایسے لوگ تھے مجھے جن کو قتل کرنا تھا۔۔۔۔ایسے میں سزا کیسی؟

    تو مجھے کوئی سزانہیں مل رہی تھی۔پھر اپنی گولی سے مرنا بھلا کیسی سزا؟یہ تو ایک بددعا ہے جو نوعِ انسانی پر لاد دی گئی ہے۔

    میں اسکے بعد آگے نہیں چلا۔جا بھی کہاں سکتا تھا؟گولی سے تیز کون بھاگ سکتا ہے؟لیکن ہر گولی کی ایک حد ہوتی ہے۔ اسکے بعد وہ تھک کر گر جاتی ہے۔ اور میں اس حد میں آ گیا تھا۔ اتنی بڑی دنیا اور ہم اس دو میل کے دائرے میں مرنے کیلئے آ جاتے ہیں۔ اب راہِ فرار کا خواب کیسا؟

    میرے ٹھہرنے کے ساتھ ہی گولی میرے جسم میں در آئی اور میں کٹے ہوئے تنے کی طرح زمین پر آ گرا۔ میرے ہونٹ ایکدوسرے میں پیوست تھے۔ مجھے چیخنے کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ چیخ تو میں بہت دیر پہلے مار چکا تھا۔ میں اب میدانِ جنگ سے رخصت ہوا چاہتا تھا کہ ایسے میں میں نے نظر اٹھا کر دیکھا۔مجھے یوں لگا جیسے میری آنکھوں کے سامنے سے سارے اندھیرے چھٹ گئے ہوں۔میں نے سینکڑوں لوگوں کو چوہوں کی طرح دبکے دیکھا (جہاں میں تن کر کھڑا تھا) اور میں ہنس پڑا۔نیلے آسماں کے تلے گہری سبز گھاس پر رنگ و نور کا ایک کھیل چل رہا تھااور یہ سب بہت خوبصورت تھا۔ ایسے میں مجھے ایک آواز سنائی دی۔ کوئی اپنے ساتھی سے سرگوشی کر رہا تھا

    ’’خدا کی قسم میں نے اس سپاہی کی روح کو دیکھا ہے۔وہ اپنے گٹھڑی بنے جسم کے پاس بڑے اطمینان سے کھڑی تھی‘‘۔


    سید اسد علی کی کتاب ‘‘شہر حقیقت میں کہانی لکھنا ’’ سے ایک اقتباس
    Last edited by Hidden words; 05-08-2012 at 12:15 AM.

  2. #2
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Behti Zameen
    Posts
    3,853
    Mentioned
    5 Post(s)
    Tagged
    4937 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    429506

    Default re: Hawa Mai Tehri Hui Mout

    nice

  3. #3
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default re: Hawa Mai Tehri Hui Mout

    psnd krny ka bht bht shukriya

  4. #4
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    karachi
    Age
    28
    Posts
    997
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    45 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474844

    Default re: Hawa Mai Tehri Hui Mout

    Awesome
    idamg0 - Hawa Mai Tehri Hui Mout

  5. #5
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Kallar Syedan
    Age
    29
    Posts
    1,928
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    3
    Rep Power
    0

    Default re: Hawa Mai Tehri Hui Mout

    Awesome

  6. #6
    Join Date
    May 2010
    Location
    Karachi
    Age
    22
    Posts
    25,472
    Mentioned
    11 Post(s)
    Tagged
    6815 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474869

    Default re: Hawa Mai Tehri Hui Mout

    nicho...
    tumblr na75iuW2tl1rkm3u0o1 500 - Hawa Mai Tehri Hui Mout

    Hum kya hain

    Hmari Muhabatayn kya hain
    kya chahtay hain
    kya patay hain..

    -Umera Ahmad (Peer-e-Kamil)


  7. #7
    Join Date
    Mar 2011
    Location
    lOsT
    Posts
    9,771
    Mentioned
    343 Post(s)
    Tagged
    941 Thread(s)
    Thanked
    936
    Rep Power
    429513

    Default re: Hawa Mai Tehri Hui Mout

    nice sharing.....
    alone bedroom bird birdcage cage girl 5ff33852d7cce3f6d354f2987fba70c0 h large - Hawa Mai Tehri Hui Mout

    ☆ ~*~ ☆Tanhayi Key Qilay Mien Qaid Ker Lya Khud Ko ☆ ~*~ ☆
    ☆ ~*~ ☆ Khush Na Sahi Mehfooz Hun Mien☆ ~*~ ☆
    ♡SR

  8. #8
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    SomeOne H3@rT
    Age
    31
    Posts
    2,331
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    825 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    429507

    Default re: Hawa Mai Tehri Hui Mout

    psnd krny ka bht bht shukriya

  9. #9
    Join Date
    May 2012
    Location
    canada
    Posts
    4
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    2 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default re: Hawa Mai Tehri Hui Mout

    nice sharing.....

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •