Results 1 to 2 of 2

Thread: بچوں کو کیا دیکھنا چاہئے؟دورِنو،علی… معین نوازش

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    ♥ ♥ ChaAnd K paAr♥ ♥
    Posts
    41,780
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1314 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474887

    Default بچوں کو کیا دیکھنا چاہئے؟دورِنو،علی… معین نوازش

    میڈیا اور انٹرنیٹ کی وجہ سے مواد کا ایک سیلاب ہمارے سامنے موجود ہے، اس مواد میں خبروں سے لیکر تفریح اور دستاویزی فلموں سے لیکر ڈرامے سب ہی شامل ہیں، اتنا سب کچھ ہونے کے بعد یہ بحث ضروری ہے کہ ہم تک کیا پہنچنا چاہئے اور کیا نہیں اوراس کیلئے معاشرتی اور ثقافتی اتفاق رائے کا ہونا ضروری ہے، ہاں ایک چیز ہے جس پر سب کا اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ ہمارے بچوں کیلئے کس قسم کا مواد اچھا اور کونسا برا ہے، سوال یہ بھی ہے کہ کیا ڈرامے میں منشیات کا استعمال دکھایا جانا بھی ٹھیک ہے یا غلط، اور کیا اسے دکھانا چاہئے یا نہیں، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایک بالغ شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ افسانہ ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے تاہم کچھ کا یہ بھی اصرار ہے کہ اس کے باوجود یہ اپنا تاثر چھوڑتا ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک چھ سالہ بچے کواس قسم کا مواد نہیں دیکھنا چاہئے کیونکہ وہ اس کا زیادہ اثر لے گا اور یہ سب کچھ دیکھنے کیلئے اس کی عمر مناسب نہیں ہے۔
    پاکستان میں کوئی بھی بچہ کسی سی ڈی/ڈی وی ڈی کی دکان میں داخل ہوتا ہے اور اپنی پسند کی فلم یا گیم خرید لیتا ہے، جب بات یہ کی جائے کہ بچے کس قسم کا مواد خرید سکتے ہیں تو اس حوالے سے ہمارے ہاں کوئی چیک نہیں ہے نہ ہی کوئی قانون سازی ہے، اس کے بعد بچے نے جو کچھ خریدا ہے اس کا استعمال وہ کیسے کرتا ہے، اسے دیکھنے والا کوئی نہیں ہے اور یہ انتہائی خراب معاملہ ہے، اس کی بڑی وجہ بچوں اور والدین میں ڈیجیٹل تقسیم ہے، والدین کی جانب سے معاملے کی سنگینی کو نہ سمجھنا پاکستان میں اس مسئلے کو مزید گمبھیر بنا رہا ہے، بچے کمپیوٹر اپنی مرضی سے استعمال کر رہے ہیں جبکہ والدین اس بات سے بالکل لاعلم ہیں کہ نگرانی کے بغیر بچوں کے کمپیوٹر استعمال کرنے سے کس طرح کے خطرات لاحق ہیں، بچوں کو بچانے کیلئے صرف کمپیوٹرمیں ایسے فیچرز ہونے چاہئیں، جس کیلئے والدین کی نگرانی لازمی ہو اس طرح بچوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح بچے جو فلمیں دیکھ رہے ہیں ان کی بھی نگرانی بہت کم ہے۔
    اس طرح کے مسائل ٹیلی ویژن کے ساتھ کم ہیں کیونکہ ہر گھر میں تقریباً ایک ہی ٹیلی ویژن ہوتا ہے اور یہ اکثر ایسی جگہ پررکھا جاتا ہے جہاں چلنے والے پروگرام والدین کی نظر میں رہتے ہیں، ایک مسئلہ یہاں بھی آتا ہے کہ ٹیلی ویژن پرچلنے والے پروگراموں کی درجہ بندی کیسے کی جائے، کونسے پروگرام بچوں کیلئے ٹھیک ہیں اور کونسے نہیں، عام طور پر رومانوی،جنسی، فحش یا ڈراؤنے پروگرام بچوں کیلئے مناسب قرارنہیں دیئے جاتے، لیکن ایکشن، ڈرامہ حتیٰ کہ مہم جوئی جیسے پروگرام بچوں اور نوجوانوں کیلئے موزوں قرار دیئے جاتے ہیں، اس حوالے سے ایک تحقیق سامنے آئی ہے کہ ایسے پروگراموں کا بھی بچوں اور نوجوان نسل کے ذہن پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
    ترقی یافتہ ممالک نے اس مسئلے کے حل کیلئے بہت شاندار اقدامات اٹھائے ہیں، اس میں پروگراموں کی نگرانی کیلئے والدین کیلئے درجہ بندی کردی گئی ہے، اب آپ کو ہر چیز دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا ہے کہ یہ آپ کے بچے کو دیکھنی چاہئے یا نہیں، والدین کی نگرانی کیلئے یہ درجہ بندی فلموں، گیمز اور ٹی وی شوز کے حوالے سے دستیاب ہوتی ہیں، یہ لوگ فلموں، گیمز اور ٹی وی شوز کیلئے درجہ بندی کردیتے ہیں اور بتا دیتے ہیں کہ یہ کس عمر کے بچے کیلئے دیکھنا مناسب ہے اور کس کیلئے نہیں جبکہ ہر ملک کے معاشرے اور ثقافت کے لحاظ سے بھی درجہ بندی کی جاتی ہے، بہت ساری مارکیٹ میں دستیاب فلموں پر عمر کے لحاظ سے درجہ بندی ہوتی ہے۔ والدین وہ درجہ بندی دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ یہ فلم ان کے بچے کو دیکھنی چاہئے یانہیں، بات جب ٹی وی کی کی جائے تو یہ نظام سب سے پہلے 19 دسمبر 1996ء میں امریکی کانگریس، ٹیلی ویژن انڈسٹری اور امریکی فیڈرل کمیونی کیشن نے قائم کیا تھا، ہمیں بھی ایک ایسا ہی نظام پارلیمینٹ کے ذریعے لاگو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس نظام سے والدین کو علم دیا جائے اوروہ اپنے بچوں کو خطرناک مواد سے بچائیں جو ان کیلئے خطرناک ہوسکتا ہے، اور یہ نظام ملکی اور غیر ملکی فلموں، گیمز اور ٹی وی شوز کیلئے ہونا چاہئے، یہاں یہ بات ضروری ہے کہ اس نظام کو صرف سنسر شپ کیلئے استعمال کیا جائے نہ کہ اسے کسی کی تضحیک کا آلہ کار بنا لیا جائے، یہ نظام والدین کی رہنمائی کیلئے ہونا چاہئے تاکہ انہیں پتہ چل سکے کہ ان کے بچوں کیلئے کونسا مواد اچھا اور کونسا برا ہے، یہ سب کچھ میڈیا کی بڑی مہم کے ذریعے کیا جاسکتا ہے، فلموں اور گیمز پر اس کے استعمال کرنے کی عمر واضح طور پر درج ہونی چاہئے، ٹیلی ویژن شوز پر بھی پروگرام کے دوران رہنمائی کیلئے ایک لوگو چلنا چاہئے ایسے ہی جیسے ٹی وی چینلز کا اپنا لوگو ہوتاہے۔
    اس مسئلے کاحل کمپیوٹر کے استعمال میں زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ اکثروالدین کمپیوٹر کے علم سے ناآشنا ہیں اورجو کمپیوٹرجانتے بھی ہیں تو ان کے بچوں اور ان کے درمیان مہارت کا فرق ضرور موجود ہے، اس کا ایک مناسب حل یہ ہے کہ غیر اخلاقی مواد کی حامل ویب سائٹس کو بلاک کردیا جائے جیسا کہ حال ہی میں پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروسز دینے والوں کو وارننگ دے دی ہے تاہم اس کے باوجود مسائل موجود رہتے ہیں، ممکن ہے کہ انٹرنیٹ سروسزدینے والے کوئی بچوں سے متعلق نیٹ لے آئیں، والدین ایک کال کرکے اس پر منتقل ہو جائیں یا صرف ایک بٹن دبا کر بچوں کو کمپیوٹردیدیں بہرحال تکنیکی طور پر ایسا ممکن نہیں دکھائی دیتا اور اسے لاگو کرنا بھی مشکل ہے، اس کا حل یہی ہے کہ والدین کی جانب سے کچھ حد تک کمپیوٹرکو جاننا ضروری ہے ، اس کا ایک بہترین آغاز یہ ہو سکتا ہے کہ والدین کو بتایا جائے کہ کمپیوٹر پر کس طرح کے مسائل ہوسکتے ہیں اور کون کونسی چیزیں ان کے بچوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں جس کے بعد ہی اس کے حل کیلئے مطالبہ بھی بڑھے گا لیکن ایسا نہیں ہے کہ اس مسئلے کا حل ہے ہی نہیں۔
    توکیا آپ واقعی حیران ہیں کہ آپ کے بچے کیا دیکھ رہے ہیں؟کس قسم کے مواد تک یا انٹرنیٹ تک ان کی رسائی ہے؟اور یہ سب کچھ ان کی نشوونما پر کس طرح اثراندازہو رہا ہے، اگر نہیں تویہ بہترین وقت ہے کہ آپ اس جانب سوچنا شروع کریں۔


    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

    2m4ccw6 - بچوں کو کیا دیکھنا چاہئے؟دورِنو،علی… معین نوازش

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

  2. #2
    Join Date
    May 2012
    Location
    Karachi
    Age
    33
    Posts
    607
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    6

    Default Re: بچوں کو کیا دیکھنا چاہئے؟دورِنو،علی… معین نوازش

    very nice

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •