Results 1 to 2 of 2

Thread: تحریک انصاف ۔ بلوچستان میں . . . رحیم اللہ یوسف زئی (گزشتہ سے پیو

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    ♥ ♥ ChaAnd K paAr♥ ♥
    Posts
    41,780
    Mentioned
    1 Post(s)
    Tagged
    1314 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474887

    Default تحریک انصاف ۔ بلوچستان میں . . . رحیم اللہ یوسف زئی (گزشتہ سے پیو

    قاسم سور ی بھی تقریباً غیرمعروف ہیں لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے نچلی سطح پر بلوچستان میں پی ٹی آئی کو منظم کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے صرف کوئٹہ میں 225یونٹس تشکیل دیئے ہیں۔
    پی ٹی آئی بلوچستان کے ہر ضلع بشمول بلوچ آباد علاقوں میں بھی نہایت فعال اور منظم ہے اس لئے جماعت کے بلوچ کارکن عوامی جلسے میں شرکت کے لئے صوبے بھر سے کوئٹہ آئے اس لئے ان کے بیان پر یقین کرنا چاہئے۔ اس اجتماع میں پختونوں کی تعداد کا زیادہ ہونا حیرانی کا باعث نہیں کیونکہ ان کی کوئٹہ میں اکثریت ہے۔ ایوب اسٹیڈیم میں موجود بلوچوں کی تعداد اس سے قطع نظر وہ جتنی بھی تھی اس وقت بڑی خوش آئند ہے جبکہ بلوچ قوم پرست پاکستان کا حصہ بنے رہنے پر رضامند نہیں ہیں۔ بلوچستان کی سطح پر پارٹی کے عہدوں میں فی الحال پی ٹی آئی میں کوئی سابق رکن پارلیمنٹ نہیں ہے۔ وہ تاحال معروف سرداروں اور وڈیروں کو راغب نہیں کر سکی ہے۔
    ماسوائے سابق پولیس آفیسر نواب زادہ ہمایوں جوگیزئی جنہوں نے حال ہی میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی ہے اور انہوں نے بلوچستان میں پختون علاقوں میں کچھ تحریک پیدا کی ہے۔ اس لئے قاسم سوری کے زیرنگرانی عام افراد جنہوں نے پی ٹی آئی کو صوبے میں منظم کیا وہی پارٹی کی حقیقی طاقت ہیں۔ وہ شاید قابل انتخاب نہ ہوں لیکن کسی کو کبھی ان کی پارٹی اور اس کے رہنما سے وابستگی پر شک نہیں ہونا چاہئے۔
    گزشتہ سال 30/اکتوبر کو لاہور اور 25دسمبر کو کراچی میں بڑے اجتماعات کرنے کے بعد انہوں نے اگلا جلسہ کوئٹہ میں کرنے کا اعلان کرتے ہوئے چیلنج کیا تھا لیکن مخلص پارٹی کے کارکن جیسے قاسم سوری بخوبی واقف تھے کہ سکیورٹی خدشات و تحفظات اور بلوچستان میں پی ٹی آئی میں کسی بڑے سیاست دان کے نام کی عدم تاریخ موجودگی کے باوجود وہ کامیاب ہو جائیں گے۔ طے شدہ 23مارچ کو کوئٹہ کے عوامی جلسے کو پارٹی نے ملتوی کیا تو مخالفین نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی کو بلوچ عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیاں ملی ہیں کہ وہ جلسہ یوم پاکستان کے موقع پر نہ رکھیں۔
    تاہم قاسم سوری کے مطابق مارچ میں جلسے کا ملتوی کرنے کا سبب صرف خراب موسم تھا اور کوئی وجہ نہیں تھی۔ وجہ جو بھی ہو، پی ٹی آئی نے کوئٹہ میں کامیاب پرامن جلسہ منعقد کیا اگرچہ ایک ماہ کی تاخیر ہوئی لیکن انہوں نے دیگر مرکزی سیاسی جماعتوں کو راستہ دکھایا کہ وہ بلوچستان کو خاطر میں نہ لانے کے بجائے اپنی توجہ اس پر مرکوز کریں۔
    دیکھنا یہ ہے کہ کیا بلوچستان میں بکھری حمایت سے پی ٹی آئی ووٹوں اور اسمبلی کی نشستوں کے ذریعے ترجمانی کے قابل ہوگی؟ یقیناً بلوچستان کی سیاست میں اس نے ابھی صرف قدم رکھنے کی جگہ ہی بنائی ہے۔ اب اپنے بل پر یا انتخابی اتحاد کا حصہ بنتے ہوئے اسمبلیوں کی نشستوں کے حصول کے لئے اس نے دیگر جماعتوں سے مقابلے کا آغاز کرایا ہے۔ سب سے اہم عمران خان نے جو پیغام جلسے میں دیا وہ برمحل تھا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں ہے یا کسی بھی دوسرے تنازع پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ سیاسی مسائل کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی وجہ سے آج پاکستان تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

    2m4ccw6 - تحریک انصاف ۔ بلوچستان میں . . . رحیم اللہ یوسف زئی (گزشتہ سے پیو

    *~*~*~*ღ*~*~*~**~*~*~*ღ*~*~*~*

  2. #2
    Join Date
    May 2012
    Location
    Karachi
    Age
    33
    Posts
    607
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    6

    Default Re: تحریک انصاف ۔ بلوچستان میں . . . رحیم اللہ یوسف زئی (گزشتہ سے

    nice

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •