2010ء میں مئی کا مہینہ تھا اور برطانوی عوام نے لیبر پارٹی کو شکست فاش سے دوچار کرکے کنزروٹیوپارٹی اور لبرل ڈیمو کریٹس کو حکومت قائم کرنے کا موقع دیا تھا۔ وزارت خزانہ لب ڈیم کے حصے میں آئی جو نائب وزیراعظم نے اپنے آزمودہ کار اور قابل ساتھی ڈیوڈ روز کے سپرد کی تھی تاکہ وہ ملک کی اقتصادی، معاشی صورتحال بہتر بنا سکیں ڈیوڈ روز کو ابھی وزارت خزانہ کا چاج سنبھالے دو ہفتے ہوئے تھے کہ برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے انکشاف کیا کہ نئے وزیر خزانہ 2004ء سے 2009ء تک پانچ سال کے دوران اپنے ایک قریبی ساتھی کے ساتھ جس گھر میں مقیم رہے وہ اس قریبی ساتھی کی ملکیت تھا اور انہوں نے کرائے کی مد میں اپنے دوست کو مالی فائدہ پہنچایا، قریبی ساتھی وزیر خزانہ کا بوائے فرینڈ قرار دیا گیا تھا ۔
خبر شائع ہوئی تو ڈیوڈ روز نے کوئی وضاحت پیش کئے بغیر وزارت خزانہ کے منصب سے استعفیٰ دیدیا جبکہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے یہ استعفیٰ قبول کرلیا۔ نہ تو وزیر خزانہ نے ڈیلی ٹیلیگراف کو مطعون کیا کہ وہ چند روز قبل وجود میں آنے والی منتخب جمہوری حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کر رہے ہیں، نہ اپنے فرائض اس وقت تک انجام دیتے رہنے پر اصرار کیاجب تک کوئی عدالت انہیں مجرم نہیں ٹھہراتی اور نہ اسے سابقہ لیبر حکومت کی سازش قرار دیا۔ ہمارے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ان دنوں برطانیہ میں ہیں، وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور ان کے ساتھیوں سے ملاقاتوں میں قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں اور شنید یہ ہے کہ نیٹو سپلائی کے علاوہ افغانستان کے حوالے سے مستقبل کی حکمت عملی پر پاکستان اور برطانیہ کے مابین حساس مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار ان ملاقاتوں پر ہے۔ ایک طرف ڈیوڈ کیمرون ہوں گے جو اب تک اعلیٰ اخلاقی اصولوں اور عمدہ پارلیمانی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے ڈیوڈ روز کے علاوہ وزیر توانائی کرس ہل کا استعفیٰ منظور کر چکے ہیں اور دوسری طرف مخدوم یوسف رضا گیلانی جنہیں عدالت عظمیٰ سے نہ صرف سزا ہوچکی ہے بلکہ وہ سزا بھگت کر نااہلی کا سامنا کر رہے ہیں او ر عدالت عظمیٰ کے تفصیلی فیصلے پر عملدرآمد کرنے کی بجائے فنی اور تکنیکی نکات کا سہارا لے کر ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہیں۔
پیر کی صبح مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے شہر کے سینئر صحافیوں اور مدیران کرام سے تبادلہ خیال کا آغاز کیا تو ابھی تفصیلی فیصلہ نہیں آیا تھا اور اگرچہ گفتگو میں سرائیکی صوبے کی قرارداد، پی ایم ایل این، پی ٹی آئی محاذ آرائی اور رواں یا اگلے سال انتخابات جیسے موضوعات زیر بحث آئے مگر زیادہ تر تبادلہ خیال گیلانی صاحب کو ملنے والی سزا کے ممکنہ اثرات پر ہوا۔ میاں صاحب اخلاقی اور قانونی دونوں حوالوں سے مخدوم یوسف رضا گیلانی کو نااہل سمجھتے ہیں اور عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کو ملک وقوم کے علاوہ موجودہ جمہوری نظام کی بقا و استحکام کے لئے ضروری خیال کرتے ہیں، مگر کئی سینئر اخبار نویسوں کا اصرار تھا کہ وہ حکومت سے محاذ آرائی کا پر خطرر استہ اختیار نہ کریں ورنہ پہلے کی طرح جمہوریت ڈی ریل ہوگی اور الزام عدالت عظمیٰ کے علاوہ اپوزیشن پر آئے گا۔ مذاکرات کے ذریعے موجودہ تنازع کا حل نکالنے کا مشورہ بھی سامنے آیا اور پارلیمینٹ سے باہر کی قوتوں کے مقابلے میں ڈٹ کر اپنا مفاہمانہ کردار ادا کرنے پر زور دیا گیا جس پر بعض دل جلوں کو کہنا پڑا کہ کیا جمہوری نظام کو برقرار رکھنے
اور غیر جمہوری قوتوں کو مداخلت سے باز رکھنے کی ساری ذمہ داری اپوزیشن اور عدلیہ کی ہے یا کچھ فرض حکومت کا بھی ہے جس نے عدلیہ اور اپوزیشن دونوں کودیوار سے لگا کر کرپشن، نااہلی، ضد، ہٹ دھرمی اور عدالتی فیصلوں کی تذلیل کے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں اور سندھ کارڈ، سرائیکی کارڈ کھیل کر وفاق کے لئے خطرات پیدا کردئیے ہیں۔
گیلانی، ڈیوڈ کیمرون مذاکرات میں برطانوی وزیراعظم ہمارے”سزایافتہ“ لیڈر کے بارے میں کیا رائے قائم کرتے ہیں ،اس سے قطع نظر وہ پاکستان اور اس کے اٹھارہ کروڑ عوام کے بارے میں ضرور سوچتے ہوں گے جس کا سز ا یافتہ وزیر اعظم کسی سیاسی و پارلیمانی اخلاقیات کا قائل نہیں اور واضح عدالتی حکم کے باوجود لاکھوں پونڈ خرچ کرکے غیر ملکی دوروں میں مصروف ہے مگر یہ اکیلے گیلانی کا مسئلہ تو نہیں یہاں اندھیر نگری ہے اور کانا راجہ ، نہ خدا کا خوف ہے نہ زبان خلق کی پروا اور نہ کسی قاعدے قانون کا لحاظ ۔
عشق رسول کی دعویدار جس قوم کی قیادت کو اپنے رسول رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان یاد نہ ہو کہ” وہ قومیں تباہ ہوئیں جو کمزوروں اور چھوٹوں کو جرم کی سزا دیتیں اور طاقتوروں بڑوں سے در گزر کرتی ہیں“۔ اسے جسٹس آصف سعید کھوسہ، خلیل جبران کے اقوال سنائیں یا اس انجام سے ڈرائیں جو شرافت اور بدمعاشی میں فرق نہ کرنے والی قوموں کا بالآخر ہوتا ہے، کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ جن لوگوں نے قسم کھارکھی ہے کہ وہ عادی مجرموں، بدنام زمانہ لٹیروں ، قانون شکنوں، عیاروں، مکاروں، فریب کاروں، قبضہ گروپوں، بدمعاشوں، بدقماشوں اور جھوٹ کے پیامبروں کو اپنا رہبر و رہنما، نجات دہندہ اور ہیرو کہیں ،سمجھیں، مانیں گے۔ انہیں اقوال زریں سنانا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ عدالت عظمی کا تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد جن تاویلات اور موشگافیوں کا سہارا لیا جارہا ہے وہ بچھڑے کی پوجا کرنے والی قوم موسیٰ سے مختلف نہیں جو سامری کے سحر میں گرفتار حقیقت اور خرافات میں فرق کرنے کی صلاحیت سے محروم تھی۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے بشرطیکہ ہم خود بھی اپنے آپ پر رحم کرنے کا ارادہ کریں۔